Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
38 - 155
عقودالدریہ میں ہے :
حیث کان العرف مشترکا فالقول للام مع یمینھا وقد ذکران کل من کان القول قولہ یلزمہ الیمین الا فی مسائل اوصلھا فی شرح الکنزالی نیف وستین مسئلۃ لیست ھذھ منھا وافتی قاریءَ الھدایۃالقول قول الاب والام انھما لم یملکا ھا انما ھو عاریۃ عند کم مع الیمین ۲؎ مختصرا۔
جہاں عرف مشترک ہو تو وہاں ماں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ تحقیق مذکور ہے کہ ان تمام صورتوں میں جن میں کسی کا قول معتبر ہو اُسے یمین لازم ہے سوائے چند مسائل کے جنہیں شرح کنز میں ساٹھ سے کچھ اوپر تک پہنچایا، مسئلہ جہیز ان مسائل میں سے نہیں (یعنی اس میں قول قسم کے ساتھ ہی معتبر ہوگا) اور قاری ہدایہ نے فتوٰی دیا کہ قول ماں باپ کا قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ بے شک اُنہوں نے بیٹی کو جہیز کامالک نہیں بنایا اور تمہارے نزدیک عاریت ہے اھ مختصراً(ت)
 (۲؎ العقود الدرایۃ تنقیح فی الفتاوی الحامدیۃ   مسائل الجہاز   مطبع حاجی عبد الغفار وپسران قندھا افغانستان ۱ /۲۶)
پھرعرف جن خصوصیتوں کے ساتھ ہو سب کے مراعات واجب مثلاً شرفا میں عرف تملیک ہے کم درجہ کے لوگوں میں مشترک تو صرف شرفا ہی کی جانب سے تملیک سمجھی جائے گی یا حسب حیثیت ایک مقدار خاص تک جہیز دینے کا عرف ہو اور زیادہ ہوتو عاریت، تو جب اُسی مقدار تک دیا گیا ہو تملیک سمجھیں گے۔
بحرالرائق میں ہے :
قال قاضی خاں وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الاب من الشراف والکرام لایقبل قولہ انہ عاریۃ وان کان الاب ممن لایجھز البنات بمثل ذٰلک قبل قولہ۱؎۔
قاضی خاں نے فرمایا کہ جواب بالتفصیل ہونا چاہئے، اگر باپ اشراف ومعززین میں سے ہے تواس کا یہ قول قبول نہیں کیا جائے گا کہ یہ (جہیز) عاریت ہے اور اگر باپ ان لوگوں میں سے ہے جو اس کی مثل جہیز  بیٹیوں کو نہیں دیتے تو اس کا قول مان لیا جائےگا(ت)
(۱؎ بحرالرائق    باب المہر     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۱۸۷)
نہر الفائق میں ہے :
وھذالعمری من الحسن بمکان ۱؎ ،
اور میری عمر کی قسم یہ قول حُسن میں اُونچا مقام رکھتا ہے۔(ت)
 (ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق 	باب المہر     دار احیاء التراث العربی بیروت       ۲/ ۳۶۷)
درمختار میں ہے :
لوکان اکثرممایجھربہ مثلھا فان القول لہ اتفاقا ۳؎۔
اگر جہیز میں دیاجانے والامال اس سے زیادہ ہے جتنا ایسی لڑکیوں کو جہیز میں دیا جاتا ہے تو بالاتفاق باپ کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۳؂ در مختار           باب المہر          مطبع مجتبائی دہلی          ۱/ ۲۰۳)
بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشاء، تو جدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب، مگر کہ یہ کوئی دلیل دیگر اُس سے صارف ہو، مثلاًباپ پر بیٹی کا قرض آتا تھا وُہ کہتا ہے میں نے قرض دیا یہ کہتی ہے اپنے مال سے دیا، تو باپ کا قول بقسم معتبر ہے کہ مدیون کے حال سے یہی ظاہر کہ ادائے دین کی فکر مقدم رکھے گا۔
بحرالرائق میں ہے:
لو کان لھا علی ابیھا دین فجھز ھا ابو ہاشم قال جھزتھا بدینھا علیّ وقالت بل بما لک فالقول للاب وقیل للبنت۴؎۔
اگر بیٹی کا باپ پر قرض ہواور باپ بیٹی کو جہیز دے پھر کہے کہ میں نے یہ اس کے قرضے کے عوض میں دیا جو بیٹی کا مُجھ پر تھا اور بیٹی کہے کہ باپ نے انے مال سے دیا ہے تو باپ کا قول معتبر ہوگا، اور کہا گیا ہے کہ بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
 (۴؎ بحرالرائق    باب المہر     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۱۸۷)
انقرویہ میں ہے :
والاول اصح فانہ لوقال الاب کان لامک علیّ مائۃ دینار فاتخذت الجھاز بھا وقالت بل بمالک فالقول للاب جامع الفتاوٰی وکذٰا فی القنیۃ۔۱؎۔
اول اصح ہے اس لئے کہ اگر باپ کہے تیری ماں کو مجھ پر  سو ۱۰۰ دینار قرض تھا میں نے اس سے جہیز بنایا ہے، اور بیٹی کہے کہ تونے اپنے مال سے بنایا ہے، تو باپ کا قول معتبر ہوگا، جامع الفتاوٰی، اور ایسا ہی قنیہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی انقرویہ     باب فی اختلاف الجہاز والمہر    دارالاشاعت العربیہ افغانستان     ۱ /۶۵۔۶۴)
اقول وباﷲالتوفیق مگر اگر بحالت دین بھی عرف مقتضی تملیک ہوتو اسی پر نظر کی جائے گی کہ اب دلالتِ دین دلالتِ عرف کے معارض نہ رہی۔
ہدایہ میں ہے :
 (من بعث الی امرأتہ شیأ فقالت ھو ھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول لہ) لانہ ھوالمملک فکان اعرف بجھتہ المتلیک کیف وان الظاہر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل) فان القول قولھا والمراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ فاما فی الحنطۃ و الشعیر فالقول قولہ لما بینا۲ ؎اھ
شوہر نے عورت کوکوئی شیئ بھیجی عورت کہتے ہے وہ ہدیہ ہے اور شوہر کہتا ہے وہ مہر سے ہے تو شوہر کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہی مالک بنانے والاہے لہذا وہ تملیک جہت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور اس کا قول کیسے معتبر نہ ہوگا جبکہ ظاہر یہی ہے کہ وُہ اس شیئ کو ساقط کرنے کی کوشش کرے گا جو اس پر واجب ہے سوائے اس طعام کے جوکھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں عورت کا قول معتبر ہوگا، اس سے مراد وہ طعام ہے جو کھانے کے لئے تیار کیا گیا ہو کیونکہ ایسا طعام بطور ہدیہ ہی متعارف ہے، لیکن گندم اور جَو وغیرہ کی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوگا
 (۲؂ ہدایہ      باب المہر      المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/ ۳۱۷ )
فانظر کیف رجح دلالۃ العرف علی دلالۃ انہ مدین فالظاہرمنہ السعی فی اسقاط الدین ثم زاد الشارحون فسایرو العرف کیفما سار قال المحقق فی الفتح ھذاوالذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیع ماذکر من الحنطۃ و اللوزوالدقیق والسکر والشاۃ الحیلۃ وباقیھا یکون القول فیھا قول امرأۃ لان المتعارف فی ذلک کلہ ان یرسلہ ھدیۃ فالظاہر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الا فی نحوالثیاب والجاریۃ ۱؎اھ وقال فی النھر الفائق واقول وینبغی ان لایقبل قولہ ایضا فی الثیاب المحمولۃ مع السکر ونحوہ للعرف۲؎اھ
اسی بناء پر جس کو ہم نے بیان کیا، پس دیکھ کہ دلالت عرف کو کیسے ترجیح حاصل ہوئی اس دلالت پر کہ وُہ مدیون ہے اور ظاہر یہ ہے کہ وُہ اسقاطِ دین میں سعی کرے گا پھر شارحین نے اس پر اضافہ کیا کہ عرف کے ساتھ چلو جدھر لے جائے محقق نے فتح میں فرمایا اور وُہ جس کا اعتبار ہمارے علاقے میں واجب ہے یہ ہے کہ بیشک گندم، بادام، آٹا، شکّر، زندہ بکری اور دیگر تمام اشیاء مذکورہ میں عورت کاقول معتبر ہوگا ان تمام اشیاء میں عرف یہ ہے کہ بطور ہدیہ بھیجی جاتی ہیں لہذا ظاہر عورت کا مؤیدہے نہ کہ مرد کا، اور مرد کاقول کپڑوں اور لونڈی جیسی اشیاء کے ماسواء میں معتبر نہ ہوگا النہرالفائق میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں  شکّر وغیرہ کے ساتھ بھیجے ہُوئے کپڑوں میں بھی عرف کی وجہ سے مرد کاقول معتبر نہیں ہونا چاہئے،
 (۱؎ فتح القدیر     باب المہر     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۲۵۶)

(۲؎ ردالمحتار بحوالہ النہرالفائق     باب المہر         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۶۴)
وقال السید ابوالسعود فی حاشیۃ الکنز بعد نقلہ واقول ینبغی ان یکون القول لھا فی غیر النقول للعرف المستمر۳؎اھ وقال فی ردالمحتار قلت ومن ذلک مایبعثہ الیھاقبل الزفاف فی الاعیاد والمواسم من نحوثیاب وحلی وکذاما یعطیھا من ذلک اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبحۃ فانکل ذلک تعورف فی زماننا کونہ ھدیۃ لامن المہر ولاسیما المسمی صبحۃ فان الزوجۃ تعوضہ عنھا ثیابا ونحوھا صبیحۃ العرس۴؎ایضا اھ فکل ذلک انما ھو لان العرف قضی بکونہ ھدیۃ مع العلم بان الزوج مدین بالمھر فسقطت بجنبہ دلالۃ الدین فکذلک لوان العرف ھھنا عم وصم ولوالاب مدینالھا وجب القضاء بالتملیک وکان القول قولھا ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲالموفق وبہ الاعتصام۔
سیّد ابوالسعود نے حاشیہ کنز مین اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں کہ عرف عام کی وجہ سے نقود کے غیر میں عورت کا قول معتبر ہونا چاہئے۔ ردالمحتار میں فرمایا میں کہتاہوں کہ زفاف سے پہلے عیدوں اور موسموں پر جو کپڑے اور زیور کی مثل اشیاء شوہر بیوی کی طرف بھیجتا ہے وُہ بھی اسی قبیل سے ہیں، اور یونہی حکم ہے ان اشیاء اور دراہم ودنانیز کا جو شبِ زفاف کی صبح اپنی بیوی کودیتا ہے جس کو عرف میں صبحہ کانام دیاجاتا ہے کیونکہ ان تمام اشیاء کا ہمارے زمانے میں ہدیہ ہونا متعارف ہے نہ کہ مہر سے ہونا خصوصاً وہ جس کو صبحہ کہاجاتا ہے، اس لئے کہ عورت بھی شبِ زفاف کی صبح اس کے عوض میں کپڑے وغیرہ شوہر کو دیتی ہے پس یہ سب عرف ہی ہے جس نے ان اشیاء کے ہدیہ ہونے کا فیصلہ دیا باوجود اس بات کے معلوم ہونے کے کہ شوہر مہر کا مدیون ہے چنانچہ عرف کے مقابل دلالت دین ساقط ہوگئی، تو یوں ہی یہاں پر جب عرف عام وکثیر ہے اگر چہ باپ بیٹی کا مدیون ہو تملیک کا فیصلہ دینا واجب ہے اور بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔ اس مقام کو اسی طرح ہی سمجھنا چاہئے، اﷲتعالٰی  ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے اور اسی کی پناہ مطلوب ہے۔(ت)
 (۳؎ فتح المعین    باب المہر     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۲ /۷۰)

(۴؎ ردالمحتار     باب المہر     داراحیا التراث العربی بیروت     ۲/۳۶۴)
Flag Counter