Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
37 - 155
فصل دوم

مسئلہ ۸۰تا ۸۶ : از بیجناتھ پارا رائے پور ممالک متوسط مرسلہ شیخ اکرم حسین صاحب متولی مسجد ودبیز مجلس انجمن نعمانیہ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم حامداً ومصلّیاً
 (فیض النساء بیگم مدعیہ بنام حسام الدین داروغہ جنگل مدعا علیہ)

دعوٰی واپس پانے سامان جہیز ہرقسم کپڑے وزیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ مسمّاۃ فیض النساء بیگم نے اپنی سوتیلی لڑکی خدیجہ بی بی کی شادی حسام الدین کے ساتھ کردی، ڈیڑھ برس بعدوُہ لڑکی مرگئی اور اُس کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہُواتھا بعمرایک سال بعد چار مہینے مرنے ماں کے وُہ لڑگا مرگیا، 

فیض النساء بیگم کا دعوٰی ہے کہ کُل سامان جہیز زیور وغیرہ جو وقت شادی خدیجہ بی بی مرحومہ کو جہیز دی تھی واپس ملے اور صرف سامان جہیز وغیرہ میں اپنے پیسے سے کرنے کے سبب میں واپس پانے کی حقدار ہوں سامان جہیز واپس ملنے کا رواج ملک مدراس میں جاری ہے۔ جواب حسام الدین یہ ہے کہ زیورات متوفیہ کے حکم سے اسی کے دوا معالجہ میں رہن رکھ کر خرچ ہُوا مجھ کو اس قدر وسعت نہ تھی کہ اس قدر عرصہ دراز کی بیماری میں اس کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہُوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہُوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے مرتے  وقت  زندہ تھا، ماں کے جائداد کا لڑکا مالک ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کا وارث ہوں، متوفیہ کی سوتیلی ماں کا کوئی حق نہیں ہے۔ علمانِ دین اور مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں :

(۱) مُلک مدراس میں متوفیہ لڑکی کا جہیز واپس لینے کا رواج ہے فرمائیے شرع میں کہاں حکم ہے۔

(۲) شرع میں رواجِ ملک کو مداخلت ہے کیا۔

(۳) جہیز میں جو سامان لڑکی کو دیا جاتا ہے وُہ عاریۃً سمجھا جائے گا یا تملیکاً۔

 (۴) شرح وقایہ جلد سوم میں ہبہ واپسی کا حکم ہے کیا ہبہ جہیز اسی قسم کا ہبہ ہے حسبِ دعوٰی مدعیہ۔

(۵) جو شیئ منجانب مدعیہ خاص مدعاعلیہ یعنی داماد کو وقت شادی کے ملی ہے اُس کے واپس پانے کا کیا مدعیہ کو حق ہے۔

(۶) جو جہیز یا سامان مدعا علیہ نے وقتِ شادی اپنی بی بی کو دیا اس پر بھی حق واپس لینے کا مدعیہ کا ہے یا نہیں۔

(۷) متوفیہ کے حکم سے زیورات وقتِ بیماری رہن رکھ کر صَرف ہوا اُس کے چُھڑانے کا کون ذمہ دار ہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

جواب سوال اوّل تا چہارم

حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کُچھ دخل نہیں ان الحکم الّاﷲ(نہیں ہے حکم مگر اﷲتعالٰی  کا۔ت) ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یُوں کہ اگر یہ شے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے ورنہ یہ جس طرح وقف منقول کہ اشیائے منقولہ میں جس کا وقت معروف ہوجائز، ورنہ نہیں، یا استصناع یعنی بے طریق سلم معدوم چیز اُجرت دے کر بنوانا اس میں جن اشیاء کے بنوانے کا رواج ہو، جائز، ورنہ نہیں، یا شرط البیع کہ جو شرط مفسد معروف ہوجائے متحمل ہے ورنہ نہیں الٰی غیرذٰلک ممّاصرحوابہ فی الکتب(اس کے علاوہ جس کی تصریح انہوں نے کتاب میں فرمائی۔ت) خواہ یُوں کہ حکم فی نفسہٖ حاصل اور عُرف اُس کی صورت کا بتانے والا مثلاً مرتہن کا شیئ مرہون سے انتفاع اگر باذنِ راہن بے شرط ہو، جائز، ورنہ حرام۔ اب اگرعرف ورواج ہو کہ بے طمع نفع بمرہون قرض نہیں دیتے، جیسے ہمارے زمانہ میں، تو مطلقاً حکمِ حُرمت دیا جائے گاکما فی الشامی عن الطحطاوی وقد افتیت بہ مرارا(جیسا کہ شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہے اور تحقیق میں اس پر کئی بار فتوٰی دے چکا ہوں۔ت) یہاں عرف نے بتادیا کہ صورتِ شرط ہے نہ یہ کہ قرض ورہن خالص واقع ہوئے اور اُس کے بعد راہن نے برضائے خود مرتہن کو اجازتِ انتفاع دی، ایسی ہی جگہ المعروف کالمشروط(معروف مشروط کی طرح ہوتا۔ت) یا المعھود عرفا کالمشروط لفظا(جو عرف کے اعتبار سے معہود متعین ہو وُہ ایسے ہی ہے جیسے لفظ کے اعتبار سے مشروط ہو۔ت) کہتے ہیں کتبِ فقہ میں دونوں صورتوں کی مثالیں بکثرت موجود۔ یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل، تو بنظر اصل حکم مطلقاً اُنہیں کا قول معتبر ہونا چاہئے تھا۔
فان الاصل ان الدافع ادری بجھۃ الدفع وایضااذا احتمل امران تعین الاقل اذھو المتیقن والی ھذانظر الامام شمس الائمۃ السرخسی فاختار ان القول للاب مطلقا۔
بے شک اصل یہ ہے کہ دینے والادینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے نیز جب دو عمر محتمل ہوں تو ان میں سے اقل متعین ہوتا ہے کیونکہ وہی یقینی ہوتا ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے اسی کی طرف نظر فرمائی اور اختیار فرمایا کہ قول مطلقاً باپ ہی کا معتبر ہے۔(ت)
مگر عرف بلاد مظہر قصد ومراد ہوتا ہے جہاں عرف غالب تملیک ہو وہاں دعوٰی عاریت نامقبول اور جہیز دینا تملیک ہی پر محمول جب تک گواہان شرعی سے اپنا عاریۃً دیناثابت نہ کریں، اور جہاں عرفِ غالب عاریت، ہو یا دونوں رواج یکساں  وہاں آپ ہی ان کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اورایسی جگہ جہیز دینا تملیک سمجھا جائے گا۔"مشیاعلی الاصل المار لعدم ما یحمل علی العدول عنہ"(اصل رائج پر چلتے ہوئے کیونکہ اس سے عدول پر برانگیختہ کرنے والی کوئی شیئ موجود نہیں۔ت) یہی صحیح و معتمد و مختار للفتوی ہے بل ھو التوفیق بین الاقوال فاذاحقق فالیہ الماٰل(بلکہ مختلف اقوال میں اسی سے تطبیق حاصل ہوئی جب اس کی تحقیق ہوگئی تو اسی کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ت)
درمختار میں ہے :
جھز ابنتہ ثم ادعی ان ما دفعہ لھا عاریۃ وقالت ھوتملیک اوقال الزوج ذلک بعد موتھا لیرث منہ وقال الاب او ورثتہ بعد موتہ عاریۃ فالمعتمد ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمرا ان الاب یدفع مثلہ جہازا لاعاریۃ واماان مشترکا کمصروالشام فالقول للاب۱؎۔
کسی شخص نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا پھر دعوٰی کیا کہ اس نے جو کچھ دیا وہ بطور عاریت دیا،جب کہ لڑکی کہتی ہے کہ بطور تملیک دیا تھا، یا اس کے مرنے کے بعد یہی بات اس کا شوہر کہے تا کہ وُہ جہیز سے بطور میراث حصّہ پائے، اور لڑکی کا باپ یا اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کہیں کہ یہ رعایت کے طور پردیا تھا تو معتمد یہی ہے کہ قول بیٹی اور اس کے شوہر کا مانا جائے گا جبکہ عرف یہی رائج ہو کہ ایسا مال باپ پانی بیٹی کو بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور رعایت (جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے) اور اگر عرف مشترک ہو جیسا کہ مصر اور شام میں، توباپ کا قول معبتر ہوگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۳)
اسی میں ہے:
بہ یفتی
 (اسی کے ساتھ فتوٰی دیا جاتا ہے۔ت)
بحرالرائق میں ہے :
فی فتح القدیروالتجنیس والذخیرۃ المختار للفتوی ان القول للزوج ولھا اذاکان  العرف مستمّر ا ان الاب یدفع مثلہ جہاز الاعاریۃ کما فی دینارنا وان کان مشترکا فالقول قول الاب  ۱؎۔
فتح القدیر، تجنیس اور ذخیرہ میں کہ فتوٰی کے لئے مختار یہ ہے کہ بیشک قول بیٹی اور اس کے شوہر کا معتبر  ہوگا جبکہ عرف یہی رائج ہوکہ ایسا مال باپ بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت، جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے۔ اور اگر عرف مشترک ہوتو باپ کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
 (۴؎ بحرالرائق    باب المہر     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۱۸۷)
Flag Counter