Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
36 - 155
بحرالرائق میں ہے :
وکذا بقولہ اذنت للناس جمیعا فی ثمر نخلی من اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناس من اخذ شیئا یملکہ کذا فی المنتقی وظاہرہ ان من اخذ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لایخفی۱؎اھ اقول ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واقروقال قلت حین خلیت سبیلھامن اخذھا فھی لہ اوانکر فاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للآخذ سواء کان حاضر اسمع ھذہ المقالہ اوغالب فبلغہ الخبر۱ ؎ ووجہہ ظاہر فانہ اذاعلم بمقالۃ الواھب فیکون الاخذ علٰی جھۃ الاتھاب ویقوم القبض مقام القبول بخلاف ما اذا لم یعلم فانہ یتحقق القبول قطعا وھو مدار ثبوت الملک للموھوب لہ قطعا سواء جعل رکنا کما نص علیہ فی التحفۃ ولوالجیۃ والکافی والکفایۃ والتبیین والبحر ومجمع الانھر والدرالمختار وابی السعود وغیرہا من کتب الکبار وھو ظاہر الھدایۃ وملتقی الابحر وغیرھا من الاسفار الغر اوشرطا کما نص علیہ فی المبسوط والمحیط والھندیۃ وغیرھا وافادفی البدائع انہ الاستحسان وان الاوّل قول زفروعلی کل فاتفق القولان علی انہ لاتملک فیھا بدون القبول وھوالذی نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد حققنا المسئلۃ بتوفیق اﷲتعالٰی علی ھامش ردالمحتار بما لامزید علیہ۔
اور اسی طرح اگر کسی نے کہا کہ میں نے اپنے درختوں کے پھلوں کی تمام لوگوں کو اجازت دی کہ جو جتنا لے لے وہ اُسی کا ہے، لوگوں کو اس کی خبر پہنچی تو اس میں سے جو جتنا لے گا وہ اس کامالک ہوجائےگا جیسا کہ منتقٰی میں ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ جس کے واہب کے اس کہنے کی خبر نہ پہنچی اس نے جو کچھ لیا وہ اس کا مالک نہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں، میں کہتا ہوں اسی کی مثل ہے وہ جو ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی شخص نے اپنا چوپایہ آزاد چھوڑدیا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر اس کی اصلاح کرلی یعنی اس کو کام کے لائق بنالیا اب مالک آیا اور اس نے اقرار کیا کہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ جو بھی اس کو پکڑلے گا یہ اسی کا ہوگا' یا اس نے انکار کیا اور گواہ قائم ہوگئے کہ اس نے ایسا کہا تھا یا اس سے حلف کا مطالبہ کیا گیا تو وہ حلف سے انکار کر گیا، ان تمام صورتوں میں ہو چوپایہ اُس پکڑنے والے شخص کا ہوگا چاہے تو خود حاضر ہوکر اُس نے اپنے کانوں سے اس کی یہ بات سُنی ہو یا وُہ غائب تھا اور اس تک یہ خبر پہنچی ہو اھ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ جب اس کو واہب کے اس قول کا علم ہوگیا تو قبضہ قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے جب اس کو واہب کے قول کاعلم نہ ہوتو قطعاً قبول متحقق نہ ہوگا اور وُہ قبول ہی موہوب لہ، کے لئے ثبوتِ ملک کامدار ہے چاہے اس قبول کو رکن قرار دیاجائے، جیسا کہ اس پر تحفہ، والوالجیہ، کافی، کافیہ، تبیین، بحر، مجمع الانہر، درمختار اور ابوالسعود وغیرہ کتب کبیرہ میں نص کی گئی اور ہدایہ اور ملتقی الابحر وغیرہ جلیل القدر کتابوں سے بھی یہی ظاہر ہے، یا اس قبول کوشرط قرار دیا جائے جیسا کہ اس پر مبسوط، محیط اور ہندیہ وغیرہ میں نص کی گئی اور بدائع میں افادہ فرمایا کہ بے شک یہ استحسان ہے اور یہ بے شک اول قول زفر ہے اور بہر صورت دونوں اس پر متفق ہیں کہ بغیر قبول کے ہبہ میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی، اور خانیہ وغیرہ میں اسی پر نص فرمائی گئی اور البتہ ہم نے اس مسئلہ کی حاشیہ ردالمحتار میں ایسی تحقیق کردی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق         کتاب الھبۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۷ /۲۸۴)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ    باب الہبۃ الباب الثالث فیما یتعلق بالتحلیل     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۳۸۲)
تو اس حالت میں بھی وُہ اشیاء بدستور ملکِ اصل مالک پر رہیں گی خواہ بکر ہو یا سب شرکاء اور احکام سابقہ عود کریں گے، ہاں اگر بکر کاارادہ ہبہ قولاً یا فعلاً یا درایۃً کسی طرح ظاہر ہوا جس کے سبب دلہن نے اسے ہبہ ہی سمجھ کر فیصلہ کیا تو البتہ ایجاب وقبول دونوں متحقق ہوگئے،
فان القبض لوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفی۔

اس لئے کہ ہبہ سمجھ کر قبضہ کرنا قبول ہے اگر چہ ناقص ہو جیسے متحمل قسمت مشاع کا ہبہ کیونکہ رضا پر دلالت کرنے  میں تمام برابر ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
ولوالجیہ میں ہے :
القبض فی باب الھبۃ جار مجری الرکن فصار کالقبول۱ ؎۔
ہبہ کے باب میں قبضہ رکن کے قائمقام ہے لہذا وُہ قبول کی طرح ہوگیا۔(ت)
(۱؎ والوالجیہ)
پس اشیاء بکر نے خرید کر جہیز میں دیں اگر چہ مال مشترک سے خریدی ہوں دلہن اُن کی مالک مستقل ہوگئی اور بکر پر اس مال مشترک میں اور ورثہ کے حصص کا تاوان آیا جن کے بے اذن یہ شراء واقع ہُوا یہاں تک کہ خود اُس دلہن کے حصّے کا بھی جس نے جہیز پایا،
فان البدل وان الیھا اوصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملک لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علیحدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔
اس لئے کہ بدل اگر چہ دلہن تک پہنچ گیا لیکن شراء بکر پر نافذ ہُوئی لہذا اس کے لئے ملک ثابت ہوئی اور ضمان تام ہُوا پھر بکر کا دُلہن کو عطا کرنا یہ بکر کے اپنے مال سے علیحدہ ہبہ ہُوا تو اس سے دُلہن کے حصّے کا ضمان ساقط نہیں ہوگا۔(ت)
اور جو کچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں تو ہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذ نہ ہُوا اذامنھم ولاولایۃ علیھم(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اذن ہے اور نہ ہی اس کی ان پر ولایت ہے۔ت) تو اُن کے حصّے تو ہر حال دُلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اور ضمان کا وہی حکم کہ اُنہیں اختیار ہے چاہیں بکر پر ڈالیں یا دلہن پر، جس پر ڈالیں دوسرے حصّہ جہیز جس مال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصّے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ہے ملتا تھا جب تو بکر کے حصّے میں بھی بہ ہوا لانھا ھبۃ فیما یقسم(کیونکہ یہ متحمل قسمت مشاع کا ہبہ ہے۔ت) اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پر رہے گا اور جو کچھ دُلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاک ہوگا اس میں حصّہ بکر کا تاوان خاص پر پڑے گا۔ q
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولایفید الملک فی ظاہر الروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لایملکہ فیکون مضمونا علیہ اھ۱؎ ملخصا وتمامہ فیھما وفی ردالمحتار۔
محتمل قسمت مشاع کا ہبہ ظاہرالروایۃ کے مطابق صحیح نہیں، اور نہ ہی مفید ملک ہے۔ امام زیلعی نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو مشترک غیر منقسم شئی بطور ہبہ دے دے تو موہوب لہ، اس کا ما لک نہیں ہوگا اور اس پر ضمان آئے گا، اس کی پُوری تفصیل مذکورہ بالا دونوں کتابوں اور ردالمحتار میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ    کتاب الھبۃ     دارالمعرفۃ بیروت        ۲ /۱۱۲)
اسی طرح اگر مال ناقابلِ تقسیم ہومگر دُلہن نہ جانے کہ اس میں بکر کا حصّہ کس قدر ہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اور بعد ہلاک وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پر آئے گا۔
بحرالرائق میں ہے :
یشترط فی صحۃ ھبتہ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرامعلوما حتی لو وھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز۲؎۔
غیر متحمل قسمت مشاع کے ہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مقدار معلوم ہو یہاں تک کہ اگر غلام سے اپنا حصہ کسی کو ہبہ کیا اور مقدار نہ بتائی تو جائز نہ ہُوا۔(ت)
محیط امام سرخسی میں ہے :
واذاعلم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی۳؂  نقلھا فی الفتاوی الھندیۃ۔
اگر موہوب لہ، کو واہب کا حصہ معلوم ہے تو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیک یہ ہبہ جائز ہونا چاہئے۔ ان دونوں کو فتاوٰی ہندیہ میں نقل فرمایا۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     بحوالہ محیط السرخسی     الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ     نورانی کتب خانہ پشاور      ۴/ ۳۷۸)
جامع الفصولین میں فتاوٰی امام فضلی سے ہے :
اذاھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذالفاسدۃ مضمونۃ علی مامر۴؎۔
اگر شیئی موہوب ہلاک ہوجائے تو میں اس واہب کیلئے رجوع کا فتوٰی دُوں گا جس نے اپنے ذی رحم محرم کو بطور ہبہ فاسدہ کچھ دیا کیونکہ ہبہ فاسدہ پر ضمان لازم آتا ہے جیسا کہ گزرگیا۔(ت)
 (۴؎ جامع الفصولین   الفصل الثلثون فی التصرفات الفاسدۃ     اسلامی کتب خانہ کراچی     ۲ /۵۷)
اور اگر دُلہن کو معلوم تھا تو اس قدر میں ہبہ صحیح ونافذوتام ولازم ہوگیا اور ان اشیاء میں دُلہن اپنے اور بکر دونوں کے حصص کی مالک ہوگئی باقی ورثہ کے حصّے بدستور ودستِ عروس میں حکمِ ضمان پر ہیں جن کا حکم بارہا گزرا اور اوّل سے آخر تک سب صورتوں میں جو مشترک چیزیں دُلہن کے ہاتھ میں تلف ہُوئی اُن میں دُلہن اپنے حصّہ کا تاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اُس کا مال اُسی کے ہاتھ میں ہلاک ہُوا اور بکر نے اس کے حصّے پر کوئی تعدی نہ کی،
فانہ انما سلم الملک لید من ملک فماھلک فی یدھا فعلیھا ھلک ھذاکلہ من اولہ الٰی آخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماء اعظم اﷲاجورھم یوم الجزاء فمااصبت فمن اﷲ تعالٰی ولہ الحمد علیہ وما اخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرافان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرافاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمد ﷲعلی فیضہ الجلیل۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ بیشک اس نے مملوک شیئی اس کے سپرد کی جو مالک ہوا تو جو دُلہن کے قبضہ میں ہلاک ہُوا وہ اسی کی ضمان میں ہلاک ہُوا۔ یہ تمام از اول تا آخر ربِّ قدیر جل مجدہ، کے فیض سے فقیر کے دل میں ڈالا گیا اور میں نے اس کو بطور فقہ علماءِ کرام کے ارشادات عالیہ سے اخذ کیا توجومیں نے درست کہا وہ اﷲتعالٰی کی طرف سے ہے اس پر اسی کے لئے حمد ہے اور جس میں مجھ سے خطا ہُوئی تو میرا اپنا قصور ہے میں اﷲ تعالٰی کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ ان مباحث کو زبردست مضبوطی عطا فرمائے کیونکہ یہ وُہ مسائل ہیں جن کی طرف بکثرت حاجت واقع ہوتی ہے پس اس عمدہ تفصیل کو غنیمت جان اور اﷲتعالٰی کے فیض جلیل پر اسی کی حمد ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter