Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
35 - 155
فتح القدیر میں ہے :
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول او فعل۱؎ اھ(ملخصاً) نعم المظہر قد یکون نصاً وھواللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالہ کالمساومۃ واخذالثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لاحاجۃ الی البیان للعرف العام کا لخبز مثلاً حیث یکون لہ قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذٰلک دلیل علی البیع واخذالمشتری علی الشراء  اما ھٰھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلامن قبل العروس ولئن سلمت ایضا فالتعاطی ھھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عند البعض وبہ یفتٰی وھو اربح التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل  والبدل ھھنا کما علمت مجہول فلم ینعقد البیع اجماعا۔
اس کارکن وُہ فعل ہے جو قولی یا فعلی طور  پر تبادل ملکین کے ساتھ رضامندی پر دلالت کرے، ہاں کبھی تو اس امر کا ظاہر کرنے والی شیئی بطور نص ہوتی ہے اور وُہ لفظ ہے جو ایجاب وقبول کے لئے مقرر کیا گیا اور کبھی وُہ بطور دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤ چکانا اور بیع تعاطی میں بیان ثمن کے بعد مبیع کو لے لینا اور جہاں عرف عام کی وجہ سے حاجتِ بیان نہیں ہوتی جیسے مثال کے طور پر  روٹی جہاں اس کی قیمت متعین ہو اور مختلف نہ ہوتی ہو وہاں بائع کا دکان کھول کر بیٹھنا اور فروخت کے لئے روٹی تیار کرنا بیع پر دلالت کرتا ہے اور مشتری کا اس کولے لینا خریداری پر دلالت کرتا ہے لیکن یہاں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کر بھی لی جائے تو دُلہن کی طرف سے بالکل دلالت نہیں پائی گئی اور اگر بالفرض اس کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہاں تعاطی صرف ایک جانب سے ہوگی ایک طرف سے تعاطی اگر چہ بعض کے نزدیک جائز ہے اور یہی مفتی بہ اور ارجح التصحیحین ہے،مگر اس کو جائز ماننے والوں کے نزدیک بیان بدل، ضروری ہے اور یہاں پر جیسا کہ تُوجانتا ہے بدل مجہول ہے لہذا بالاجماع یہ بیع منعقد نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         کتاب البیوع     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵ /۴۵۵)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحوانی کذافی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ و فی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احد ھما کاف لنص محمد رضی اﷲتعالٰی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع وھکذا حکی فتوی الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذافی المحیط۔
بیع تعاطی میں دونوں جانبوں سے اعطاء امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیک شرط ہے یونہی کفایہ میں ہے، اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں، بزازیہ میں ہے کہ یہی مختار ہے، البحرالرائق میں بھی ایسے ہی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ایک کا قبضہ کافی ہے کیونکہ امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی بدلین میں سے ایک پر قبضہ کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ایک پر قبضہ ثمن ومبیع دونوں کا شامل ہے جیسا کہ النہر الفائق میں ہے اور یہ قائل تسلیم مبیع کے ساتھ اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے بیان ثمن کی شرط لگا تا ہے، اور اسی طرح شیخ امام ابوالفضل کرمانی کا فتوٰی نقل کیا گیا جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
 (؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب البیوع     الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۹)
پس واضح ہو کہ جہیز دینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تو یہ دینا اصلاً کوئی اثر تبدل ملک پیدا نہ کرے گا' بلکہ وُہ مال جس کی مِلک تھا بدستور اسی کی مِلک پر رہے گا۔ اب معرفت مالک درکار ہے جو چیزیں عین متروکہ تھیں مثلاً زیور، برتن، کپڑے وغیرہا کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہٖ جہیز میں دئے گئے وُہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترکہ تھیں اب بھی مشترک رہیں گی اور جو اشیاء بکر نے خرید کردیں وہ سب مطلقا ً مِلکِ بکر تھیں اور اب بھی خاص اسی کی مِلک پر ہوں گی اگر چہ مال مشترک سے خریدی ہوں لماعلم ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ (کیونکہ یہ معلوم ہوچکا کہ بیشک شراء جب نفاذ پائے تو مشتری  پر نافذ ہوجاتی ہے۔ت) غایت یہ کہ مال مشترک سے خرید نے میں بکر باقی ورثہ کے حصص کا ذمہ دار رہے گا کما نقلنا فی مواضع منا فتاوٰنا عن ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار سے اپنے فتاوٰی میں متعدد مقامات پر نقل کیا ہے۔ت) پھر اس قسم یعنی مملوکات بکر پر دُلہن کا قبضہ قبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک(کیونکہ اس قبضہ کا حصول مالک کی طرف سے قدرت دینے سے ہوا۔ت) پس جس چیز کو دلہن نے استہلاک نہ کیا بغیر اس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاک ہوگئی اُس کا تاوان دلہن پر نہ آئے گا اور جو اس کے فعل وتعدی سے تلف ہُوئی اس کی قیمت بکر کے لئے دلہن کے ذمّہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذاتعدی(اس لئے کہ امین جب امانت میں تعدی کرے تو ضامن ہوگا۔ت) اور جو باقی ہو وہ بیعنہٖ بکر کو واپس دے اور قسم اول یعنی عین متروکہ سے جو کچھ جہیز میں دیا گیا اس پر دلہن کا ہاتھ دست ضمان ہوگا یعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاک ہوجائے مطلقاً تاوان آئے گا،
وذلک لان بکرا قدتعدی علی حصص الشرکاء بتجہیز الاخت من مال مشترک وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقبل وکل ید مترتبۃ علی ید ضمان ید ضمان۔
اور یہ اس لئے ہے کہ بیشک بکر نے شراکاء کے حصوں میں تعدی کی کیونکہ اس نے مال مشترک سے بہن کا جہیز بناکر بہن کے حوالے کیا تاکہ وہ اس کے پہنے اور استعمال کرے اور اس میں مستقل تصرف کرے قبضہ  جو قبضہ ضمان پر مترتب ہو وہ قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے۔(ت)
پس باقی وارث جنہوں نے اذن نہ دیامختار رہیں گےکہ جو کچھ ہلاک ہو ا چاہیں اپنے حصوں کا تاوان بکر سے لیں لانہ الغاصب(کیونکہ وُہ غاصب ہے۔ت) چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب(کیونکہ وہ گویا غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ت) فتاوٰی خیریہ میں ہے: الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء۱؎الخ۔

قبضہ ضمان پر مترتب ہونے والا قبضہ بھی قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے لہذا چار پائے کے مالک کواختیار ہے کہ جس سے چاہے ضمان لے الخ(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الغصب     دارالمعرفۃ بیروت     ۲ /۱۴۹)
اور وہ بکر یا دُلہن جس سے ضمان لیں اُسے دُوسرے پر دعوٰی نہیں پہنچتا :
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ و اما العروس فلانھا قبضت لنفسھا لالبکر ۔
لیکن بکر تو اس لئے کہ وُہ غاصب ہے بے شک دلہن نے اس کے قدرت دینے سے قبضہ کیا اور  رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ بے شک اس نے اپنے لئے قبضہ کیا ہے نہ بکر کے لئے۔(ت)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
وھب الغاصب المغصوب او تصدق اواعار وھلک فی ایدیھم وضمنوا للمالک لایرجعون بماضمنو ا للمالک علی الغاصب لانہم کانوا عاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنواعلی الغاصب لانھم عملوالہ۱؎الخ۔
غاصب نے شئی مغصوبہ کسی کو بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دے دی اور وہاں ہلاک ہوگئی تو جنہیں وہ شئی بطور ہبہ یا صدقہ یا عاریت دی گئی یہ لوگ اصل مالک کیلئے ضامن ہوں گے اور جتنا ضمان انہوں نے مالک کو دیا وُہ غاصب سے نہیں لے سکیں گے کیونکہ انہوں نے قبضہ کرنے میں اپنے لئے عمل کیا نہ کہ غاصب کے لئے بخلاف مرتہن، مستاجر اور مودع کے کہ یہ لوگ جتنے کے ضامن جتنے کے ضامن ہوئے غاصب سے اس کا رجوع کرسکیں گے کیونکہ اُنہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا الخ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الغصب     دارا حیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۲۶)
اور جو کچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الٰہیہ پر تقسیم ہوجائیں، یہ سب احکام اس صورت میں تھے کہ بکر نے جہیز بطور ہبہ نہ دیا ہو اوربے شک اس امر میں کہ ہبہ کی نیت تھی یا مجرائی کی، بکر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا،
لانہ الدافع فھوادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین والفتاوی الخیریۃ وغیرھا وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرہ اقول ولیس فی تجہیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابا یدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاباء والامھات فی بلاد نا کیف یکون الظاہر قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاہرح انھم یرید ون الاحتساب علیھن من انصابھن۔
کیونکہ بیشک وُہ دینے والاہے لہذا وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ دینے کی جہت کی ہے جیسا کہ اشباہ، جامع الفصولین اور فتاوٰی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہے اور تحقیق انہوں نے متعدد مسائل میں اس پر نص فرمائی ہے میں کہتا ہوں کہ مال دار بہنیں جو بھائیوں کے جہیز دینے میں یہ عرف عام نہیں کہ یہ بھائیوں کی طرف سے ہبہ ہے بخلاف ماں باپ کے کہ وُہ جو کچھ بطور جہیز دیں وہ ہمارے علاقے کے عرف میں ہبہ ہے اور بقاء واجب کے ہوتے ہوئے قصدِتبرع کیسے ظاہر ہوگا بلکہ ظاہر تو یہاں یہ ہے کہ وُہ بہنوں کے حصّوں سے مجرا کا ارادہ کرتے ہیں(ت)
اسی طرح اگر بکر نے دل میں نیتِ ہبہ کی مگردُلھن نے ہبہ جان کر قبضہ نہ کیا بلکہ مثلاً اپنے حصّہ کا معاوضہ یا حصّے میں مجرائی سمجھ کرلیا توبھی بعینہٖ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دُلہن کی طرف سے قبولِ ہبہ نہ پایا گیا،

فان القبول فرع العلم وھی اذا لم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔

اس لئے کہ قبول علم کی فرع ہے تو جب اس نے اسے ہبہ جانا ہی نہیں تو یہ کیسے متصور ہے کہ اس نے ہبہ قبول کیا۔ (ت)
Flag Counter