Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
34 - 155
مصارف شادی  :  عبارتِ سوال میں مذکور کہ دونوں قاصرہ وقت شادی جوان تھیں اور سائل نے بعد استفسار بذریعہ تحریر اظہار کیا کہ مصارف عروسی وجہیز سب بکر نے محض اپنی رائے سے کئے والدہ کا انتقال دونوں قاصرہ کی شادی سے پہلے ہوا،اور بہنیں ان کی شادیوں میں عام بیگانوں کی طرح شریک ہُوئیں نہ ان سے دربارہ صرف کوئی استفسار ہوا نہ اُن کا کوئی اذن نہ قاصرات سے کہا گیا کہ ہم یہ صرف تمہارے حصّہ سے کرتے یا جہیز تمہارے حصّے میں دیتے ہیں اور واقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنّواریوں سے  پُوچھ کر نہیں ہوتے نہ اُن سے ا س امر میں کوئی اذن لیا جاتا ہے پس اگر بیانِ مذکور صحیح ہے تو جو کچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہُوئے وہ دُلہن کے حصّہ سے مجرا نہیں ہوسکتے :
لانا وان قلنا بوصایہ بکردلالۃ کمااشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ ۔
کیونکہ بیشک ہم نے اگر چہ بکر کے لئے باعتبار دلالت وصی ہونے کا قول کیا ہے جیسا کہ ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں مگر وہ ولایت بالغ ہونے کے ساتھ منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتار میں عنایہ سے ہے :
انھم(یعنی ورثہ الکبار) اذاکانواحضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا  اذا الخ۱؎
بے شک وُہ (یعنی بڑے ورثاء) جب حاضر ہوں تو وصی کے ترکہ تصرف کا کوئی حق نہیں مگر جب الخ(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الوصایا     باب الوصی     دارا حیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۴۵۴)
توان مصارف میں جو کچھ بکر نے صرف کیا بہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جو کسی سے مُجرا نہ پائے گا سب صرف اسی کے حصہ پر پڑے گا خواہ ضماناً خواہ قصاصاً دوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃً اذن دیا بری رہیں گے اگر چہ اُنہوں نے صرف ہوتے دیکھا اور خاموش رہے ہوں اذا لاینسب الٰی ساکت قول(خاموش رہنے والے کی طرف قول کی نسبت نہیں کی جاتی۔ت)
اشباہ میں ہے :
لو رأی غیرہ یطلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ۲؎۔
اگر کوئی کسی کو اپنا مال تلف کرتا دیکھ کر خاموش رہے تو خاموشی اتلاف کی اجازت نہ ہوگی۔ (ت)
 (۲ اشباہ النظائر القاعدۃ الثانیۃ عشر    لاینسب الٰی ساکت قول     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۱۸۵)
خصوصاً اگر اُن میں کوئی اس وقت نابالغہ ہو کہ نابالغ کا اذن بھی معتبر نہیں،
فانہ لیس من اھل التبرع ولا لاحد ان یتبرع من مالہ۔
کیونکہ وُہ اہلِ تبرع میں سے نہیں اور نہ ہی کسی اور کو یہ حق ہے کہ اس کے مال میں تبرع کرے۔(ت)
بزازیہ وبحرالرائق وردالمحتار وتنویر الابصار وسراج وہاج وغیرہا میں ہے :
الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال او تملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا۱؎    ا ھ اقول ھذا افادوہ فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھماوکیل عن صاحبہ ماذون التصرف فی المال من جانبہ، فکیف بالشریک شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصواعلیہ۔
ہبہ وقرض اور جو مال کا اتلاف یا بے عوض تملیک ہو وُہ جائز نہیں جب تک شریک بنص صریح اس کی اجازت نہ دے دے اھ
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الشرکت     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۴۵)
اقول (میں کہتا ہوں) یہ وُہ ہے جس کا انہوں نے شرکت عنان و مفاوضہ کے شریکوں کے بارے میں افادہ فرمایا باوجودیکہ شرکتِ عنان اور شرکتِ مفاوضہ میں شریک ایک دوسرے کے وکیل اور ایک دوسرے کی طرف سے تصرف کے مجاز ہوتے ہیں تو یہ حکم شرکت عین کے شریک کیلئے کیسے ہوسکتا ہے کہ اس میں تو شریک دوسرے کے حصہ سے محض اجنبی ہوتا اسے دوسرے کے حصہ میں تصرف حلال نہیں جیسا کہ اُنہوں نے اس پر نص کی ہے۔(ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
التجہیز لایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذٰلک ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ۲؎ملخصا۔
جمع وموائد تجیہز میں داخل نہیں تو جو تجہیز کے علاوہ ان میں خرچ کرے اگر وُہ ورثاء میں سے ہے تو اُسی کے حصّہ سے شمار کیا جائے گا اور وہ متبرع ٹھہرے گا یُونہی  اجنبی اھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ حاشیہ طحطاویہ    کتاب الفرائض    دارالمعرفۃ بیروت      ۴ /۳۶۷)
دُلہن کا جہیز وہ اگر بکر نے بطور ہبہ نہ دیا بقصد مجرائی دیا تو یہ دینا کچھ اثر  پیدا نہ کرے گا جبکہ باہم کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ آئی کہ یہ اشیاء تیرے فلاں حصّہ کے معاوضہ میں دیتے ہیں اس کے بعد کُل ترکہ یا ترکہ کی فلاں قسم میں تیرا حصہ نہ ہوگا نہ بالیقین یہ ہوا کہ اموال منقولہ کی ہر جنس جُدا جُدا جوڑکر دُلہن کا حصّہ نکا ل کر ہر چیز سے خاص جس قدر اس کے حصّہ میں آیا بےکمی بیشی ایک ذرّہ کے اُس کے لئے جُدا کر لیا اور وہی اس کے جہیز میں دیا ہو،
فصلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الااسباد بالاستبدال فی القیمیات۔
چہ جائیکہ مثلی چیزوں پر اکتفاء کیا گیا ہو اور قیمت والی چیزوں میں مستقل تبادلہ کرنے سے احتراز کیاگیا ہو۔(ت)

انہ اجناس  مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکن یہاں تک کہ قاضی کو بھی اس کا اختیا ر نہیں کما نصواعلیہ فی الکتب جمیعا(جیسا کہ تمام کتابو ں میں اس پر نص فرمائی گئی۔ت) تو غایت درجہ اس قدر رہا کہ بکر نے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دُلہن کے حصہ میں مجرا لیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقد شرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہرلمامر(جیساکہ گزرا۔ت)صُلح وتخارج یُوں نہیں کہ کُل ترکہ یا اُس کی کسی قسم سے حصہ دلہن کا ساکت نہ کیا گیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا اب فلاں قسم طرقہ میں میرا کوئی دعوٰی نہ رہا اگرچہ میرا حصہ  مقدار جہیز سے زائد نکلے، نہ ایسا امر بے صریح رضامندی فقط ایک طرف کے خیال پر عقد ٹھر سکتا ہے،
فان العقد ربط ولا بدفی الربط من شیئین ۔
کیونکہ عقد ربط ہوتا ہے اور ربط میں دو۲چیزوں کا ہونا لازم ہے۔(ت)
معہذا عند الحساب جہیز کی لاگت میں اختلاف پڑنا ممکن بلکہ مظنون تو قطع نزاع جس کے لئے صلح تخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا،
وما من شیئی خلاعن مقصودہ الابطل وجہالۃ المصالح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الٰی المنازعۃ والامنعت۔
اورنہیں ہے کوئی شیئی اپنے مقصود سے خالی مگر  وہ باطل ہے، اور جس شیئی پر صلح ہو رہی ہے اس کامجہول ہونا اگر موجبِ نزاع نہ ہو تو جواز صلح سے مانع نہیں ورنہ مانع ہے۔(ت)
درمختار میں ہے :
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ  ؂۱۔
صلح شرعاً ایسا عقد ہے جو نزاع کو رفع اور خصومت کو قطع کرتا ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار   کتاب الصلح     مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۱۴۱)
نہایہ میں ہے :
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح اھ۲؎ملخصین۔
جو جہالت منازعت تک پہچائے وُہ جواز صلح سے مانع ہوتی ہے اھ ملخصین(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ النہایۃ       کتاب الصلح الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۲۳۱)
رہی بیع وہ اگر بتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکر کہتا ہے میں نے یہ جہیز بعوض ان اشیائے متروکہ کے جو بمقدار مالیت جہیز تیرے حصّہ میں آئیں بیع کیا اور دُلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیز کی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اور کیا کیا اشیاء حصّہ عروس میں آئیں گی یہاں کہ اس قدر بھی نہ ہوا بکلہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکر نے ایک امر سمجھ کر جہیز سپرد کیا یہ بھی خبر نہیں کہ اُس وقت قلبِ عروس میں  کیا نیت تھی اسے کیونکر کوئی عقدِ شرعی قرار دے سکتے ہیں،
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظہر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضا النفسی۔
اور یہ معلوم ہے کہ ایسا کوئی عقد نہیں جو محض نیت سے تام ہوتا ہو بلکہ کسی ایسی شیئی کا ہونا ضروری ہے جو ارادہ قلبی کوظاہر کرے رضاءِ قلبی پر دلالت کرے۔(ت)
Flag Counter