Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
33 - 155
فصل اوّل 

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۷۹: ۲۷ربیع اول ۱۳۰۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایک زوجہ اور ایک پسر بالغ اور ایک دختر بالغہ اور دو۲ لڑکیاں نابالغہ چھوڑکر فوت ہُوا، نابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں (جب وُہ بالغ ہُوئیں توبکر نے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اور جوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یا شادی کا خرچ بکر کے پاس سے نہ ہوا) صرف دو۲ بہنوں کا خرچِ پرورش وشادی اس نے مال متروکہ ومشترکہ سے کیا اس صورت میں یہ خرچ بکر کوان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرا مل سکتا ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب

یہاں تین۳ چیزیں ہیں:

(۱) خرچِ پرورش

(۲) شادی کے مصارفِ بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اور خرچ ہوتے ہیں جیسے برات کاکھانا، خدمتیوں کا انعام، سمدھیانے کے جوڑے، دُولہا کی سلامی، سواریوں کا کرایہ، برات کے پان چھالیا وغیرہ ذٰلک۔

 (۳) دُلہن کا جہیز ۔

بتوفیق اﷲتعالٰی ہر ایک کا حکم علیحدہ سُنئے:
خرچ پرورش بے شک بحکم دیا نت بحالت عدم وصی، وارثانِ کبیر کو وارثانِ صغیر کی پرورش کرنا اور اُن کے کھانے پہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں اُن کے لئے خریدنا اور ان امور میں ان کا مال بے اسراف وتبذیراُن پر اٹھانا شرعاً جائز ہے جبکہ وُہ بچّے اُن کے پاس ہوں اگر چہ یہ اُن ر وصابت و ولایت مالیہ نہ رکھیں۔
تنویرالابصار ودر مختار وردالمحتاروغیرہا اسفارمیں ہے :
جازشراء مالابد للصغیرمنہ(کالنفقۃ والکسوۃ واستئجارالظئرمنح) وبیعہ ای بیع مالابد للصغیرمنہ لا خ وعم وام وملتقط ھو فی جحرھم ای فی کنفھم و الا لا۔۱؎
چھوٹے بچّے کا مال سے اس کی ضرورت کی اشیاء خریدنا(جیسے کھانا، لباس اور اجرت پر دایہ حاصل کرنا، منح) اور ضرورت کے تحت اس کے مال سے کچھ بیچنا بھائی، چچا، ماں اور گم شدہ بچّے کو  پانے والے کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وُہ ان کی زیرِ حفاظت وپرورش ہو ورنہ نہیں۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الخطر والاباحۃ    فصل فی البیع         مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۲۴۶)

(۲؎ ردالمحتار    کتاب الخطر والاباحۃ    فصل فی البیع        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/۲۵۰)
علامہ شامی قولِ درمختارلایجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولاولایتہ الافی مسائل(غیر کے مال میں بے اذن ولایت تصرف ناجائز سوائے چند مسائل کے۔ت) کی شرح میں بہ ضمن مسائل استثنا ارشاد فرماتے ہیں :

کذا لو انفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی الکل دیانۃ۲؂  اھ ملخصا

جیسے بعض اہل محلہ کسی ایسی مسجد  پر مسجد کے مال سے خرچ کرے جس کا کوئی متولی نہیں مثلاً چٹائی وغیرہ کا انتظام کرے یُوں ہی بڑے وارث ایسے چھوٹے وارثوں پر جس کا کوئی وصی نہیں ان کامال خرچ کریں تو اس تمام میں دیانتاً ضمان نہیں (تلخیص)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الغصب    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۰   ۵ /۱۲۷)
اقول ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شھادۃ الاوصیاء من الطحطاوی من الفصول حیث قال ورثہ صغار وکبار وفی الترکۃ دین وعقار فھللک بعض المال وانفق الکبار البعض علٰی انفسھم وعلی الصغار فما ھلک فھو علی کلھم، وما انفقہ الکبار ضمنوا حصّۃ الصغار ان کانوا انفقوابغیر امر القاضی اوالوصی وما انفقوہ بامر احد ھما حسب لھم الی نفقہ مثلھم ۱؂اھ   فان ھذاعند وجود الوصی وما مر فعند عدمہ لاسیمافی بلادنا فافھم ۔
میں کہتا ہوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید ہُوں یہ اس کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید کرتا ہیں وہ جو طحطاوی میں بحوالہ فصول شہادۃ الاوصیاء کے بارے میں ہے جہاں فرمایاکہ اگر وارث بڑے اور چھوٹے ہیں اور ترکہ میں دین وعتار ہے پھر بعض مال ہلاک ہوگیااور بڑے وارثون نے کچھ مال اپنے آپ اور چھوٹے وارثوں پر خرچ کردیا تو جو مال ہلاک ہوا وہ سب پر ہے اور جو بڑوں نے چھوٹوں پر خرچ کیا اگر قاضی اور وصی کی اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے تو ضامن ہوں گے، اور اگر ان دونوں سے کسی کی اجازت سےخرچ کیا ہے تو نفقہ مثلی کی مقدار مجرا پائیں گے اھ اس لئے بے شک یہ حکم وصی کے موجود ہونے کی صورت میں ہے اور جو حکم ماقبہ گزرا وہ اس کی عدم موجودگی کی صورت میں ہے خاص طور پر ہمارے علاقے میں۔ پس سمجھ ۔ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     فصل فی شہادۃ الاوصیاء    دارالمعرفۃ بیروت     ۴ /۳۴۵)
پاس جو کچھ بکر نے اُن لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگر نفقہ مثل کا دعوٰی کرے تو بیشک دیانۃً مجرا پائے گا،
فانہ کان ماذونا لہ فی ذٰلک من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذب بہ الظاہر، الا تری الٰی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الٰی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی او قاض لفقد انھما ھٰھنا راساً و انت تعلم عن المفتی انما یفتی بالدیانۃ بل قد اثبتنا عرش التحقیق بتوفیق المولٰی سبحانہ وتعالٰی فی کتاب الوصایا من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ان الابن الکبیر فی امصارنا ھذہ فی اعصار نا ھذہ یقوم مقام وصی ابیہ علی الاولاد الصغار من دون حاجۃ الٰی تصریح بالوصایا لوجود الاذن والتفویض دلالۃ بحکم العرف الفاشی المطردمع تحقق الضرورۃ الملجئۃ الی اعتبارتلک الدلالۃ واﷲ یعلم المفسد من المصلح ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ وقد بینا المسئلۃ بحول القدیر جل مجدہ بما یتعین المراجعۃ الیہ وحینئذفالامر اظہر۔
کیونکہ اس کو شرع کی طرف سے ایسا کرنےکا اذن حاصل تھا لہذا وُہ ضامن نہیں بلکہ ایسا امین ہوگا کہ جب تک وُہ خلافِ ظاہردعوٰی نہ کرے اس کے قول کو تسلیم کیا جائے گا، کیا تو نے نہیں دیکھا جس کا ذکر ہم فصول کے حوالے سے پہلے کرچکے ہیں کہ نفقہ مثل تک مجرا  پانے کا حکم کیا گیا جبکہ وصی یا قاضی وغیرہ جنہیں اختیار اذن ہے میں سے کسی کا اذن پایا جائے اور شرع مطہر زیادہ حقدار ہے کہ اس کو اختیارِ اذن ہو، اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایا گیا اگر چہ وصی یا قاضی کی طرف سے اذن نہیں پایا گیا کیونکہ اس صورت میں دوسرے سے 

موجود ہی نہیں ہیں۔ اور  تُو جانتا ہے کہ مفتی دیانت پر فتوٰی دیتا ہے بلکہ ہم نے مولٰی سبحانہ، وتعالٰی کی توفیق سے العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃکی کتاب الوصایا میں بلند ترین تحقیق کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہمارے شہروں میں موجودہ زمانے میں تصریح  وصیت کے بغیر  بھی بڑا بیٹا باپ کے وصی کے قائم مقام ہوتا ہے کیونکہ ہمارے عام و رائج عرف وعادت کے طابق بطور دلالت اذن تفویض موجود ہے باوجود یکہ ایسی ضرورت بھی متحقق ہے جسے اس دلالت کا اعتبار کرنے پر مجبور کرنے والی ہے۔ اﷲ تعالٰی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے جو شخص اپنے اہلِ زمانہ کو نہ پہچانے اور فتوٰی میں اپنے علاقے کے احوال کا لحاظ نہ رکھے وُہ جاہل ہے اور اس کا قول وبیان باطل ہے اور ہم نے اﷲقدیر جل مجدہ، کی طاقت سے مسئلہ کو اس اسلوب سے بیان کردیا جس کی طرف رجوع کرنا متعین ہے، اس صورت میں معاملہ زیادہ ظاہر ہوا۔(ت)
اور نفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدّت ایسے بچّوں پر اتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدر ہوتا ہے اتنا مجرا پائے گا۔ عالمگیری میں ہے : نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط۱؎۔

نفقہ مثل وہ ہے جو فضول خرچی اور تنگی کے درمیان ہو، ایساہی محیط میں ہے۔(ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب الوصایا     الباب التاسع فی الوصی     نورانی کتب خانہ پشاور     ۶ /۱۵۵)
ردالمحتار میں ہے :
ماینفق علی مثلھم فی تلک المدۃ۲؎۔
جو اُن کا مثل بچّوں  پر اتنی مدت میں خرچ کیا جاتا ہو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی شہادت الاوصیاء     داراحیاء التراث العربی بیروت         ۵ /۴۶۰)
Flag Counter