| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
اس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلک سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی(باہمی رضامندی سے رجوع متحقق ہونے کی وجہ سے۔ت) اور اگر موجودہ صورت اولٰی ہے یعنی قرابت وزوجیت وغیرہما کوئی مانع، تو اس حال مین بھی اگر اس نے برضائے خود جوڑا انہیں ہبہ کرنے کے ارادہ سے واپس کردیا ہبہ صحیح ہوگیا۔
فی الدرالمختار اتفق والواھب والموھوب لہ علی الرجوع فی موضع لایصح رجوعہ من لامواضع السبعۃ السابقۃ کالھبۃ لقرابتہ جاز ھذاالاتفاق منھما جوھرۃ وفی المجتبی لاتجوز الاقالۃ فی الھبۃ والصدقۃ فی المحارم الابالقبض لانھا ھبۃ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ واہب اور موہوب لہ، ہبہ کے رجوع پر متفق ہوگئے، مذکورۃ الصدر ان سات مواضع میں سے کسی موضع پر جن میں رجوع صحیح نہیں جیسے ہبہ بوجہ قرابت تو ان دونوں کا یہ اتفاق جائز ہے(جوہرہ) اور مجتبٰی میں ہے کہ محارم کے ہبہ اور صدقہ میں بلا قبضہ اقالہ جائز نہیں کیونکہ (اقالہ) ہبہ ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴۲)
اور اگر اس گمان پر واپس دیا کہ جوڑا بھی مثل جہیز ہے بعد افتراق اس کی واپسی بھی مجھ پر لازم تو یہ واپس دینا معتبر نہ ہوگا، نہ وُہ جوڑامِلک شوہر سے نکلے گا، اسے اختیار سہے اب واپس لے لے، اور ان پر لازم کہ واپس دیں۔
لان الجوع حیث لایصح انما یصح ھبتہ مبتدأۃ کما تقدم واذلاھبۃ فلاصحۃ ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ قال فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیألیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھکلہ القابض کما فی شرح النظم للوھبانی وغیرہ من المعبترات۲اھ وفی الخیریۃ من الوقف قد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ اھ۳؎۔
کیونکہ جہاں رجوع صحیح ہو وہاں نئے سرے سے ہبہ صحیح ہوتا ہے جیسا کہ گزرا، جب ہبہ نہیں تو صحت نہیں، اور اس گمان کاکوئی اعتبار نہیں جس کی خطاء واضح ہے۔ عقودالدریہ کی کتاب الشرکۃ میں فرمایا کہ جس نے کسی کو ایسی شے دی جس کا دینا واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس کے کہ جب بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے اس کو ہلاک کر ڈالا ہو جیسا کہ وہبانی کی شرح النظم اور دیگر معتبر کتابوں میں ہے اھ اورخیریہ کے کتاب الوقف میں ہے تحقیق انہوں نے تصریح کی اس بات کی کہ کسی شخص نے گمان کیا کہ اس پر قرض ہے پھر اس کے خلاف ظاہر ہوا تو جو کچھ ادا کرچکا ہے واپس لے سکتا ہے، اور اگر لینے والے نے اس کو ہلاک کردیا ہے تو اس کا بدل لے سکتا ہے اھ(ت)
(۱؎العقودا الدریۃ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ کتاب الشرکۃ حاجی عبد الغفار وپسران قندھار افغانستان ۱ /۹۱) (۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارا لمعرفۃ بیروت ۱/۳۔۱۳)
دلہن کا گہنا جوڑا جو بری میں دیاجاتا ہے اگر نصاً یا عرفاً اس میں بھی تملیک مقصود ہوتی ہے جیسے شکر، میوہ، عطر، پھل وغیرہ، مطلقاً ہوتی ہے تو وہ بھی قبضہ منکوحہ ملک منکوحہ ہوگا ہمارے یہاں شرفا کا عرف ظاہر یہی ہے ولہذا بعد رخصت اس کے واپس لینے کو سخت معیوب وموجب مطعونی جانتے ہیں، اور اگر لے لیں تو طعنہ زن یہی کہتے ہیں کہ دے کر پھیر لیا یاصرف دکھانے کو دیا تھا جب دُلہن آگئی چھین لیا، یعنی یہ ان کی رسمِ معہود کے خلاف ہے اس صورت میں تو اس کے لئے بھی بعینہٖ وہی احکام ہوں گے جو دُولہا کے جوڑے میں گزرے کہ بعد ہلاک دُلہن سے تاوان لینے کا اصلاً اختیار نہیں جیسے شکر میوہ کا تاوان بٹ جانے کے بعد نہیں مل سکتا اگر چہ ہنوز کھانے میں نہ آیا ہو، فان الخروج عن ملک الموھوب لہ ایضا من الموانع ۱ کما فی الدروسائر الاسفارالغر۔ اس لئے کہ بیشک موہوب لہ، کی مِلک سے ہبہ کا نکل جانا بھی رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ در اور دیگر عظیم الشان روشن کتابوں میں ہے(ت)
(۱؎ درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳)
یُونہی اگر وُہ جوڑا گہنا بحالتِ قرابت محرمہ والدین شوہر یا بعد نکاح شوہر نے بنا کر بھیجا تو رجوع نا متصور، ورنہ بحالت بقائے موہوب وفقدان موانع برضائے زوجہ یا قضائے قاضی واپسی گناہ کے ساتھ ممکن، ہاں جہاں عرف تملیک نہ ہو بلکہ صرف پہنانے کے لئے بھیجا جاتا اور بنانے والوں ہی کی مِلک سمجھا جاتا ہو وہاں دُلہن کی ملک نہیں ایک عاریت ہے کہ بحالتِ بقا جس سے بر وقت رجوع جائز وحلال اور بحال ہلاک اگر قبل افتراق زوجہ کے پاس بے اُس کے فعل کے تلف ہوگیا مثلاً، چور لےگیا ، گرپڑا، دُلہن کے پہننے برتنے میں ٹوٹا بگڑا خراب ہوگیا بشرطیکہ وہیں تک اپنے استعمال میں لائی ہو جہاں تک کے پہننے پر عرفاً رضا مندی سمجھی جاتی ہوتو ان صورتوں میں دُلہن پر تاوان نہیں، فان العواری لاتضمن بالھلاک من غیر تعد۲ کما فی التنویر وغیرہ وفی الھندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا انتقض عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ استعمالاًمعھوداٍ۱؎ اس لئے کہ بے شک مستعار اشیاء پر بلاتعدی ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے۔ ہندیہ میں فصول عمادیہ سے ہے کہ جب مستعار شئی میں استعمال کی حالت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہیں استعمال عادت وعرف کے مطابق ہو۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۶۸) (۲؎ درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۶)
اور اگر خلاف عرف وعادت بے طوری سے پہننے میں خراب کیا مثلاً بھاری جوڑے یا موتیوں کے نازک جڑاؤ گہنے راتوں کو پہنے سویا کی، یا صرف آنے جانے میں پہننے کاعرف تھا یہ گھر میں پہنتی ہے تو نقصان کا تاوان دے گی، یُونہی اگر بے احتیاطی بے پروائی سے گمادیا یابعد طلاق اپنے گھر لے آئی اور یہاں کسے طرح تلف ہوگیا تو قیمت دینی آئے گی،
لان العاریۃ کانت موقتۃ دلالۃ الی بقاء الزوجیۃ فانتھت کانتھائھا فامساکھا بعد ذٰلک تعد منھا وان لم تستعمل،فی جامع الفصولین لو کانت العاریۃ موقتۃ فامسکھا بعد الوقت مع امکان الردضمن وان لم یستعملھا بعد الوقت ھو المختار سواء توقتت نصا او دلالۃًالخ۲ اقول ھذاھوالمنصوص علیہ فی الاصل کما فی الھندیۃ فیترجح علی مافیھا ان من مشائخنا من قال بان ھذا انتفع بھا بعدالوقت فان لم ینتفع بھا لم یضمن وھوالمختار۳؎الخ فان الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی ظاہر الروایۃ بل ھٰھنا اولی کما لایخفی۔
اس لئے کہ یہ عاریت، دلالت کے اعتبار سے بقاءِ زوجیت تک مؤقت تھی لہذا زوجیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ بھی ختم ہوگئی چنانچہ اب اس کے بعد عورت کا اس کو روکے رکھنا عورت کی طرف سے تعدی ہے اگر چہ اسے استعمال نہ کرے جامع الفصولین میں ہے کہ اگر عاریت موقت ہو اور وقت گزرجانے کے بعد امکان رد کے باوجود اُسے روکے رکھے تو ضامن ہوگا اگر چہ وقت مختار ہے برابر ہے کہ توقیت باعتبار نص کے ہویا باعتبار دلالت کے الخ___ اقول (میں کہتا ہوں) یہ وہی ہے جس پر اصل میں نص کی گئی جیسا کہ ہندیہ میں ہے پس اس کو ترجیح ہوگی اس پر جو اس میں ہے کہ بیشک ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ تحقیق یہ حکم تب ہے جب وقت گزرنے کے بعد اس سے نفع اٹھائے، اور نفع نہیں اٹھایا تو ضامن نہ ہوگا یہی مختار ہے الخ اس لئے کہ جب فتوٰی میں اختلاف واقع ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہوتا ہے بلکہ یہاں پر اولٰی ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
(۱ فتاوی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۶۸) (۲ جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون فی اانواع الضمانات الواجبۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۵۹) (۳فتاوی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب الخامس فی تضییع العاریہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۶۷)
اور وُہ زیور وغیرہ کہ والدین زوج اپنی بہو کے پہننے برتنے دیتے ہیں جس میں نصاباً یا عرفاً کسی طرح مالک کردینا مقصود نہیں ہوتا وہ بدستور مِلکِ والدین پر ہے بہو کا اُس میں کچھ حق نہیں کما تقدم فی استمتاع المرأۃ بمشری الزوج(جیسا کہ عورت کے لئے شوہر کے خریدے ہُوئے مال سے نفع حاصل کرنے کی صورت میں گزرچکا ہے۔ت) اس کے احکام وہ ہی احکام عاریت ہیں کہ مفصلاًمذکور ہوئے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ۱۵رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مسمٰی زید نے اپنے پسر ابومحمد کی شادی ساتھ حبیبہ بنت خالد کے بصرف زر اپنے کے کی خالد نے بطریق جہیز اسباب و زیور وغیرہ دے کر زوجہ ابومحمد کو بدستور معروف رخصت کیا بعد چند روز کے زید نے اپنی خوشی سے ابومحمد اور اس کی زوجہ کا کھانا پینا علیحدہ کیا اُس وقت اُس کی زوجہ نے اپنا مال واسباب جو اس کے والدین نے اُسے دیا تھا زید یعنی خسر سے طلب کیا زید نے کہا وہ مال ہمارا ہے ہم نے بالعوض اُس روپے کے جو شادی ابومحمد میں صَرف ہوا رکھ لیا ہے اب فرمائیے کہ عند الشرع اس مال واسباب کی مالک زوجہ ابومحمد ہے یا زید والد ابومحمد ہے۔ بینوا توجروا۔ الجواب وُہ زیور و اسباب کہ زوجہ ابومحمد اپنے جہیز میں لائی خاص اُس کی مِلک ہے ابومحمد یا اُس کے باپ کا اس میں کچھ حق نہیں اور وُہ روپیہ کہ زید نے ابومحمد کی شادی میں صَرف کیا بحکم عرف شائع وعام تبرع واحسان قرار پائےگا کہ زید اس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتا اور اگر قرض بھی ٹھہرے مثلاً ابومحمد بالغ نے خود استدعا کی کہ میری شادی کے مصارف آپ میری طرف سے ادا کردیجئے میں واپس دُوں گا، یا زید ہی نے اس سے کہا کہ یہ صرف تیری طرف سے بطور قرض کروں گا، اُس نے قبول کرلیا، یا ابومحمد نابالغ تھا زید نے قبلِ صَرف لوگوں کو گواہ کرلیا کہ یہ خر چ میں طرف ابومحمد بطور قرض اٹھاتا ہوں میں اس سے واپس لُوں گا، اور اس صورت میں صرف وہی کیا جو رسم وعادت وحیثیت کے موافق تھا، ان سب صورتوں میں جو اُٹھایا وہ قرض ہے مگر اُس کا تقاضا ابو محمد سے کرے، زیور واسباب کو مِلکِ زوجہ ہے کہ اُس روپے کے عوض کیونکر لے سکتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔