| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
پس صورتِ مستفسرہ میں جہیز تو ذرّہ ذرّہ دینا واجب ہی تھا اور اُس کی واپسی سے بری کی واپسی لازم نہیں کہ وُہ اس کا عوض نہ تھی بلکہ اُس کا حکم آگے آتا ہے شوہر کا جوڑا ادھر سے آتا ہے بعد قبضہ قطعاً مِلک شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اُس تملیک ہی کا قصد کرتے ہیں وذٰلک واضح لاخفاء بہ(اوریہ واضح ہے اس میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں۔ت)پس اگر وہ اس نے ہلاک کردیا خواہ ہلاک ہوگیا تو اُدھر والے اس کا کوئی تاوان اس سے نہیں لے سکتے کہ ہلاکِ موہوت مطلقا مانع وجوع ہے۔ یونہی اگر جوڑا عورت کے والد یا والدہ نے اپنے مال سے بنا کر بھیجا جیساکہ ان بلاد میں اکثر یہی متعارف ہے اور یہ شخص نسباً اس کا محرم مثلاًبھتیجا بھانجا ہے یا نکاح پہلے ہو لیا بعدہ، جوڑا مال زوجہ سے برضائے زوجہ بنا کر بھیجا گیا تو ان صورتوں میں بھی واپس لینے کا اصلاً اختیار نہیں اگر چہ جوڑا سلامت موجود ہو کہ قرابت محرمہ زوجیت دونوں مانع رجوع ہیں ،
فی الدرمختارو ردالمحتار یمنع الرجوع فیھا حروف دمع خزقہ فالزوجیۃ وقت الھبۃ فلو وھب لامرأۃ ثم نکحھارجع ولو وھب لامرأتہ لاکعکسہ ای لو وھبت لرجل ثم نکحھا رجعت ولو لزوجھا لا ،والقاف القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نسبالایرجع والھاء ھلاک العین الموھوبۃ وکذااذا استھلک کما ھو ظاہر صرح بہ اصحاب الفتاوٰی رملی۱؎اھ ملتقطین۔
درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں: دمع خزقہ، پس (ان سات حروف میں سےزا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقتِ ہبہ موجود ہو لہذا اگر کسی عورت کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا تو ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتا، ایسا ہی اس کے برعکس میں بھی ہے یعنی اگر عورت نے کسی مرد کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس سے نکاح کیا تو رجوع کرسکتی ہے، اور اگر اپنے شوہر کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتی۔اور قاف سے مراد قرابت ہے، لہذا اگر کسی ایسے ذی رحم رشتہ دار کو بطور ہبہ کچھ دیا جو اس کے لئے محرم نسبی ہے تو رجوع نہیں کرسکتا۔اور ہاء سے مراد موہوب شیئی کا ہلاک ہونا ہے اور اسی طرح ہلاک کرنا ہے : جیسا کہ ظاہر ہے اصحابِ فتاوٰی نے اس کے تصریح کی، رملی اھ ملتقطین۔(ت)
(۱ ردالمحتار باب الرجوع فی الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۹-۱۸-۵۱۵) (درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
فتح القدیر وغیرہ میں ہے :
لوبعث ابوھا من مالہ فلہ الرجوع لوقائما والافلاولومن مالھا باذنھا فلارجوع لانہ ھبۃ منھا والمرأۃ لاترجع فی ھبۃ زوجھا۲؎۔
اگر زوجہ کے باپ نے اپنے مال سے کُچھ بھیجا تو اگر وُہ موہوب شئی شوہر کے پاس موجود ہے تو رجوع کرسکتا ہے ورنہ نہیں، اور زوجہ کے مال سے اس کی اجازت سے بھیجا تو رجوع نہیں کرسکتاکیونکہ یہ زوجہ کی طرف سے ہبہ ہے اور زوجہ کو زوج کے ہبہ میں رجوع کا حق نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۶-۲۵۵)
ہاں اگرجوڑا مِلکِ شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلاً والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانا بحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایک دوسرے کے عوض میں، ولہذا اگر ایک جا ن سے مثلاً بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سے بری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار، مگر گنہگار ہوں گے۔
حضور پُر نور سیّدِ عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
العائد فی ھبتہ کالعائد فی قیئہ ۱؎ ۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ بالفظ شتی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
دے کر پھیر نے والامثل کُتّے کے ہے قے کرکے پھرکھالے (اس کو امامِ احمد اور اصحاب صحاح ستّہ نے مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الھبۃ باب التحریم فی الصدقۃ مطبع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶)
درمختار میں ہے :
(کرہ) الرجوع (تحریما) وقیل تنزیھا نھا یۃ۲اھ اقول والاول الذی جزم بہ فی المتن و اشار الشارح الٰی تضعیف خلافہ فانہ ھو الصحیح الذی لامعدل عنہ لقول رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لایحل للرجل ان یعطی عطیۃ فیرجع ۳ فیھا ،رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ عن ابن عمر وابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال فی المنتقٰی صححہ الترمذی۔ (ہبہ میں) رجوع مکروہ تحریمی ہے، اور کہا گیا ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے نہایہ اھ اقول (میں کہتا ہوں) اوّل جس پر متن میں جزم کیا اور شارح نے اس کے خلاف کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا وہی صحیح ہے اس اعراض کا کوئی سبب نہیں بسبب فرمان رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے کہ کسی مرد کے لئے جائز نہیں کہ کچھ عطیہ دے کر اس میں رجوع کرے۔
(۲؎درمختار باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱) (۳؎ مسند امام احمد بن حنبل مروی از ابن عمر وابنِ عباس دارا لفکر بیروت ۲ /۲۷)
اسے امام احمد اور اصحابِ سُننِ اربعہ نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم سے روایت کیا، منتقی میں فرمایا کہ امام ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا۔(ت)