Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
30 - 155
باب الجھاز

(جہیز کا بیان)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم  ط
مسئلہ ۷۵: ۲۵صفر ۱۳۰۶ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں اُ س کو کچھ زیور یا اسباب یا جائداد دی تواُس مال کا مالک اس لڑکی کے حینِ حیات میں اس کا شوہر ہوسکتا ہے یا وہ لڑکی ہی مالک ہے۔ بینوا توجروا
الجواب

وہ مال تمام  وکمال خاص مِلک عورت ہے دوسرے کا اس میں کُچھ حق نہیں :
فی ردالمحتار احد یعلم ان الجہاز ملک المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ولایختص بشئی منہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب النفقہ        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۵۳)
مسئلہ۷۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو زیور اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا اس کی مالک دخترِ زید ہے یااس کا شوہر، اور اگر شوہر بے اذنِ زوجہ اس میں تصرف کرے تو نافذ ہوگا یا نہیں۔ بینوا توجروا

الجواب

زیور وغیرہ جہیز کہ زید نے اپنی بیٹی کو دیا خاص مِلک دختر ہے شوہر کو کسی طرح کا استحقاق مالکانہ اُس میں نہیں، نہ اس کا تصرف بے رضا واذنِ زوجہ نافذ ہوسکے۔
فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمھا ذٰلک لیس لہ الاسترداد منھا، ولا لورثتہ بعدہ ان سلمھا ذٰلک فی صحتہ بل تختص بہ وبہ یفتی۱؎۔
درمختار میں ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیٹی کو کچھ جہیز دیااور وُہ اس کے سپرد بھی کردیا تو اب اس سے واپس نہیں لے سکتا، اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اُس کے وارث واپس لے سکتے ہیں بلکہ وہ خاص عورت کی ملکیت ہے، اور اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس نے یہ جہیز حالتِ صحت میں بیٹی کے سپرد کیا ہو (یعنی مرض الموت میں نہ دیا ہو)۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۳)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
کل احد یعلم ان الجھازملک المرأۃ ۲؎لاحق لاحدفیہ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہو تا ہے اس میں کسی اور کاکوئی حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب النفقہ     احیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۱۵۳)
مسئلہ۷۷: ۳۰جمادی الآخرہ۱۳۱۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ یہ جو متعارف ان شہروں میں ہے کہ دُولہا کی طرف سے جوڑا وغیرہ دُلہن کو بھیجا جاتا ہے بایں اُمید کہ اُدھر سے بہت زیور وغیرہ ملے گا لہذا بامید عوض جوڑے گراں قیمت سَوروپے دوسوروپے کے اور دیگر اسباب قیمتی مناسب اس کے بھیجتے ہیں اور یہ صراحت بھی ہوتی ہے کہ ادھر سے دوسو کا مال جائے گا تو اس کے عوض میں چار سو کا مال ملے گا، ایسا ہی دُلہن کی طرف سے دُولہا کے واسطے جوڑا وغیرہ گراں قیمت بھیجا جاتا ہے، پھر جب زوجین میں جُدائی ہوگئی اور زوجہ کی طرف سے طلب اپنے دئے کی ہُوئی، اور زوج کی طرف بمقتضائے ایمانداری جو کچھ اُدھر سے آیا تھا جوڑا وغیرہ سب دے دیا اور رسید اُن اشیاء کی لکھوالی، اس صورت میں زوج کی طرف سے جو کچھ جوڑا  اور  زیور وغیرہ گیا تھا واپس ہوسکتا ہے یا نہیں اور اگر ہلاک کردے ایک شخص ان دونوں میں سے جو دیا تھا اس کو دوسرے نے، تو اس صورت میں ہلاک کردینے والے سے وُہ دوسرا شخص جس کامال ہلاک کیا، لے سکتا ہے یا نہیں۔ والدین زوج نے اپنے پسر کی زوجہ کو کچھ زیور وغیرہ واسطے تالیفِ قلوب کے بایں غرض کہ ہمارے گھر میں رہے گا اور ہر وقت ہمارے اختیار میں جس وقت چاہیں گے اس کو دوسرے کام میں لائیں گے اور جب چاہیں گے بنادیں گے جیسا کہ تاجروں میں ہے بطور عاریت کے ایسا مال دیا کرتے ہیں واسطے زیبائش اپنے گھر کے، نہ بطور تملیک کے، اس صورت میں مالک اُس مال کے والدین ہیں یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب

جہیز ہمارے بلاد کے عرف  عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔
ردالمحتار میں ہے :
کل احد یعلم ان الجھاز للمرأۃ وانہ اذاطلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا۱؎۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے، جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام جہیز لے لے گی اور جب عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار باب النفقہ  احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۳)
ہاں مرد بحالت ہمخانگی اُن کے والدین بھی بعض اشیائے جہیز مثل ظروف وفروش وغیرہا اپنے استعمال میں لاتے ہیں اورعرفاً اس سے ممانعت نہیں ہوتی اس کی بنا ملک شوہر یا والدینِ شوہر  پر نہیں بلکہ باہمی انبساط کہ زن وشو کے املاک میں تفاوت نہیں سمجھا جاتاجیسے عورتیں بے تکلف اموال شوہر استعمال میں رکھتی ہیں اس سے وہ اُس کی مِلک نہ ہوگئے۔
عقودالدریہ کتاب الفرائض میں بحرالرائق سے ہے : لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذٰلک دلیلا علی انہ ملکھا ذٰلک کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذٰلک مرارا۲ ؎۔
شوہر کے خریدے ہوئے مال سے عورت کانفع حاصل کرنا اور شوہر کا اس پر رضا مند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت اس مال کی مالک ہوگئی جیسا کہ عورتیں اور عام لوگ سمجھتے ہیں اور تحقیق میں اس پر متعدد بار فتوٰی دے چکا ہُوں۔(ت)
 (۲؎ العقودالدریہ تنقیح فی فتاوٰی حامدیۃ، کتاب الدعوی ۲ /۳۵، کتاب الفرائض ۲ /۳۵۰حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان )
یہاں سے ظاہر کہ جانب شوہر کی بری اگر چہ بامید کثرت جہیز گراں بہا بنے معاوضہ نہیں کہ اگر یہ اشیاء اپنے ملک پر رکھتے اور وقت پر برائے نام بھیج دیتے ہوں کہ ہمارے گھر آجائے گی جب تو ظاہر کہ جانب شوہر سے کوئی تملیک نہ ہُوئی' اور تملیک ہی قصد کرتے اور دُلہن کو  اس گہنے جوڑے کا مالک جانتے ہوں تاہم معاوضہ نہ ہُوا کہ اس کے عوض میں جس شے کی امید رکھتے ہیں یعنی جہیز وہ بھی ملک زوجہ ہی ہوگا اور عوض و معوض ایک مِلک میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ہاں کثرت جہیز کی امید پر بھاری جوڑے گہنے بھیجتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ ہم یہ دے کر جہیز کے مالک ہوں گے بلکہ اس خیا ل سے کے بسببِ انبساط مذکور ہمیں بھی تمتع وانتفا ع ملے گا ہمارے گھر کی زیب وآرائش ہوگی نام ہوگا آرام ہوگا وقتِ حاجت ہرگونہ کا برآری کی توقع ہے کہ یہاں کی نیک بیبیاں غالباً اپنا مال خصوصاً ہنگامِ ضرورت اپنے شوہروں سے دریغ نہیں رکھتیں، یہ وجو ہ اُس باعث ہوتی ہیں کہ ادھر سے دوسو۲کا جائے گا تو چارسو۴۰۰ کا آئے گا جیسے بلادِ شام وغیرہ میں اسی اُمید پر مہر بڑھاتے ہیں۔
فی ردالمحتارکل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأۃ ولایختص بشیئی منہ وانما المعروف انہ یزید فی المھر لتاتی بجھاز کثیر لیزین بہ بیتہ وینتفع بہ باذنھا ویرثہ ھو  و اولادہ اذا ماتت کمایزیدہ فی مھرا لغنیۃ لاجل ذٰلک لالیکون الجھاز کلہ او بعضہ ملکا لہ، ولا لیملک الافتقاع بہ وان لم تأذن۱؎۔
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جا نتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا، اور بیشک متعارف ہے کہ شوہر مہرمیں اس توقع  پر اضافہ کر تا ہے کہ عورت بھی زیادہ جہیز لائے گی تا کہ اس سے گھرکی زینت وآرائش ہو اور عورت کی اجازت سے شوہر اس سے نفع اٹھائے گا اورعورت کے مرنے کے بعد وُہ اور اس کی اولاد جہیز کی وارث بنے گی، جیسا کہ اسی غرض سے وہ غنی عورت کے مہر میں اضافہ کرتا ہے، اس لئے نہیں کہ وُہ تمام یا بعض جہیز کا مالک بن جائے گا یا عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نفع حاصل کرسکے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     باب النفقہ    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۵۳)
Flag Counter