مسئلہ ۷۱تا۷۲: از کانپور طلاق محال مکان ابوالضیاءحکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)کسی قبیلہ میں یہ رسم ہے کہ عقد کے پیشتر جو کچھ شرائط متعلق عقد کرنا ہوتے ہیں نوشاہ سے بتوسط والدین یا کسی دیگر عزیز قریب کے سا طرح پر طے کرتے ہیں کہ نوشاہ بالکل خاموش بیٹھا رہتا ہے اور دوسرے لوگ جو کچھ اس کے واسطے طے کردیتے ہیں اس کا وُہ پابند سمجھا جاتا ہے اور پابندی بھی کرتا ہے تو کیا زید کو جو اسی قبیلہ کا ہے اور اس سے بھی اس رسم قبیلہ کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ وُہ بعد بلوغ زوجہ کے سسرال میں رہ کر نان نفقہ کی خبر گیری کرتا رہے گا یا نقد ادا کردے گا مگربعد عقد کے زید ان معاہدوں کو پورا کرنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے معاہدہ میرے والد سے ہُوا تھا نہ کہ مجھ سے، حالانکہ معاہدہ کے وقت زید بھی موجود تھا اور باوجود بالغ ہونے کے اُس نے معاہدہ کے کسی جُز سے انکار نہیں کیا، تو کیا ایسی صورت میں حسبِ رواجِ قبیلہ زید ان معاہدوں کے پورا کرنے کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
(۲) ہندہ کا عقد زید سے اس طرح پر ہوا کہ حسبِ رواج قبیلہ عقد سے چار یوم پیشتر زید سے بتوسط والدین یہ طے پایاتھا کہ مہر مؤجل باجل دو۲ سال مقرر ہے اس طرح پر کہ چاہے دو۲ سال کے اندر بعوض دین مہر مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کے جائداد غیر منقولہ بنام ہندہ خرید کردی جائے گی یا مبلغ ساڑھے پانچ ہزار روپیہ نقد بابت دین مہر ادا کردیاجائے گا مگر بروقت عقد یہ تفصیل دُہرائی نہیں گئی صرف اتنا کہا گیا مہر مؤجل تعداد ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ہے تو کیا یہ مہر مطلق میں شمار کیا جائے گا یا باجل دو۲ سال مؤجل ہوگا؟ بینواتوجروا
الجواب : (۱) شرع مطہر کا قاعدہ عامہ ہے کہ المعروف کا لمشروط(عرف رواج مشروط کی طرح ہے۔ت) جبکہ ان لوگوں میں عام رواج یہی ہے اور شوہر کے سامنے شرائط کئے جاتے ہیں اور وہ ساکت رہتا ہے اور اس کا سکوت ہی قبول قرار پاتا ہے اور ان شرائط کی پابندی کرتا ہے تو زید کہ انہیں لوگوں میں سے ہے اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا مگر پہلا معاہدہ بیکار ہے سسرال میں رہنا ایک وعدہ ہے جس کی وفا پر جبر نہیں اور زوجہ کو اپنے پاس رکھنا حقِ شوہر وحکمِ شرعی ہے۔
قال تعالٰی : واسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم۱؎۔
ان کو سکونت دوجہاں تم ساکن ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۶)
شوہر جب چاہے اس حق کا مطالبہ کرسکتا ہے
کمن ترکت قسمھا لھا ان تعود متی تشاء
(جیسا کہ بیوی اپنی باری چھوڑدے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جب چاہے۔ت) اور دوسرے معاہدہ سے مہر دو۲ برس کے لئے مؤجل ہوگا اس پر لازم ہے کہ دو برس کے اندر کردے خواہ جائداد خرید کر یا نقد۔ اگرصرف جائداد خرید دینے کا معاہدہ ہوتا تو وہ بھی محض ایک وعدہ ہوتا زوجہ کو دو برس کے بعد مطالبہ مہر ہی کا استحقاق ہوتا نہ بالخصوص جائیداد کا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
(۲) اگر شوہر تسلیم کرے کہ عقد اسی قرار داد کی بناء پر ہُوا تھا اور مؤ جل سے وہی اجل مراد تھی تو دو۲ سال میں ادا کرنا لازم ہوگاورنہ اطلاق لفظ اپنا عمل کرے گا اور یہ مہر مؤخر رہے گا قبل موت وطلاق مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا کہ تاجیل بوجہ جہالت اجل صحیح نہ ہوئی۔ فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوجل امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر ما یتعارفہ اھل البلدۃ فیوخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ۲؎۔
ایک شخص نے کسی عورت سے ایک ہزار پر نکاح کیا اور کہا کہ پُورا ہزار مؤجل ہے، تو اگر اس کی مدت معلوم ہوتو مہلت دینا صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہوتو مہلت دینا صحیح نہیں اور جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائیگا کہ علاقہ کے عرف کے مطابق کچھ معجل طور پہلے دے دے اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیاجائیگا اور قاضی اس پر باقی کی ادائیگی میں جبر نہ کرےگا اور نہ قید کرے گا۔(ت)
تأجیل المھرلا الی معلومۃ یصح ھوالصحیح لان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا وھوالطلاق او الموت کذا فی المحیط۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مہر کی مہلت، مدتِ غیر معین تک ہو توصحیح ہے، یہی صحیح ہے، کیونکہ انتہائی مدت خود بخود معلوم ہے، اور وہ طلاق یاموت ہے، محیط میں یونہی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ باب المہر فصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۱۸)
مسئلہ ۷۳: از سرائے صالحہ ضلع ہزارہ تحصیل ہری پور مرسلہ حاجی عبدا لعزیز خاں صاحب ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے نواسہ خالد کی منگنی میں جرگہ عام میں ایک زیور از قسم طلائی اس کے والد عمرو کودے کر بطور ہبہ کہا کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی لڑکی کو پہناتا ہُوں، اس وقت عمرو کا لڑکا خالد نابالغ تھا اور عمرو نے وہ زیور زید سے قبول کرلیا لڑکی کے ہاتھ میں خالد کی طرف سے پہنایا گیا، اب وُہ دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں کسی خاص وجہ سے لڑکی کی طرف سے وُہ زیور وغیرہ اور پار چات واپس ہوکر طلاق ہونے پر فریقین تیار ہیں لیکن وُہ زیور جو زید نے اپنی طرف سے نواسہ کو دیا ہے اور لڑکی کو اس کی طرف سے پہنا یا گیا تھا زید کہتا ہے کہ وہ مجھ کو واپس ہوئے اور لڑکا کہتا ہے کہ میں اب بالغ ہوں مجھ کو ملے اور عمرو لڑکے کا والد کہتا ہے مجھ کو ملنا چاہئے، اس لئے صاحبانِ شرع شریف سے مفصل طور پر دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا اس صورت میں اس زیور کے لینے کا شرعآ کون مستحق ہے،کیا نانا یا باپ یا خود لڑکا جس کی منگنی ہُوئی تھی؟ جوابِ باصواب عنایت فرماکر اجردارین حاصل فرماویں، بینواتوجروا، اگر صورتِ مسئولہ میں ہبہ ہے تو نانا نواسے وُہ زیور شرعاً واپس لینے کا حقدار ہے یا نہ؟
الجواب
ایسے زیور پارچہ کو عرف میں چڑھا وا کہتے ہیں اسے دُولھا کی طرف سے دُلہن کو دینے میں اگر چہ عرف وعادت ناس کا اختلاف ہے، بعض ہبۃً دیتے ہیں بعض عاریۃ، مگر وُہ جو دُولہا کے اقارب دُولہا کے یہاں بھیجتے ہیں اس میں اصلاً اختلاف نہیں وُہ یقینا بطور ہبہ وامداد ہی ہوتا ہے، کسی حالت میں اُنہیں اس کی واپسی کا دعوٰی نہیں ہوتا، اولاد کی شادیوں میں جو ایسی اعانت کی جاتی ہے اس میں اعانت کرنے والا اگر تصریح کردے کہ میں نے ہبہ کی جب تو وہ اس کی ہے، اور تصریح نہ کرے تو وُہ چیز اگر اولاد کے مناسب ہے تو ان کی ہے ورنہ اگر یہ امداد کرنے والا باپ کے اقارب یا شناساؤں میں سے ہے تو وہ ہبہ باپ کے لئے ہے اور ماں کے اقارب سے یا شناساؤں میں ہے تو ماں کے لئے، مگر یہ کہ امداد کرنے والے نے اس وقت کچھ نہ کہا، اور اب وہ موجود ہے اور بیان کرے کہ میں نے فلاں کو ہبہ کیا تھا مثلاً باپ یا ماں یا اولاد کو تو اُ س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔
عالمگیریہ میں ہے :
اذا اتخذ الرجل عذیرۃ للختان فاھدی الناس ھدایا ووضعوا بین یدی الولد فسواء قال المھدی ھذا للولد او لم یقل فان کانت الھدیۃ تصلح للولد مثل ثیاب الصبیان اوشیئی یستعملہ الصبیان مثل الصولجان والکرۃ فھو للصبی لان ھذا تملیک للصبی عادۃ کالدراھم والدنا نیر، ینظر الی المھدی فان کان من اقارب الاب او معارفہ فھو للاب وان کان من اقارب الام اومعارفہ فھو للاب وان کان من اقارب الام اومعارفھا فھو للام لان التملیک ھنا من الام عرفا وھناک من الاب فکان التعویل علی العرف حتی لو وجد سبب او وجہ یستدل بہ علی غیر ماقلنا یعتمد علی ذٰلک، وکذٰلک اذا اتخذولیمۃ لزفاف ابنتہ فاھدی الناس ھدایا فھو علی ماذکرنا من التقسیم، وھذاکلہ اذالم یقل المھدی شیئا وتعذر الرجوع الٰی قولہ اما اذا اقال اھدیۃ للاب او للام اوللزوج او للمرأۃ فالقول للمھدی کذافی الظہیریۃ۱؎۔
مثلاً بچے کے کپڑے،یا وہ شے جو بچّے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃً بچّے کی ملکیت کیجاتی ہیں،اور اگر وُہ ہدیے بچّے کے مناسب نہ ہوں جیسا کہ دراہم ودینار وغیرہا، تو پھر ہدیہ دینے والوں کو دیکھا جائے گا کہ وُہ والد کے قریبی اور واقفیت والے ہیں یا ماں کے، اگر وُہ والد کے تعلق والے ہوں تو وہ والد کے لئے ہوں گے، اور اگر ماں کے تعلق والے ہوں تو وُہ ماں کے لئے ہوں گے، کیونکہ عرفاًیہاں ماں کی طرف سے تملیک سمجھی جاتی ہے اور وہاں باپ کی طرف سے سمجھے جاتے ہیں، لہذا عرف پر اعتماد کرنا ہوگا، ہاں اگر کوئی ایسا سبب یا وجہ پائی جائے جو ہمارے بتائے ہوئے عرف کے خلاف قرینہ ہے تو پھر اسی قرینہ پر اعتماد کی جائے، اور یُونہی اگر کسی نے بیٹی کے زفاف کے لئے ولیمہ کا انتظام کیا تولوگوں نے ہدیے دئے تو وہ اسی تقسیم پر ہوں گے جو ہم نے ذکر کی ہے، یہ تمام گفتگو اس صورت میں ہے جب ہدیہ دینے والے نے کوئی تصریح نہ کی ہو، اور اس سے معلوم کرنے کے لئے رجوع بھی مشکل ہو، لیکن جب اس نے کہہ دیا کہ یہ باپ یا ماں یا خاوند یا بیوی کے لئے ہیں تو پھر اس کے قول کے مطابق حکم ہوگا، ظہیریہ میں یُونہی ہے۔(ت)
بالجملہ زید کی طرف سے وہ زیور ہبہ ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کے لفظ وُہ ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی تو یہ نواسے کو ہبہ ہُوا اور وُہ اس وقت نابالغ تھا اور اس کے باپ نے قبول کرکے قبضہ کرلیا تو ہبہ تمام ہوگیا اور نواسہ اس کا مالک ہوگیا، اس میں نہ باپ کا حق ہے نہ نانا کا، نہ نانا اسے کسی طرح واپس لے سکتا ہے کہ قرابت محرمہ مانع رجوع ہے،
درمختار میں ہے :
لو وھب الذی رحم محرم نسبا ولو ذمیا او مستامنا لایرجع۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اگر کسی نے اپنے ذی محرم نسبی کو ہبہ دیا تو وہ خواہ کافر ذمی ہو یا امن لے کر آیا ہو تو واپس نہ لے سکے گا واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب الرجوع فی الھبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳)
مسئلہ ۷۴: از چاندہ پار ڈاک خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسئولہ محمد یار علی صاحب نائب مدرس ٹریننگ اسکول ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے وقت لڑکی بالغہ کے والدین نے بخیال دنیا اس قدر وسیع مہر بندھوایا کہ لڑکا بالغ اپنے والدین کی جائداد موجودہ سے کسی صورت ادا نہیں کرسکتا، لڑکے نے اس خیال پر کہ اگر منظور نہ کروں گا نکاح نہ ہوگا مجبوراً محض اﷲ کے بھروسے پر اپنے نزدیک نکاح جائز سمجھ کر منظور کرلیا جب مکان پر ہمراہ رہنے کا دونوں کا اتفاق ہُوا تو اسی ہفتہ کے اندر لڑکی بالغہ نے بخوشی ورضامندی بغیر کسی مجبوری اور دباؤ شوہر کے سامنے اﷲکو شہید وبصیرجان کر جمیع انبیاء وملائکہ کا واسطہ دلاکر معاف کردیا، جب سے آج تک ایک سال کا زمانہ گزرا میاں بی بی دونوں ساتھ ہیں اب چند روز سے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ نکاح ناجائز و حرام ہوا اور یہ صحبت حرامکاری ہے لڑکا بخوف عقبٰی اپنی براءت کے لئے ہرصورت سے راضی ہے گو کہ بی بی اس کو بہت محبوب ہے مگر شرعی فتوٰی پر کاربند ہونے کو دل وجان سے تیار ہے، مہر جو بندھا ہے اس کی تعداد ایک ہزار دو اشرفی لڑکے کے والدین کی جائداد تقریباً پانچ سو روپے۵۰سکّہ رائج الوقت، بینواتوجروا۔
الجواب
اگرلڑکے کے پاس ایک پیسے کا سہارا نہ ہوتا اور دس کروڑ اشرفی کا مہر باندھا جاتا جب بھی نکاح صحیح تھا اور معاذاﷲ اسے حرام کاری سے کچھ تعلق نہ تھا، یہ جو حدیث میں ارشاد ہُوا ہے کہ جن کا نکاح ہوا ان کی نیت میں ادائے مہر نہیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے ۲؎
(۲؎ السنن الکبرٰی باب ماجاء فی حبس الصداق الخ دارصادر بیروت ۷ /۲۴۲)
(کنز العمال حدیث ۴۴۷۲۶ بیروت ۱۶ /۳۲۳)
یہ ان کے واسطے ہے جو محض برائے نام جُھوٹے طور پر ایک لغو رسم سمجھ کر مہر باندھیں شرعاً نکاح اُن کا بھی ہوجائے گا اور وُہ بحکمِ شریعت زانی و زانیہ نہیں زن و شو ہیں اگر چہ قیامت میں اُن پر اس بدنیت کا وبال مثل زنا ہو کہ اُنہوں نے حکمِ الٰہی کو ہلکا سمجھا یہاں کہ لڑکے نے اﷲ عزوجل پر بھر وسا کرکے قبول کیا تو اس صورت سے کچھ علاقہ نہ ہُوا پھر جبکہ لڑکی بالغہ نے بے کسی دباؤ کے بخوشی معاف کردیا معاف ہوگیا،