| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۶۸تا ۷۰ : از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی صاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ رئیس المحققین عمدۃ الامین محافظ الدین دام لطفہ، تسلیم کے بعد عرض خدمت ہے کہ : (۱) اگر طالق اور مطلقہ دونوں کہتے ہیں کہ نہ ہم نے وطی کی ہے نہ ایک جگہ تنہائی میں بیٹھے ہیں، اب حضور انور بتائیں کہ ان کے کہنے پر اعتماد کرکے بغیر عدّت کئے نکاح کیا جائے تو کچھ نکاح خواں پر تو گناہ نہیں ہے یا ہے؟ (۲) اگر محض عورت طالق کے دخول اور خلوتِ صحیحہ سے منکرہ ہے، اور طالق کہتا ہے میں نے دخول کیا ہے، یا برعکس ہوتو کس کے قول پر اعتماد کرکے بغیر عدّت کئے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کیا جائے یا نہیں؟ (۳) ثبوت خلوت صحیحہ اور دخول کا گواہان سے ہوگا یاطالق مطلقہ سے، سند فقہاء مع عبارت کتب واسمِ کتاب ارشاد ہو قیمت رقیمہ دی جائے گی، بینوا توجروا۔
الجواب (۱) جبکہ ظاہر حال اُن کے قول کا مکذب نہ ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا نکاح خواں پر کوئی الزام نہ ہوگا، واﷲتعالٰی اعلم۔ (۲) اگر عورت خلوتِ صحیحہ ہونا بیان کرتی ہے اور شوہر منکر ہو تو عورت کا قول معتبر ہے،
تنویر میں ہے :
ولوافترقا فقالت بعد الدخول وقال الزوج قبل الدخول فالقول لھا۱؎۔
جب دونوں میں مفارقت ہوئی تو بیوی نے کہا کہ دخول کے بعد ہوئی ہے اور خاوند نے کہا دخول سے قبل مفارقت ہُوئی ہے، تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۰)
ردالمحتا میں ہے :
قولہ فقالت بعد الدخول المراد ھنا الاختلاف فی الخلوۃ۲؎۔
اس کے قول کہ ''بیوی نے دخول کے بعد کہا'' سے مراد خلوت میں اختلاف ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۴۳)
اور اگر عکس ہو تو قولِ شوہر بدرجہئ اولٰی معتبر ہے کہ وہ مقر ہے اور عورت انکار سے متعنت درمختار میں ہے :
والاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق۱؎
ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی اپنے مفاد کے خلاف بات کرے تو دُوسرے فریق کی بات معتبر ہوگی بالاتفاق۔(ت)
(۱ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
تعنتا بان ینکر ما ینفعہ۲؎
(تعنت یہ ہے کہ وُہ اپنے مفاد کے خلاف بات کرے۔ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۱)
بہر حال اُن میں جوکوئی خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہو دوسرے کو قبل عدّت نکاح پر اقدام نہ چاہئے،قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم
کیف وقد قیل۳؎
(حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے فرمایا: کیاکیا جائے جب بات کہہ دی گئی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۳؎ صحیح البخاری باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹)
(۳) دربارہ دخول تو ظاہر ہے کہ گواہوں کو کچھ دخل نہیں کہ وہ اس پر مطلع نہیں اور ظاہرا خلوت صحیحہ بھی شہادت سے جُدا۔اُن کا علم اگر محیط ہوسکتا ہے تو صرف اتنی بات کوکہ سامنے یہ دونوں تنہا مکان میں گئے اُس میں کوئی اور نہ تھا اور کواڑبند کرلئے اس پر اگر ثابت ہوئی تو صرف خلوت صحیحہ کے لئے تو یہ بھی لازم ہے کہ کوئی مانع نہ حسی ہونہ شرعی نہ طبع۔ اس پر شہادت نفی پر شہادت ہوگی اور وہ معتبر نہیں خصوصا بعض موانع وُہ ہیں جو شاہدوں کی اطلاع سے ورا ہیں' معہذااگر شوہر خلوتِ صحیحہ ہونا بیان کرتا ہے تو وُہ مقر ہے اقرار کے ساتھ شہادت کسی۔ اوراگر عورت بیان کرتی ہے تو وُہ منکرہ ہے اور گواہ منکر سے نہیں لئے جاتے بلکہ مدعی سے، ہاں یہ صورت متصور ہے کہ عورت اپنے اوپر سے دفع حلف کے لئے اقرارِ شوہر کے گواہ دے جو شہادت دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خلوت صحیحہ ہونے کا اقرار کیا، ھذاکلہ ماقلتہ تفقھا والفقیر الاٰن متنزہ علی جبل بعید عن وطنی وکتبی فان اصبت فمن ربی وعندہ العلم بالحق وھو حسبی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے محض فہم کی بنا پر کہا ہے اس وقت میں دور ایک پہاڑ پر تفریح میں ہوں، اپنی کتب اور وطن سے دور ہوں، لہذا اگر یہ درست ہو تو میرے علم رب کی طرف سے ہے اور اس کے پاس ہی حق کا علم ہے، وہی مجھے کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) مسائل پر بفضلہ تعالٰی یہاں کبھی کوئی اُجرت نہیں لی جاتی اور اس کو سخت عیب سمجھا جاتا ہے
ما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العٰلمین ۱؎
(تم سے کسی اجر کا سوال نہیں میرا اجر اﷲتعالٰی کے ہاں ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎القرآن الکریم۲۶/ ۱۰۹)