| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۶۷: از قصبہ نرہڑ ڈاکخانہ چڑوہ ضلع شیخاواٹی محلہ پیر زاد گان مرسلہ منشی محمد علی صاحب ارم مدرس۲ ۲شوال ۱۳۳۹ھ اس مسئلہ میں شریعت عزائے اسلام کا کیا حکم ہے ایک شخص نے اپنا نکاح ثانی کیا اور اپنی تمام جائداد کا مہر مقرر کیا، جائداد علی التوریث چلی آرہی ہے جس میں ایک کھیت زمین بارانی' مکان سکنی، آمدنی خانقاہ ہر قسم حصّہ خود ایک گاؤں سے کچھ نقد رقم آتی ہے، وُہ رقم حصّہ خود غرض سب جائداد منقولہ غیر منقولہ کا مہر مقرر کرکے اپنی بیوی کے نام ہبہ کردی،یہ جائز ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو کیا مہر لازم آئے گا؟ اس کے ایک حقیقی بہن بھی ہے مگر یہاں رواج ہمشیرہ کو حصّہ کا نہیں، رشتہ کے بھتیجے موجود ہیں جو حسب دستور اُس کے بعد مستحقِ جائداد وغیرہ ہیں، عمر ساٹھ برس ہے جو مکان اور جائداد مہر ہوکر ہبہ ہوچکی اس کے سوا اور کوئی مکان رہنے کو اور نان نفقہ کو کوئی وجہ معاش نہیں، یہاں نکاح ثانی نہیں ہوتا اب بکوشش جاری ہوا ہے، یہی وجہ زیادتی مہر ہے، ان سب صورتوں میں یہ شخص یا ہر شخص ایسا مہر مقرر کرسکتا ہے ؟
الجواب جس قدر جائداد اُس کو متروکہ پدری یا مادری سے پہنچی اُس میں سے جس قدر اس کا حصّہ ہے وُہ مہر مِلک زوجہ ہوگیا، اور جتنا حصّہ اس کی بہن کا ہے اگر وُہ اجازت دے دے تو وُہ بھی مِلک زوجہ ہوگیا، اور اگر وُہ اجازت نہ دے تو حصّہ خواہر کی جتنی قیمت ہے وہ اسے مہر میں دینا پڑے گی۔
عالمگیریہ میں ہے :
فاذاتزوجھا علٰی ھذا العبد وھو ملک الغیر او علی ھذہ الدار وھی ملک الغیر فالنکاح جائز والتسمیۃ صحیحۃ فبعد ذٰلک ینظر ان اجاز صاحب الدر وصاحب العبد ذٰلک فلھا عین المسمی وان لم یجز المستحق لایبطل النکاح ولاالتسمیۃ حتی لایجب مہر المثل وانما تجب قیمۃ المسمی کذافی المحیط۱؎۔
جب کسی نے ایک خاص عبد یا ایک مکان بطور مہر پر نکاح کیا جبکہ وُہ عبد اور مکان کسی غیر کی ملکیت ہوں تو یہ نکاح جائز ہوگا، اور مہر کے طور پر ان کا ذکر صحیح ہے، بعد میں دیکھا جائے کہ اس عبد یا مکان کا مالک دینے پر تیار ہے تو وہی عبد یا مکان مذکور ہ دیا جائے گا اور مالک دینے پر تیار نہ ہو تو پھر بھی نکاح اور مہر باطل نہ ہوگا حتی کہ مہر مثل واجب نہ ہوگا بلکہ اب اس عبد یا مکان کی قیمت دی جائے۔ محیط میں یُونہی ہے(ت)جب کسی نے ایک خاص عبد یا ایک مکان بطور مہر پر نکاح کیا جبکہ وُہ عبد اور مکان کسی غیر کی ملکیت ہوں تو یہ نکاح جائز ہوگا، اور مہر کے طور پر ان کا ذکر صحیح ہے، بعد میں دیکھا جائے کہ اس عبد یا مکان کا مالک دینے پر تیار ہے تو وہی عبد یا مکان مذکور ہ دیا جائے گا اور مالک دینے پر تیار نہ ہو تو پھر بھی نکاح اور مہر باطل نہ ہوگا حتی کہ مہر مثل واجب نہ ہوگا بلکہ اب اس عبد یا مکان کی قیمت دی جائے۔ محیط میں یُونہی ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۰۳)
آمدنی خانقاہ جیسے نذ ور وغیرہا کہ فی الحال معدوم ہیں وُہ داخل مہر نہ ہُوئیں مگر ان چیزوں کے نکل جانے سے جائداد کے حصص موجودہ کہ مہر کئے گئے اُن پر اثر نہ پڑے گا وہ مہرمیں ہوچکے، نہ اس کی وجہ سے مہر مثل لازم آئے بلکہ وہی حصص موجودہ مہر میں دئے جائیں گے۔
عالمگیری میں ہے :
واذاسمی فی العقد ماھو معدوم فی الحال بان تزوجھا علی مایثمر نخیلہ العام او علی ماتخرج ارضہ العام او علی مایکتسب غلامہ لایصح التسمیۃ وکان لھا مھر المثل۲؎۔
اگر نکاح میں ایسی چیز کو مہر ذکر کیا جو فی الحال معدوم ہے مثلاً اس سال کھجوریں یا زمین جو فصل دیں گی، یا میرا غلام اس سال جو کمائے گا وغیرہ، تو مہر میں ان کا ذکر صحیح نہیں لہذا مہر مثل واجب ہوگا۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۰۳)
ردالمحتار میں ہے :
لوسمی عشرۃ دراھم ورطل خمر فلھا المسمی ولایکمل مھر المثل بحر۳؎۔
اگر مہرمیں دس۱۰درم اور ایک رطل شراب مقرر کیا ہو تو بیوی کو مقررہ مہر دیا جائیگا اور مہر مثل کو پورا نہ کیا جائےگا، بحر۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۵)
بھتیجے اس کے وارث ہونا، یا نفقہ کے لئے کچھ پاس نہ رہنا مانع صحت مہر نہیں، جو مہر میں دے چکا، اور جو کوئی ایسا مہر باندھے گا اس کا یہی حکم ہوگا اگر چہ ایسا کرنا عقل سے بعید ہے اور وہ رواج کہ بہن کو ترکہ نہیں دیتے باطل و مردود ہے، اس سے اس کا حق سقط نہیں ہوتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم