Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
26 - 155
مسئلہ ۶۵تا۶۶:ازریاست جارورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہل کار محکمہ حساب ۲شوال ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے لئے مہر کا ہونا لازم ہے جو عموماً متعین ہوتا ہے مہر کی نقد اُدھار بھی ضروری ہے اگر عورت چاہے تو کیا سب مہر کو مثل نقد یامثل اپنے مطالبہ یا قرضہ کے حاصل کرسکتی ہے اس کی حسب ذیل تشریح فرمادی ہے :

(ا) مہر معجل کی یہ تعریف ہے کہ تا وقتیکہ زوجہ تمام وکمال معجل وصول نہ کرے اسے اختیار ہے کہ خواہ  وُہ زوج کے گھر جائے یا نہ جائے یا اس سے بات چیت کرے یا نہ کرے، پس اگر زوج نے دھوکے سے منجملہ مہر معجل جو  زیور ہندہ کو دیا تھا وُہ نکاح کے بعد دُلہن گھر گئی واپس لے لیا پس اب زوج بھی اس کا مقروض سمجھا جائے گا یا نہیں اور زوج نے منجملہ مہر معجل کے پانسو روپیہ(صماء )کا مکان حسبِ منشاء زوجہ خود خرید کردینے کا تحریری اقرار کیا تھا تو کیا ہندہ اب مہر معجل پانے کی مستحق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا جب تک اسے مہر معجل نہ پہنچے اسے زوج کے گھر جانا چاہئے یا نہیں، اگر اسے اختیار ہے تو کیاجب تک شوہر مہر معجل ادا نہ کردے وُہ نان ونفقہ پاسکتی ہے یا نہیں؟

(ب) مہر غیر معجل نکاح اور خلوتِ صحیحہ کے بعد کب  سے  کب تک زوجہ پاسکتی ہے کیونکہ مہر غیر معجل کے لئے کوئی زمانہ مقرر نہیں، اگر بعد خلوتِ صحیحہ ہر وقت مہر پانے کی مستحق ہے تو جب تک اپنا مہر اتنا نہ  وصول کرلے زوج کے گھر رہنے سے انکار کرسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

نکاح کے لئے مہر لازم ہے بایں معنی کہ مہر کا ذکر نکاح میں ہو یا نہ ہو بلکہ مہر کی نفی شرط کرلی ہو جب بھی مہردینا آئےگا تعیینِ مہر نکاح کے لئے کچھ ضرور نہیں، اگر تعیین نہ ہوگی مہر مثل دینا پڑے گا، مہر کہ نکاح میں مقرر کیا جاتا ہے تین قسم ہے :

معجل، مؤجل، مؤخر۔

معجل وُہ کہ قبل رخصت دینا قرار  پائے۔ عورت کو اختیار ہے کہ جب تک اُسے تمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے یہاں نہ جائے، اور اس نہ جانے سے وہ نفقہ سے محروم نہ ہوگی، پانسو (صماء) روپیہ کا مکان اگرمنجملہ مہر قرار پایا تھا تو اس کے وصول تک بھی ہندہ اپنے آپ کو  روک سکتی ہے۔ زیورات جو مہر معجل میں دئے گئے تھے وہ مہر ادا ہوگیا، پھر اگر زوج نے دھوکا دے کر واپس لے لئے تو اس سے مہر معجل اس کے ذمہ عود نہ کرے گا اور  اس کی وجہ سے عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا اختیار نہ ہوگا کہ مہر تو  زیور پر قبضہ زن سے ادا ہولیا تھا، اب یہ عورت کا ایک مال ہے جو زوج نے غصب کرلیا،اگر بعینہٖ باقی ہے اس کا واپس دینا فرض ہے اور ہلاک ہوگیا تو اس کا تاوان دے۔ 

اور مہرمؤجل وُہ جس کے ادا کی ایک میعاد معین قرار پائی ہو، مثلاً سال بھر بعد یا دس برس بعد، میعاد جب تک نہ گزرے عورت کو مطالبہ اختیار نہیں، بعد انقضائے میعاد مطالبہ کرسکے گی، اور میعاد آنے  پر اگر شوہر دینے میں تاخیر کرے تو اس کے لئے اپنے نفس کونہیں روک سکتی خصوصاً جبکہ رخصت ہوچکی ہو ۔
شرح جامع صغیر امام قاضی خاں میں ہے :
لوکان المھر مؤجلا لیس لھا المنع قبل حلول الاجل والابعدہ وعلی قول ابی یوسف لھا المنع الی استیفاء الاجل اذا لم یکن دخل بھا۱؎۔
اگرمہر معجل ہو تو مقررہ مدّت ختم ہونے سے قبل یا بعد بیوی کو منع کا حق نہیں ہے، اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے ایک قول پر غیر مدخول بہا کو مدت مقررہ آنے تک بیوی کو منع حق ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار بحوالہ شرح الجامع الصغیر امام قاضیخان     باب المہر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۵۰)
درمختار میں ہے :
وبہ یفتی استحسانا، والوالجیۃ۲؎۔
اسی پر فتوٰی دیاجائے گا استحساناً، والوالجیہ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۰۲)
ردالمحتار میں ہے :
وفی البحر عن الفتح ھذا کلہ اذا لم یشترط الدخول قبل حلول الاجل فلو شرطہ ورضیت بہ لیس لھا الامتناع اتفاقا۳؎۔
بحر میں فتح سے ہے یہ جب ہے کہ مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل دخول کی شرط نہ لگائی ہو اور اگریہ شرط لگائی گئی ہو  اور  بیوی کی رضامندی سے دخول ہوچکا ہو توپھر بالاتفاق اس کو منع کرنے کاحق نہیں ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۵۹)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے :
اقول وعرف بلادنا الدخول قبل اداء شیئی منہ والمعروف کالمشروط فلایکون لھا الامتناع اجماعا بالاتفاق۱؎۔
اقول اور ہمارے علاقے کا عرف یہ ہے کہ مہر کا حصہ ادا کرنے سے قبل دخول ہوتا ہے، تو معروف مشروط کی طرح ہوتا ہے اس لئے ہمارے علاقہ میں بالاجماع بیوی کو منع کا حق نہیں ہوگا۔(ت)
 (۱؎ جدا لممتار        حاشیہ ۷۱۷        المجمع الاسلامی مبارکپور،انڈیا        ۲ /۴۱۷)
مؤخر وُہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا ہو، نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کیا ہو اس کا مطالبہ نہیں ہوسکتا، مگر بعد موت یا طلاق نہ اس کے لئے کسی وقت اپنے نفس کور وک سکتی ہے۔
فتاوٰی خانیہ میں ہے :
اذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر مایتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے مطابق جو قدرمعجل ہو وہ ادا کردے اور باقی طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا، اس سے قبل قاضی اس کو تمام مہر ادا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی قاضی اسے قید کرسکتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ قاضیخان         باب فی ذکر مسائل المہر     نولکشور لکھنؤ            ۱ /۷۴-۱۷۳)
Flag Counter