Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
25 - 155
مسئلہ۶۴:  از رامپور مدرسہ انوارالعلوم مسئولہ جلال الدّین پٹھان ۱۶شعبان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مدعیہ نے اپنے گواہان سے یہ ثابت کیا کہ میرا دَین مہر ایک لاکھ روپے کا تھا، فریق ثانی نے گواہان سے اس امر کا ثبوت پیش کیا کہ کہ ہندہ کا دین مہر دس ہزار روپے کا تھا، صورتِ مسئولہ میں گواہان کمیِ مہر کے معتبر ہوں گے یا زیادتی کے۔ بینواتوجروا
الجواب

اگر شوہر زندہ اورنکاح قائم ہے یا طلاق بعد خلوت ہوئی یا شوہر مرگیا اور عورت کی نزاع اُس کے وارثوں سے ہے ان سب صورتوں میں دیکھا جائے کہ (۱) عورت کا مہر مثل دس ہزار خواہ کم ہے یا (۲) ایک لاکھ خواہ زائد یا(۳) دس ہزار سے زیادہ ایک لاکھ سے کم ہے، پہلی(۱) صورت میں عورت کے گواہ معتبر ہیں لاکھ روپے کی ڈگری ہوگی۔ دوسری(۲) صورت میں فریق ثانی کے گواہ معتبر ہیں دس۱۰ ہزار دلائے جائیں گے۔ت
تیسری(۳) صورت میں جتنا مہر مثل ہے اُتنے کی ڈگری دیں گے۔ یہ سب اُس حال میں ہے کہ دونوں کے گواہ قابل قبول شرع ہوں اور وجہ شرع پر شہادت ادا کی ہو، اور اگر اُن میں ایک ہی فریق کے گواہ ایسے ہیں تو مطلقا انہوں کا اعتبار ہوگا خواہ لاکھ کے ہوں یا دس۱۰ ہزار۴ کے، دوسرے فریق کی شہادت کا لعدم ہوگی، اور اگر دونوں فریق کی شہادت شرعاً کا لعدم ہوتو  پہلی صورت میں فریقِ شوہر سے حلف لیں گے کہ لاکھ روپے مہر نہ بندھا تھااگر قاضی کے حضور حلف سے انکار کردے گا لاکھ کی ڈگری ہوگی اورحلف سے انکار کردے گی دس۱۰ہزار پائے گی اور حلف کرلے گی تو لاکھ، اور تیسری صورت میں دونوں حلف کرلیں گے مہر مثل دلایا جائیگا  اگرزن وشو میں طلاق قبل خلوت کے بعد اختلاف ہوا تو مطلقاً قولِ شوہر حلف سے معتبر ہے۔ جس طرح بعد موت زوجین اُن کے ورثہ میں اختلاف ہوتو مطلقاً وارثان، شوہر کا قول معبتر ہے۔
درمختار میں ہے :
(ان اختلفا) فی المھر ( فی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لممن شھد لہ مھر المثل) بیمینہ( وای اقام بینۃ قبلت) سواء (شھد لہ او لھا اولاوان اقاما فبینتھا) مقدمۃ (ان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا وان کان بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل برھانہ) لانہ نور دعواہ ۱؎اھ (ملخصاً)

نکاح کے دوران اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا( تومہر مثل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا) لہذا مہر مثل جس کی تائید کرے گا اس کی بات قسم لے کر تسلیم کی جائے گی، اور جس نے گواہ پیش کردئے تو اس کی گواہی مقبول ہوگی، مہرمثل بیوی یا خاوند کی تائید کرے یا کسی کی نہ کرے، ہر طرح گواہی مقبول ہوگی، اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور خاوند کی شہادت کو اولیت ہوگی اگر مہر مثل بیوی کی تائی کرے اور مہر مثل دونوں کے مابین ہو یعنی کسی کی تائید نہ کرے تو دونوں سے قسم لی جائیگی پھرا گر دونوں نے قسم کھائی یا دونوں نے گواہ پیش کئے تو قاضی مہر مثل کافیصلہ کرے اور اگر صرف ایک نے شہادت پیش کی تو قاضی اس کی شہادت پر فیصلہ دے کیونکہ اس نے اپنے دعوٰی کور وشن کردیا اھ (ملخصا)
 (۱؎ درمختار    باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۔۲۰۲)
اقول قولہ وان کان بینھما مسئلۃ مستانفۃ غیر داخلۃ تحت قولہ'' وان اقاما''جمع فیہ ما اذا برھن احدھما وکلاھما اولا احد۔ فبین احکام الصور الثلاث وقد اختار قول ابی بکر الرازی الذی صححہ قاضیخان فی شرح الجامع الصغیرو السغناقی فی النہایۃ وجزم بہ فی الملتقٰی وقد مہ فی الھدایۃ والتبیین وغیرھما ان لاتحالف الا اذا کان المھر بینھما' فسقط کلا اعتراضی العلامۃ الشامی انہ کان علیہ حذف قولہ'' تحالفا" لانہ اذا برھنا لاتحالف وان قولہ'' وان برھن احدھما'' یغنی عنہ قولہ قبلہ وای اقام بینۃ قبلت الخ فللّٰہ درہ ما امھرہ، وقول الکرخی انھما یتحالفان مطلقا سواء شھد المھر لہ اولھا اولا وصححہ فی المبسوط والمحیط وجزم بہ فی الکنز فی باب التحالف اقول لکن الاول ھوالمذکورفی الجامع الصغیرکما فی ش فترجح بہ بعد تکافؤالتصحیحین خلافا لما فی البحر انہ لم یرمن رجح الاول فلذاجعلناعلیہ المحول وباﷲالتوفیق۔
اقول اس کا قول'' ان کان بینھما''سے نیا مسئلہ شروع کیا ہے یہ پہلے مذکورہ انہوں نے تین صورتوں کو جمع کیا ہے کہ کسی نے گواہ پیش نہ کئے، یا ایک نے کئے، یا دونوں نے کئے، تو تینوں صورتوں کے احکام بیان کئے اور ابوبکر رازی کے قول کو مختار بنایا جس کو قاضی خان نے شرح جامع صغیر میں اور سغناقی نے نہایہ میںصحیح قرار دیا ہے، اور اس پر ملتقٰی میں جزم کیا ہ، اور اسی کو ہدایہ میں اور تبیین وغیرہما میں مقدم رکھا کہ جب مہر مثل دونوں کے دعووں کے درمیان ہوتو دونوں سے علامہ شامی کے دونوں اعتراض سقط ہوگئے کہ مصنّف پر لازم تھا کہ وہ '' تحافا'' کو حذف کرتے، کیونکہ جب دونوں نے گواہ پیش کردئے تو اب دونوں پر قسم نہیں ہوگی۔ اور دوسرا یہ اعتراض کہ اس کا قول '' ان برھن احدھما''سے ان کا پہلا قول ''وای بینۃ قبلت''مستغنی کرتا ہے الخ تو اﷲ تعالٰی کے لئے ہی مصنّف کی بھلائی ہے انہوں نے کیا مہارت دکھائی ۔ اور امام کرخی کا قول ہے کہ مطلقاً دونوں قسم دیں،مہرمثل دونوں سے کسی کی تائید کرے یا نہ کرے اس کو مبسوط ومحیط میں صحیح قرار دیا، اور کنز کے باب تحالف میں اس پر جزم کیا، اقول لیکن پہلا قول جامع صغیر میں مذکور ہے جیسا کہ ش میں ہے تو دونوں تصحیحات کے مساوی ہونے کے بعد ترجیح بن جائے گی۔ بحر میں اس کے خلاف ہے، انہوں نے پہلے کو ترجیح دینے والا کوئی نہ پایا، تو اسی بناء پر ہم نے اس پر نشان دہی کر دی، توفیق من جانب اﷲ ہے۔(ت)
بدائع و ہندیہ میں ہے :
ولو اختانا بعد الطلاق بعد الدخول او الخلوۃ فکما لو اختلفا حال قیام النکاح، وان کان قبل الدخول والخلوۃ والمھر دین فاختلفا فی الالف والالفین فالقول قول الزوج ویتنصف مایقول الزوج ولم یذکر الخلاف ذکرہ الکرخی وحکی الاجماع وقال  نصف الالف فی قولھم۱؎اھ وصححہ فی البدائع  و شرح الطحاوی و رجحہ فی الفتح ۔
اگر خاوند بیوی نے طلاق کے بعد اختلاف کیا جبکہ دخول یا خلوت ہوچکی تو حکم وہی ہے جو حالت نکاح میں اختلاف کا تھا، اور اگر یہ اختلاف طلاق قبل از دخول وخلوت کے بعد ہوا اور مہر دین ہوا تو ہزار اور دو ہزار میں اختلاف ہوا تو اس میں خاوند کا قول معتبر ہے، لہذا خاوند کے بیان کردہ کا نصف دیاجائے، اور انہوں نے کرخی کا بیان کردی خلاف ذکر نہیں کیا اور اجماع کو حکایت کرکے یہ کہہ دیا کہ سب کے قول میں ہزار کا نصف ہوگا اھ اس کو بدائع میں اور شرع طحاوی میں صحیح کہا، اور فتح میں اس کو راجح قرار دیا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۲۱)
تبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے :
فان مات الزوجان ووقع الاختلاف بین الورثۃ فی مقدار المسمٰی فالقول قول ورثہ الزوج۲؎۔
اگر خاوند بیوی دونوں فوت ہوجائیں اور ان کے وارثوں میں مقرر مہر کے بارے میں اختلاف ہوا تو خاوند کے ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی عشر اختلاف الزوجین فی المہر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۲۱)
ردالمحتار میں ہے:
فیلزمھم ما اعترفوا بہ بحر، ولا یحکم بمھر المثل لان اعتبار ہ یسقط عند ابی حنیفۃ بعد موتھما درر اھ۳؎،
کذا ھو فی نسختی بمھر المثل اقول والاولی اسقاط الباء۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
تو ان پر اپنے اقرارکے مطابق لازم ہوگا، بحر۔ اور مہر مثل پر فیصلہ نہ دیاجائے گا، کیونکہ  امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاں دونوں کی فوتگی کے بعد مہر مثل کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے، درر، اھ۔ اور میرے پاس نسخہ میں ''بمہر المثل'' باء کے ساتھ ہے اقول باء کو ساقط کرنا اولٰی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ ردالمحتار     باب المہر     مسائل الاختلاف فی المہر     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۲)
Flag Counter