Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
24 - 155
مسئلہ ۶۰: از شہر محلہ برہمپور مسئولہ حاجی شاہ محمد عرف کمال اﷲ شاہ صاحب ۲۶محرم الحرام ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ معصومن زوجہ لعل محمد کے مہر کا حال اس طرح معلوم ہوا ہے کہ وُہ خود کہتی ہے کہ میرا ایک سو دس ۱۱۰ روپیہ کا مہر ہے اور وکیل وگواہ نکاح مسمّاۃ مذکورہ کے فوت ہوگئے کوئی زندہ نہیں ہے، اس کے چچا زاد بہنیں چار ہیں جن میں سے تین کے مہر کی تعداد معلوم نہیں، سب یہی کہتے ہیں کہ شرع پیغمبری تھا اور ایک چچازاد بہن کا مہرمبلغ پانچسوروپےہ ہونا معلوم ہوا ہے جو کہ مسمّی ننھے کی زوجہ ہے، ایسی صورت میں مسمّاۃ معصومن کا مہر کیا قائم کیا جائے گا؟



الجواب

جبکہ عوت ایک سو دس روپے اپنا مہر بتاتی ہے اوراس سے زائد بھی اس کے خاندان میں باندھا گیا ہے اور اس کے خلاف پر کوئی شہادت نہیں تو اس پر اس سے حلف لیا جائے، اگر حلف سے کہہ دے کہ میرا مہر ایک سودس روپے بندھا تھا تو ایک سودس دلائے جائیں گے۔  عالمگیری میں ہے  :
امرأۃ ادعت علٰی زوجھا بعد موتہ ان لھا علیہ الف درھم من مھرھا فالقول قولھا الی تمام مھر مثلھا۱؎کذافی محیط السرخسی۔ واﷲتعالٰی اعلم
اگر خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد بیوی نے دعوٰی کیا کہ میرے مہر کے ہزار درہم اس کے ذمہ ہیں تو اس کی بات مہر مثل کی حد تک قابل قبول ہوگی، محیط السرخسی میں ایسے ہی ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱ ؎ فتاوٰی ہندیۃ     الفصل الثانی عشر    اختلاف الزوجین فی المہر         نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۲۲)
مسئلہ ۶۱: از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ حاجی کفایت اﷲصاحب ۹صفر ۱۳۳۹

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ بہت محتاج ہے اور خانہ ویران ،بظاہر کوئی حیلہ رزق نہیں رکھتی، اس کا بھائی زید مزدوری کرکے لاتا ہے اسمیں دونوں گزرکرلیتے ہیں، ہندہ کے خسر نے بعد اپنی موت کے ایک مکان تقریباً ڈیڑھ سوگز وسعت کا چھوڑا جواب ٹوٹ پھوٹ گیا، اس کے دو۲ وارث ہوئے، ہندہ کا اپنی شوہر اور دوسرا ہندہ کا جیٹھ، ہندہ کے جیٹھ نے اپنا حصّہ اپنے لڑکے کو دے یا، اب ہندہ کے شوہر کے حصّے پر قبضہ کرکے بیچنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں ہندہ کا کیا حق ہے اس واسطے کہ میرے بھائی کو غائب ہوئے تقریباً تیس برس ہوگئے، غالباً مرگیا، کیونکہ پانچ چھ برس سے اُس کی خبر نہیں، اورقانون کہتا ہے کہ تیس برس کے بعد دعوٰی مہرنہیں چل سکتا ہے اور وکیل کہتا ہے کہ دعوٰی مہر کرو تم کو ملے گا، اور وکیل یہ رائے دیتا ہے کہ تمہارا دعوٰی چلے گا اس صورت میں کہ ہندہ کہے میرے شوہر کےمرنے کی خبر توتم نے مجھے آج دی ہے میں ابھی تک اپنے آپ کو بیوہ نہیں جانتی تھی میں جانتی تھی کہ وُہ زندہ ہے اگر اب تم کہتے ہو کہ مرگیاتو آج سے تین برس تک مہر طلب کرنے کا مجھ کو حق ہے ہندہ کے عزیزوں میں سے کسی مہر کی تعداد یاد نہیں اس نکاح کو کم وبیش چالیس برس ہوئے ہوں گے ہندہ کو خوب یاد ہے کہ میرا مہر دوسو۲۰۰ روپے تھا اورمیں سُنتی ہوں کہ میری والدہ اور پھوپھی کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے تھا اور اب میری بھتیجیوں اور میرے بھائیوں اور میرے بھائیوں کا مہر بھی دوسو۲۰۰ روپے ہے اب ہندہ کے اقوال پر اُن کا حقِ شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے کا تھا، ان کے لئے کچہری میں اس کا حق شرعی دلانے کے لئے یہ کہہ دینا جائز ہوگا یانہیں کہ ہاں دوسو۲۰۰ روپے تھا،ان لوگوں کی گواہی پر اگر اُس کا حق ان شاء اﷲتعالٰی ملے گا تو اس کا جینا اور مرنا بآسانی ہوجائے گا کسی وقت ہندہ کے جیٹھ نے ہندہ کی خبر نہیں لی کہ وُہ کس حالت میں ہے۔ بینواتوجروا



الجواب

ہندہ جبکہ دو سو ۲۰۰ روپے مہربیان کرتی ہے اور اُس وقت کا کوئی گواہ نہیں اور ثابت ہوکہ یہ اس کا خاندانی مہر مثل ہے تو ضرور دوسو۲۰۰ روپے دلائے جائیں گے، گواہوں کی گواہی یہ جائز نہ ہوگی ہمارے سامنے دوسو۲۰۰ روپے کا مہر بندھا تھا، بلکہ یہ گواہی دینا کہ اس کا مہر مثل دوسو۲۰۰ روپے ہے، یہی گواہی اس کی ڈگری کے لئے کافی ہوگی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۲: حفیظ اﷲخاں صاحب محلہ ٹیکور قصبہ چنار پوسٹ آفس چنار ضلع مرزا پور ۱۸جمادی الآخر

کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سال بھر اور تین ماہ پردیس رہابعدہ، جب اپنے مکان پر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کو آٹھ مہینے کا حمل ہے موقع سے وُہ شخص مذکورہ طلاق دینے پر آمادہ وتیار ہے ایسی حالت میں بعد طلاق کے وہ عورت کچہری مجاز میں مہر کا دعوٰی کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور شرعاً مہر پانے کی مستحق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

اس وجہ سے اُ س کا طلاق پر آمادہ ہونا محض ناواقفی ہے، شریعت میں حمل کی مدّت دو۲ برس کامل ہے اتنی مدّت تک بچّہ بیٹ میں رہ سکتا ہے اور دایہ وغیرہ کی یہ شناخت کہ آٹھی مہینے کا ہے کچھ معتبر نہیں، بہر حال اگر طلاقی دے گا مہر واجب الادا ہوگا' اور اگر مرد کی جھوٹی بدگمانی بالفرض صحیح ہو جب بھی عورت مہ رکی مستحق ہے کہ معاذاﷲزناسے مہر ساقط نہیں ہوتا، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۳: ۱۴شعبان ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا اور اس کی حیات میں اس کی چھوٹی بہن کے ساتھ نکاح کیا، نکاح دوم جائز ہے یا ناجائز؟ اور ان دونوں عورتوں سے جواولاد ہوگی وُہ کسی ہوگی؟ اور زید کا متروکہ پانے کی مستحق ہے یانہیں؟ اور یہ نہیں دونوں عورتوں مہر پانے کی مستحق ہیں یا نہیں؟ 

الجواب

زوجہ جب تک زوجیت یا عدّت میں ہے اس کی بہن سے نکاح حرام قطعی ہے،
قال تعالٰی:
 وان تجمعوابین الاختین ۱؎
(حرام ہے کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۴ /۲۳)
 اس سے جو اولاد ہوگی شرعاً اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں اسے ولد حرام بمعنی ولد الزنا کہنا جائز نہیں جب تک اس دوسری کو ہاتھ نہ لگایا تھا پہلی حلال تھی اس وقت تک کے جماع سے جواولاد پہلی سے ہوئی ولد حلال ہے اور بعد کے جماع سے جواولاد ہو وہ بھی شرعاً اولاد حرام ہے مگر ولد الزنا نہیں، دونوں عورتوں کی سب اولادیں کہ زید ہوئیں زید کا ترکہ پائیں گی کہ نسب ثابت ہے، ہاں زوجہ ثانی ترکہ نہ پائے گی کہ نکاح فاسد سے ہے، دونوں عورتیں مہر کی مستحق ہیں پہلی مطلقا اور دوسری اس صورت میں کہ حقیقۃً اس سے جماع کیا ہو فقط خلوت کافی نہیں، پھر اپنا پورا مہر پائے گی اور دوسری مہر مثل، اور جو مہر بندھا تھا ان دونوں میں سے جو کم وُہ پائے گی، درمختار میں ہے:
 یجب مھر المثل فی نکاح فاسد و ھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود۱؎( ومثلہ تزوج الاختین معا ونکاح الاخت فی عدۃ الاخت ۲؎اھ ش) بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ ولم یزدعلی المسمی لرضاھا بالحط ولوکان دون المسمی لرضاھا مھر المثل۳؎۔
نکاحِ فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے، نکاحِ فاسد وہ ہے جس میں صحتِ نکاح کی کوئی شرط مفقود ہوجیسے گواہ نہ ہوں، اور اسی طرح ہے دو بہنوں سے اکھٹا نکاح کرنا، اور ایک بہن کی عدت میں دوسری سے نکاح کرنا اھ ش) نکاحِ فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے اورصرف وطی سے واجب ہوتا ہے کسی اور چیز سے نہیں مثلاً خلوت سے نہیں اور یہ مہرمثل،  مقررہ سے زائد نہ ہوگا بسبب راضی ہوجانے عورت کے کمیِ مہر پر اور اگر مہر مثل کم ہو مہر مسمّی سے تو بھی مہر مثل ہی لازم آئے گا۔(ت)
(۱؎ درمختار       باب المہر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/۲۰۱) 

(۲؎ ردالمحتار      باب المہر        داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۵) 

(۳؎ درمختار       باب المہر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/۲۰۱)
ھدایہ باب النکاح الرقیق میں ہے :
بعض المقاصد فی النکاح الفاسد حاصل کالنسب ووجوب المھر والعدۃ۴؎۔

بعض مقاصد نکاحِ فاسدمیں حاصل ہوجاتے ہیں، جیسا کہ نسب، وجوب مہر اور عدّت(ت)
(۴؎ ہدایہ    باب نکاح الرقیق     مکتبہ عربیہ کراچی     ۱ /۳۲۰)
درمختار میں ہے:
 یستحق الارث بنکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا۵؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
وارث کا استحقاق صحیح سے ہوتا ہے لہذا فاسد یا باطل نکاح سے وراثت کا استحقاق بالاجماع نہ ہوگا۔(ت) واﷲتعالٰی اعلم
 (۵؎ درمختار    کتاب الفرائض    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۵۲)
Flag Counter