| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۵۵: از رچھا مرسلہ رفیق احمد صاحب ۸ رجب شریف یوم دوشنبہ ۱۳۳۸ھ ایک عورت سے اس کے خاوند نے کہا تُو اپنا مہر معاف کردے، اس نے کہا کہ میں معاف نہیں کرتی، اس پر اس کے خاوند نے سخت پریشان کیا اور تنگ رکھا اور ساس سسر نے بھی بُرا بھلا کہا لہذا وہ عورت اپنے ماں باپ کے یہاں آگئی ہے، اس کا خاوند لینے آیا تواس نے سوال کیا کہ میں اپنا مہر جب تک کُل نہ لُوں گی جب تک جاؤں گی، اس کے خاوند نے کہا کہ ہم تم کو زبردستی پکڑلے جائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ تُومہر کا کیا کرے گی، تو اس نے کہا کہ میں مسجد بنواؤں گی۔ اب عرض یہ ہے کہ پنچ لوگ بلامہر ادا کرائے اس کو زبردستی لے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ میاں بیوی میں نا اتفاقی ہے۔ بینواتوجروا الجواب بیانِ سائل ہُوا کہ مہر بلامیعادی ہے، لہذا قبل موت یا طلاق اُس کے مطالبہ کا عورت کو کچھ اختیار نہیں، نہ اس کی وجہ سے اپنے مہر آپ کو شوہر سے روک سکتی ہے، اُسے شوہر کے یہاں جبراً جانا ہوگا اور شوہر پر حرام قطعی ہے کہ اس پر معافی مہر کا جبر کرے، اور اگر جبر کرکے معاف کرالے گا معاف نہ ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ ۵۶: از رامسہ تحصیل گوجرخاں ڈاک خانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ ایک مرد اور زوجہ صرف اوّل روز ایک کوٹھے میں رہے اوردشمن گردگرد کوٹھے کے مارنے کے لئے کھڑے رہے ہیں، اور زوجین کو بھی یہ حالت معلوم تھی، علی الصباح اس مرد نے عورت کو طلاق دے دی ہے، مرد دخول کامقر اور عورت منکر ہے، اب یہ دخول یا خلوت صحیحہ قابل اعتبار ہے یا نہیں۔ الجواب اگر کوٹھے کادروازہ اندر سے بند ہے اور مسقف ہے یا دیواریں بلند ہیں کہ دشمنوں کے گھس آنے کا اندیشہ نہیں تو خلوت صحیح ہے ورنہ نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
تصح علی سطح کانا فوقہ وحدھما وامنا من صعود احد الیھما۱؎ اھ ملتقطا۔
ایسی سطح ہو جس پر صرف دونوں میاں بیوی ہوں اور کسی تیسرے کے وہاں چڑھنے سے بےفکر ہوں تو خلوت صحیح ہے اھ ملتقط(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المہر مطلب فی احکام الخلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۴۰)
صورت اگر پہلی تھی تو عورت کا دخول سے انکار بیکار ہے کہ مہر کامل بہر حال لازم ہوگیا، دخول ہوا یا نہیں، ہاں صورتِ ثانیہ میں شوہر کا کہناکہ دخول ہوا کل مہر لازم ہونے کا اقرار ہے اور عورت کا انکار اس کا رَدہے اور اقرار مقرلہ کے انکار سے رَ د ہوجاتا ہے تو صرف نصف مہر پائے گی ھذا ماظہر لی(یہ جو مجھے معلوم ہوا۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۷:از پنڈول بزرگ ڈاک خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت اﷲ شاہ صاحب خاکی بوڑاہا ۹ محرم ۱۳۳۹ھ اگر کسی نے بی بی کے نزع کے وقت اس سے کہا کہ میرا دَین مہرمعاف کیا اس نے زبان سے بوجہ آواز بند ہوجانے کے جواب نہ دیالیکن سر ہلادیا تواس کا دَین مہر معاف ہوا یانہیں؟ الجواب مرض الموت میں مہر کی معافی بے اجازت دیگر ورثاء معتبر نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم مسئلہ ۵۸: از اودیپور میواڑ ہاتھی دروازہ مدرسہ شرفیہ مسئولہ عبدا لرحیم خلف مولوی شرف شاہ صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ ایک شخص وزیر خاں نے دو۲ عورتیں کیں اور ہر دو عورتیں کے تین تین بچّے ہیں، سابق عورت کو بوجہ معمولی لڑائی کے طلاق دے کر ایک طلاق کی تحریر لکھ دی، اس میں یہ مضمون درج کیا کہ جو کہ تیرا مہر ہے اُس میں تیرے بطن کے دونوں بچّے تجھ کو مہر میں دئے۔ اور حمل سے بھی تھی، بعد طلاق کے لڑکی بھی پیدا ہوئی، وزیر خاں فوت ہوگیا، بعد عدّت کے اس عورت نے نکاح ثانی کرلیا، اب یہ اس وقت بالکل بچّے بالغ ہیں اور آوارہ ہیں، سو یہ لڑکے جدّی حق پانے کے حقدار ہیں یا نہیں۔ الجواب دونوں لڑکے اور وُہ لڑکی اپنے باپ کے مال میں حصّہ پائیں گے اور طلاق شدہ اگر چہ حصّہ نہ پائے گی مگرمہر کی مستحق ہے، اور وُہ جو کہہ دیا تھا کہ دونوں بیٹے تیرے مہر میں دئے فضول تھا اس سے مہر ادا نہیں ہوتا،ہاں اگر عورت نے یہ کہہ دیا ہو کہ دونوں بیٹے میرے دومیں نے مہر چھوڑا، تو مہر نہ پائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: از کریلی گنج ضلع نرسنگ پور ڈاک خانہ وتحصیل نرسنگ پور مسئولہ الہ بخش صاحب ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ زید اپنی عورت ہندہ کو عرصہ تقریباً پانچ سال سے علیحدہ کئے ہوئے ہے، ہندہ کے ماں باپ اس عرصہ مذکورہ میں چند مرتبہ اپنی لڑکی کو زید کے گھر چھوڑ آئے لیکن بوجہ عدم توجہی زید، زید کے ماں بہن ہندہ کے اقسام اقسام کی تکالیف دیتے ہیں جو اس سے برداشت نہیں ہوسکتیں، مزید برآں نان نفقہ کی بھی کفالت نہیں کرتا، نہ اس کو رخصت دیتا کہ وُہ اپنا دوسرا تدارک کرے اور مہر ہندہ زرِ مہر کچہری سے پانے کی مستحق ہوسکتی ہے یا نہیں اور اپنے نفس کو اس سے علیحدہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ زیدکی نیت صرف اُس کو اور اس کے ماں باپ کو اذیت پہنچانی ہے، ورنہ اس کا وجہ کفاف ایسا ہے کہ وُہ اپنی زوجہ متوسط حالت پر نان نفقہ کی کافی طور پر امداد پہنچا سکتا ہے، اس لئے عرض ہے کہ موافق شرع شریف جو ہندہ کے حق میں انسب ہو اس سے ابلاغ فرمایا جائے۔ الجواب مہراگر واقعی معجل بندھا ہے تو ہندہ ہر وقت اس کا مطالبہ کرسکتی ہے، زید نہ دے تو بذریعہ ناش وصول کرے، اور جب تک نہ ملے ہندہ کو اختیار ہے کہ اپنے نفس کو زید روکے اور اس کے گھر نہ جائے، اور اس روکنے کی وجہ سے ہندہ کا نان نفقہ زید سے ساقط نہ ہوگا۔
لانھا منعت بحق فلم تکن ناشزۃ والمسئلۃ فی الدرالمختار من الاسفار۔
کیونکہ بیوی نے اپنے حق کے لئے خاوند کو منع کیا ہے لہذا نافرمان نہ ہوگی، اور مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت) ہاں یہ ناممکن ہے کہ ہندہ بغیر طلاق یا موتِ شوہر وانقضائے عدّت دوسرے سے نکاح کرسکے،
قال تعالٰی: والمحصنٰت من النّساء۱؎
(شادی شدہ عوتیں تم پر حرام ہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن ۴ /۲۴)