Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
22 - 155
مسئلہ ۴۸: ازبجواڑ اکاٹھیاواڑ مرسلہ حاجی عبد الطیف صاحب ۱۵رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ 

تجدید نکاح میں مہر کم ازکم کتنا باندھنا چاہئے؟ بینواتوجروا
الجواب 

مہر کی مقدار کم از کم دس۱۰ درم بھر چاندی ہے جس کی مقدار تقریباً دو۲ روپے پونے آنے تیرہ آنے بھ رہُوئی، باقی جواحکام مہر کے ابتدائی نکاح میں ہیں وہی تجدید نکاح میں۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۹: ازموضع میونڈی بزرگ مرسلہ سیّد امیر عالم حسن صاحب ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ناکتخدا کا نکاح کسی شخص سے کردیا اور  وُہ شخص بلاقربت کئے اپنی بی بی کے مرگیا اور کسی طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی یعنی کسی طرح کا کوئی فعل نہیں کیا اَب علمائے دین فرمائیں کہ اس لڑکی ناکتخدا کا کتنا مہر اس کے شوہر کے مال یا جائداد وغیرہ سے چاہئے نصف یا پُورا، اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرنا چاہیں تو کتنے دنوں کے بعد کیا جائے، بعض شخص کہتے ہیں کہ ایسے نکاح کی عدّت نہیں ہوتی ہے کیونکہ جب اس کے شوہر نے اس قربت ہی نہیں کی توعدّت کس چیز کی کرنا چاہئے، اور بعض کہتے ہیں کہ تین ماہ کی عدّت کے بعد نکاح ایسے کا جائز، اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ لوگ غلطی پر ہیں یا صحیح پر،اور جو لوگ غلطی پر ہوں شریعت کو نہ مانتے ہوں ان کے لئے کیا سزا شرع اطہر میں ہے فقط، بینواتوجروا۔
الجواب 

سزا پوچھنا لغو ہے، آج کون کس کو سزا دے سکتا ہے جو شریعت کو نہ مانے جہنّم میں سزا پائے گا، جب شوہر مرجائے پورا مہر واجب ہوتا ہے اگر چہ ایک نے دوسرے کی صورت نہ دیکھی ہوں اور چار مہینے دس دن کی عدّت فرض ہے اس سے پہلے نکاح حرام ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ازبلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سکنڈ ماسٹر مڈل اسکول ۲ربیع الاوّل ۱۳۳۷ھ

بکر اپنی لڑکی کانکاح زید کے ساتھ کردینے کے لئے چند شرائط پر تیار ہے زید جو سلسلہ ملازمت بیس ۲۰روپیہ ماہوار سے زائد حیثیت نہیں رکھتا ہے حسبِ حیثیت تنخواہ زائد سے زائد کتنے روپیہ پر اُس کا مہر شرعی ہونا جائز ہے اور حیثیت سے زائد مہر ہونے پر کیا مواخذہ ہے ؟  

الجواب

حیثیت سے زائد مہر نامناسب ہے کوئی گناہ نہیں جس پر مواخذہ ہو فان المال غاد وارائح(مال آنے جانے والی چیز ہے۔ت)  واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: ازشہر بریلی محلہ صندل بازار مرسلہ نواب نثار احمدخاں صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی فوت ہوجائے تو اس کے ورثا شرعی سے مہر عورت مذکورہ متوفیہ کا شوہر یا ورثاء شوہر بخشوالیں تو شرعاً جائز ہوگا یا نہیں۔ 

الجواب 

وارثانِ زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اُس کا حصّہ معاف ہوجائے گا' اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں توسب معاف ہوجائے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۲: ۲۰ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک فاحشہ سے توبہ کراکے نکاح کیا بروقت عقدِ نکاح مہر شرعی پیمبری صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر مقرر ہُوا تھا اور اُس کے قبیلہ کی کوئی عورت نہیں بلکہ اُن کا نکاح بھی نامعلوم، اب مہر مچل معلوم نہیں ہوسکتا، زید نے اس کو قرآن مجید پڑھوایا، اب بعد فوت زید کے وہ عورت زید کو سخت سخت گالیاں دیتی ہے، یہاں تک کہ ولدالزنا بھی كہہ دیتی ہے، وہ لوگ کہ زندگیِ زید میں اُس کے سامنے نہ آئے تھے اب برابر آتے ہیں، راتوں کو گھومتی ہے، وکیلوں کے پاس جاتی ہے، اب وُہ کل اشیاء پر دعوٰی کرتی ہے، مکان بیچنا چاہتی ہے تو اب اُس کا کتنا مہر از روئے شرع شریف نکتا ہے اور اس کی گفتگو ہے کہ وُہ کہتی ہے مر گیا وُہ جہنمی جو مجھ کا یہاں چھوڑ گیا، پڑیں اس کے لاشے میں کیڑے، تین بھائی اور والدین اور ایک ہمشیرہ بھی ہے۔

الجواب

اُس کے اقوال افعال کی سزا اﷲکے یہاں ہے اس سے اُس کا مہر یا حصّہ نہیں جاتا مہر شرعی پیمبری سے اگر لوگوں کے عرف میں اقل مقدارِ مہر مراد ہوتی ہے تو وہ دس۱۰درم ہے یعنی دو۲ روپے پونے تیرہ آنے اور ۳/۵ پائی  اور اگر اُن مراد مہرِ حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالٰی عنہا ہوتی ہے تو وہ چار سو۴۰۰ مثقال چاندی یعنی یہاں کے ایک سو ساٹھ۱۶۰ روپے بھر، اور اگر مہرِ ازواجِ مطہرات مراد ہے تو پانسودرم یعنی یہاں کے ایک سوچالیس ۱۴۰ روپے، اوراگر کوئی خاص رقم ان کے ذہن میں نہیں تو مہر مثل لازم آئے گا جو ایک سو ساٹھ روپے بھر چاندی یاایک سوچالیس روپے سے زائد نہ ہو کہ یہ قلت ضرور مراد ہوتی ہے، یہاں کے کثیر التعداد مَہروں  سے بھاگنے کے لئے یہ لفظ عوام نے وضع کیا ہے تو اُن سے زیادہ نہ دیاجائے گا، وارث اگر کمی کادعوٰی کریں تو بحلف کہیں کہ ایسی عمر و شکل کی بازاری عورت کا مہر مثل اتنا ہوتا ہے یا حکم تجویز کرے جو اس مقدار سے زائد نہ ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: از ضلع رائے پور سی پی مرسلہ سردار خاں صاحب کلرک مہاندی ڈویژن دفتر ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معجل کی شرطِ ادا کیا ہے، اور زید کا نکاح ہندہ سے بمہر معجل قرار پایا لیکن عرصہ دراز تقریباً ۲۵ سال کاگزر ا کہ وہ مہر معجل ادا نہ ہو' ایسی حالت میں کیا معجل مؤجل ہوسکتا ہے یا اس مہر کا استحقاق جاتا رہا، در صورت حبطِ استحقاق آیا زید اور ہندہ کی خلوت صحیح ہُوئی۔ بینواتوجروا  

الجواب

ادا نہ ہونے سے مہر کا استحقاق کبھی نہیں جاسکتا، اور جو معجل ٹھہرا ہے وُہ ہمیشہ معجل ہی رہے گا جب تک عورت اُسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے، پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اُس کے حق میں فرق نہیں لاتا،وُہ جب تک عورت اُسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے، پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اُس کے حق میں فرق نہیں لاتا، وُہ اب بھی جس وقت چاہے اپنے مہر معجل کا مطالبہ کرسکتی ہے اور جب تک نہ ملے اپنے نفس کو شوہر سے روک سکتی ہے، درمختا ر میں ہے:
(ولھا منعہ من الوطی) ودواعیہ شرح مجمع ( والسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھا) لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایُوجب تسلیم الباقی(لاخذ مابین تعجیلہ) من المھر کلہ او بعضہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
بیوی کی وطی اور اس کے دواعی سے خاوند کو منع کرنے کا حق ہے۔ شرح مجمع، سفر سے بھی، اگر چہ برضائے زوجہ وطی اور خلوت ہو چکی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے(یعنی ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم آتا ہے) تو بعض بدل دینے سے باقی کا دے دینا ثابت نہیں ہوتا، جتنا مہر معجل بیان کیا ہو اس کی وصولی کے لئے وُہ کُل مہر ہو یا بعض، عورت اپنے نفس کو شوہر سے روک سکتی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار 	باب المہر         مطبع مجتبائی دہلی 	۱/ ۲۰۲)
مسئلہ ۵۴:از مدن پور مرسلہ عزیز الدین صاحب ۲رجب ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دیہات میں ہمارے یہاں رواج ہے کہ مہر کی تفصیل نہیں ہوتی، اوربعض لوگ کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ زیور وغیرہ مہرمعجل دیتے ہیں اور بعض قاضی مہر معجل نام رکھ دیتے ہیں ورنہ علی العموم نہ معجل نام رکھتے ہیں نہ مؤجل، توایسی حالت میں ہندہ اپنے شوہر زید سے مطالبہ دَین مہر کرسکتی ہے یانہیں کہ پہلے میرا مہر ادا کردوتو میں اپنے والدین کے یہاں سے رخصت ہوں تمہارے گھر چلوں گی، اورحال یہ ہے کہ فی الحال زید کومہر ادا کرنے کی مقدرت بھی نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب

جبکہ نہ مہر معجل ٹھہرا رخصت سے پہلے ادا کیاجائے نہ مؤجل کہ اتنی مدّت معیّن گزرنے پر دیا جائے یا جتنا معجل ٹھہرا تھا وُہ زیور وغیرہ دے کر ادا ہوچکا ہو، باقی نہ معجل ٹھہرا نہ مؤجل خواہ قاضی نے غیر معجل کہہ دی یا کچھ نہ کہا ہو تو اب ہندہ کو جب تک طلاق یا دونوں میں سے ایک کی موت نہ واقع ہو ہرگز مطالبہ مہر کا کچھ حق  تھانہ وہ اس لیے رخصت سے انکارکر سکتی ہے اگرچہ زید کو فی الحال ادائے مہر کی لاکھ مقدرت ہو۔
ردالمحتار کتاب القضاء میں قبیل باب التحکیم ہے : لومات زوج المرأۃ  او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن  وقت النکاح ۱؎۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔ اگرخاوندفوت ہوجائے یا نکاح سے بیس۲۰ سال بعد طلاق دے تو بیوی کو مؤخر کردہ مہر طلب کرنے کا حق ہے، کیونکہ اس مہر کے مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے نہ کہ نکاح کے وقت سے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ردالمحتار        کتاب القضاء     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۳۴۳)
Flag Counter