Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
21 - 155
مسئلہ۳۷ تا ۴۲ :  

سوال اوّل 

حضور ! اوّل یہ بتادیجئے کہ بلاتعیینِ مہر نکاح ہوگا یانہیں، اگر لفظ شرعی مہر کہا جائے اور کوئی تشریح نہ کی جائے تو کس قدر مہر سمجھا جائے گا، بینواتوجروا
الجواب

نکاح بلاتعیینِ مہر بلکہ نفی مہر کے ساتھ بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مہر مثل دینا آتا ہے یونہی مہر شرعی کہنے سے بھی، جبکہ ان کی اصطلاح میں اس سے کوئی خاص مقدار مثلاً ا قل درجہ مہر یا مہر حضور بتول زہرارضی اﷲتعالٰی عنہا مراد نہ ہو ورنہ جو ان کی اصطلاح معروف ہے وہی لازم آئے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
سوال دوم 

مہرِ شرعی جو بنات صالحات کا لکھا ہے چار سو مثقال چاندی کا، آج کل کے سکّہ سے کس قدر روپے ہوئے ہیں؟
الجواب :

چار سومثقال چاندی مہر حضرت خاتونِ جنّت رضی اﷲتعالٰی عنہا تھا یہاں تک کے سکّے سے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر چاندی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
سوال سوم 

مہر جوازواجِ مطہرات کا پانچ سودرہم کا سوائے بی بی اُمِّ حبیبہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کے کہ دوہزار قدقیہ یا پانچ سودینار کا لکھا ہے سکّہ مروّجہ سے کس قدر ہوتے ہیں؟ وزن درم اور اوقیہ مثقال اور دینار کی صراحت فرما دیجئے۔
الجواب 

پانچسودرم کے اس سکّہ  رائجہ سے ایک سوچالیس روپے ہوتے ہیں۔ درم شرعی تین ماشے ایک رتّی اور پانچواں حصّہ رتّی کا، اور مثقال کہ وہی وزن دینار شرعی ہے ساڑھے چار ماشے، ایک اوقیہ چالیس درم ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
سوال چہارم

اقل درجہ دس۱۰ درم شرعی کے سکّہ مروّجہ سے کَے روپے ہوتے ہیں؟

الجواب

دس۱۰ درم کے اس سکّہ سے دو۲ روپے تیرہ ۱۳ آنے ایک پیسے کا پانچواں حصہ، دوسو درم۲۰کے پُورے چھپن ۵۶ روپے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
سوال پنجم 

آج کل جو حیثیت سے زیادہ مہر باندھا جاتا ہے جس کے ادا کی کوئی صورت حالت موجودہ سے نہیں ہے دل میں یہ خیال کرلینا کہ کُچھ دینا تو نہیں پڑتا ہے صرف زبانی جمع خرچ ہے قبول کرلو، ایسے خیال سے کوئی نکاح میں تو نقص نہیں آئے گا؟
الجواب

نکاح میں کوئی نقص نہیں مگر ایسا خیال عند اﷲ سخت قبیح وشنیع ہے یہاں تک کہ حدیث میں ارشاد ہوا جو مردوعورت نکاح کریں اور مہر کے دینے لینے کی نیّت نہ رکھیں یعنی اُسے دَین نہ سمجھیں وُہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے ۱؎۔
 والعیاذ باﷲتعالٰی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؂ السنن الکبرٰی	 باب ماجاء فی حبس	 دارصادر بیروت       ۷ /۲۴۲) 

(کنزالعمال	 حدیث ۴۴۷۲۶ 	موسسۃ الرسالۃ بیروت	 ۱۶ /۳۲۳)
سوال ششم

وہ کون سی صورت طلاق کی ہے کہ ایک جوڑی کپڑے پانے کی زوجہ مستحق ہے۔
الجواب

نکاح جب بلاتعیّن مہر ہُوا اور عورت کو قبل خلوت طلاق دی جائے تو ایک جوڑا واجب آتا ہے جس کی قیمت پانچ درم شرعی سے کم نہ ہو اور عورت کے نصف مہرمثل سے زیادہ نہ ہو ان دوحدوں کے اندر، اگرمرد وزن دونوں غنی ہوں اعلٰی درجہ کا واجب ہوگا اور دونوں فقیر تو ادنٰی اور ایک فقیر ایک غنی تو ا وسط۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: ازموضع دیوری نیاضلع بریلی مسئولہ مسیح الدین صاحب ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

زید کی بی بی ہندہ کو اس کے میکے والوں نے محض جُھوٹی خبر  پر کہ ہندہ کو سسرال والے زہر دے دیں گے روک رکھا ہے اور اُن کا یہ ارادہ ہے کہ ہندہ کا دین مہر وصول کرکے ہندہ کی شادی دوسری جگہ کردیں، آیا قبل طلاق دینے شوہر کے ہندہ کے دین مہر  کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں، اور اس کا دوسری جگہ نکاح کردینا جائز ہے یا نہیں، اور اسے  روک رکھنا جائز ہے یانہیں، ہندہ کامہر سوا لاکھ روپیہ ہے جس میں نصف معجل ہے اور نصف غیر معجل، مگر معجل میں زمانے کی کوئی حد نہیں ہے۔
الجواب 

آدھا مہر یعنی ساڑھے باسٹھ ہزار روپیہ تک ادا نہ کرے زیدکو ہندہ کے بلانے کا کوئی اختیار نہیں، اور میکے والے ہندہ کو روک سکتے ہیں قبل طلاق اگر نکاح کر دیا جائے حرام وزنا ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۴ تا ۴۵ :از مراد آباد محلہ مقبرہ مرسلہ حاجی کریم بخش صاحب ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

(۱) زوج نے زوجہ کے نام کچھ زمین مہر معجل میں دے دی اور غیر معجل مہر شوہر کے ذمّہ ہے، زوج سے لڑکی تولّد ہوئی یا لڑکا تولّد ہوا، اب زوج زوجہ سے ناراض ہے اور طلاق دیتا ہے، اب وہ معاملہ برادری کے پنجوں میں ہے، اگر پنج مہر معجل واپس کرلیں اور غیر معجل بھی نہ دلائیں اور کچھ روپے مسمّاۃ کو دے کر رضامندکرلیں اور  زوج سے طلاق دلوادیں تو ایسے  پنجوں پر کیا حکم ہے، اور زوجہ سے مہر معجل واپس کرنے کا کچھ گناہ ہے یا نہیں، اور پنجوں کو کس بات کا زیادہ لحاظ رکھنا لازم ہے، اور اگر پنج کسی کی رعایت کرکے فیصلہ کریں تو کیا کچھ گناہ ہے؟    (۲) جومعاملات برادری کے متعلق طے ہوں اور شریعت سے باہر ہوں تو کیا گناہ ہے؟
الجواب 

یہ معاملہ رضامندی پر ہے جبکہ وُہ جانے کہ باہم نباہ نہ ہوگا تو زوجہ اپنی خلاصی کے لئے کُل مہر چھوڑدے او رلیا ہُوا واپس دے اور اُس کے سوا اور روپے بھی دے سب جائز ہے،
قال تعالٰی : فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ۱؎
 (عورت اگر فدیہ دے تو خاوند بیوی دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ت)
 (۱ ؂ القرآن الکریم     ۲ /۲۲۹)
ہاں اگر پنجوں نے اُسے ناجائز طور پر دبا تو گنہگار ہُوئے اور عورت کے حق میں گرفتار، جن معاملات میں شریعت مطہرہ نے اپنے حق کے لئے کوئی حکم خاص فرمایا ہے اُس کا اتباع مسلمانوں پر فرض، کسی کی رضا مندی اس کی مخالفت کو جائز نہیں کرتی جیسے سُود کہ اگر لینے دینے والا دونوں راضی ہوں جب بھی حرام قطعی ہے اور جن امور میں شرع نے اپنے حق کیلئے کوئی حکم نہ فرمایا جو ممانعت ہے وہ بندہ کے حق کے سبب ہے اُن میں اگر صاحب حق راضی ہوجائے تو ممانعت نہ رہے گی جیسے پرایا مال چُرالینا حرام اور اُس کی خوشی سے حلال۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۶تا ۴۷: از شہسرام ضلع گیامرسلہ سراج الدین احمد صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ

(۱) اصناف تعین مہر میں کہ معجل ومؤجل ومثل ہے معجل میں کلام نہیں اور مؤجل میں کابین کا لکھنا ضرور ہے یانہیں ہے، ہے تو موافق شریعت کے مضمون کیا ہے ؟

(۲) مہر مثل ازواجِ مطہرات رسول علیہ التحیتہ والصّلٰوۃ کہ امہات المومنین والمومنات ہیں کا افضل یا خاندانی مثل ام وعمہ،عروس وداماد۔
الجواب 

(۱) مہر معجل وُہ ہے جو پیشگی دینا ٹھہرے، اور مؤجل وہ جس کی ایک میعاد معین قرار پائے کہ اتنے زمانے کے بعد ادا کی جائے گا، اور مؤخر وُہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا نہ اُس کا کوئی وقت معین کیا گیا، مہر مثل کوئی ان کی مقابل قسم نہیں، مؤجل کی دستاویز لکھنا بہتر ہے۔
قال تعالٰی :
یایھاالذین اٰمنوا اذاتداینتم بدین الٰی اجل مسمّی فاکتبوہ ۱؎۔
اے ایمان والو! جب تم ادھار لین دین مقررہ مدت پر کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۲ /۲۸۲)
تفسیر احمدی میں ہے :
فی الزاھدی ان الاٰیۃ عامۃ فی السلم وکل دین یصح فیہ الاجل ۲؎۔
زاہدی میں ہے کہ یہ آیہ کریمہ بیع سلم اور ہرادھار سودا جس میں مدّت مقرر کرنا صحیح ہو سب کوشامل ہے (ت)
 (۲؎تفسیر احمدیہ     تحت آیۃ اذا تداینتم بدین الخ (پ۳)    مطبعہ کریمہ، بمبئی، بھارت ص۱۷۵)
مدارک التنزیل میں ہے :
الامر للندب۳؎
 (آیہ کریمہ میں امر استحباب کے لئے ہے۔ت)
 (۳؎ مدارک التنزیل (تفسیر النفسی)     تحت آیہ مذکورہ     دارالکتاب العربی بیروت     ۱ /۱۳۹)
لباب التاویل میں ہے :
وھوقول جمھور العلماء۴؂
 (یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ت)  او ر مضمون میں وہی طریقہ معہودہ کافی ہے جو تمسکات میں رائج ہے کہ میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں میں نے فلاں تاریخ فلانہ بنت فلاں بن فلاں سے اتنے مہر پر نکاح کیا جس کی ادا اتنے دنوں بعد قرار پائی ہے( اقرار کرتا ہُوں کہ مہر مذکور میعادِمذکور ادا کروں گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۴؎ لباب التاویل (تفسیر خازن)     مصفطی البابی مصر    ۱ /۳۰۵)

(۲) ازواجِ مطہرات کامہر کس کے لئے مہر مثل ہوسکتا ہے، ان کے مثل کون ہے، مہر مثل سے اپنے خاندانِ پدرہی کا مہر مراد ہے بہن پھوپھی وغیرہ عمر ومال وجمال وبکارت وغیرہا میں اس کے مثل ہیں، ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں امہات المومنات نہیں، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا فرماتی ہیں :
انا ام رجالکم ولست ام نسائکم۔۱؎ واﷲتعالٰی اعلم۔
میں تم مردوں کی ماں ہوں تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔(ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎ درمنثور بحوالہ ابن سعد وابن المنذر والبیہقی تحت آیہ اولٰی بالمومنین الخ آیت اﷲ العظمی المر عشی ایران     ۵ /۱۸۳)
Flag Counter