| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۹: ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ مہر کی تعداد شرع پیغمبری کیا ہے؟ اور حضرت خاتونِ جنّت رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر کیا تھا؟ بینواتوجروا الجواب مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں ، صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درم یعنی تقرءبقا دو روپے تیرہ آنے سے کم نہ ہوا اور زیادتی کی کوئی حد نہیں ، جس قدر باندھا جائے لازم آئے گا۔ اور حضرت خاتونِ جنّت رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر اقدس چارسو۴۰۰ مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے روپے سے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰: از فرید پور ضلع بریلی مرسلہ قاضی محمد نبی جان صاحب ۲۷رمضان شریف ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے مہر شرعی پر نکاح کیا مگر اب وُہ طلاق دیتا ہے بوجہ نافرمانی کے، اور وہ تخمین مال ۲۵۰ روپے قرضدار ہے قرض سودی ہے وہ اس کے مہر سے کس صور ت سے ادا ہووے اور کتنا دیوے بموجب حکم خدا ورسول سے؟ تحریر فرمائے۔ الجواب مہر شرعی جو لوگ یہ سمجھ کر باندھتے ہیں کہ سب سے کم درجے کا مہر جو شریعت میں مقرر ہے تو اس صورت میں دو تولے سات ماشے چار رتی چاندی دینی آئے گی، اور جو یہ سمجھ کر باندھتے ہوں کہ جو مہر حضرت خاتونِ جنّت کا تھا تو ڈیڑھ سو تولے چاندی آئے گی، یعنی انگریزی روپے سے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر، اور جس کی سمجھ میں کچھ معنی نہیں خالی ایک لفظ بول دیتے ہیں تو وہاں مہر مثل لازم آنا چاہئے یعنی عورت کے دُدھیال میں جو عورت اس کی ہم عمر اور صورت شکل اور کنواری یا بیاہی ہونے میں اور اُن باتوں میں جن سے مہر کم بیش ہوجاتا ہے اس عورت کی مانند ہو اس کا جو مہر بندھا ہو وُہ دینا آئے گا، اور جو اپنوں میں ایسی عورت نہ ملے تو بیگانوں سے دیکھیں۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۱تا ۳۲: ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ سوال اوّل کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح ساتھ عمرو کے عوض مہر پانچ ہزار روپے اور دو۲ دینار شریک کر دیا تھا اور یہ بات قرار پائی گئی تھی اور وکیلِ نکاح نے تصریح کردی تھی کہ مہر نہ تو اس وقت نقد لیا جائے گا اور نہ رخصت کے وقت، اور نہ کوئی وعدہ ادائے مہر کا ہے، اور ہنوز رخصت نہیں ہوئی ہے، تو ہندہ مذکور یا اُس کے باپ کو کس وقت میں طلب کرنے جزو یا کُل مہر کا اختیار حاصل ہوگا اور اس مہر کو کون سا مہر کہا جائے گا؟ بینواتوجروا الجواب ایسے مہر کا مطالبر بعد موتِ زوج یا زوجہ یا بعد طلاق ہوسکتا ہے اس سے قبل نہیں، یہ نہ معجل ہے کہ قبلِ رخصت دینا قرار نہ پایا، نہ مؤجل کہ کوئی اجل یعنی میعاد مقرر نہ کی گئی بلکہ عرفاً مؤخر ہے، ردالمحتار میں ہے
لو مات زوجل المرأۃ اوطلقھا بعد عشرین سنۃ من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر بیوی کا خاوند بیس۲۰ سال بعد فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر کیا ہُوا طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کو اس مہر کے مطالبے کا حق مرنے یا طلاق دینے کے بعد ثابت ہوتا ہے وقت نکاح سے مطالبہ کا حق نہیں ہوتا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
سوال دوم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر موجل کے کیا معنے ہیں اور غیر مؤجل کے کیا معنے ہیں؟ اور معجل جس کا حرف ثانی عین مہملہ ہے کیا معنی ہیں اور ان کا کیا حکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اور اجرپائے۔ت) اور دینار سُرخ کتنے روپے کا ہوتا ہے؟
الجواب مہر مؤجل وُہ جس کے لئے کوئی میعاد مقرر کی ہو مثلاً دس۱۰ برس بعد دیاجائے گا، اور غیر مؤجل وُہ کہ تعین وتقرر میعاد نہ ہو فان کان مع نفی الاجل کان معجلا والافلا(اگر میعاد کی نفی کی ہوتو معجل ہے ورنہ نہیں۔ت) اور معجل وہ جس کا قبل رخصت ادا کرنا قرار پایا ہو۔ مؤجل کا مطالبہ میعاد آنے پر ہو سکتا ہے اس سے پہلے اختیار نہیں، اور معجل کو عورت فوراً مانگ سکتی ہے، اور جب تک نہ ملے رخصت سے انکار کا اسے اختیار ہے اور جو نہ معجل اور نہ مؤجل وُہ بحکم عرف طلاق یا موت تک موخر ہے اس سے پہلے اختیارِ مطالبہ نہیں۔
فی النقایہ المعجل والمؤجل ان بینا فذاک والا فالمتعارف۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
نقایہ میں ہے : مہر معجل اور مؤجّل کی مدّت بیان کردی گئی تو بہتر، ورنہ عرف کے لحاظ سے مہر ادا کیا جائیگا (ت)واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶)
دینار شرعی دس۱۰ درم شرعی کا ہوتا ہے، دس۱۰ درم انگریزی روپے سے دو۲روپے تیرہ۱۳ آنے ہوتے ہیں پانچواں حصّہ پیسہ کا کم،
کما حققنافی الزکوٰۃ من فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کے بابِ زکوٰۃ میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی لڑکی کا نکاح تھا اور قاضی صاحب نے نکاح پڑھا دیا، کلمہ ودعائے قنوت اور دونوں اٰمَنتُ باﷲپڑھا کراقرار پڑھایا تھا اور فاتحہ کے لئے جب حاضرینِ محفل پڑھنے کو ہُوئے تب ایک قاضی دیگر جگہ کے تھے وہ اس نکاح میں گواہ تھے لڑکی کی طرف سے، اور درجہ دوم شرع پیغمبر ی قائم کیا گیا تھا تو نکاح پڑھانے والے قاضی نے کہا کہ مجھ کو اس کی تعداد معلوم نہیں کہ کتنی تعداد ہے، وُہ جو قاضی گواہ تھے اُس نکاح کے، وہ کہنے لگے صہ ؎۶۵ روپے، درجہ دوم کی میں خلاصہ کردیوں تاکہ محفل میں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے، پڑھانے والے نے کہا کہ درجہ اول دوم درجہ سوم درجہ چہارم کی تعداد مجھ کو معلوم نہیں مع نام درجہ تعداد روپیہ کے آگاہی ہو جائے۔ الجواب شریعت میں مہر کی کم سے کم تعداد مقرر ہے کہ دس۱۰ درم سے کم نہ ہو جس کے اس روپے سے کچھ کوڑیا کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے بھر چاندی ہُوئی یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳/۵ پائی بھر اس کے سوا شریعت میں مہر کا کائی درجہ مقرر نہیں فرمایا ہے، یہ ان قاضیوں کی گھڑت ہے مہ ؎۶۵ روپے کا کوئی درجہ مہر کا نہیں ہے، اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر پانسو۵۰۰ درم تھا کہ یہاں کے روپوں سے ایک سوچالیس۱۴۰ ہُوئے، اور حضرت خاتونِ جنّت رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر چار سو۴۰۰ مثقال چاندی تھا جس کے ایک سوساٹھ۱۶۰ روپے بھر چاندی ہوئی، اور حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر چار ہزار درم یا دینار تھا جس کے گیارہ سوبیس۱۲۰ یا گیارہ ہزار دوسو۱۱۲۰۰ روپے ہُوئے، مہر معیّن کردینا چاہئے، فقط شرع پیغمبری یا اس کا فلاں درجہ کہنا بیوقوفی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم