Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
18 - 155
مسئلہ ۲۶: از جنگل کوکرہ ڈاک خانہ گولا ضلع کھیری مرسلہ عبدا لرحمٰن خاں صاحب۳جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ 

 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے بعوض نکاح ایسی صورت میں کہ مُلکِ ہند میں رواج درہم کا نہیں ہے، بجائے دس۱۰ درہم کے دس۱۰ درہم چاندی کافی ہوگی یا تعداد اُس کی روپے آنے سے پُوری کرنی ہوگی، اگر روپے آنے مہر کے تجویز کئے جائیں گے تو کس قدر ہوں گے؟ اورکم سے کم کتنا مہر ہوسکتا ہے؟ بینواتوجروا
چاندی کافی ہے، سکّہ ہونے کی کچھ ضرورت نہیں، کم سے کم مہر دس۱۰ ہی درہم ہے یعنی دو۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی اُس تولے سے جس کے حساب میں انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا ہے، نہ روپیہ بھر کا تولہ جو بعض بلاد میں معروف ہے، مہر خوداس قدر چاندی ہو یا چاندی کے سوا اور کوئی شے اتنی ہی چاندی کی قیمت کی،
فی الدرالمختار، قلہ عشرۃ دراھم فضۃ وزن سبعۃ مثاقیل مضروبۃ کانت اولا ولو دینا او عرضا قیمتہ عشرۃ وقت العقد۱؎ فی ردالمحتار "فلوسمی عشرۃ تبرا اوعرضا قیمۃ عشرۃ تبراً لامضروبۃ" صح۲ ؎۔
درمختار میں ہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس۱۰ درہم چاندی جس کا وزن سات۷مثقال ہو، یہ چاندی سکّے کی شکل میں ہوں یابے سکّہ اگر چہ قرض ہو یا کوئی سامان ہو جس کی قیمت دس ۱۰ درہم بوقت نکاح ہو۔ ردالمحتار میں ہے اگر دس ۱۰ٹکڑیاں مہر مقرر کیا یا سامان جس کی قیمت دس۱۰ ٹکڑیوں کے برابر ہو دس۱۰ سکّوں برابر نہ ہو تو بھی جائز ہے(ت)ف
(۱؎ درمختار     باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۹۷)

(۲؎ ردالمحتار     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۳۰)
وزن کے اعبتار سے دس۱۰ درم کے دو۲روپے ایک اٹھنی ایک چوانی اور ۹-۵/۳ پائی ہُوئے یعنی کچھ کم دو۲ روپے تیرہ۱۳ آنے، اگر روپے اٹھنی چوانی دے تو اسی قدر دینا ہوگا، لان الجنس لامعتبر فیہ للقیمۃ(کیونکہ جنس میں قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ت) اور چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو۲تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی مثلاً چاندی ۱۲۔تولہ ہو تو ایک روپے ساڑھے پندرہ آنے کی قیمتی شَے کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷: شوال ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کانکاح زید سے بتعین صہ عہ (۲۵۰۰۰) ہزار مہر کے ہوا زید کو مہر میں اضافہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے لئے کیا شرائط لازم وضروری ہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

شوہر کو ہر وقت زوجہ کے مہر میں زیادت کرنے کا اختیار ہے اور اب مہر یہی قرار پائے گا جو بعد اس زیادت کے مقرر ہُوا اور اس کے لئے تجدید نکاح کی حاجت نہیں، بلاتجدید بھی زیادت کرسکتا ہے، نہ گواہوں کی ضرورت تنہائی میں باہم اضافہ کرلینا صحیح ہوجائے گا، نہ زیادت جنسِ مہر سے ہونی لازم، خلافِ جنس بھی صحیح ہے، مثلاً روپے مہرتھے اب کوئی جائداد اضافہ کردی وُہ روپے اور یہ جائداد سب کا مجموعہ مہر ہوجائے گا، نہ اگلے مہر کا صرف تین ۳ شرطیں درکار ہیں، دو۲ بالاتفاق۔ ایک(۱) تو اُس زیادت کا معلوم ومعین ہونا مثلاًیہ کہا کہ میں نے تیرے نے تیرے مہر میں کچھ بڑھا دیا تو یہ زیادت باطل دوسرے(۲) اسی جلسہ میں عورت کا اسے قبول کرلینا، اگر عورت نے قبول نہ کیا یا بعد مجلس بدلنے کے قبول کیا زیادت صحیح نہ ہوگی۔ تیسری (۳) "شرط مختلف فیہ" بقائے نکاح ہے اگر بعد زوال نکاح بموت زوجہ یا طلاق بائن یا انقضائے عدّت بعد طلاقِ رجعی زیادت کی تو ایک روایت پر صحیح نہ ہوگی۔ نہرالفائق میں اسی کو ظاہر الروایۃ قرار دیا۔
درمختار میں ہے :
زید علی ماسمی فانھا تلزمہ بشرط قبولھا فی المجلس اوقبول ولی الصغیرۃ ومعروفۃ قدرھا وبقاء الزوجیۃ علی الظاہر نھر۱؎
اگر مقررہ مہر پر زیادہ کیا ہوتو خاوند پر یہ زائد مہر لازم ہوجائےگا بشرطیکہ بیوی نے مجلس میں قبول کرلیا ہو یا اس کے ولی نے جب یہ نابالغہ ہو۔ اور مقدار بھی معلوم ہو اور زوجیت کا موجود رہنا بھی شرط ہے ظاہر مذہب میں، نہر۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۹۸ )
ردالمحتار میں ہے :
افادا نھا صحیحۃ ولو بلاشھود او بعد ھبۃ المھر والابراء ومن غیر جنسہ بحر، وفی انفع الوسائل لایشترط فیھا لفظ الزیادۃ بل تصح بلفظھا وبقولہ راجعتک بکذا ان قبلت وکذا بتجدید النکاح وان لم یکن بلفظ الزیادۃعلی خلاف فیہ وکذا لو اقرلزو جتہ بمھر وکانت قد وھبتہ لہ فانہ یصح ان قبلت فی مجلس الاقراروان لم یکن بلفظ الزیادۃ۱؎ اھ مختصرا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اس عبارت نے یہ فائدہ دیا کہ یہ زیادتی جائز ہے خواہ گواہوں کے بغیر اور مہر ادا کردینے کے بعد یا مہر سے معاف کرنے کے بعدہو، یہ زیادتی جنس مہر سے ہویا غیر جنس مہر سے ہو، بحر۔ اور انفع الوسائل میں ہے اس کے لئے '' زیادہ '' کا لفظ بھی ضروری نہیں بلکہ اس لفظ سے اور اس قول سے بھی صحیح ہے کہ میں نے اتنوں کے ساتھ تجھ پر رجوع کیا اگر تجھے قبول ہو، اور یُوں ہی تجدیدِ نکاح سے  اگر چہ اس میں زیادہ کا لفظ نہ بھی ہو، اس میں خلاف ہے، اور یونہی اگر بیوی نے خاوند کو مہر ہبہ کردیا اور بعد میں خاوند بیوی کے لئے کسی مہر کا اقرار کرلے، جب بیوی نے اقرار والی مجلس میں قبول کرلیا ہو اگر چہ زیادہ کا لفظ نہ بھی ہوتو یہ زیادت صحیح ہے اھ مختصرا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۳۸)
مسئلہ ۲۸: ۶شوال ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مہر معجل سے ششم حصّہ بکر شوہر نے وقتِ نکاح ادا کردیا اب ہندہ کو بقیہ پانچ حصّوں کا مطالبہ قبل افتراق زن وشو پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور اگر رخصت بلاخلوت صحیحہ واقع ہُوئی ہوتو دعوٰی کا اختیار رہا یا نہیں؟ بینواتوجروا 

 الجواب 

صورتِ مستفسرہ  میں بالاتفاق ہندہ کو قبل افتراق بموت یا طلاق بقیہ مہر معجل کا دعوٰی اور جب تک وتمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے گھر جانے سے باز رہنا اور اپنے نفس کو شوہر سے روکنا پہنچتا ہے، اور اصل مذہب یہ ہے کہ اگر خلوت بلکہ قربت برضائے ذوجہ واقع ہولی تو اس کے بعد بھی زوجہ کو ہر وقت اختیار دعٰوی ومطالبہ ومنع نفس حاصل ہے جب چاہے رُک جائے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دے اور اُس کے گھر جانے سے انکار کرے جب تک مہر معجل نہ لے لے۔ درمختار میں ہے :
 لھا منعہ من الوطی ودواعیہ والسفر بھا ولو بعد وطئ وخلوۃ رضیتھا لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی لاخذ مابیّن تعجیلہ من المھر کلہ او بعضہ او اخذقدرمایعجل لمثلھا عرفا،بہ یفتی۲؎۔
بیوی کو مہر وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطبی سے اور اس کے دواعی سے سفر میں ساتھ لے جانے سے منع کا حق ہے اگر چہ برضائے زوجہ وطی یا خلوت کرلی گئی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے، تو کچھ دے دینے سے باقی کو بھی دے دینا ثابت نہیں کرتا، یہ منع کا حق اس واسطے ہے کہ عورت وُہ مہر وصول کرلے جس کا جلد دینا بیان ہوچکا وہ کل مہر ہو یا بعض، یااس قدر مہر وصول کرلے جتنا اس جیسی عورتوں کو عرف میں جلد دیا جاتا ہے فتوٰی اسی پر ہے۔(ت)
 (۲؎در مختار     باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۲)
اسی میں ہے :
 لھا السفر والخروج من بیت زوجھا للحاجۃ وزیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔

مہر معجل وصول کرنے تک بیوی کو سفر کرنا اور خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کسی حاجت یا والدین کی زیارت کے لئے نکلنا جائز ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۲)
Flag Counter