| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۴:از ریا ست ریواں محلہ گھوگھر مرسلہ عبد اﷲخاں صاحب چاہک سوار ۱۰صفر ۱۳۱۶ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو باشتباہِ زنا اپنے مکان سے نکال دیا، چار ماہ سے زائد ہوتا ہے کہ نان نفقہ مطلقاً نہ دیا، قریب ایک ماہ کے ہوتا ہے کہ جلسہ واحد میں تین طلاق دئے مگر نہ رُوبرو عورت کے بلکہ دوسرے اشخاص کے۔ دین مہر عورت کا صہ ۴ ِ پایا تھا شوہر نے قطعہ مکان مالیتی صہ بعوض دین مہر رجسٹری کرا کردخل دے دیاتھا' اب بے دخل کرکے نکال دیا اپنے دئے ہُوئے زیورات کا مسمّاۃ سے بجبر واکراہ بنالش کچہری دعودیدار ہے۔ پس صورتِ مسئولہ میں آیا مرد مجاز ہے کہ علاوہ دین مہرکے جو اشیاء ازقسم زیورات وغیرہ عورت کو بنوادیا تھا جبراً واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتبِ معتبرہ مع ترجمہ عبارتِ عربی جلد مرحمت فرمایاجائے۔بینواتوجروا` الجواب تین طلاقیں ہوگئیں، عورت کے رُوبرو ہونا کچھ شرط نہیں، قطعہ مکان کہ بعوض دین مہر دیاتھا مِلک عورت ہے عورت بذریعہ نالش واپس لے سکتی ہے،علاوہ مہرجو اشیاء مثل زیور وغیرہ زید نے ہندہ کو دیں اگر گواہان عادل شرعی یا اقرار زید سے ثابت ہوکہ وُہ چیزیں زید نے ہندہ کو ہبہ کردی تھیں تو زید ان کی واپسی کا اختیار نہیں رکھتا۔ فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
اذا وھب اِ حدَا زَوجینِ لصاحبہ لایرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما۱؎۔
جب میاں بیوی نے ایک دُوسرے کوکوئی ہبہ دیا تو رجوع کا اختیار نہیں اگر چہ بعد کو نکاح منقطع ہوجائے۔ (ت)
(۱؎فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۶)
یُونہی جس چیز کی نسبت اُس کی مالک سمجھی جاتی ہےں اُس میں بھی زید کو اختیار ِ واپسی نہیں۔ علماء فرماتے ہیں: المعھود عرفا کالمشروط نصاً(عرف میں ثابت ایسے ہے جیسا کہ نص کرکے مشروط کیا ہو۔ت) مگرجبکہ اس قسم دوم کی چیز میں زید گواہان شرعی سے ثابت کردے کہ میں نے دیتے وقت جتادیا تھا کہ برتنے کے لئے دیتا ہوں تجھے مالک نہیں کرتا، تو البتہ وُہ چیز ملک شوہر سمجھی جائے گی اور وُہ بالجبر واپس لے سکتا ہے۔علماء فرماتے ہیں: الصریح یفوق الدلالۃ (صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ت) اسی طرح زیور کپڑا وغیرہ ہر وُہ چیز کہ شوہر نے دی اور تملیک صراحۃً خواہ عرفاً کسی طرح ثابت نہ ہُوئی اس میں بھی قول شوہر کا معتبر ہے۔ جبراً واپس لے سکے گا اور بلاتملیک شوہر عورت کے برتنے، پہننے، استعمال کرنے سے مِلِک عورت ثابت نہیں ہوسکتی البتہ گھر میں پہننے کے کپڑے جن کا دینا بحکمِ نفقہ شوہر پر واجب ہو چکا ہو وُہ دے کہ اگر دعوٰی کرے کہ میں نے عورت کو مالک نہ کیا تھا اس میں شوہر کا قول معتبر ہونا چاہے۔
عقودالدریہ میں ہے :
قال فی البحر وفی البدائع اقررت بالزوجھا ثم ادعت الانتقال الیھا لایثبت الانتقال الابالبینۃ اھ، ولابد من بینۃ علی الانتقال الیھا منہ بھبۃ او نحو ذٰلک ولایکون استمتاعھا بمشریہ ورضاہ بذٰلک دلیلا علی انہ ملکھا ذٰلک کما تفھمہ النساء والعوام وقدافتیت بذٰلک مرارا، وینبغی تقییدہ بمالم یکن من ثیاب الکسوۃ الواجبۃ علی الزوج اھ۱ ؎ ملخصاً۔واﷲتعالٰی اعلم۔
بحر میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ بیوی نے خاوند کی ملکیت کا اقرار کیا اور پھر اس کے اپنی طرف منتقل ہوجانے کا دعوٰی کیا تو اب بیوی کی ملکیت شہادت کے بغیر ثابت نہ ہوگی اھ، گواہ ضروری ہیں کہ شوہر نے بذریعہ ہبہ وغیرہ عورت کو مالک کردیا بیوی کا خاوند کی خریدی ہُوئی چیز سے فائدہ پانا اگر چہ خاوند کی رضا مندی سے ہو، یہ بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عام طورپر عورتیں اور عوام سمجھ لیتے ہیں کہ یہ خاوند کی طرف سے ملکیت کردی گئی ہے میں نے کئی باریہ فتوٰی جاری کیااھ یہاں یہ قید مناسب ہے کہ وُہ دی ہُوئی چیز پہننے کے کپڑے نہ ہوں جن کا دینا شوہر پر واجب ہوچکا تھا اھ ملخصاً(ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۱عقودالدریۃ کتاب الفرائض حاجی عبد الغفار وپسران تاجرانِ کُتب قندھار افغانستان ۲ /۳۵۰)
مسئلہ۲۵: از کٹرہ ڈاک خانہ ادیرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سیّد کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جاہل نے بدون طلاق اپنی زوجہ کی رضاعی بہن سے نکاح کرلیا، جب اس کو معلوم ہوا کہ جمع بین الاختین حرام ہے تب اس نے ثانیہ کو طلاق دینا چاہا، ثانیہ نے کہا کہ مجھ کو طلاق دینا چاہتے ہو تو میرا مہر ادا کرو۔ تو اس صورت میں بہ سبب ناجوازی نکاح زوجہ ثانیہ کے زوجہ ثانیہ کے حق میں صرف تفریق ہی معتبر ہ یا اس پر طلاق واقع ہوگا اور مہر زوجہ ثانیہ زوج پر باوجود عدم جوازِ نکاح لازم آئے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب ایک بہن جب نکاح میں ہو تو دوسری سے نکاح نکاح ِ فاسد ہے، متارکہ یعنی چھوڑ دینا جُدا کردینا واجب ہے، اور وہ طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے، یہاں تک کہ اگر الفاظِ طلاق کہے گا جب بھی متارکہ ہی ٹھہرے گا طلاق میں شمار نہ ہوگا، پھر اگر اس دوسری سے حقیقۃًوطی یعنی خاص فرج داخل میں بقدر حشفہ ایلاج ذکر، کر چکا تھا تو مہر مثل ومہر مسمّی سے جو کم ہولازم آئے گا ورنہ کچھ نہیں اگر پر خلوت بلکہ بوس وکنار بہ شہوت بلکہ غیر فرج میں ادخال کرچکاہو،
فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم کزد علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھرالمثل۱؎اھ باختصار وفی ردالمحتار قولہ کشھود ومثلہ تزوج الاختین معاونکاح الاخت فی عدۃ الاخت قولہ فی القبل فلوفی الدّبر لایلزمہ مھر خلاصۃ وقنیۃ فلایجب بالمس والتقبیل بشہوۃ شیئی بالاولی کما صرحوا بہ ایضا بحر۲؎اھ ملتقطا، وفی الدر من العدۃ، الخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ والطلاق فیہ لاینقص عدد الطلاق لانہ فسخ جوھرۃ۳؎ اھ واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ نکاح فاسد میں صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ نکاح فاسد وُہ ہے کہ جس میں صحتِ نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو، مثلاً بے شہود نکاح اورمہر مثل بھی مقرر مہر سے زیادہ نہ ہوگا، اور اگر مہرمثل کم ہو مہر مسمٰی سے تو بھی مہر مثل لازم ہوگا، یہاں خلوت وغیرہ سے مہر واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ وطی کے قائم مقام نہیں ہے کیونکہ نکاحِ فاسد میں وطی خود حرام ہے اھ اختصاراً۔ اور ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول، جیسے گواہ' اور اسی طرح اگر دو۲ بہنوں سے بیک وقت نکاح کیا ہو یا ایک بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کیا ہو، ماتن کا قول کہ صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر لازم ہوتا ہے تو دُبر میں وطی کرنے سے مہر لازم نہ ہوگا، خلاصہ اور قنیہ یونہی مَس اور بوس کنار شہوت سے کئے ہوں تو بھی مہر بطریق اولٰی لازم نہ ہوگا، جیسا کہ فقہا ء نے اس کی بھی تصریح کی ہے، بحر اھ ملتقطا۔درمختار کی عدّت بحث میں ہے کہ نکاحِ فاسد میں خلوت، عدّت کو واجب نہیں کرتی اور نکاح فاسد میں طلاق سے عدد طلاق کم نہ ہوگا کیونکہ یہ فسخ ہے، جوہرہ اھ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۱) (۲؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۱۔۳۵۰) (۳؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۸)