Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
16 - 155
مسئلہ ۲۱: ازپیلی بھیت محلہ بشیرخاں مسئولہ احمد حسین خاںصاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۳صفر ۱۳۱۴ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت مسلمان سے ایک مسلمان کانکاح ہوا، اُس کے بعد نکاح کنندہ کو معلوم ہُوا کہ اُس عورت کے باپ سے مجھ کو رشتہ شِیر خوارگی ہے یعنی میری ماں نے اس کے باپ کو دُودھ پلایا ہے اور اس زمانہ میں بوجہ عدم واقفیت ہمبستری بھی ہوگئی، ایسی صورت میں نسبت جواز نکاح کے کیا حکم ہوگا اور مہر کی نسبت کیا حکم فرمایا جائے گا؟ بینواتوجروا۔

الجواب

جبکہ امر مذکور معلوم وثابت ہولیا تو ظاہر ہُوا کہ وُہ عورت اس شخص کی بھتیجی ہے اور نکاح ناجائز وفاسد ،
فی ردالمحتار یحرم من الرضاع اصولہ وفرعہ وفروع ابویہ وفروعہ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ رضاعت سے اس کے اصوال وفروع اور اس کے والدین کے فروع اور فروع کے فروع ہوجاتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     فصل فی المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۲۷۹)
اس پر فرض ہے کہ فوراً اسے ترک کردے اور اُس جُدا ہوجائے زبان سے کہہ دے کہ میں نے تُجھے چھوڑا یا تیرے نکاح کو ترک کیا،
فی ردالمحتار فی البزازیۃ، المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابا لقول کخلیت سبیلک اوترکتک ۲؎الخ۔
ردالمحتار میں ہے بزازیہ میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد متارکہ کہ صرف قول (مثلاً میں نے تیرا راستہ آزاد کیا یا تجھے چھوڑ دیا ہے) سے ہوتا ہے الخ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب المہر      مطلب فی النکاح الفاسد   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲ /۵۲-۳۵۱)
اور  از انجا کہ ہمبستری یعنی مجامعت واقع ہولی عورت کے لئے مہر مثل تمام وکمال لازم آیا اگر چہ مہر مسمی سے زائد ہو، نکاحِ فاسد میں ضروریہ حکم ہے کہ جب مہر کچھ معین کیا گیا تو لازم تو مہرمثل ہی آئے گا مگر قرار یافتہ سے زیادہ نہ دلایا جائے گا، مثلاً ہزار روپیہ مہر ٹھہرا تھا تو اگر مہر مثل ہزار یا ہزار سے زائد ہے تو ہزار ہی دلائے جائیں گے اور مہر مثل ہزار سے کم ہے تو صرف اُسی قدر دلائیں گے ہزار تک نہ بڑھائیں گے، لیکن بعض صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں ازاں جملہ نکاح محارم کہ نا دانستہ وقوع میں آیا وہاں بعد وطی مہر مثل پورا لازم آتا ہے اگر چہ مسمی سے زائد ہو مسمی کا کچھ لحاظ نہ کیا جائے گا اور یہاں یہی صورت واقع ہے کہ وہ اس کی بھتیجی اور محرم رضاعی ہے۔
فی تنویرالابصار ، یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی۱۔ واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
تنویرالابصار میں ہے :نکاح فاسد میں مہر مثل صرف جماع سے لازم آتا ہے کسی غیر جماع سے نہیں، وُہ مہر مثل بھی مقرر سے زیادہ نہ ہو۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۱)
مسئلہ ۲۲: ۵شعبان ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح ایّام نابالغی میں زید کے ساتھ ہُوا اور نکاح کے روز سے ایک لمحہ کو بھی ہندہ زید کے گھر نہیں گئی اور نہ ہم صحبت ہوئی اس صورت میں ہندہ مہر چاہے تو پاسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا  

الجواب

سائل مظہر کہ زن وشو نے انتقال کیا اور اُن میں ایک کامرجانا  بھی مہر کو مؤکد کرتا ہے، پس صورتِ مذکورہ میں کُل مہر ہندہ ترکہ زید پر لازم ہے جبکہ وُہ نکاح لازم واقع ہُوا جیسا کہ اَب وجد نے کیا یا نافذ غیرلازم تھا اور پیش از  رد، احد الزوجین کا انتقال ہوگیا۔
فی الدرالمحتار، یتأکد عند وطء او خلوۃ صحت او موت احدھما ۲؎الخ۔
درمختار میں ہے: وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت سے مہر لازم ہوجاتا ہے الخ(ت)
 (۲؎درمختار    باب المہر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۹۷)
اور اگر نکاح منعقد ہی نہ ہُوا تھا جیسے غیر اَب وجد نے نابالغی ہندہ میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں کمی فاحش کے ساتھ نکاح کردیا کہ شرعاً ایسا نکاح باطل ہے' یا موقوفاً منعقد ہُوا اور ہنوز نافذ نہ ہونے پایا تھا کہ اُن میں ایک نے انتقال کیا جیسے بحالتِ ولایت ِ پدر اُس کے غیر نے بے اسکی اجازت نکاح کردیا اور ہنوز باپ نے جائز نہ کیا تھا کہ احد الزوجین نے وفات پائی تو اس صورت مین اصلاً کُچھ مہر وغیرہ نہ ملے گا۔
فی ردالمحتار ،المھر کمام یلزم جمیعہ بالدخول والخلوۃ کذٰلک بموت احدھما قبل الدخول اما بدون ذٰلک فتیسقط لان العقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن نھراھ ۱؎ مختصرا واﷲتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ جس طرح دخول اور خلوتِ صحیحہ سے  پورا مہر لازم ہوجاتا ہے ایسے ہی دونوں میں سے کسی کی موت قبل از دخول سے بھی لازم ہوجاتا ہے، اگر مذکورہ صورتیں نہ واقع ہُوئی تو مہر ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ جب نکاح فسخ ہوتو وُہ کالعدم ہوجاتا ہے، نہر اھ مختصرا۔ واﷲتعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الولی   داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۰۷)
مسئلہ ۲۳: ۱۵ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک عورت سے نکاح کیا، اُس عورت کومرد کے قابل نہ پایا، اُس کے جسم میں ہڈی ہے، ایک زمانے کے بعد زید نے اُسے طلاق دے دی، اب اس کا مہر دینا واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب

اس صورت میں آدھا مہر دینا  آئے گا۔ درمختار میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبل وطء  اوخلوۃ۲؎۔
طلاق قبل از خلوت سے نصف مہر لازم ہوتا ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار     باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۹۷)
اسی میں ہے :
الخلوۃ بلامائع کرتق التلاحم (وقرن) عظم (وعفل) غدۃ (کالوطء تأکد المھر ۳؎ اھ ملتقطا۔ واﷲتعالٰی اعلم
خلوت ایسی کہ جہاں کوئی مانع نہ ہو۔ مثلاً شرمگاہ میں گوشت پُرہوجائے، ہڈّی ہوجائے، غدود ہوجائے ان موانع کے بغیر خلوت ہو تو  وہ وطی کے حکم میں ہے مہر لازم ہوجاتا ہے اھ ملتقطا(ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۳؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۱۹۹)
Flag Counter