| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۳۲۶: ازخیر آباد میانسرائے مدرسہ عربیہ ضلع سیتاپور اودھ مرسلہ سیّد فخر الحسن صاحب رضوی ۲۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ مسمّی زاہد علی ولد عابد علی کا عقد نکاح مسماۃ کریما بنت عبدا ﷲکے ساتھ باقرار امر بالید منعقد ہوا، حسب ذیل نکاح نامہ تحریر ہوا:
نقل نکاح نامہ الحمدﷲ الذی فاصلابین الحلال والحرام وواصلا بسلک النظام'وحرم السفاح عصمۃ للعالم وحفظالنسل بنی اٰدم والصلٰوۃ والسلام علٰی خیر خلقہ محمد سید الانام وعلٰی اٰلہ البررۃ الکرام واصحابہ العظام۔
تمام تعریفیں اﷲتعالٰی کے لئے جو حرام وحلال میں فرق فرمانے والا ہے اور نظام کی ڈوری جوڑنے والا ہے اور جس نے نظامِ عالم کی حفاظت کے لئے اور نسل بنی آدم کو محفوظ رکھنے کے لئے زنا کو حرام فرمایا ہے، صلٰوۃ وسلام اﷲتعالٰی کی بہترین مخلوق جہان کے آقا محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پر ، اس آل جو پاک اور بزرگ ہے،اور صحابہ پر جوعظیم مرتبہ والے ہیں۔(ت)
امّا بعد میں سید زاہد علی ولد سیّد عابد علی ساکن بلدہ خیر آباد نے برضاورغبت خود مسمّاۃ کریما دختر سیّد عبداﷲ کو بعض مہر معجل چار مثقال نقرہ جس کے ایک سو چھپن بروئے وزن روپیہ چہرہ دار رائج الوقت ہوتے ہیں اپنے عقد نکاح میں لایا، اور مسمّاۃ کریما موصوفہ کو برضا مندی خود بلااکراہ و اجباراحدے مضمون امرھا بیدھا (پر مختار کردیا یعنی مسمّاۃ کریما ممدوحہ جب چاہیں اپنی ذات کو میرے عقد نکاح سے خارج کرکے آزاد کرلیں مجھ کو کبھی کسی طرح اپنے نکاح میں رہنے کا دعوٰی نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ مضمون امرھا بیدھااس وقت قطعاً ویقینا وُہ میرے عقد سے خارج ہوجائیں گی لہذا یہ تحریر لکھ دی کہ وقتِ ضرورت کام آئے فقط، چونکہ قبل انعقاد نکاح کے مسمّی زاہد علی کی بداطواری وخراب چلنی کی شکایت خارجاً مسموع ہوئی تھی جس کی بالاتفاق اکثر اہل برادری نے تکذیب کرکے نکاح کردینے پر سیّد عبد اﷲکو مجبور کیا اور بالآخر سیّد عبداﷲ نے بطریق مندرجہ بالانکاح کردیا تھا اور بالآخر ہموں آش درکاسہ سامنے آیا بمقتضائے ؎
خوئے بددر طبیعتے کہ نشست نرود جز بوقت مرگ از دست (بُری عادت جو طبیعت میں رچ بس جائے وہ وقت موت تک زائل نہیں ہوتی۔ت)
مسمّی زاہد علی نے بعد چند روز کے وہی بدچلنی اختیار کی اور انجام کار کچہری سے سزایاب ہوگیا۔ مسمّاۃ کریمااگرچہ بوجہ شرم وغیرت خلقی کے کوفت وسوخت درونی کا کسی پر اظہار نہیں کرتی مگر تحلیل ہوتی جاتی ہے، چونکہ کریما ہنوز نوعمر و جوان ہے سیّد عبداﷲ ونیز دیگر اعزّاکا خیال ہے کہ بشرطِ رضا مندی مسمّاۃ کریما اس سے طلاقِ مسنونہ دلاکر دوسری جگہ مناسب پر اس کا نکاح کردیاجائے، پس اس ضرورت سے ہدایت خواہ ہوں کہ ایسے الفاظ اُردو کا کوئی فقرہ یا چند فقرات بتائے جائیں جس کو مسماۃ کریما اپنی زبان سے رُوبرو چند لوگوں کے ادا کرکے طلاق مسنونہ حاصل کرکے جس میں کوئی قباحت وسُقمِ شرعی باقی نہ رہے، اس طلاق مسنونہ حاصل کرنے کے متعلق جو طریقہ عمدہ ہو اور جوجوالفاظِ اُردُو مناسب ہوں اس سے مفصلاً وتصریحاً ہدایت فرمائی جائے۔
الجواب اس تحریرمیں امرھا بیدھا مختار کردیا نکاح سے خارج ہونا آزاد ہونا جتنے الفاظ ہیں سب کنایہ ہیں اور حالت حالتِ رضا ہے نہ غضب ہے نہ مذاکرہ طلاق، اور حالتِ رضا میں جملہ الفاظ نیتِ زوج پر موقوف رہتے ہیں، کریماً اپنے آپ کو ایک طلاق دے کہ میں نے بحکم اس اختیار عام کے جو میرے شوہر نے مجھے دیا اپنے آپ کو شوہر کی طرف سے ایک طلاق دی اس پر زاہد علی سے دریافت کیا جائے کہ تُونے جو وُہ الفاظ لکھے اُن میں طلاق کا اختیار دینے کی تیری نیت تھی یا نہیں، اگر وُہ اقرار کرے فبھا، اور اگر انکار کرے تو اس پر حلف رکھا جائے، اگر حلف کرلے کہ میری نیت یہ نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی۔ اگر جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے، اور اگر حلف سے انکار کردے گا تو طلاق ہوجائے گی، اور دونوں صورتوں میں بائن ہوگی۔ عورت نکاح سے نکل جائے گی اگر اب تک خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی ورنہ بعد عدّت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۷: از رامپور کوٹھی چڑیا خانہ مرسلہ حسین احمد صاحب دفعدار ۲۲صفر ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ ہندہ بنتِ زید کا عقد بکر کے ساتھ اس شرائط سے ہُوا چنانچہ ایک اقرار نامہ بکر نے اسی وقت بعد عقد مذکور کے لکھ دیا کہ۲تولہ کی بالی طلائی اور ۴ماشہ کی نتھنی اندر میعاد چھ ماہ کے بنوادُوں گا ورنہ طلاق ہے، ہندہ میعاد مذکور پر اپنے باپ زید کے گھر چلی آئی، اقرار نامہ پر عمر خالد وغیرہ رشتہ دارانِ بکر کی گواہی اور بکر کے (العبد) انگوٹھے کے نشان موجود ہیں، پس اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟ الجواب اقرارنامہ کی نقل بھی ملاحظہ ہوئی اس میں بھی یہی لفظ ہے کہ ''ورنہ طلاق ہے'' یہ بیان نہیں کہ کس کو طلاق ہے، لہذا صُورتِ مستفسرہ میں باعتبارِ ظاہر جبکہ اس نے چھ۶مہینے کے اندر یہ چیزیں بنواکر نہ دیں ایک طلاق رجعی سمجھی جائے گی کہ عدّت کے اندر شوہر کو رجعت کا اختیار ہوگا لیکن اگر زید قسم کھاکرکہہ دے کہ اس نے ''طلاق ہے''سے ہندہ کو طلاق دینا مراد نہ لیا تھا اس کی بات مان لی جائے اور اصلاً حکمِ طلاق نہ ہوگا، اگر جُھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا،
قال لھا لاتخرجی من الدار الّا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرہا فالقول لہ۱؎(ردالمحتار عن البزازیۃ) واﷲتعالٰی اعلم۔
خاوند نے اگر بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے، تو اگر بیوی باہر نکل جائے تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کا ذکر نہیں کیاجبکہ دوسری کسی عورت کی طلاق کی قسم ہوسکتی ہے، لہذا یہاں خاوند کی بات معتبر ہوگی، جیسا کہ ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۹)
مسئلہ۳۲۸: ۳۰جمادی الاولٰی ۱۳۱۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی ساس ہندہ کے یہاں رہتا تھا ہندہ نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا اس نے انکار کیا اس نے اس کا اسباب پھینک دینا چاہا اُس نے کہا اگر میرا اسباب پھینکوگی تو میں تمہاری لڑکی کو طلاق دے دوں گا، اس پر دو۲مرد اور ایک عورت تویہ گواہی دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے طلاق دے دی، اور دو۲ مرد کہتے ہیں اس نے صرف یہ کہا کہ مال پھینکا تو طلاق دے دُونگا نہ اس نے پھینکا نہ اس نے طلاق دی، زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس صورت میں طلاق ثابت ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب ان دو۲ مردوں اور ایک عورت جو مدعی طلاق تھے ایک مرد کی نسبت معلوم ہوا کہ بے قید آدمی ہے یہاں تک کہ نماز کا بھی پابند نہیں، اور ایک مرد پہلے کہتا تھا اب وُہ منکر ہے کہ میرے سامنے طلاق نہ دی میں سُنی سُنائی کہتا تھا اور اس عورت کی عدالت معلوم نہیں، اور ہو بھی تو ایک عورت کی گواہی سے ثبوت نہیں ہوتا اور زید نے ہمارے سامنے حلف شرعی کے ساتھ کہا کہ میں نے ہرگزطلاق نہ دی میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مال پھینکوگی تو طلاق دے دوں گا، پس اس صورت میں طلاق ثابت نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
نوٹ: اس جلد کا آخری عنوان''باب تفویض الطلاق'' ہے، تیرھویں جلد کا آغاز ''باب تعلیق الطلاق'' سے ہوگا،