Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
154 - 155
مسئلہ۳۲۵: ازملک بنگالہ ضلع سلہٹ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ۲۱شعبان۱۳۲۰ھ 

چہ مے فرمایند علمائے دین شرع متین اندریں مسئلہ کہ عبدالکریم میاں مسماۃ ٹکخبنگ بی بی رادرعقد نکاح خود آورد واز بطن مذکورہ دخترے تولد شد بعد ازاں عبدالکریم از کسے وجہ ناراضی بانو موصوفہ را طلاق بائن داد، بی بی مذکوراز مکان عبدالکریم بمکان دیگر رفت بعد ازاں عبدالکریم مسماۃ مائتون بی بی را نکاح کردونامہ بطور کابین بریں مضمون نوشتہ داد کہ بغیر توہیچ زن راخواہ ٹکخبنگ بی بی باشد یازن دیگر درنکاح من نیارم اگر آرم وآں زن دیگر در باب چوکھٹ پائے داروپس ترااختیار طلاق ثلثہ است بہر وقتے کہ باید خودرا از نکاح من خارج کردہ باشوہر دیگر نکاح توانی کرد، اگر درآں وقت دعوے زوجیت بکنم خلافِ شریعت وقانون انگریزی خواہد شد نوشتہ بدست مائتون بی بی داد چند کس رااز مجلس مسلمین گواہ کرد، پس از چند روز عبدالکریم قولِ خود راخلاف نمودہ بانو اول ٹکخبنگ بی بی را بمکان خودآوردبعد ازاں میان ہر دوزن جنگ وجدال شد ٹکخبنگ از شجاعت ودلیری خود مائتون بی بی را از مکان عبدالکریم بیروں کرد پس مائتون بی بی جبراً روزے بمکان والد عبدالکریم ماندہ بروز دیگر سخنہائے کہ ضرہ خود دیروز شدہ بود بیان کردہ گفت کہ من بمطابق اقرا ر نامہ سہ طلاق خود را اختیار می روم وبمکان والدین رفت بعد ازاں عبدالکریم قول خودر ا خلاف اقرار نامہ کردہ دعوی زوجیت کرد پس مائتون بی بی بعد چہار ماہ بخوف جنگ وجدال شوہرے خودرا ہفتاد روپیہ دادہ خلع کرد عبدالکریم مائتون بی بی را سہ طلاق داد پس مائتون بی بی بعد یک روز بامرد دیگر نکاح خود کردپس ایں نکاح جائز شد یا نہ، بابراہین شرعیہ ودلائل قویہ باید نوشت، مخفی نماند کہ از سہ سال دربارہ ایں مسئلہ اختلاف ست، بینواتوجروا۔
علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عبدالکریم نے مسماۃ ٹکخبنگ بی بی سےنکاح کیا اور اس کے بطن سے ایک لڑکی پیداہوئی، اس کے بعد عبدالکریم نے بانوموصوفہ کو بائن طلاق دے دی اور وہ عبدالکریم کے مکان سے دوسرے مکان میں چلی گئی،پھر عبدالکریم نے مسماۃ مائتون بی بی سے نکاح کیا اور نکاح نامہ میں یہ تحریر کر کے مائتون بی بی کو دے دیا کہ ''وہ تیرے بغیر ٹکخبنگ بی بی یا کسی دوسرے عورت سے نکاح کروں تو وہ جب دروازے کی چوکھٹ پر قدم رکھے تو تجھے تین طلاقوں کا اختیار دیتا ہوں کہ تو جس وقت چاہے میرے نکاح سے خارج ہوجائے اور دوسرے جس شخص سے چاہے نکاح کرسکتی ہے، اگر اس وقت میں تجھ پر زوجیت کا دعوٰی کروں تو یہ دعوٰی شریعت اور انگریزی قانون کے خلاف متصور ہوگا'' اس تحریرپرچند حاضر مسلمانوں کو گواہ بنایا، اسکے بعد چند روز میں ہی عبدالکریم نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلی بیوی ٹکخبنگ بی بی کو اپنے مکان پر لے آیا جس کے بعد دونوں بیویوں میں جھگڑا شروع ہوگیا اور ٹکخبنگ بی بی نے اپنی جرأت اور دلیری سے مائتون بی بی کو عبدالکریم کے مکان سے نکال دیا تو مائتون بی بی ایک روز زبردستی عبدالکریم کے والد کے گھر ٹھہری اور وہاں عبدالکریم کے والد کو اپنی سوکن کے ساتھ ہونے والی گزشتہ روز کی کہانی سنائی اور کہا کہ میں نے نکاح نامہ تحریر شدہ عبدالکریم کے اقرار کے مطابق اپنے آپ کو طلاق دیتی ہوں اور اپنے اختیار کو استعمال کرتی ہوں، وُہ یہ کہہ کر اپنے والدین کےگھر چلی گئی، اس کے بعد عبدالکریم نے اپنے اقرار نامہ کے برخلاف مائتون بی بی پر اپنی زوجیت کا دعوٰی کردیا، تو مائتون بی بی نے جنگ وجدال سے بچتے ہوئے عبدالکریم کو اس کے دعوٰی کے عوض ستّر روپے خلع کے طور پر چار ماہ بعد اداکردئے، تو عبدالکریم نے اس وقت مائتون بی بی کو تین طلاقیں دیں، تو اس کے ایک روز بعد مائتون بی بی نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، تو کیا اس کایہ نکاح جائز ہے یانہیں؟براہین شرعیہ اور دلائل قویہ سے جواب لکھا جائے۔ یادرہے کہ اس مسئلہ میں تین سال سے اختلاف چلا آرہا ہے،بینواتوجروا۔
الجواب

اگر عبدالکریم آں نامہ پیش از نکاح نوشت وآنجا الفاظ ہمیں قدر بود کہ سائل ذکر نمود بزنے گرفتن مائتون شرطا بالتصریح مذکور نبود مثلاً اگر ترانکاح کنم وباز برتو زنے دیگر بزنے گیرم واوبخانہ ام آید پس ترا اختیار سہ طلاق ست الخ پس دریں صورت آں نامہ لغووباطل ست وبزنے گرفتن منکوحہ اولٰی خواہ غیراومائتون راہیچ اختیار طلاق دادن خودش رواندارد اوہمچناں زن عبدالکریم است تاآنکہ خلع کرد وعبدالکریم سہ طلاق داد ازیں وقت مطلقہ شد وعدّت بروواجب آمد پیش ازمرورعدت نکاحی کہ بامرددیگر کردناجائز وباطل وزنا وحرام بوداز باز ماندن فرض ست قال اﷲتعالٰی والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۱؎وردالمحتار ست لو قال لھا تزوجتک علی ان امرک بیدک فقبلت جاز النکاح ولغا الشرط لان الامر انما یصح فی الملک او مضافا الیہ ولم یوجد واحد منھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیروتھا منکوحۃ۱؎اھ نھر،

اگر عبدالکریم نے وُہ تحریر نکاح سے پہلے لکھی ہو اور اس میں وہی الفاظ ہوں جو سائل نے تحریر کئے ہیں جس میں مائتوں بی بی سے نکاح کو بطور شرط صراحۃً ذکر نہیں کیا گیا، مثلاً یہ صورت ہو کہ اگر تجھ سے نکاح کروں اور پھر تجھ پردوسری عورت کو بیوی بناؤں اور وہ میرے گھر آئے توتجھے تین طلاقوں کا اختیار ہے الخ___تو ایسی صورت میں یہ تحریر لغو اور باطل ہے،اور پہلی بیوی یا کسی دوسری کو نکاح کرکے گھر لائے تو مائتون بی بی کو اختیار نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاق دے وُہ بدستور عبدالکریم کی بیوی ہوگی اور خلع کے بعد اس کو عبدالکریم کے تین طلاق دینے پر وہ مطلقہ قرار پائی اور اس وقت سے اس کی عدت شمار ہوئی، اور عدت پوری ہونے سے قبل دوسرے شخص سے اس کا نکاح حرام، ناجائز اور باطل بلکہ زنا ہے اس لئے مائتون کو اس دوسرے شخص سے علیحدہ ہوکر باز رہنا ضروری اور فرض ہے،اﷲتعالٰی کا ارشاد ہے: اور مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تک اپنے آپ کوپابند رکھیں۔ ردالمحتار میں ہے: اگر ایک شخص نے کسی عورت سے کہا کہ میں تجھ سے اس شرط پرنکاح کرتا ہوں کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو عورت نے اس شرط پر نکاح کو قبول کرلیا تو نکاح صحیح ہوگا اور شرط مذکور لغوہوجائیگی، کیونکہ طلاق کا اختیار نکاح میں یا نکاح کی طرف نسبت کرنے میں صحیح ہوسکتا ہے جبکہ یہ دونوں امر یہاں نہیں ہیں، اس کے برخلاف جوگزرا کیونکہ وہاں طلاق کا اختیار نکاح سے مقارن ہوجاتا ہے عورت کے منکوحہ ہوجانے کی وجہ سے اھ نہر۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۸) (۱؎ ردالمحتار     باب الرجعۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۴۰)
واگر تحریر نامہ پس از نکاح مائتون ست تفویض طلاق نجانہ (عہ) آنچناں کہ دراں نامہ گفتہ است صحیح شدوبوجہ قول عبدالکریم بہر وقتیکہ باید الخ متقید بمجلس نماندفی الدرالمختار من فصل المشیئۃ تقید بالمجلس لانہ تملیک الااذا زاد متی شئت ونحوہ مما یفید عموم الوقت فتطلق مطلقا۲؎پس بریں تقدیر زاں باز کہ طلاق خویش اختیار کرداز نکاح بیروں شد اگر چہ ایں معنی روز دوم رونمود وذٰلک لان قولہ بہروقتیکہ باید الخ توضیح للتفویض المذکور فی قولہ پس ترااختیار ثلاثہ است کما ھو الظاھر لمتبادر المفھوم المتعارف من امثال التحاور، وان فرض کونہ کلاما بحیالہ فھو تفویض بنفسہ ولیس فیہ التنصیص علی تفویض طلاق واحد حتی ینافیہ اختیار الثلاث عند الامام انما ھو کلام مطلق لیشتمل کل بینونۃ بواحد اتت اوباکثر فصح علی ھذا ایضا وان لم تبن الابواحدۃ، وعلی الاول بثلث، قال فی ردالمحتار لایقع شیئ فیما اذاامرھا بالواحدۃ فطلقت ثلثا بکلمۃ واحدۃ عند الامام امالوقالت واحدۃ وواحدۃ وواحدۃ وقعت واحدۃ اتفاقا لانہ لم یتعرض للعدد لفظا واللفظ صالح للعموم والخصوص وتمامہ فی البحر۱؎،
اور اگر عبدالکریم نے وُہ تحریر نامہ مائتون بی بی سے نکاح کرنے کے بعد لکھا ہے تو پھر تین طلاقوں کی تفویض جس طرح اختیار نامہ میں موجود ہے صحیح ہے اور عبدالکریم کے تحریر نامہ''جس وقت چاہے'' لکھنے کی وجہ سے یہ تفویض اس مجلس سے مقید نہ رہی۔ درمختار کی فصل فی المشئیۃ میں ہے کہ یہ مشیّت یعنی اختیار  طلاق مجلس موجود میں رہتا ہے اور اسی سے مقیّد ہوتا ہے اسکے بعد نہیں رہتا کیونکہ یہ تملیک ہے، لیکن اگر''جب چاہے''کا لفظ زائد کیا ہو یا اس کی مثل اور کوئی عموم وقت کےلئے لفظ زائد کیا ہوتو پھر مجلس کی قید کے بغیر مطلقاً طلاق ہوگی، پس اس صورت میں مائتون بی بی کا اپنے آپ کو طلاق دینا درست ہوا اور وہ عبدالکریم کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے، اگرچہ عبدالکریم اس کارروائی کے دوسرے روز اس کے خلاف اقدام کرکے رَد بھی کردے، تاہم نکاح ختم ہوگیا ہے، یہ اس لئے کہ اس نے ''جس وقت چاہے'' کالفظ ذکر کیا اور یہ تین طلاقوں کی تفویض کی وضاحت ہے، جیسا کہ عرف میں اس محاورہ کے استعال سے متبادر طور پر مفہوماً سمجھا جاتا ہے، اور اگر بعینہ اس کو کلام فرض کیا جائے تو یہ بنفسہٖ تفویض ہوگی اور تفویض میں چونکہ ایک طلاق کا ذکر نہیں ہے اس لئے یہاں تین طلاقوں کو اختیار کرنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاں منافی نہ ہوگا، (ہاں اگر بیوی تین طلاقوں کو بیک لفظ کی بجائے''ایک اور ایک اورایک''تین مرتبہ کہتی ہے تو پھر بالاتفاق ایک ہوتی)لیکن یہاں تو مطلق کلام ہے جس میں ایک یا زیادہ بائنہ طلاقیں ہوں سب کو شامل ہے، تو اس بناء پر بھی تین طلاقیں اپنانا درست ہے اگرچہ علیحدہ علیحدہ کہنے میں ایک ہی سے بائنہ اور بیک لفظ میں تین طلاقوں سے ہی بائنہ ہوجاتی ہے، ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو ایک طلاق کا اختیار دیا اور بیوی نے تین کو بیک لفظ اپنایا تو امام صاحب کے نزدیک کوئی طلاق نہ ہوگی اور ایک ایک کرکے تین طلاقوں کو اپنے لئے اختیار کیا تو پہلی ایک بالاتفاق واقع ہوگی کیونکہ لفظوں میں خاوند نے عدد کو ذکر نہیں کیا اس میں عموم اور خصوص دونوں کا احتمال ہے اس کی پوری بحث بحرمیں ہے ___

عہ: یہاں کرمِ خوردہ ہے۱۲
 (۲؎ درمختار     باب الامر بالید    مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۲۹)

 (۱؎ ردالمحتار         باب فی المشیۃ     داراحیاء التراث العر بی بیروت     ۲ /۴۸۸)
اگرایں سخن ہمچناں راست باشد کہ سائل وانمود یعنی درکلام عبدالکریم لفظ(ہروقتیکہ باید) نیز زائد بود پس دریں حالت اگر پس آں طلاق مائتون راسہ حیض کامل آمدہ ختم شدہ بود بعد آں نکاح باشخصے دیگر کرد جائز باشد ورنہ حرام، ووقوع ایں معنی بعد چارماہ از طلاق اولیں دلیل قطعی انقضائے عدّت نیست زن بحال خود عالمہ است می تواند کہ گاہے درسہ سال نیز سہ حیض تمام نشود ایں ست حکم صورت مسؤلہ،
تو اگر بات ایسے ہی ہے جیسے سائل نے ظاہر کی ہے یعنی عبدالکریم نے اختیارسونپتے ہوئے ''جب چاہے'' بھی زائد کیا ہے، پس اندریں صورت مائتون بی بی کے طلاق کو اپنانے کے بعد تین حیض کامل گزرچکے ہوں اور اس کے بعد اس نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے ورنہ عدت مکمل ہوئے بغیر نکاح کیا تو یہ حرام ہے اور محض چار ماہ طلاق کے بعد گزرنا یہ عدت کے پورا ہونے کی قطعی دلیل نہیں ہے، اس کے متعلق عورت کو علم ہوتا ہے کیونکہ کبھی تین سال میں بھی تین حیض مکمل نہیں ہوتے، یہ صورت مسئولہ کا حکم ہے۔
امافقیر می ترسم کہ ایں مسئلہ ہماں ست کہ در ۱۳۱۷ھ سہ باراز ہمیں سلہٹ نزد فقیر آمدہ بود وسائل ایں بار نیز گفت کہ ایں فساد از سہ سال آنجابرپاست، بار اوّل۶/رجب ۱۳۱۷ھ بیانے کہ آمدظاہرش آنست کہ ایں اقرار زید یعنی عبدالکریم پیش از نکاح ہندہ اعنی مائتون بود وآنجا نیز تصریح اضافت بملک یا سبب ملک نیست وقطع نظر ازاں ۶/رجب و۱۹شوال و۲۲ذی قعدہ ۱۳۱۷ھ درسوالات ہر سہ بار ہیچ ذکرایں زیادت تازہ کہ ہر وقتیکہ باید نبود بلکہ در سوال اول لفظ ہندہ ہمیں قدر نوشتہ بود کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں، ایں گفت واز خانہ بروں رفت جواب دادم کہ ایں الفاظِ طلاق نبود بالفرض اگر طلاق باشد پیش آنہاباز ضرہ خود جنگ وجدل سخنے فضول واجنبی بود مجلس متبد ل شد واختیار طلاق ازدست رفت طلاق ازاں روز شد کہ خلع کرد ازیں روز امر درعدت واجب ست ورنہ نکاح حرام، بریں واجب جواب در سوال شوال نیز ہمیں از تقیید بمجلس سوال کرد جواب رفت، در سوال ذیقعدہ فزود کہ ہندہ دعوٰی میکند کہ بمجرد آمدن ضرہ بخانہ ہماں وقت نفس خودم را اختیار کردہ بودم وشوہر منکر اصل ایں معنی ست میگوید کہ ہندہ ہیچ نگفت وبدر رفت دریں صورت قول کراست جواب نوشتم زید راست، بعد سہ سال چہارم بار ایں سوال آمد ودر ولفظے زائد است کہ تقییدِ مجلس از بیخ برانداخت بایں معنی باخبر باید بود اگرایں سوال متعلق بہمہ واقعہ است پس تبدیل کنندگاں از خدا ترسند اگر بہ تعبیر واقعہ حکمے از مفتی بدست آرند عالم الغیب والشہادۃ راچہ جواب دہند "فمن بدلہ بعد ماسمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ" ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مجھ فقیر کو خطرہ ہے کہ یہ وہی مسئلہ ہو جو میرے پاس ۱۳۱۷ھ میں تین بار سلہٹ سے آیا تھا، اور سائل نے بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ فسادتین سال سے چلاآرہا ہے۔ پہلی بار ۶/رجب۱۳۱۷ھ کویہ سوال آیا تو اس میں یہ بیان تھا کہ زید یعنی عبدالکریم کا یہ اقرار نامہ نکاح سے پہلے لکھا گیا ہے اور اس میں مائتون سے نکاح کی ملکیت یا سبب کا ذکر بھی نہ تھا، اس سے قطع نظر ۶/رجب ۱۹ شوال اور ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۱۷ تین مرتبہ سولات کئے گئے جن میں اس تازہ زائد لفظ ''جب چاہے'' کا اضافہ نہ تھا بلکہ پہلی مرتبہ سوال میں، ہندہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ ''اب میں اقرار نامہ کے مطابق نہیں رہ سکتی ہوں، یہ کہا اور زید کے گھر سے چلی گئی، تو میں نے اس کا جواب دیا کہ یہ الفاظ طلاق نہیں بن سکتے اور اگر بالفرض ہندہ کے یہ الفاظ طلاق ہوں بھی تو اس کا پہلے اپنی سوکن کے ساتھ جھگڑا کرنا، لاتعلق اور اجنبی بات ہو نے کی وجہ سے اختیار والی مجلس تبدیل ہوگئی جس سے ہندہ کے ہاتھ طلاق کا اختیار جاتا رہا،لہذا ہندہ یعنی مائتون بی بی کو اس روز طلاق ہوئی جس روز اس نے خاوند سے خلع کیا، اور اسی دن سے عدّت واجب ہوئی اور اس کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا نکاح حرام ہے، اس جواب کے بعدشوال والے سوال میں بھی خاوند کی طرف سے دئے گئے اختیار والی مجلس کی قید سے سوال کیا گیا اس کو جواب دیا گیا، اور ذیقعدہ والے سوال میں یہ بات زائد تھی کہ ہندہ دعوٰی کرتی ہے کہ خاوند نے صرف سوکن کی گھر آمد پر مجھے طلاق کا اختیار دیا تھا جس کو میں نے اس موقع پر استعمال کر لیا تھا ، اور خاوند اس بات سے انکار کرتا ہے اور وُہ کہتا ہے کہ ہندہ نے اس موقع پرکچھ نہیں کہا اور گھر سے چلی گئی، اس صورت کے بارے میں سوال کیا گیا خاوند یا بیوی کس کی بات معتبرہے؟ میں نے جواب میں لکھا زید یعنی خاوند کی بات معتبر ہے۔ مذکور تین بار سوال کے بعد چوتھی مرتبہ تین سال کے بعد اب یہ سوال آیا ہے اور اس میں ایک مزید اضافہ کیا گیا(''اور جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے دے'') لکھا گیا ہے اور مجلس کی قید والی صورت کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا لہذا اس معاملہ کی تحقیق ہو نی چاہئے اگر یہ آخری سوال بھی ان پہلے تین سوالوں کا واقعہ ہے تو پھر سوال میں تبدیلی کرنے والوں کو خدا سے ڈرنا چاہئے، اگرچہ سوال کی تبدیلی کے ذریعہ مفتی سے مطلب کا حکم حاصل کرلیں گے لیکن عالم الغیب والشہادت اﷲتعالٰی کے ہاں کیا جواب دیں گے۔ جس نے اس کو سننے کے بعد تبدیل کیا تو گناہ بدلنے والوں پر ہے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter