Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
153 - 155
مسئلہ۳۲۴: ازبنگالہ ۲۰ربیع الآخر شریف۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اس شرط پر زینب سے نکاح کیا کہ اگر تم کو چھ۶ مہینے تک بے خوراک وبے خبری چھوڑوں گا تو اختیار ایقاع تین طلاق کی ملک تیرے ہاتھ دے دیا، اب زید نے بعد ایک سال کے اپنی منکوحہ کو خوش وراضی کرکے فی ماہ خوراک مقرر کرکے واسطے کسی کام کے سفر میں گیا اور تین گواہ بھی موجود ہیں، اب بعد چند روز کے منکوحہ زید دعوٰی کرتی ہے کہ میری طلاق واقع ہوگئی، آیا یہ دعوٰی زینب صحیح ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب

اگر الفاظ  شرط کہ زید نے کہے یہی ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے تو اس میں چار۴صورتیں ہیں :

اوّل یہ لفظ زید نے پیش از نکاح کہے اگرچہ اسی وقت معاً نکاح کرلیا۔

دوم خاص ایجاب وقبول میں شرط کی اور ابتدائے ایجاب اس شرط کے ساتھ جانبِ زید سے تھی یعنی زید نے کہا میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط پر کہ اگر تجھ کو چھ۶مہینے تک الخ، زینب نے کہا میں نے قبول کیا۔

سوم شرط خود عقد میں تھی اور ابتدائے ایجاب زینب کی طرف سے مثلاً زینب یا اس کے وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا اپنی مؤکلہ زینب بنت فلاں بن فلاں کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ اگر تو تیرے چھ۶مہینے تک الخ، زید نے کہا میں نے قبول کیا، یا زینب خواہ وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا مؤکلہ مذکورہ کو تیرے نکاح میں دیا،  زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر میں تجھ کو چھ۶مہینے تک الخ۔

چہارم یہ شرط بعد تحقق ایجاب وقبول کی، پہلی دو۲ صورتوں میں سرے سے یہ تفویض طلاق یعنی زینب کو بشرطِ مذکور طلاق کا اختیار دینا ہی صحیح نہ ہوا،اگر بالفرض زید چھ برس بے نفقہ وبے خبر گیری چھوڑے اور زینب سوبار اپنے نفس کو طلاق دے طلاق نہ پڑے گی،
لان التفویض تعتمد الملک اوالاضافۃ الیہ ولم یوجد۔
کیونکہ تفویض کا دار ومدار ملکیت یا اس کی طرف نسبت پر ہے جوکہ یہاں موجود نہیں ہے۔(ت)
فتاوٰی قاضی خاں وغیرہ میں ہے:
البدأۃ اذاکانت من الزوج کان التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صار کانہ قال قبلت علی ان یکون الامر بیدک، فیصیر مفوضا بعد النکاح۱؎اھ مختصراً۔
بیوی نے خاوند سے طلاق کا اختیار طلب کیا تو اب خاوند نے تفویض کی ابتداء کی تو یہ تفویض نکاح کے بعد متصور ہوگی کیونکہ اگر بیوی کے جواب میں صرف "قبلت"(میں نے قبول کیا) کہا، تو یہ تفویض نکاح کے بعد اس لئے ہوگی کہ سوال کا جواب میں اعادہ معتبر ہوتا ہے گویا کہ یُوں کہا میں نے قبول کیا کہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہواھ مختصراً(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     فصل فی النکاح علی الشرط    نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۵۲)
اور پچھلی دو۲ صورتوں میں تفویض صحیح ہوگئی، اب اگر زید نے بعد نکاح چھ۶مہینے تک بے نفقہ وخبرگیری نہ چھوڑا تو بھی زینب پر طلاق ہونے کے کوئی معنی نہیں لعدم تحقق الشرط(شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ت) اور اگر شرط مذکور پائی گئی تو جس وقت چھ۶مہینے گزرے زینب کو اپنی طلاق دے لینے کا اختیار تو ضرور حاصل ہوا مگر یہ اختیار اسی جلسہ تک رہے گا اگر مجلس بدلی یا کوئی فعل یا قول زینب سے ایسا صادر ہو جو اپنے آپ کو طلاق دینے سے اجنبی ہوتو وُہ اختیار فوراً جاتا رہا اب چاہے سوبار اپنے نفس کو طلاق دے نہ ہوگی، مثلاً جس وقت چھ۶ مہینے گزرے زینب ایک جگہ بیٹھی تھی وہاں سے کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی چلنے لگی یا کھانا مانگا یا کنگھی کی یا کسی سے کوئی اجنبی بات اس معاملے کے علاوہ کہی اس کے بعد اپنے آپ کو طلاق دی ہرگز نہ پڑے گی اور اگر اسی جلسہ میں بغیر کسی ایسے قول وفعل اپنے آپ کو طلاق دے سب سے پہلے یہی بات کی تو بیشک طلاق ہوگئی۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
التفویض المعلق بشرط اما ان یکون مطلقا عن الوقت واماان یکون مؤقتا فان کان مطلقا بان قال اذا قدم فلان فامرک بیدک فقدم فلان فامرھا بیدھا اذاعلمت فی مجلسھاالذی قدم فیہ۱؎الخ
وہ تفویض جو کسی شرط سے معلق ہوتو اس کی دو۲ صورتیں ہیں، وقت مقرر ہوگا یا مقرر نہ ہوگا۔ اگر شرط کے ساتھ وقت مقرر نہ ہوجیسے یُوں کہے''تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے جب فلاں شخص آجائے تو اس صورت میں بیوی کو فلاں کے آنے کی اطلاع والی مجلس میں اپنا اختیار حاصل ہوجائے گا الخ(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی فی الامر بالید         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۹۲)
اُسی میں ہے:
اذاقامت عن مجلسھا قبل ان تختار نفسھا وکذا اذا اشتغلت بعمل اٰخر یعلم انہ کان قاطعا لما قبلہ کما اذاادعت بطعام لتأکلہ او نامت او نشطت او اغتسلت او اختضبت او جامعھا زوجہا او خاطبت رجلا بالبیع والشراء فھذا کلہ یبطل خیارھا کذافی السراج الوھاج۔۲؎
اگر بیوی مجلس میں اپنے کو طلاق دینے سے قبل اُٹھ کھڑی ہوئی یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئی جس سے معلوم ہوجائے کہ یہ اختیار کے لئے قاطع ہے مثلاً بیوی اس مجلس میں اختیار استعمال کرنے سے قبل کھانے کےلئے کھانا طلب کرلے یا کنگھی کرنا شروع کردے یا غسل شروع کردے یا خضاب مہندی لگانا شروع کردے یا خاوند سے ہمبستری شروع کردے یاکسی دوسر ے شخص سے خرید وفروخت کی بات شروع کردے، تو یہ تمام افعال اس کے اختیار کو باطل کردیں گے۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی مذکور ہے(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب الثالث فی تفویض الطلاق    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۳۸۷)
درمختار میں ہے:
والفلک لھا کالبیت وسیرد ابتھا کسیرھا حتی لایتبدل المجلس بجری الفلک ویتبدل بسیر الدابۃ ۳؎الخ۔
کشتی، گھر کی طرح ہے، اور سواری کا چلنا عورت کے اپنے چلنے کی طرح ہے حتی کہ مجلسِ اختیار تبدیل نہ ہوگی جب کشتی چلتی رہی ہو مگر سواری کے چلنے پر مجلس تبدیل ہوجائے گی الخ(ت)
 (۳؎ درمختار         باب تفویض الطلاق         مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲۷)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں زینب پر طلاق ہونے کےلئے تین امور ضرور:

ایک یہ کہ وہ تفویض جانب زوج سے صحیح واقع ہوئی یعنی بعد نکاح یہ اختیار دیا ہو یا وقت نکاح اس طور پر کہ ابتدائے ایجاب عورت کی طرف سے ہو۔

دوسرے یہ کہ بعد نکاح چھ۶مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرے ہوں۔

تیسرے یہ کہ اُن کے گزرتے ہی اسی مجلس میں بے کسی اجنبی بات کے زینب نے اپنے آپ کو طلاق دے لی ہو۔

ان تین امور سے اگر ایک بھی کم ہے دعوٰی طلاق محض غلط وباطل ہے اب اگر زید ان تینوں باتوں کے وجود کا مقر ہوتو آپ ہی طلاق ثابت ہوجائے گی، اور اگر ان میں بعض کا منکر ہوتو امر اوّل ودوم میں زینب پر گواہ دینے ضرور ہیں، شہادتِ شرعیہ سے ثابت کرے کہ شوہر نے اسے تفویض طلاق بروجہ مقبول شرعی کی اور چھ مہینے بے نفقہ وخبر گیری گزرگئے اگر گواہانِ عادل سے اسے ثابت نہ کرسکے گی تو زید کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت نہ ہوگی، اور امر سوم میں اگر زید کو سرے سے بعد حصول شرط زوجہ کی جانب سے ایقاعِ طلاق صادر ہونے ہی کا انکار ہے جب بھی گواہ ذمّہ زینب ہیں اور اگر ایقاع بھی زیدکو تسلیم ہے تو گواہ دینا زید پر لازم ہے یعنی صحتِ تفویض وانقضائے ششماہی وایقاع طلاق زید کو تسلیم یا گواہوں سے ثابت ہے اور تنقیح صرف اس بات کی باقی ہے کہ اس مدت گزرنے پر زینب نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے لی یا بعد زینب کہتی ہے اسی وقت میں نے دے لی تھی اور زید منکر ہے، تو اس کا بار ثبوت زید پر ہے، یہ گواہوں سے ثابت کرے کہ جس وقت چھ مہینے گزرے ہیں زینب بے طلاق دئے ہوئے کسی اور کام میں مشغول ہوگئی اگر ثابت کردے گا طلاق نہ ہوگی ورنہ زینب کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت کردیں گے۔ درمختار میں ہے: قالت طلقت نفسی فی المجلس بلاتبدل وانکر فالقول لہا، جعل امرھا بیدھا ان ضربھا بغیرجنایۃ فضربھا ثم اختلفافالقول لہ لانہ منکر وتقبل بینتھا علی الشرط المنفی۱؎، کما سیجی۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

بیوی نے کہا میں نے مجلس تبدیل کئے بغیر اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے، اور خاوند اس کاا نکار کرتا ہے تو بیوی کی بات معتبر ہوگی، مرد نے عورت کو طلاق کا اختیار دیا اگر وہ اس کے بغیر قصور مارے، پھر خاوند نے بیوی کو پیٹ دیا تو اب بغیر قصور پیٹنے کی شرط پائے جانے،میں خاوند بیوی کااختلاف ہوا تو خاوند کا قول معتر ہوگا کہ وہ منکر ہے، اگر عورت شرط کے نہ  پائے جانے کے موقف پر خاوند کے خلاف شہادت پیش کرے تو قبول کی جائے گی جیسا کہ عنقریب ذکر آئیگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الامر بالید     مطبع مجتبادئی دہلی     ۱ /۲۲۹)
Flag Counter