Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
152 - 155
مسئلہ۳۲۲: ازبنگالہ ضلع سلہٹ ڈاکخانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۲۲ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ 

ماقولکم رحمکم اﷲتعالٰی فی الدارین(اﷲتعالٰی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کاکیا فرمان ہے۔ت)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں  کہ زید نے اپنی اگلی خاتون مسمّاۃ زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر بلااذن ہندہ اپنے اگلے خاتون مطلقہ کویااور دوسری کسی کو اپنے نکاح میں لائے تو ہندہ کو تین طلاق کا اختیار ہے خواہ کہ طلاق کواختیار کرکے اپنے نفس کو چھڑائے یا مرضی شوہر پر رہے۔ اب زید بلااذنِ ہندہ اپنی اگلی خاتون مطلقہ کو بہ نکاح گھر میں لایا اس صورت میں ہندہ کو اختیار ایقاع طلاق کے واسطے مجلس شرط ہے یانہیں، ہندہ دعوٰی کرتی ہے کہ بمجرد آتے ہی زینب کے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تھا زید اور دو عورت حاضر مجلس ہندہ تھے کہتے ہیں ہندہ نے کوئی بات نہ کہی بلکہ گھر سے باہر گئی اور زینب سے جنگ وخصومت کی، اس اختلاف میں عندالشرع گواہ معتبر ہے یا قولِ ہندہ معتبر؟مع الدلیل بیان فرمائیں، اگر ہندہ اس دعوٰی مذکور کے بنا پر بعد تین مہینے کے بکر کے پاس نکاح بیٹھے تو یہ نکاح صحیح ہُوا یا نہیں؟ اور باوجود اس دعوی مذکورہ کے ہندہ نے زید سے خلع کیا تو یہ خلع عندالشرع معتبر ہے یانہیں؟معترض کہتا ہے اگر وُہ دعوٰی ہندہ صحیح ہوتا تو کیوں خلع کیا، ہندہ کہتی ہے بسبب خوفِ حاکم خلع کیا تھا، نہ عدمِ اختیار نفس کے اختلافِ زوجین کی صورت میں قولِ زوجہ
عالمگیری میں ثابت ہے جیسا کہ:
واذاجعل امرھا بیدھا وطلقت نفسھا وقال الزوج انما طلقت نفسک بعد اشتغالک بکلام او بعمل، وقالت بل طلقت نفسی فی ذٰلک المجلس من غیران اشتغل بکلام اٰخروبشیئ اٰخر فالقول قولھا وقع الطلاق کذافی فصول الاستروشنی۱؎، انتہی۔
اگر خاوند نے بیوی کو اس کی طلاق کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اور بیوی نے اس پر اپنے آپ کو طلاق دے دی اور خاوند نے کہا چونکہ تو دوسرے کام میں مشغول ہوگئی تھی یادوسری بات میں مشغول ہوچکی تھی، اور اس کے بعد تو نے طلاق دی ہے اور بیوی نے خاوند کے اس الزام کا انکار کرتے ہوئے کہا''نہیں بلکہ میں نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور میں کسی دوسرے کام میں مشغول یا اجنبی بات میں مشغول نہیں ہوئی'' تو بیوی کی بات معتبر ہوگی، اور بیوی کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجائیگی، استروشنی کے فصول میں یُوں ہی مذکور ہے۔انتہی(ت)اس صورت مسطور میں عندالشرع کس کی دلیل معتبر ہے؟بینواتوجروا۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی فی الامر بالید    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۹۱)
الجواب

صورتِ مستفسرہ میں قولِ زوج قسم کے ساتھ معتبر ہے، ہندہ جب تک گواہان عادل شرعی دو۲ مرد  یا ایک مرد دو۲ عورتوں کی شہادت سے ثابت نہ کرے کہ میں نے اسی مجلس میں اپنے نفس کو طلاق دے لی تھی اس کی بات ہرگز نہ سُنی جائے گی نہ اسے بکر سے نکاح کی اجازت ہوگی خلع جو کیا صحیح ہے، خلع کی عدت گزرنے پر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے، اس صورت واقعہ اور صورت مسئلہ فتاوٰی عالمگیری میں فرق عظیم ہے وہاں شوہر کو بھی تسلیم تھا کہ عورت نے اپنے نفس کو طلاق دی مگر یہ کہتا تھا کہ اس کا یہ طلاق دینا باطل واقع ہوا کہ بعد تبدلِ مجلس تھا، یہ صراحۃً خلافِ ظاہر ہے کہ جب عورت نے بعد تخییر طلاق کا قصد کیا توظاہر یہی ہےکہ ایسے ہی وقت طلاق دی جس سے اُس کا یہ قصد پورا ہو یعنی مجلس بدلنے سے پہلے تو اس صورت میں شوہر خلافِ ظاہر دعوٰی کرتا تھا، لہذا قول عورت کا معتبر ہوا، اور یہاں شوہر سرے سے ایقاعِ طلاق ہی کا اقرار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ ہندہ بے طلاق دئے چلی گئی، اور ہندہ دعوٰی طلاق کرتی ہے تو وُہ زوال نکاح کی مدعیہ اور شوہر منکر ہے، لہذا قولِ شوہر معتبر ہے، اور اختیارِ طلاق دئے جانے سے خواہی نخواہی یہی ظاہر نہیں کہ عورت طلاق ہی اختیار کرے گی،
جامع الفصولین میں ہے:
ت(ای الزیادات) قال امرک بیدک فطلقت نفسھا فقال انّما طلقت نفسک بعد الاشتغال بکلام او عمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذٰلک المجلس بلاتبدل فالقول قولھا لانہ وجد سببہ باقرارہ محم(ای مختصرالحاکم) قال خیرتک امس فلم تختاری وقالت قد اخترت فالقول قولہ شخ(ای شمس الائمۃ السرخسی) قال لِقِنّہ جعلت امرک بیدک فی العتق امس فلم تعتق نفسک قال القن فعلتہ لایصدق اذ المولٰی لم یقربعتقہ لان جعل الامر بیدہ لایوجب العتق مالم یعتق القن نفسہ والقن یدعی ذٰلک والمولی ینکرہ ولاقول للقن فی الحال لانہ یخبربما لایملک انشاءہ لخروج الامر من یدہ بتبدل مجلسہ وکذا لو قال اعتقتک علی مال امس فلم تقبل فقال القن قبلت فالقول للمولی وکذاھذا کلہ فی الطلاق وفی امرک بیدک۱؎اھ ملخصاً۔
ت(یعنی زیادات) میں ہے، خاوند نے بیوی کو کہا کہ''تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے'' تو اس پر بیوی نے اپنے آپ کو طلاق دے دی، اس کے بعد خاوند نے اسے کہا کہ تُونے اختیار کے بعد مجلس میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کو طلاق دی ہے تو اس صورت میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ بیوی کی تصدیق کا سبب خاوند کا اپنا اقرار ہے کہ (بیوی نے طلاق دی ہے) وُہ پایا گیا ہے محم(یعنی مختصر الحاکم)، خاوند نے بیوی کو کہا''میں نے تجھے کَل اختیار دیا تھا تو نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا'' تو جواب میں بیوی نے کہا''میں نے اختیار کو استعمال کرلیا ہے'' تو خاوند کی بات معتبر ہوگی شخ(یعنی شمس الائمہ سرخسی)، مالک نے اپنے غلام کو کہا کہ''میں نے تجھے کَل آزاد ہونے کا اختیار دیا تو تُونے اپنے آپ کو آزاد نہ کیا'' تو غلام نے کہا''میں نے کرلیا ہے'' تو غلام کی بات معتبر نہ ہوگی کیونکہ مالک نے اس کی آزادی کا اقرار نہ کیا، کیونکہ محض آزادی کا اختیار دینا عتق کولازم نہیں کرتا جب تک مالک کے اختیار پر غلام اپنے آپ کو آزاد نہ کرلے، جبکہ غلام اسکا مدعی ہے اور مالک انکار کرتا ہے اور اس گفتگو میں غلام کا کہنا کہ میں نے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے یہ اس چیز کی خبردے رہا ہے جس کی انشاء کا ابھی تک وہ مالک نہیں بنا تو فی الحال غلام کا کوئی قول نہیں ہے، کیونکہ اب مجلس بدلنے کی وجہ سے اختیار اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اور یُونہی اگر کہا کہ''میں نے کَل تجھے مال کے عوض آزادی کا اختیار دیا تھا جسے تُونے قبول نہ کیا''، تو غلام نے کہا''میں نے قبول کرلیا تھا'' تو مالک کی بات معتبر ہوگی۔ اور یہی تمام صورتیں طلاق اور بیوی کے ہاتھ میں اختیار دینے کے متعلق ہیں اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ جامع الفصولین     الفصل الثالث والعشرون فی الامر بالید ومتعلقہ     اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی     ۱ /۳۔۳۰۲)
بحرالرائق میں ہے:
الفرق بینھما ان فی المسئلۃ الاولی اتفقا علی صدورالایقاع منھا بعد التفویض، والزوج یدعی ابطال ایقاعھا فلایقبل منہ۲؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مذکورہ صوتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے مسئلہ میں خاوند وبیوی دونوں اختیار کے بعد مجلس میں اختیار کو استعمال کرنے پر متفق ہیں مگر خاوند، بیوی کے حق کو باطل کرنے کا مدعی ہے اس لئے اس کی بات  مقبول نہ ہوگی الخ۔ واﷲسبحانہ  وتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ بحرالرائق         فصل فی الامر بالید             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۳۲۶)
مسئلہ۳۲۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے قبلِ نکاح یہ قرار دیا کہ اگر میں  دوسرا نکاح کسی اور عورت سے کروں تو تجھ کو اختیار ہے کہ تو اپنے آپ کوطلاق دے لے، اس شخص نے دوسرا نکاح کرلیا، عورت اپنے آپ کو فوراً حسبِ اختیار طلاق دے لے اور شوہر اس پر رضا مند نہ ہوتو طلاق ہوگی یانہیں؟اور قبلِ نکاح یہ شرط جائز تصور ہوگی یانہیں؟

الجواب

اگر لفظ جو اس شخص نے اس عورت سے قبل نکاح کہے اسی قدر اور یُونہی ہیں جس طرح سوال میں مذکور ہوئے تو اس صورت میں عورت کو بر تقدیر نکاح ثانی کوئی اختیار طلاق دے لینے کا حاصل نہ ہو ااس کا اپنے نفس کو طلاق دینا کافی نہیں جب تک شوہر اس طلاق کو نافذ نہ کرے،
فان الملک اوالاضافۃ(الیہ لابد منہ ولم یوجد ،او طلاق الفضولی یتوقف عندنا علی اجازۃ الزوج۔
کیونکہ طلاق دیتے وقت ملکیت یا اس کی طرف نسبت کاموجود ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں یہ موجود نہیں، یا یہ کہ یہ فضولی کی طلاق ہے جبکہ فضولی کی طلاق خاوند کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے(ت)

پیش از نکاح جو ان الفاظ سے شرط کی جائے لغو ومہمل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter