Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
151 - 155
باب تفویض الطلاق

(تفویض طلاق کا بیان)
مسئلہ ۳۲۱: ازملک بنگالہ ضلع سلہٹ پوسٹ آفس کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۶رجب ۱۳۱۷ھ 

ماقولکم رحمکم اﷲفی الدارین(اﷲ تعالٰی دونوں جہانوں میں آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا ارشاد مبارک ہے۔ت) اس مسئلہ میں کہ زید نے اپناخاتون مسمی زینب کو طلاق دے کر ہندہ کو خطبہ کیا تب ہندہ کہے کہ اگر اس شرط پر راضی ہوتو تیرے نکاح میں آسکتی ہوں ورنہ نہیں شرط یہ ہے، بغیر اذن ہمارے اس خاتون مطلقہ کویا کسی اور غیر کو نکاح میں نہ لائیں، اگر لائیں تو اختیار تین طلاق کی میرے ہاتھ میں رہے، زید نے شرط کو قبول کیا اور ہندہ کو نکاح میں لاکر پانچ چھ مہینے رہا پھر زید نے زینب کو بہ نکاح گھر میں لایا ہندہ خفا ہوکر زینب کے ساتھ تھوڑی دیر جنگ وخصومت کے بعد اس کے کہا کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں کہہ کر گھر سے نکل گئی اس قولِ ہندہ کے ساتھ گواہ بھی شرط ہے یانہیں، اور اس طرح کے اختیار کرنا صحیح ہوگا یانہیں، اور بعد آٹھ نو مہینے کے ولیِ ہندہ نے جاکر زید سے طلاق مانگا زید نے کہا کہ جو میں نے ستر۷۰روپے مہر بانو کو دیا تھا واپس دے دو تب طلاق دُوں گا بحسب کہنے زید کے ستر۷۰ روپے جو کہ بابت مہر کے تھے واپس دے کر طلاق دلایا ،صحیح ہے یا لغو ، بعد اس طلاق کے ہندہ پر عدت واجب ہے یا نہیں ؟ اگر عدت  کے اندر ہندہ بکر کے ساتھ نکاح بیٹھے تو وُہ نکاح شرعاً حرام ہے یاحلال ؟بینواتوجروا۔

الجواب

 قطع نظر اس سے کہ زید وہندہ میں جو یہ گفتگو قبل از نکاح ہوئی، اس میں تعلیق صحیح شرعی واضافۃ الی الملک کہاں تک متحقق تھی کہ اگر اس وقت الفاظ ناکافیہ تھے تو خاص عقد نکاح میں بھی اس شرط کا ذکر آیا یانہیں، آیا تو کن الفاظ سے؟اور ایجاب میں تھایا قبول میں ؟ان تفاصیل پر نظر کے بعد یہ واضح ہو گا کہ ہندہ کو اس قرارداد کی بناء پر برتقدیر نکاحِ زینب بے اذنِ ہندہ اپنے نفس کو تین طلاق دے لینے کااختیار حاصل بھی ہوا یانہیں، صورت یہی فرض کرلیجئے کہ شرعاً اختیار حاصل ہوگیا تھا پھر بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ بعد تحقق شرط جس مجلس میں ہندہ کو نکاحِ زینب کی اطلاع ہوااس مجلس میں بے کسی کلام اجنبی کے اپنے نفس کو طلاق دے لے، یہ کہہ کر چلاجانا کہ اب میں مطابق اختیار نامہ رہ نہیں سکتی ہُوں طلاق نہیں، اور جب اپنے نفس کو بےطلاق دئے چلی گئی مجلس بدل گئی اور اختیار جاتا رہا بلکہ اگر یہ کہنا طلاق ہی فرض کیاجائے تاہم اس سے پہلے زینب سے جنگ وجدل کلام فضولی واجنبی کیا ان سے بھی مجلس بدل گئی اور اختیار نہ رہا،
درمختار میں ہے:
مایوقعہ باذنہ وانواعہ ثلثۃ تفویض وتوکیل ورسالۃ، والفاظ التفویض ثلثۃ تخییر وامر بیدومشیئۃ، قال لھا اختاری اوامرک بیدک ینوی تفویض الطلاق او طلقی نفسک، فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مشافہۃ اواخبارا، وان طال یوما اواکثر مالم یوقتہ ویمضی الوقت قبل علمھا مالم تقم لتبدل مجلسھا حقیقۃ اوحکما بان تعمل مایقطعہ ممایدل علی الاعراض۔۱؎
خاوند کی اجازت سے دوسرا کوئی شخص طلاق واقع کرے تو اس کے لئے تین طریقے ہیں:(۱) تفویض، (۲) توکیل،اور (۳)خط یا قاصد۔ بیوی کو طلاق کاحق تفویض کرنے کیلئے تین الفاظ ہیں، بیوی کوطلاق کا اختیار، یا معاملہ طلاق سپرد کرنا، یا اس کی مرضی پر رضا مندی ظاہرکرنا، لہذا بیوی کوکہا''اختیار کرلے'' یا''تیرامعاملہ تیرے سپرد''تو تفویض طلاق ہوگی۔ یا اس کو کہا''تو اپنے آپ کو طلاق دے'' تو ان صورتوں میں بیوی کو جس مجلس میں اس تفویض کا علم ہوا اس مجلس علم میں وُہ بالمشافہ یا بطور اطلاع اپنے اختیار کو استعمال کرسکتی ہے، اگر خاوند نے یہ اختیار کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہ کیا ہوتو یہ مجلس ایک پورا دن یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے اور اختیار کو کسی وقت سے مخصوص کیا ہو اور وُہ وقت بیوی کے علم سے قبل ختم ہوگیا تب بھی بیوی کو مجلسِ علم میں اختیار باقی ہوگا بشرطیکہ اس مجلس علم میں کوئی تبدیلی اُٹھنے یا اُٹھنے کے مترادف کوئی کام یا بات کرنے سے نہ آئی ہو کیونکہ ایسی بات یا کام حقیقۃً یا حکماًمجلس کی تبدیلی قرار پائے گا، مثلاًکسی ایسے کام میں وہاں ہی مصروف ہوجائے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس نے اختیار کو چھوڑدیا اور ختم کردیا ہے(ت)
 (۱؎ درمختار         باب تفویض الطلاق     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۶)
ردالمحتار میں ہے:
ودخل فی العمل الکلام الاجنبی۔۱؎
ایسے کام میں اجنبی اور اختیار سے لاتعلق کلام بھی اعراض سمجھاجائے گا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب تفویض الطلاق     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۷۶)
پس صورتِ مستفسرہ میں وہ اختیار ہرگز صحیح نہ ہوا نہ اس وقت تک ہندہ پر کوئی طلاق پڑی، ہاں جب ولیِ ہندہ نے طلاق مانگی اور زید نے مہر واپس لے کر طلاق دی، یہ طلاق بیشک صحیح ہوئی اور اسی طلاق کے وقت سے ہندہ پر عدت لازم آئی، اگر ختمِ عدّت سے پہلے بکر وغیرہ زید کے سواکسی سے نکاح کرے گی باطل محض وحرام قطعی ہوگا،
قال اﷲ تعالٰی والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروء۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا ہے: طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض ختم ہونے تک عدت میں پابند رکھیں واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)
Flag Counter