مگر خط کی بنا پر وقوعِ طلاق کا حکم اسی حالت میں ہوسکتا ہے جب کہ شوہر مقر یا گواہان عادل شرعی دو۲ مرد یا ایک مرد دو۲ عورت سے ثابت ہوکہ یہ خط اس کا ہے ورنہ صرف مشابہتِ خط پر حکم نہیں۔ اشباہ میں ہے:
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرامعنونا وثبت ذٰلک باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب۲؎۔
اگر خط کا عنوان شروع کرکے لکھا اور پھر اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے تو یہ لکھنا زبانی خطاب کی طرح ہے۔(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۹۸۔۲۹۷)
پس صورتِ مستفسرہ میں حکمِ قضا یہ ہے کہ ا گر اس خط کا طالعور خاں کا ہونا نہ اس کے اقرار سے ثابت نہ گواہانِ عادل سے، جب تو اصلاً حکمِ طلاق نہیں، اور اگر اقرار یا شہادت سے ثبوت ہے تو عمدہ پر طلاق بائن پڑگئی، اگر سرمست خاں نے عمدہ ونجم خاں دونوں کو حرف بحرف سنادیا جب تو دوطلاقیں بائن ہو ئیں،
فان الصریح یلحق البائن والرجعی اذالحقہ صار مثلہ لعدم امکان اثبات الرجعۃ کما فی البزازیۃ وغیرہا۔
اس لئے کہ صریح طلاق، بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے، اور جب بائنہ کے بعد اس کو رجعی لاحق ہوتو وہ رجعی طلاق بھی بائنہ کی طرح ہوجاتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں رجوع کا امکان نہیں رہتا، جیسا کہ بزازیہ وغیرہ میں ہے(ت)
ورنہ ایک ضرور ہوئی بہرحال، عمدہ نکاح سے نکل گئی، یہی تفصیل جو حکم قضائی ہے عمدہ کو اسی پر عمل واجب ہے فان المرأۃ کالقاضی ۱؎کما فی الفتح وغیرہ(کیونکہ بیوی اس میں قاضی کی طرح ہے، جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطلاق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۵۷)
(ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۸)
اور حکمِ دیانت یہ ہے کہ اگر یہ خط طالع ورخاں کا ہے اور اس نے الفاظ کنایہ میں کُل یا بعض سے نیت ازالہ نکاح کی تو طلاق بائن ہوئی پھر اسکے ساتھ وُہ خط سنانے کی شرط بھی پوری پائی گئی تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئی بہر حال عمدہ نکاح سے باہر ہوئی اور اگر نیت کی تو سنانے کی شرط پائے جانے کی حالت میں ایک طلاق رجعی پڑی جس میں اسے اختیار رجعت تاایّامِ عدّت تھا، اور اگر اس شرط میں بھی کمی رہی تو اصلا طلاق نہ پڑی، یونہی اگر یہ خط اس کا نہیں جب بھی طلاق نہ ہوئی اگرچہ گواہ گواہی دیں یا خو د اس نے غلط اقرار کردیا ہو،
فان الاقرار الکاذب لااثر دیانۃ ھذاجملۃ القول والتفصیل فی فتوٰنا المذکورۃ۔
اس لئے کہ جھوٹے اقرار کاکوئی اثر دیانۃً نہیں ہے، یہ تمام خلاصہ کلام ہے اورتفصیل ہمارے فتاوٰی میں مذکور ہے۔(ت)
اور جب کہ عمدہ وطالعور خاں میں خلوتِ صحیحہ ہولی جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر ہے کہ وُہ چار مہینے شوہر کے یہاں رہی تو بعد طلاق کُل مہر واجب الادا ہے، نصف ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔