| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
ان العادۃ عندھم کان تعجیل بعض المھر قبل الدخول، حتی ذھب بعض العلماء الی انہ لاید خل بھا حتی یقدم شیئا لھا، نقل عن ابن عباس وابن عمر والزھری وقتادہ تمسکابمنعہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علیا فیما رواہ ابن عباس (رضی اﷲتعالٰی عنہما) ان علیا رضی اﷲتعالٰی عنہ لما تزوج بنت رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اراد ان یدخل بھا فمنعہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم حتی یعطیھا شیئا فقال یارسول اﷲلیس لی شئی فقال ''اعطھا درعک'' فاعطا ھا درعہ ثم دخل بھا اللفظ لابی داؤد و رواہ النسائی ومعلوم ان الصداق کان اربع مائۃ درھم وھی فضۃ۱؎ الخ
قلت وحدیث ابی داؤد کما تری نص صریح لایقبل التاویل ان ھذاکان حین البناء ومعلوم ان البناء کان بعد عدۃ اشھر من حین العقد، ثم الروایۃ الثالثۃ مصرحۃ بان العقد وقع علی اربعمائۃ مثقال فضۃ ولیس فی الروایات الاولٰی مایصرح بصدورالعقد علی الدرع ومن مارس الاحادیث علم ان الرواۃ ربما یختصرون الاشیاء فلابد من ردالمحتمل الی المنصوص والجمع متعین مھما امکن فکیف وھو واضح جلی ثم قول المحقق معلوم ان الصداق کان اربع مائۃ درہم استشکلہ فی المرقاۃ لمخالفتہ لحدیثی المثاقیل والدراھم جمیعا، اقول ولا اشکال فان الدراھم کانت مختلفۃ علی عھد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعھد ابی بکر ن الصدیق الی زمن امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما فمنھا ماکان زنۃ مثقال ومنھا دون ذٰلک ثم ان عمر ھوالذی درھا الٰی وزن سبعۃ فی ردالمحتار عن الطحطاوی عن منح الغفار اعلم ان الدراھم کانت فی عھد عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ مختلفۃ فمنھا عشرۃ دراھم علی وزن عشرۃ مثاقیل عشرۃ علی ستۃ مثاقیل وعشرۃ علی خمسۃ مثاقیل فاخذ عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ من کل نوع ثلثا کی لاتظھر الخصومۃ فی الاخذ والعطاء فالمجموع سبعۃ ولذاکانت الدراھم العشرۃ وزن سبعۃ ۱؎اھ ملخصا،
ان کے ہاں عادت تھی کہ مہر کا کچھ حصّہ دخول س قبل معجّل طور پر دے دیاجاتتھا، حتی کہ بعض علماء نے اسی بناء پر فرمایا کہ پہلے کچھ ادائیگی کے بغیر دخول جائز نہیں۔ ابن عباس،ابن عمر، زہری،قتادہ رضی اﷲتعالٰی عنہم سے منقول کو وُہ حضرت علی کو حضورعلیہ الصّلٰوۃ والسلام کے منع فرمانے کی دلیل قرار دیتے ہیں جس اس روایت میں ہے جس کو ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ نے روایت کیا ہے کہ حضر ت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ نے جب حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام کی صاحبزادی سے نکاح کیا تو انہوں نے دخول کا ارادہ فرمایا توحضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے ان کو پہلے کچھ ادا کئے بغیر دخول سے منع فرمایا، تو اُنہوں نے عرض کی میرے پاس تو کچھ نہیں۔ توآپ نے فرمایا کہ اپنی زرہ فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) کو دے دو۔ چنانچہ انہوں نے زرہ دے دی اور اس کے بعد دخول کیا۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں' اور اسی کو نسائی روایت کیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سودراہم تھا جوکہ چاندی ہے الخ ۔ قلت (میں کہتا ہوں) ابوداؤد والی حدیث صریح نص ہے جو اس تاویل کو قبول نہیں کرتی جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ واقعہ بناء یعنی دخول کا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ وُہ نکاح سے چند ماہ بعد ہوا ہے۔ پھر تیسری روایت تصریح کر رہی ہے کہ نکاح چار سو مثقال چاندی ہُوا ہے، اور پہلی روایات میں یہ تصریح نہیں ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا ہے۔ جو شخص حدیث میں مما رست رکھتا ہے وُہ جانتا ہے کہ راوی حضرات بعض چیزوں کو مختصر کرجاتے ہیں، توا س لئے ضروری ہے کہ قابل احتمال کو منصوص کی طرف پھیراجائے جبکہ مختلف روایات کو حتی الامکان جمع پر محمول کرنا طے شدہ بات ہے، یہ بات بالکل واضح ہے پھر محقق کا یہ قول کہ یہ بات معلوم ہے کہ مہر چار سو درہم تھے اس کو مرقاۃ میں مشکل قرار دیا کیونکہ مثقال اور دراہم والی دونوں حدیثوں میں اس کی مخالفت ہے۔ اقول (میں کہتا ہوں) کوئی اشکال نہیں کیونکہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام کے عہد اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کے عہد تک مختلف دراہم تھے تو کچھ کا وزن ایک مثقال اور کچھ کا اس سے کم تھا، پھرعمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ نے انکو ایک وزن سبعہ پر مقرر کیا۔ ردالمحتارمیں طحطاوی سے انہوں نےمنح الغفار سےنقل کیاکہ جاننا چاہئے کہ عمرفاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ کے عہد میں دراہم مختلف تھے بعض دس۱۰درہم کا وزن دس۱۰ مثقال تھا اور بعض دس۱۰ کا چھ مثقال، اور بعض دس۱۰کا وزن پانچ مثقال تھا، تو عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ نے تینوں قسموں میں سے ہر ایک کا ثلث لیا تاکہ لینے دینے میں جھگڑا نہ ہو، تومجموع کا وزن سات ہُوا اس لئے دس درہم کا وزن سات مثقال قرار پایا اھ ملخصاً۔
(۱مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل اوّل المکتبۃالحبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۵۶)
(۱؎ردالمحتار باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۸و۲۹)
وفی خزانۃ المفتین برمزظ لفتاوی الامام ظہیرالدین
ان الاوزان فی عھد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعھد ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ کانت مختلفۃ فمنھا ماکان الدرھم عشرون ماکان عشرۃ قراریط وھوالذی یسمی وزن خمسۃ ،ومنھا ماکان اثنی عشر قراریط وھوالذی یسمی وزن ستۃ فلما کان فی زمن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ طلبوا منہ ان یجمع الناس علی نقد و احد فاخذ من کل نوع ۱؎ الخ ومن الدلیل علی ذٰلک ان المحقق جعل الدرع ماعجل من المھر وقد بیعت بار بع مائۃ وثمانین فکیف یکون المعجل من اربع مائۃ اربع مائۃ وثمانین ۔
اور خزانۃ المفتییں ظ کے رمز سے امام ظہیر الدین کے فتاوٰی کی طرف اشارہ کیا کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام اور ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہ کے عہد میںوزن مختلف تھے، بعض دراہم بیس۲۰قیرا ط تھے اور بعض کا وزن ۱۰دس قیراط تھا جن کو پانچ کا وزن کہتے تھے، اور بعض کا وزن بارہ ۲ قیراط تھا جن کو چھ کا وزن کہتے تھے، تو جب عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ کا عہد آیا تو لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ایک سکّہ ہونا چاہئے تو آپ نے ہر ایک میں سے کچھ لیا الخ اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ محقق علیہ الرحمۃنے زرہ کو مہر معجل قرار دیا جو کہ چارسواسّی ۴۸۰ دراہم میں فروخت ہُوئی، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کل چار سو۴۰۰ میں سے چار سواسّی ۴۸۰ معجل ہوں۔(ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین فصل فی مال تجارۃ قلمی نسخہ ۱ /۴۱و۴۲)
پس حاصل یہ قرار پایا کہ اصل مہر کریم جس پر عقدِ اقدس واقع ہُوا چار۴۰۰ مثقال چاندی تھی۔ ولہذا علماءِ سیر نے اس پر جزم فرمایا،
مرقاۃ میں ہے،
ذکرالسید جمال الدین المحدث فی روضۃ الاحباب ان صداق فاطمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھاکان اربع مائۃ مثقال فضہ وکذا ذکرہ صاحب المواھب۲؎الخ ۔
سیّدجمال الدین محّدث نے روضۃ الاحباب میں ذکر کیا کہ فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر چار سومثقال چاندی تھی۔ اسی کو صاحبِ مواہب نے ذکر کیا ہے الخ ۔
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ /۳۶۰)
زرہ برسمِ پیشگی وقت زفاف دی گئی کہ بحکمِ اقدس چار سو اسّی ۴۸۰درم کو بِکی، وبہ ظھر ما فی العلامۃ المحب الطبری یشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانما حقہ ان یقال ان المعجل کانت الدرع ولعل حاملہ علیہ ذھولہ عن حدیث المثاقیل المصر اھ بان العقد انم وقع علیھالاعلی الدرع ولاعلی الدراھم ولذا لم یذکرالاقولین کما رأیت ۔
اس سے علّامہ محب طبری کے قول پر اعتراض بھی واضح ہوگیا جو انہوں نے کہا کہ'' حق کے مشابہ یہ ہے کہ نکاح زرہ پر ہوا'' جبکہ حق بات یہ ہے کہ یُوں کہا جائے کہ زرہ مہر معجل تھی، ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ انداز اس حدیث سے ذہول کی وجہ سے اختیار کیا جس میں مثاقیل کے باری میں تصریح ہے کہ نکاح ان پر ہُوا نہ کہ زرہ پر، اور نہ ہی دراہم پر ہوا۔ اسی لئے انہوں نے صرف دو۲ قول ہی ذکر کئے جیسا کہ آپ کومعلوم ہے(ت)
مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے، اور یہاں کا روپیہ سواگیارہ ماشے، تو چار سومثقال کے پورے ایک سوساٹھ۱۶۰ روپے ہُوئے فاحفظہ فلعلک لاتجد ھذاالتحریر فی غیر ھذاالتحریر(اس کو محفوظ کرلو'ہوسکتا ہے کہ آپ کویہ تحریر دوسری جگہ نہ ملے۔ت) واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔