مسئلہ۳۲۰: ازملک متوسط شہر رائپور محلہ بیجناتھ بارہ مرسلہ منشی محمد اسحٰق مولود خواں عرائض نویس ۱۹جمادی الاخرہ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسمّی طالع ورخاں نے بحالت غیظ وغضب ایک خط اپنے خسر حقیقی کے نام لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے جناب ماموں نجم خاں صاحب دام ظلہ بعد السلام علیکم واضح ہو میں نے آپ سے بارہا کہا کہ عمدہ کو یہاں سے مت لے جاؤ، مگر آپ لے ہی گئے بغیر رضامندی، آپ نے اپنی ہی ضد کی، میں بھی اس کے اطوار سے نہایت درجہ ناخوش تھا، اس چار مہینہ کے عرصہ میں کبھی میری خدمت نہ کی، اطوار ناشائستہ جو اسمیں ہیں اُن کا دفع غیرممکن ہے، اس سے بڑھ کر خراب عادات عمدہ میں ہیں، لہذابخوشی تمام آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو، کیونکہ جس حالت میں میرادل اس سے خوش نہیں اوراس کا بھی مجھ سے نہیں ایسی حالت میں ایک دوسرے کی جان کے ضرور خواہاں رہیں گے ایسا نہ ہونا سبب، برضاورغبت آپکو اجازت دیا، اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا تاکہ خدائے پاک مجھ کو اپنے فضل سے مرتکب گناہ نہ کرے، اس خط کو بطور طلاقنامہ کے تصور فرمائیں اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا صرف ڈیڑھ سوروپیہ نکاح میں صرف ہوا اس کا تو البتہ افسوس ہے کہ حج کا روپیہ خرچ ہوگیامگر کیا علاج ہے کچھ چارہ نہیں، مرضی مولٰی ازہمہ اولٰی۔ آپ اپنے دل میں بھی اس امر کا رنج نہ کریں تحریر مختصر کو کثیر تصور فرمائیں، عمدہ سے اور مجھ سے اب کچھ سروکار نہ رہا جو رشتہ پہلے تھا وہی اب قائم رہے گا، سرمست خاں اس خط کو حرف بحرف پڑھ کر ماموں صاحب اور عمدہ کو بھی سُنادیں تاکہ اس پر شرعاً طلاق واجب ہوجائے، کیونکہ وہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے، فقط بندہ طالع ورخاں ازمقام ساکولی۔
جس وقت یہ خط پہنچا سرمست خاں نے عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کو سنادیا، بعد ایک ہفتہ کے طالع ورخاں اپنے خسر کے یہاں آئے اور کہنے لگے کہ میری زوجہ عمدہ کو میرے ساتھ روانہ کردو، نجم خاں نے روبروچند آدمیوں کے بھیجنے کا اقرار کیا پھر بعد دو۲گھنٹہ کے طالع ورخاں لینے آئے تومعلوم ہو اکہ نجم خاں دیہات پر چلاگیا، بعد چند ماہ کے نجم خاں نے طالعورخاں سے صراحۃً کہہ دیا کہ ہم لڑکی کو کیسے روانہ کریں تم نے تو طلاقنامہ لکھ کر روانہ کردیا، پھربائیس۲۲ماہ کے بعد طالعور خان نے اپنے خسر کے نام یہ خط لکھا:
جناب ماموں صاحب!بعد سلام علیک واضح ہو میں نے یہاں پر کئی علماء سے دریافت کیا سب یہی کہتے ہیں کہ طلاق ہوچکی اس لئے عرض پرداز ہوں کہ آپ اپنی لڑکی کانکاح کرادیجئے مجھ سے کوئی واسطہ نہ رہا آپ رنجیدہ نہ ہوں امر مجبوری ہے ورنہ کوئی صورت لانے کی کیا ہوتافقط
پھر نوماہ کے بعد خسر کو خط لکھا کہ فرنگی محل کے علماء سے خط بھیج کر فتوٰی طلب کیا تھا، جواب آیا کہ طلاق ہوچکی مہر کے نسبت اُنہوں نے فتوٰی دیا کہ نصف مہر دینا چاہئے، مگر میں اور جوابوں کا منتظر ہوں، پس عرض یہ ہے کہ صورتِ مرقومہ بالا میں عمدہ پر طلاق ہوئی یانہیں؟اگر ہوئی تو کن لفظوں سے؟اور کس قسم کی؟اور کتنی طلاق متحقق ہوئیں؟غرض عمدہ طالعور خاں کے نکاح میں رہی یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب۔اس خط میں آٹھ لفظ تھے: (۱) بخوشی تمام اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے کے ساتھ کردو۔
(۲) برضاورغبت آپ کو اجازت دیا۔
(۳) اس کا خرابانہ ہونا سبب دوسرے نکاح کی اجازت دیا۔
(۴) اس خط کو بطور طلاق نامہ تصوّر فرمائیں۔
(۵) اگر آپ اس کا نکاح کرادیں گے تو مجھ کو کسی نوع کا عذر تکرار آگے نہیں اور نہ کروں گا۔
(۶) عمدہ سے اور مجھ سے کوئی سروکار نہ رہا۔
(۷) اس خط کو ماموں صاحب اور عمدہ کو سُنادیں کہ اس پر شرعاً طلاق واجب ہوجائے۔
(۸) وُہ میری بلااجازت گئی تو نکاح کے باہر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
ان میں لفظ چہارم صالح ایقاع طلاق نہیں کہ بطور طلاق نامہ تصوّر فرمائیں، کے صاف یہ معنٰی کہ حقیقت میں طلاق نامہ نہیں،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھا مراطلاق دہ فقال الزوج دادہ انگار اوکردہ انگارلایقع وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انک طالق وان قال ذٰلک لایقع وان نوی۱؎اھ ملخصاً۔
بیوی نے خاوند کوکہا''مجھے طلاق دے'' خاوند نے جواب میں کہا''تُودی ہوئی یاکی ہوئی خیال کرلے''تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو، کیونکہ عربی میں اس کا معنٰی یُوں ہے ''تو گمان کرلے کہ تو طلاق والی ہے'' اور اگر یوں بالفاظِ عربی کہا تو طلاق نہ ہوگی چاہے طلاق کی نیت کی ہواھ ملخصاً(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۰)
اُسی میں ہے:
لوقیل لرجل اطلقت امرأتک فقال عدھا مطلقۃ اواحسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ ۱؎اھ تمام تحقیق ذٰلک فی فتاوٰنا المفصلۃ۔
ایک شخص نے دوسرے سے کہا''کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے'' اور دوسرا جواب میں کہے''تُواس کو طلاق دی ہوئی شمار کرلے تو مطلقہ سمجھ لے'' تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی اھ، اس کی مکمل تحقیق ہمارے مفصل فتووں میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۳)
لفظ پنجم ظاہراً ترک نزاع کا وعدہ ہے،
"آگے بمعنی آئندہ
" اوھو تعلیق علی الانکاح ان ارید بقولہ" آگے" بعد الانکاح، او اخبار عن النیۃ فی بعض الالفاظ السابقۃ ان ارید بہ من بعدما کتبت ھذا۔
آگے بمعنی آئندہ یایہ نکاح کردینے پر معلّق ہے اگر اس نے ''آگے'' کے لفظ سے نکاح کردینے کے بعد کی نیت کی ہو، یا پہلے مذکور الفاظ میں سے کسی لفظ میں نیت کی خبردینا ہے جبکہ اس نے وہ لفظ لکھنے کے بعد مراد لی ہو۔ اسے محفوظ کرلو۔(ت)
لفظ ششم بھی الفاظِ طلاق سے نہیں، سر بمعنی خیال وخواہش اور کاربمعنی حاجت ہے، سروکار نہیں یعنی غرض، مطلب حاجت کام نہیں، اور ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیتِ طلاق کہے۔
خانیہ وبزازیہ وغیرہما میں ہے:
لوقال لاحاجۃ لی فیک ونوی الطلاق لایقع وکذالو قال مرابکارنیستی وکذالو قال مااریدک۲؎۔
اگر خاوند نے کہا''مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں' ' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ یوں ہی اگر اس نے کہا''تو میرے کام کی نہیں'' یوں ہی اگر اس نے کہا''میں تجھے نہیں چاہتا'' تو طلاق نہ ہوگی۔(ت)
(۲؎فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۶)
بحرالرائق میں ہے:
اذا قال لاحاجۃ لی فیک اولااریدک او لااحبک اولااشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی۱؎۔
(۱؎ بحرالرائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۰۳)
اگرخاوند نے یہ الفاظ کہے''مجھے تجھ میں حاجت نہیں، میں تجھے نہیں چاہتا،میں تجھے پسند نہیں کرتا، مجھے تیری خواہش نہیں، تجھ میں میرے لئے رغبت نہیں'' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔(ت)
لفظ ہشتم بھی محض لغو وغلط ہے کہ ایک باطل خیال جہاں پر نکاح سے باہر ہونا بتاتا ہے بے اجازتِ شوہر عورت چلی جائے تو نکاح سے باہر نہیں ہوتی اور جو اقرار غلط بنا پر ہومعتبر نہیں۔
خانیہ میں ہے:
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ تزوجہا فھی طالق فشرب وھو صبی فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع فقال ھذا البالغ (آرے حرام است برمن) لاتحرم امرأتہ ھوالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء وانما اقربالسبب الذی تصادقا علیہ وذٰلک السبب باطل۲؎اھ ملخصاً۔
ایک بچے نے کہا''اگر میں یہ پی لوں تو جس عورت سے بھی نکاح کروں تو اس کو طلاق'' پھر اس نے دوران بچپن وُہ چیز پی لی، پھر بالغ ہونے کے بعد اس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے سسرال نے خیال کیا کہ اس کے مذکور قول کے مطابق کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو اس لڑکے نے کہا''ہاں یہ مجھ پر حرام ہے'' تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی، کیونکہ یہاں ابتداءً بیوی کو حرام نہیں کہا بلکہ اس نے اس سبب کے وجود کا اقرار کیا جس پر یہ دونوں سچے اور جس سبب پر اس نے یہ اقرار کیا وُہ باطل ہے اھ ملخصاً(ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۳۵)
بقیہ چار الفاظ میں تین لفظ پیشین کا حاصل اجازتِ نکاح دینا ہے اور وہ بیشک کنایات سے ہے،
فانہ ینبئ عن رفع قید النکاح واخراجھا عن عصمۃ لنفسہ کقولہ تزوجی۳؎کما فی الخانیۃ وابتغی الازواج ۴؎کما فی الکنز ووھبتک للازواج ۵؎کما فی الھندیۃ۔
کیونکہ یہ الفاظ نکاح کی قید کو ختم کرنے کی خبر دیتے ہیں اور اپنی عصمت سے نکالنے کی خبر دیتے ہیں جیسے کہ خاوند یوں کہے''تو نکاح کر'' جیسا کہ خانیہ میں ہے''تو خاوند تلاش کر'' جیسا کہ کنز میں ہے ''میں نے تجھ کو خاوندوں کے سپرد کیا'' جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔(ت)
(۳؎فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۶)
(۴؎کنز الدقائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶)
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۶)
مگران تین اور ان کے ساتھ کتنی ہی کنایات بائن ہوں سب سے ہوگی تو ایک ہی طلاق بائن ہوگی اگر چہ سب سےنیت کی ہو فان البائن لایلحق البائن(کیونکہ بائن طلاق کے بعد دوسری بائنہ لاحق نہیں ہوسکتی۔(ت)
لفظ ہفتم طلاق صریح ہے مگراس شرط پر معلق کہ سرمست خاں، نجم خاں اور عمدہ کو حرف بحرف خط پڑھ کر سنادے،
فان لفظہ تاکہ تضیدھٰھنا ترتب الطلاق علی الاسماع ای ربط حصول ذاک بحصول ھذاوھذاھو معنی التعلیق وفی الدرالمختار یکفی معنی الشرط۱؎۔
اس لئے کہ ''تاکہ'' کا لفظ یہاں سنانے پر طلاق کو مرتب کرنے کےلئے ہے یعنی اس چیز کے حاصل ہوجانے پر اس چیز کا حصول بتانے کے لئے ہے اور یہی تعلیق کا معنی ہوتا ہے۔ اور درمختار میں ہے کہ تعلیق کا معنٰی ہی شرط کے لئے کافی ہوتاہے(ت)
(۱؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۰)
تو ان آٹھ لفظوں کا حاصل صرف دو۲ لفظ رہے، ایک کنایہ جس سے بلحاظِ نیت طلاق بائن پڑیگی دوسر اصریح معلّق جس سے بعد تحقق شرط طلاق رجعی ہوگی، صریح کا حکم تو دیانتاً وقضاءً دونوں میں ایک ہی ہے کہ اگر سرمست خاں نے خط مذکور دونوں کو حرف بحرف سُنا دیا تو طلاق ہوگئی اور اگر اُن میں ایک کو سُنا نے میں بھی کچھ کمی رہی جسے حرف بحرف سُنانا نہ کہیں تو نہ ہوئی مگر حکم کنایہ یہاں مختلف ہے دیانۃً حاجت نیت ہے۔ ردالمحتار میں ہے : لایقع دیانۃ بدون النیۃ ولو وجدت دلالۃ الحال فوقوعہ بواحد من النیۃ اودلالۃ الحال انما ھو فی القضاء فقط کما ھو صریح البحر وغیرہ۲؎۔
کنایہ کی صورت میں نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی اور اگر دلالتِ حال بھی پائی جائے تو طلاق کا وقوع نیت یادلالتِ حال میں سے ایک کے ساتھ ہوگا یہ صرف قضاءً طلاق ہوتی ہے بحر وغیرہ کی صراحت یہی ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۳)
اور قضاء بوجہ قرائن سباق وسیاق وقوع طلاق کا حکم علی الاطلاق،
فان اللفظ وان کان مما یصلح ردا کما فی الغرر والبحر والخانیۃ لکن قد حفتہ قرائن ترد معنی الرد کقولہ لھذا وقولہ ایسا نہ ہونا سبب وقولہ اس کا خرابانہ ہونا سبب وقولہ تاکہ خدائے پاک الخ فان ھذہ التعلیلات والتفریعات لاتلائم قصد الرد کما لایخفی ودلالۃ القال کدلالۃالحال۔
غرر، بحراور خانیہ میں جیسا کہ مذکور ہے کہ لفظ اگرچہ جواب بن سکتا ہومگر وہاں قرائن کا ہجوم اس کے جواب ہونے کو مرد ود قرار دیتا ہے، جیسا کہ یہاں ایسا نہ ہونا سبب، اس کا خرابانہ ہونا سبب، تاکہ خدائے پاک الخ'' کے الفاظ ہیں، کیونکہ یہ الفاظ تعلیل اور تفریع ہونے کی بنا پر، جواب کے ارادہ سے مناسب نہیں ہیں، جیساکہ مخفی نہیں ہے، اور دلالت قال، دلالتِ حال کی طرح ہے۔(ت)