Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
148 - 155
مسئلہ۳۱۷: مسئولہ مولانا حشمت علی صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۹رجب شریف یومِ جمعہ  ۱۳۳۸ھ بریلی شریف

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی ساس سے کہا''میں تمہاری لڑکی کو چھوڑتا ہوں میرے کام کی نہیں'' اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب

دوطلاقیں بائن ہوگئیں، عورت نکاح سے نکل گئی، عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر رخصت نہ ہوئی تھی تو عدّت کی بھی حاجت نہیں، اور اگر زید ہی سے نکاح چاہے تو اس سے بھی کرسکتی ہے عدّت میں خواہ عدّت کے بعد، جبکہ اس سے  پہلے کوئی طلاق اسے نہ دے چکاہو کہ ایسا تھا توتین ہوگئیں بے حلالہ نہیں ہوسکے گا،
وذٰلک لان اللفظ الاول صریح فوقع بہ طلاق وان لم ینو وصار الحال بہ حال المذاکرۃ واللفظ الثانی لایحتمل الرد بل السب فاستغنی عن النیۃ لاجل المذاکرۃ، والواقع بہ بائن لانہ من الکنایات غیر الثلاث المعلومۃ اعتدی واخیہا فلحوقہ جعل الرجعی الاوّل ایضا بائنا لامتناع الرجعۃ بالثانی فبانت بثنتین۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ پہلا لفظ صریح ہے اس لئے یہ طلاق ہوئی اگرچہ نیت نہ بھی ہو، اس سے مذاکرہ طلاق کا حال ہوگیا، اور دوسرا لفظ صرف ڈانٹ کا احتمال رکھتا اور جواب نہیں بن سکتا، لہذا یہاں نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ مذاکرہ طلا ق ہوچکا ہے، اس سے بائنہ طلاق ہوئی کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے لیکن اعتدی اور اس جیسے الفاظ کنایہ تین میں سے نہیں ہے، لہذا اس دوسرے لفظ سے پہلی صریح طلاق بھی بائنہ ہوگئی کیونکہ دوسری بائنہ ہے جس کی وجہ سے پہلی میں رجوع ممکن نہ رہا، لہذا بیوی کو دو۲بائنہ طلاقیں ہوئیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۸: ۲۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ 

زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ''جا میں نے تجھے چھوڑدیا'' اور چند مرتبہ اور چند آدمیوں کے سامنے یہی کہا کہ ''میں نے اس کو چھوڑدیا'' مگر''طلاق'' کا لفظ نہیں کہا تو طلاق ہوئی یانہیں؟

الجواب

اگر تین بار کہا تین طلاقیں ہوگئیں، اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین بار سے کم کہا اور عدّت گزرگئی تو دوسرا نکاح آپس میں کرسکتے ہیں، اور عدّت نہ گزری تو مرد کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹: ازشہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ سیدشرافت علی صاحب۷رجب مرجب ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی اپنے میکہ میں ہے، زید کے گھر سے ایک آدمی اس کو لینے گیا، اس کے والدین نے نہیں بھیجا، دوسرے دن زید خود گیا پھر بھی نہیں بھیجا اور نہ کوئی وجہ خاص بتلائی، زید کو ناگوار ہوا اس نے کہا کہ''اگر آپ نہیں بھیجتے تو آپ کی لڑکی کوجواب دے دُوں گا اور آپ اس وقت دوچار آدمیوں کو بلوالیجئے تاکہ میں اس وقت اُن کی موجودگی میں جواب دے دُوں اور قطع تعلق کرلوں۔'' زیدکے خسر او ساس نے جواب دیا کہ ''نہ ہم آدمیوں کو جمع کریں گے اور نہ جواب لینا منظور ہے'' زید یہ کہہ کر کہ ''میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپناکوئی تعلق نہیں رکھتا اور کل بذریعہ رجسٹری ڈاکخانہ سے دوبارہ آپ کو اطلاع دُوں گا''۔ دوسرے دن اس نے یہ لکھ کر کہ''میں قطع تعلق کرتا ہوں اور طلاق دیتاہوں'' رجسٹری کردی، زید کے خُسر نے واپس کردی، زید پردیس چلاگیا وہاں سے دو۲ماہ کے بعد آیا اس وقت زید کے ایک عزیز نے جو کہ اس کی بی بی کا قریبی رشتہ دار تھا، زید سے مل کریہ چاہا کہ بیوی سے صلح ہوجائے، زید نے اس کو یہ جواب دیا کہ''میں طلاق دے چکاہوں اب صلح کیسی'' وُہ خاموش ہوگیا، چنانچہ ایک اور آدمی سے بھی زید نے یہ کہا کہ ''میں اپنی بی بی کو طلاق دے چُکا ہوں'' اب زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کی بی بی کو طلاق ہوگئی یانہیں؟
الجواب

طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی، اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دے چکا تھا تو برضائے زن اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت نہیں، اور اگر پہلے ایک طلاق بھی دے چکاتھا تو اب بے حلالہ نہیں کرسکتا کہ تین ہوگئیں ایک پہلے اور ایک اس وقت اس کا کہنا کہ ''میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپنا کوئی تعلق نہیں رکھتا''__________________پھر لکھنا کہ''میں قطع تعلق کرتا ہوں'' یہ مجموع ایک ہی ہوگی
فان البائن لایلحق البائن والنیۃ قد ظہرت
 (بائنہ طلاق پہلی بائنہ کے بعد نہیں آسکتی اس میں نیت کی ضرورت تھی جو کہ پائی گئی۔ت) اورایک اس کا لکھنا کہ''طلاق دیتا ہوں'' اور رجسٹری واپس دینے سے طلاق واپس نہ ہوگی کہ بلا شر ط تھی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter