Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
147 - 155
مسئلہ ۳۱۲: ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مسئولہ اویس خاں عرف شریف اﷲخاں ۱۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص ملازم فوج ہوکر پردیس جانے کے وقت اپنے والدین سے یہ کہہ کر رخصت ہوا کہ میری یہ عورت میرے مطلب کی نہیں ہے میری واپسی سے قبل نہایت ایذا کے ساتھ اس کو نکال دینا، میں واپس آکر دوسری شادی کرلُوں گا۔ چنانچہ اس شخص کی عورت کو مطابق استدعا کے اس کے والدین نے اندر دو۲ماہ نکال دیا اور اس عورت نے اندر ایک ماہ دوسرے شخص کے ساتھ اپنا نکاح کرلیا، عورت مذکورہ دوسرے شوہر کے یہاں سے بھی بلاطلاق کے بوجہ حمل ہونے کے نکال دی گئی اب اس عورت کو اپنے پہلے شوہر کے مکان سے نکلے ہوئے تقریباً ایک سال گزرگیا اور اس کا شوہر بھی ملازمت فوج سے واپس آیا اور پانچ چھ ماہ ہوئے وقت واپسی کے آج تک عورت مذکور کا خبرگیراں نہیں ہوا اور قبل جانے پر دیس کے ایک دن اس کے شوہر نے طلاق نامہ لکھنے کا بندوبست کیا تھا اور کچھ لوگوں کو جمع کیا تھا مگر اس کو کسی خیال نے تکمیل طلاق نامہ سے روک دیا تھا، عورت مذکور کو اس کے ماں باپ بھی اپنے پاس رکھنے کے روا دار نہیں ہیں اور اس کی گود میں ایک لڑکا ساتھ سال کا پہلے شوہر کا موجود ہے کیا عورت مذکور اپنا نکاح کسی اور شخص سے کرسکتی ہے؟

الجواب

یہ لفظ کہ ''یہ عورت میرے مطلب کی نہیں' ' کنایات سے ہے اور محتمل سبّ ہے اور حالت حالت غضب ہے تو حکم طلاق نیت پرموقوف ہے کہ پہلا شوہر اگریہ اقرار کرے کہ بہ نیت طلاق یہ لفظ کہے تھے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور بعد وضع حمل عدت گزرگئی دوسرے سے نکاح کا اسے اختیار ہوگا، اگر وہ نیتِ طلاق کا انکار کرے تو اس سے حلف لیاجائے، اگر حلف کرے گا کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی اور عورت کو دوسری جگہ نکاح حرام ہوگا، اور وہ جو دوسرے سے نکاح کیا تھا وہ تو بہر حال حرام تھا کہ بلاثبوت طلاق تھا اور اگر ثبوت بھی ہوجاتا تو عدّت کے اندر تھا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۳: ازاجمیر شریف محلہ چاہ ارٹ مسئولہ سید محمد عظیم صاحب۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کا بیان ہے کہ میرے خاوند سے عرصہ دوبرس سے کوئی تعلق نا اتفاقیوں کے باعث نہیں تھا چنانچہ اب اس نے زبانی اور تحریر سے یہ لکھ دیا ہے کہ''تو ہفتہ کے اندر میرے پاس نہ آئے تو جہاں پر چاہے جا، تجھے اختیار ہے تیرے دل کا اور مجھے اختیار ہے اپنے دل کا۔'' لہذا عورت نے ان الفاظ کو طلاق سمجھ کر اپنے کو بائن کرلیا لہذا فرمائیے کہ یہ طلاق ہوئی یانہیں؟اور عورت بعد عدّت دوسرے سے عقد کرسکتی ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔

الجواب

اس صورت میں طلاق ہونا نیت شوہر پر موقوف ہے عورت کو کوئی اختیار نہیں کہ بطورِ خود اپنے آپ کو مطلقہ سمجھے، شوہر اگر قسم سے کہہ دے گا کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو ہرگزطلاق نہ مانی جائے گی اور وُہ بدستور اس کی زوجہ ہوگی، ہاں اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو حاکم شرعی کے حضور نالش کی جائے اگر شوہر اس کے سامنے بھی حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی، وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴: از شہر بریلی ۶شوال ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غصہ کی حالت میں اور دوران طلب طلاق میں زید نے اپنی ساس اور خسر سے کہا اگر میں پسند نہیں ہوں تو دوسرے سے نکاح کردو یا شادی کردو، سا نے جواب میں کہا ہاں تو پسند نہیں ہے اس سے نکاح ٹوٹ گیا نہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب

حالت حالت مذ اکرہ وغضب ہے اور لفظ نہ محتمل رد  نہ محتمل سبّ ہے لہذا طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی ھذا ماعندی(یہ جواب میرے ہاں ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۳۱۵: ازجیت پور کاٹھیاواڑ جامع مسجد مدرسہ معرفت جناب مولوی سیّد غلام حیدر صاحب مسئولہ مولوی جمیل الرحمٰن صاحب رضوی بریلی       ۱۴ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ،

کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بی بی ہند ہ پر سخت غصہ ہوکر بحالت غصہ یہ کہا کہ''تواپنے گھر کو جا میرے کام کی نہیں ،میں نے تجھ کو طلاق دی''۔ ہندہ کو آٹھ ماہ کا حمل ہے زید حلف اٹھاتا ہے کہ ''میں نے فقط تنبیہ کے لئے یہ الفاظ کہے تھے ہرگز ایسے الفاظ طلاق کی غرض سے نہ کہے تھے اور میں اس وقت غصہ میں آپے سے باہر تھا''، اب زید و ہندہ کیا کرنا چاہئے؟ اگر حلالہ لازم آتا ہو، تو کوئی  صورت شریعتِ مطہرہ نے ایسی بھی بتائی ہے کہ حلالہ نہ کرنا پڑے اور زید وہندہ کے تعلقات قائم رہیں یا قائم ہوجائیں۔بینواتوجروا۔

الجواب
اگر واقعہ اسی قدرہے عورت نے یاکسی اور نے عورت کے لئے طلاق نہ مانگی تھی جس کے جواب میں یہ لفظ اس نے کہے نہ اس نے ان الفاظ کو مکرر کہا بلکہ صرف ایک ہی بارکہا تو اس صورت میں ایک ہی طلاق رجعی واقع ہوئی
لان اللفظ الاوّل یحتمل الرد فینوی علی کل حال والثانی  یحتمل السب فینوی فی الغضب وقد حلف ویکفی حلفہ فی منزلہ۱؎کما فی الدرالمختار واللفظ الثالث وان کان صریحا لایکون قرینۃ فی الاولین لان شرط النیۃ ان تتقدم کما فی ردالمحتار۔
کیونکہ پہلا لفظ جواب کا بھی احتمال رکھتالہذا بہر صورت نیتِ طلاق ضروری ہے، اور دوسرا لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے اس لئے صرف غصہ کی حالت میں طلاق کی نیّت کرنی ہوگی جبکہ وُہ قسم دے چکا ہے اور گھرمیں قسم دے دینا کافی ہے جیس کہ درمختار  میں ہے۔ اور تیسرا لفظ اگرچہ طلاق میں صریح ہے لیکن یہ پہلے دونوں لفظوں کےلئے قرینہ کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ قرینہ کے لئے پہلے ہونا شرط ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
پس اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دی تھیں نہ ایک طلاق بائن دی تھی جس کی عدّت باقی ہوتو جب تک وضعِ حمل نہ ہورجعت کرسکتا ہے،مثلاًزبان سے اتنا کہہ دے کہ''میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا'' تو وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی، اور اگر وضعِ حمل  تک رجعت نہ کرے گا تو اس کے بعد برضائے زن اس سے دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت ہوگی، حلالہ کی حاجت دونوں صورتو ں میں نہیں، حلالہ تین طلاقوں پر لازم ہوتاہے، اور جب لازم ہوتاہے اس کے ساقط کرنے کی کوئی صورت نہیں وکل ماذکر فی القنیۃ من الحیل وغیرہا باطل لااصل لہ(قنیہ میں جو حیلے ذکر کئے گئے وُہ باطل ہیں ان کی کوئی اصل نہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۳۱۶: مرسلہ مستقیم خاں زمیندار     ۱۴صفر ۱۳۱۷ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علی محمد خاں کی بیٹی کا نکاح بھوراخاں کے ساتھ ہُوا ابھی رخصت نہ ہوئی تھی کہ باہم نزاع ہوگیا۔ برکت اﷲخاں، مستقیم خاں، نظیرالدین خاں صلح کےلئے گئے۔ سب کے سامنے بھورا خاں نے کہا''یہ میری زوجہ نہیں ہے میں نے اس کو پہلے چھوڑدیا ہے'' اور چند مرتبہ کہا''میں نے چھوڑدی چھوڑدی مجھ کو کچھ سروکار نہیں، میری بی بی نہیں ہے'' اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب

اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئی، اس پر ایک طلاق بائن ہوگئی، آدھا مہر شوہر پر واجب الادا ہوا، عورت کو عدت کی ضرورت نہیں جس وقت چاہے نکاح کرلے، اگر اس شوہر سابق ہی سے راضی ہوتو اس سے بھی نکاح ہوسکتا ہے حلالے کی حاجت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter