Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
146 - 155
مسئلہ۳۰۹:ـ از شاہجہان پور محلہ مہمند گڑھی مرسلہ حافظ نذیر حسن صاحب ۲۶صفر ۱۳۳۷ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو عرصہ سات برس سے چھوڑرکھا اور اس کا اصلاً خبر گیراں نہیں ہوتا ہے، نہ روٹی دیتا ہے نہ کپڑا دیتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے کہ اس کا دوسری جگہ نکاح کردیا جائے اور اس کا کوئی علاقہ بندوں سے دستگیر نہیں ہے کہ اس کا نان نفقہ کسی طرح پر چل سکے سخت مجبور ہے، اب جو حکم صاحبانِ شرع متین کا ہواس پر عمل کیا جائے، بیان کرو اجر پاؤ ، اور اس مدت کے درمیان میں مسماۃ نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ اب میرا شوہر مجھ کو رخصت کرلیجاوے اور بطور اپنی زوجہ کے مجھ کو سمجھے، اس کے واسطے مسمّاۃ نے چند خط بھی روانہ کئے اور آدمیوں کو بھی بھیجا لیکن شوہر نے کچھ توجہ نہیں کی، پھر اس کے بعد خود بھی گئی، پھربھی اس نے نہیں رکھا واپس کردیا، تب مجبور ہوکرعدالت سے نان نفقہ کا دعوٰی کیا وہاں اس نے روٹی کپڑا دینے کا اقرار کیا اس پر بھی وُہ مقدمہ خارج کیا گیا، پھر اس کے بعد مسمّاۃ نے کچھ عرصہ تک انتظار کیا، پھر مسمّاۃ نے وہاں خبر بھیجی اس پر اس نے ایک ایسا کارڈ روانہ کیا کہ جس کو دیکھ کر عقل گم ہوگئی، چونکہ ظاہرمیں وہ شخص اقرار کرتا ہے اور باطن میں وُہ ایسا ہے، پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وُہ مسماۃ کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص ضلع شاہجہان پور مقام موضع سندھول کا رہنے والا ہے اور مسمّاۃ باشندہ شاہجہان پور ہے محلہ مہمند گھڑی، اور جوکارڈ اس نے روانہ کیا وُہ کارڈ بھی اس میں رکھا ہے، آپ ا پنے دستخط اور جو علمائے سنت ہوں ان کے دستخط کرواکے روانہ کیجئے، نہایت عاجز اور مسکین ہُوں فقر فاقہ کرتی ہُوں، آپ صاحبان علمائے دین کے دستخط ہوکر فتوٰی آجائے گا تو اور جگہ نکاح کرلوں گی اور آپ کو دُعا دُوں گی اور آپ کو اﷲتعالٰی اس کا اجرِ عظیم دے گا، واسطے اﷲکے میرے اوپر رحم کیجئے۔

الجواب

کارڈ دیکھا گیا اس میں صرف یہ لفظ ہے آپ کہتے ہیں اپنی عورت کو لے جاؤ اور اس نے مجھ پر مقدمہ چلایا اور وکیلوں کے پاس گئی اور پھری گئی اور ہرکس وناکس سے ملی اس لئے وُہ بالکل میرے کام کی نہ رہی، اتنے لفظ پر جب تک طلاق کی نیت سے کہنا ثابت نہ ہو طلاق کا حکم نہیں ہوسکتا، نہ ہرگز عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اگر کرے گی محض حرام ہوگا، اس سے پوچھا جائے اگر وُہ اقرار کرے کہ ہاں میں نے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہا تھا تو جبھی سے طلاق ہوگئی جب سے اب تک اگر عورت کو تین حیض آکر ختم ہوگئے یا جب ختم ہوجائیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر وُہ نیتِ طلاق کا اقرار نہ کرے اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے نیتِ طلاق نہ کی تھی تو ہرگز حکم طلاق نہ ہوگا۔درمختار میں ہےیکفی تحلیفھالہ  فی منزلہ۱؎(خاوند سے گھرمیں ہی قسم لے لینا کافی  ہے۔ت) اور اگر حلف سے انکار کرے تو شرعی نالش کی جائے کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں اور ان سے طلاق کا احتمال ہے اگر وُہ حاکم کے سامنے بھی اس حلف سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی اور اگر وہاں حلف کرلیا تو طلاق ثانب نہ ہوگی، اگر جُھوٹی حلف یہاں یا وہاں کیا تو وبال اس پر ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم                                                                                                                                        مسئلہ۳۱۰: ازبریلی شہرکہنہ محلہ قرولی مرسلہ عظیم اﷲخاں صاحب ۹شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مَے نوشی وقمار بازی کرتا ہے، اس نے حالت مے نوشی وہار کی سوزش قمار بازی میں بیوی اپنی سے روپیہ طلب کیا، روپیہ دینے میں بیوی نے تسہل کیا یہ سمجھ کر کہ حالتِ غیر ہے اس وجہ سے تشدد ہے نیز یہ بھی خیال کیا کہ بچّوں کو تکلیف نہ ہو، یہ سستی کرنا اور انکارروپیہ سے کرنا اس کو اس قدرناگوار ہوا کہ یہ تحریر لکھ کر دے دی جو حضور کے پیش نظر ہے :

نقل تحریر: مسمّاۃ عائشہ بیگم کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ چاہے کسی کے ساتھ عقد کرے یابیٹھی رہے مجھے کچھ عذر نہیں ہے۔ عنایت اﷲ ولد محمد مصطفی ساکن بریلی شہر کہنہ محلہ قرولی مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۹ء۔

الجواب

اگریہ تحریر اس نے بہ نیت طلاق لکھی یعنی''میں نے اسے طلاق دے کر آزاد خود مختار کردیا چاہے تو دوسرے سے نکاح کرلے'' جب تو ایک طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کواختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگرنیتِ طلاق سے نہ لکھی تو طلاق نہ ہوئی یہ بات کہ طلاق کی نیت نہ تھی زید کے حلف پر ہے اگر وُہ قسم کھا کر کہہ دے گا کہ میں نے اس سے اسے اپنے نکاح سے خارج کرنے کی نیت نہ کی تھی مان لیں گے اور حکمِ طلاق نہ دیں گے، اگر زید جُھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے۔
درمختار میں ہے:
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھالہ فی منزلہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کی بات قسم کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی، اور بیوی کا گھر میں خاوند سے قسم لینا کافی ہوگا۔(ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ درمختار     باب الکنایات    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
مسئلہ۳۱۱: از شہر بریلی کیمپ صدر مسئولہ حبیب احمد صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایک شخص کی شادی ہوئے عرصہ۹ سال کا ہُوا، شادی کرکے وُہ شخص صرف پندرہ روز اپنی زوجہ کے پاس رہا بعد میں وہ سفر کو چلاگیا اور ۹سال سے آوارہ پھرتا ہے، جب اس کے قیام کی خبر دہلی میں معلوم ہوئی اس کی زوجہ اس کے پاس گئی اس نے کہا ''تُویہاں سے چلی جا ورنہ تیری ناک کاٹ لوں گا، جو تیرادل چاہے وہ تُوکر،میرے پاس مت آ۔'' عورت نوجوان ہے شوہر متذکرہ بالا پر کیا نکاح جائر رہا؟

الجواب

اگر اس کی نیت ان لفظوں سے طلاق کی نیت ہونا ثابت ہوجائے حکمِ طالق دے دیں گے ورنہ نہیں، اس سے  پوچھا جائے کہ تُونے یہ لفظ بہ نیتِ طلاق کہے تھے یانہیں، اگر قسم کھالے کہ میں نے بہ نیت طلاق نہ کہے تھے، تو طلاق نہ مانی جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کے توطلاق ثابت ہوجائے گی جب تک یہ انکار حاکمِ شرع کے حضور نہ ہو طلاق ثابت نہ ہوگی ہاں اگراقرار کردے کہ بہ نیت طلاق کہے تھے تو طلاق ہوگئی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter