مسئلہ ۳۰۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تقریباً ۱۱سال کاہوا میری شادی کو ہوئے، میرے شوہرنے مجھ کو تین چار بار اپنے مکان سے نکال دیا، برادر جمع ہوئے اور مجھ کو میرے شوہر کے یہاں پہنچادیا، اور پھر چند عرصہ کے بعد میرے شوہر نے مجھ کو اپنے مکان سے باہر نکال دیا اور کہہ دیا کہ ''تُونکل جا، آج سے مجھ سے اور تجھ سے کسی قسم کا کچھ تعلق نہیں''۔ اب عرصہ چھ ۶سال سے اپنے والدین کے مکان پرہوں، بردران نے دو۲ شخص مقررکئے وُہ بتاریخ ۲شوال ۱۳۳۶ھ یومِ جمعہ کو میرے شوہر کے مکان پر گئے اور انہوں نے یہ لفظ میرے شوہر سے کہے کہ تمہاری بی بی بہت تکلیف میں ہے اور وہ تمہاری پاس آنا چاہتی ہے، اس پر میرے شوہر نے یہ جواب دیا کہ ''وہ میری بی بی تو اسی تاریخ سے نہیں رہی جب سے وُہ گئی ہے اور اسی تاریخ سے چھوڑچکا ہوں صرف اس کو پریشان کرنے کے واسطے چھوڑرکھا ہے''۔ اب کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں اپنے شوہر کی زوجیت میں رہی یانہیں؟
الجواب
صورتِ مستفسرہ میں عورت پر ایک طلاق بائن ہوگئی اور وُہ اس کی زوجیت سے نکل گئی، اگراس روز سے آج تک جسے سائلہ چھ۶سال کا عرصہ بتاتی ہے اسے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے ہوں جیسا کہ ظاہر یہی ہے اس صورت میں اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے، اور اگر شاید ابھی تین حیض نہ ہوئے ہوں تو جب ہوجائیں اس وقت اسے دوسرے سے نکاح جائز ہوگا اس لئے کہ وہ چھ۶برس سے طلاق دینے کا مقر ہے اور وُہ دونوں اسی وقت سے جدا ہیں تو عدت جبھی سے لی جائے گی۔
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر وظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق، الاان المتاخرین اختارواوجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختہا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا وھو المختار کما فی الصغری اھ ووفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ، امااذاکانا مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر فلایصدقان فی الاسناد قال فی البحر وھذاھوالتوفیق ان شاء اﷲتعالٰی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ و جمھور الصحابۃ والتابعین رضی اﷲتعالٰی عنھم وحیث کانت مخالفتھم للتھمۃ فینبغی ان یتحری بہ محالھا والناس الذین ھم مظانھا ولھذا فصل السغدی بمامر اھ واقرہ فی البحر والنھر ۱؎اھ اقول وانما اسند الامر الی اقرارہ لان قولہ "نکل جا" یحتمل الرد کما نصوا علیہ و قولہ "تعلق نہیں " یحتمل السب کما حققناہ فی جدالممتار والحال حال الغضب فلایحکم بالطلاق الااذا اقر بالنیّۃ و"چھوڑنا" من الصریح بلساننا فان کان قولہ "اسی تاریخ سے" الخ راجعا الی ذینک اللفظین، کان اقرار بالنیۃ، فالعدۃ مذذاک بالاجماع وان فرض علی خلاف الظاھر صرفہ عن الکلام المعروف الی کلام باطن مجہول اوجعل اقرار کاذبا کاف انشاء مسند افالعدۃ مذذاک بحکم التوفیق۔واﷲتعالٰی اعلم۔
بحرمیں فرمایا کہ مبسوط میں امام محمد کا ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخیرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے اس لئے ایسے شخص کو بیوی کی بہن اور اس کی بیوی کے ماسواچارعوتوں سے نکال حلال نہ ہوگا جب تک اقرار کے بعد مکمل عدّت پوری نہ ہوجائے، متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے، اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغرٰی میں ہے اھ، اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیداکرتے ہوئے کہاکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند وبیوی بیان کردہ وقتِ طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں، اور اگروُہ دونوں اس وقت سے وقتِ اقرار تک اکٹھے رہ رہے ہوں،تو دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے لہذا وقت کے بیان میں دونوں کی تصدیق نہ کی جائے گی (اور اقرار کے وقت سے ہی عدت شمار ہوگی) بحر میں فرمایا دونوں کلاموں میں یہ توفیق اِن شاء اﷲ درست ہے، اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوٰی ائمہ اربعہ، جمہور صحابہ اور تابعین رضی اﷲتعالٰی عنہم کے مخالف ہے اور متاخرین کا یہ فتوٰی مقام تہمت کے لئے ہے، لہذامناسب ہے کہ موقع محل کے متعلق سوچ بچار سے کام لیاجائے، اور لوگوں میں ایسے واقعات پائے جاتے ہیں، اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل واضح کرتے ہوئے مذکورہ موافقت بیان کی ہے اھ، اور اس کو بحر اور نہر میں ثابت رکھا ہے اھ اقول(میں کہتاہوں) اور خاوند کے اقرار سے حکم متعلق اس لئے ہوگا کہ خاوند کا کہنا ''نکل جا'' جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پرنص کی ہے، اور خاوند کا کہنا''تعلق نہیں'' ڈانٹ کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے جدالممتار حاشیہ ردالمحتار میں تحقیق کی ہے جبکہ حالت بھی غضب والی ہے تو اس وقت تک طلاق کا حکم نہ ہوگا جب تک طلاق کی نیت کا اقرارنہ کرے، اور لفظ ''چھوڑنا'' ہماری زبان میں صریح طلاق ہے، اس لئے خاوند کا کہنا ''اسی تاریخ سے الخ'' اگر پہلے دونوں لفظوں کی طرف راجح ہو تو یہ نیت طلاق کا اقرار قرار پائے گا لہذا عدت کا شمار بالاجماع اسی تاریخ سے ہوگا، اور اگر اس کی بات کو معروف معنی کے بجائے مجہول اور مخفی معنی کی طرف پھیراجائے یا اقرار کو جھوٹ قرار دیاجائے، اگرچہ یہ خلافِ ظاہرہے تاہم یہ انشاء ہوگا اور اس وقت کا اعتبار ہوگا لہذا عدت یہاں سے شمار ہوگی جیساکہ موافقت کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۱۰)
مسئلہ۳۰۸: از ریاست رامپور محلہ شاہ آباد دروازہ مسئولہ سید نادر علی صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی منکوحہ کو بوجہ زبان درازی مارا، اس پراور زیادہ بدکلامی اور گفتگو ناشائستہ کرنی چاہی، زید نے اور سختی کی، اور یہ لفظ مجبور ہوکر منکوحہ سے کہا کہ چلی جا۔ اس واقعہ کے وقت زید کے رشتہ کے بہنوئی موجود تھے، لفظ''چلی جا'' سُن کر زید سے کہا کہ اب تمہارا نکاح کب رہا، اس پر زید کو اور زیادغیظ بڑھا جو انتہا درجہ پر شمار کیاجائے اور کوئی نشیب وفراز کا خیال نہ کیا اسی حالتِ غیظ،میں اپنے بہنوئی کی طرف مخاطب ہوکر چونکہ وہ اس کے پاس کھڑا تھا لفظ طلاق چند بار جس کی تعداد پورے طور یا د نہیں کہا اور یہ بھی کہا کہ''آزاد کیا''، ان لفظوں کی ادائیگی زید نے متوجہ کرکے یا مخاطب ہوکر اپنی منکوحہ سے نہ کہے بلکہ اس وقت زید کا فاصلہ اپنی منکوحہ سے آٹھ سات قدم کا تھا اور منکوحہ زید کے روبرو نہ تھی اور اس کا ایجاب وقبول نہ ہوا۔ ایسی صور ت میں نکاح جائز رہا یاباطل ہوا؟اور زید کی منکوحہ ۵ماہ کی حاملہ بھی ہے، لہذا یہ مسئلہ علمائے دین کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے کہ آپ صاحبان اپنی مُہر ودستخط سے مزیّن فرمائیں۔
الجواب
زید نے لفظ ''طلاق طلاق'' چند بار کہا اگر اس سے اپنی زوجہ کو طلاق دینی مقصود تھی تو تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی،
لانہ ان ثلث فذاک وان ثنی فثالثھما قولہ قولہ" آزاد کیا" لانہ لایحتمل رداولاسباوقدصارت الحال حال المذاکرۃ لانہ قالہ لمدخولہ "طلاق طلاق" کما ذکرہ السائل والاضافۃ فی السابق اضافۃ فی اللاحق کقولہ طلقتک طلقتک۔
کیونکہ اگر تین مرتبہ کہا تو تین، ورنہ اگر دو مرتبہ طلاق کہا تو پھر تیسری طلاق اس کے ''آزاد کیا'' کہنے پر ہوگئی، کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب بننے کا احتمال نہیں رکھتا، جبکہ پہلے ''طلاق'' کہنے پر مذاکرہ طلاق بھی بن چکا ہے کیونکہ مدخولہ عورت (وطی شدہ) کو طلاق طلاق کہا ہے جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے، اور پہلے طلاق میں بیوی کی نسبت آخری لفظ میں بھی معتبر ہوگی'جیسا کہ''میں نے تجھے طلاق دی'' میں ہوتا ہے۔(ت)
مگر یہ اس کے اقرار پر موقوف ہے کہ اس لفظ''طلاق طلاق'' سے زوجہ کو طلاق دینی مرادتھی اگر اقرار نہ کرے گا اُن الفاظ سے حکمِ طلاق نہ ہوگا اگر واقع میں اس نے نیتِ طلاق کی تھی اور مُکر جائے گا تو وبال اس پر رہے گا
مستحق عذابِ نار ہوگا، عورت کے پاس جانا اس کے لئے زنا ہوگا عورت پر الزام نہ ہوگا۔ خلاصہ پھر ہندیہ میں ہے:
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقعٍ۱؎۔
ایک نشے والے کی بیوی اس سے بھاگ گئی تو یہ اس کے پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہوا تو(بالفاظ فارسی) کہا ''تین طلاق'' بعد میں اگر وُہ کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو کہا تھا، تو طلاق واقع ہوجائے گی، اور اگر کچھ نہ کہاتو طلاق نہ ہوگی۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا۲؎۔
بیوی بھاگی تو کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا ''تین طلاق'' اگر بعد میں کہے''میں نے بیوی کو کہا ہے'' تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی انقرویہ کتاب الطلاق دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان۱ /۷۴)
پھر اگر وہ اقرار مذکور کرلے جب تو کوئی بحث ہی نہ رہی کہ تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اقرار نہ کرے تو یہ الفاظ خارج ہوکر دو۲ لفظ رہے''چلی جا'' اور ''آزاد کیا'' پہلا لفظ مطلقاً محتاجِ نیت نہیں ہے۔ درمختار میں :اذھبی یحتمل ردا۳؎(کیونکہ جواب بن سکتا ہے۔ت)اگر قسم کھاکرکہے کہ بہ نیت تفریق زن نہ کہا تھا، تو اس لفظ سے طلاق نہ مانیں گے یہ قسم مکان ہی پر کافی ہے حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں، اگر جُھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا بھی پھرزنا کا وبال اس پر ہے،
(۳؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
درمختار میں ہے:
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ۴؎۔
خاوند سے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے(ت)
(۴؎درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
دوسرا لفظ''آزاد کیا'' اگر چہ نہ محتملِ رَد ہے نہ محتملِ سبّ، اور حالتِ غضب ہے تو طلاق مطلقاً ہونی چاہئے تھی،
درمختار میں ہے:
انت حرۃ لایحتمل السب والرد۵؎۔
''تُوآزاد ہے'' کہنا ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا۔(ت)
(۵؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
مگر لفظ آزاد کیا میں عورت کی طرف اضافت نہیں تو اگر بحلف کہہ دے گا کہ عورت کی نسبت نہ کہا تھا' تو طلاق کا اصلاً حکم نہ ہوگا اگر جُھوٹا حلف کرے گا تو اس کا پھر زنا کا وبال اور عذابِ شدید کا استحقاق اُس پر ہے۔
''تُومیری اجازت کے بغیر مت نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے'' کہا، تو عورت نکل گئی، طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کی قسم نہ کہا، اور احتمال ہے کہ کسی دوسری عورت کی طلاق مرادلی ہے لہذا شوہر کی وضاحت کا اعتبار کیا جائے گا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۵)
بالجملہ اگر ''طلاق طلاق'' سے نیت طلاق کی اقرار کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ ایک بائن کا حکم ہے، عورت نکاح سے نکل گئی، عدت میں خواہ بعد عدت اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے مگریہ کہ بحلف کہے کہ لفظ ''آزاد کیا'' اس زوجہ کی نسبت نہ کہا تھا تو اب اس سے حلف لیں گے کہ ''چلی جا'' سے اس عورت کو طلاقِ بائن کا ارادہ کیا تھا یانہیں، اگر اس پر بھی حلف کرلے گا تواصلاً حکمِ طلاق نہ ہوگا، اور اگر اس پر حلف سے انکار کرے تو قاضی کے حضور پیش کیاجائے اگر حاکم کے سامنے بھی انکار کرے تو ایک طلاق بائن کا حکم دیا جائے گا، عورت نکاح سے نکل گئی، غصّہ یا حمل یا عورت کا دُور ہونا کچھ منافیِ طلاق نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)