| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۳۰۴: سائل مذکورالصدر بتاریخ مذکور اسی مسئلہ کے متعلق بکر بزورِ طبع زید کو ترغیبِ عزت واحترام دنیاوی دلاکرکہتا ہے کہ تم اس مسئلہ میں اقرار شبہہ کا اقرار کرو تو ہم بمقابلہ عوام تمہاری عزّت دونی کرادیویں گے اگر کوئی اعتراض کرے گا تو صدہا غلطیاں وشبہات خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین پیش کرکے لوگوں کو سرنگوں کر دیویں گے وبصورتِ عدم اقرارشبہہ بدعتی کا حکم لگادیں گے، غور فرمایا جائے کہ بمقابلہ عوام کے خواص کی غلطیاں دکھلانا ایک جزئی مسئلہ میں توہینِ خواص متصور ہے یانہیں؟اورایک مسلمان کو بدعتی کہنا کیسا ہے؟ الجواب بکر نے جو حکم لگایا تھا کہ یہ نکاح نہ ہوا اور تمتع زنا ہوگا یہ شریعت مطہرہ پر اس کا افتراء تھا، اسی پر اپنی خطا کا اقرار لازم ہے، اگر اصرار کرے تو وہی بدعتی ہے کہ احکامِ شریعت کو نہیں مانتا اور اپنے گھڑے حکم پر جما ہے اس وقت تک اگر اس کا افتراء نادانستہ تھا اور اب جان کر مُصر ہوگا تو قصداً مفتری علی اﷲہوگا۔اوراﷲعزوجل فرماتا ہے:
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون۱؎۔
(۱؎ القرآن ۶ /۱۰۵)
جھوٹا افتراء وہ لوگ بناتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔(ت)اوراللہ عزوجل فرماتا ہے:
ان الذین یفترون علی اﷲالکذب لایفلحون۲؎۔
بیشک جو لوگ اﷲتعالٰی پر جھوٹ افتراء بازی کرتے ہیں وُہ فلاح نہیں پائیں گے۔(ت)
(۲؎القرآن ۱۰ /۹۶)
اس کا یہ طمع کی رشوت دیناکہ ہم تمہاری عزت بڑھادیں گے ناپاک ومردود ہے، عزت سب اﷲکے ہاتھ ہے،
(۳؎القرآن ۴ /۱۳۹)
کیا وُہ ان کے ہاں عزت چاہتے ہیں تو عزت ساری کی ساری بیشک اﷲتعالٰی کے لئے ہے(ت) دانستہ حق کو باطل کہنا اور حق سے رجوع کرکے اس میں اپنا شبہہ بتانا موجب عزت نہیں دارین میں سخت ذلت کا باعث ہے، خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین رضی اﷲتعالٰی عنہم نے کبھی رجوع عن الحق نہ فرمائی ان کا اس طرح ذکر بلاشبہہ توہین ہے بکر بے ادب مختل الدین ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ۳۰۵: ازمارہرہ ضلع ایٹہ عقب تھانہ مرسلہ عصمت اﷲخاں قادری ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ مسمّاۃ مجیدن جس کی عمر قریب ۹سال کے تھی اس کا نکاح اس کی پھپی کے لڑکے رحیم خاں سے ہوا، کبھی میل جول عورت مرد کا جیسا ہونا چاہئے نہ ہوا، اس وقت مجیدن کی عمرقریب ۱۳سال کے ہے اس کے شوہر نے گاؤں میں مشہور کیا کہ وُہ مرد نہیں ہے نہ عورت کے قابل، چند آدمی اپنے رشتہ داراور غیرلوگوں اور اپنی ساس سے یہ کہا کہ میں کسی قابل نہیں ہوں میں جواب دے دُوں گا میرے چھوٹے بھائی سے اس کا عقد کردو یہ بیوی نہیں ہے بلکہ ماموں زاد بہن ہے۔ اس پر اس کی ساس بہت ناخوش ہوئی، اب اس سے جواب کے لئے کہا جاتا ہے وُہ انکار کرتا ہے، کبھی کہتا ہے میں اب مردہوگیا، کبھی لوگوں سے کہا میں اس عورت کی ناک کاٹ لوں گا۔ یہ عورت اس کے گھر جانا نہیں چاہتی نہ اس کی ماں اس کو بھیجنا چاہتی ہے بلکہ دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ آیا وہ عورت اب بلاطلاق لئے دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتی ہے؟ الجواب اس کا کہنا کہ میں کسی قابل نہیں اور یہ کہ میں جواب دے دوں گا، اور یہ کہ میری بی بی نہیں، اور یہ کہ ماموں زاد بہن ہے، ان میں سے کوئی لفظ کلمہ طلاق نہیں البتہ اس کا یہ لفظ کہ''فلاں سے اس کاعقد کردو'' کنایہ طلاق ہوسکتا ہے،
علی معنی زوجو ھا فلانا لانی طلقتھا کما قال ش فیمن زوج امرأتہ من غیرہ موجھا لمن قال ان نوی طلقت لعل وجہہ ان قولہ زوجتک امرأتی فلانۃ یحتمل ان یکون علی تقدیر ان صح تزویجھا منک اوتقدیر لانھا طالق منی فاذا نوی الطلاق تعین الثانی فتطلق اھ۱؎۔
''اس کا نکاح فلاں سے کردو کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے'' کے مطابق ہے، جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول''جس نے اپنی بیوی کا نکاح دوسرے سے کردیا'' کے متعلق جس نے کہا اگر طلاق نیت کی ہوطلاق ہوجائیگی اس قول کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا خاوند کا کہنا کہ''میں نے اپنی فلاں بیوی کا تجھ سے نکاح کیا'' اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ تجھ سے نکاح کیا اگرتجھ سے نکاح کرنا جائز ہو۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے تجھ سے نکاح کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے رکھی ہے، تو جب طلاق کی نیت سے کہے تو صرف دوسرا احتمال مراد ہوگا، اس لئے طلاق ہوجائے گی اھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۴)
رحیم خاں سے قسم لی جائے کہ تُونے اس لفظ سے طلاق کی نیت کی تھی یانہیں، اگر قسم کھالے گا کہ میں نے اس لفظ سے طلاقِ مجیدن کی نیت نہ کی تھی طلاق ثابت نہ ہوگی دوسری جگہ نکاح حرام محض ہوگا، اور اگر قسم کھانے سے انکار کردے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت اسی وقت سے جب سے یہ الفاظ اس نے اپنی ساس سے کہے تھے نکاح سے باہر سمجھی جائے گی پھر اگر خلوت اصلاً نہ ہوئی جب تو عورت وقتِ طلاق ہی سے نکاح ثانی کی محل ہوگئی اور اگر خلوت ہوئی اگرچہ جماع نہ کرسکا تو اگر جب سے اب تک عدت یعنی بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو اب ورنہ جب ختم ہوں دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہے اور اگر رحیم خاں نہ ملے کہ اس پر قسم رکھی جاتی تو طلاق ثابت نہیں نکاح حرام ہوگا قال اﷲتعالٰی والمحصنٰت من النساء۱؎(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن ۴ /۲۵)
مسئلہ۳۰۶:ازچھپر امحلہ نئی بازار تربنہ مرسلہ حاجی عبدالرزاق صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ زید نے بارہا اپنی بی بی کو غصہ کی حالت میں کہاتم ہمارے سامنے ونظر سے دور ہوجاؤ جب وُہ سامنے سے دُور نہیں ہوتی اس وقت وُہ جوتا لے کر دوڑتا ہے تب وُہ سامنے سے علیحدہ ہوجاتی ہے آیا طلاق عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ الجواب اگر اس نے بہ نیتِ طلاق یہ الفاظ نہ کہے تو طلاق نہ ہوئی، اور اگر ایک بار بھی بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی مرد سے قسم لی جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ کبھی بہ نیت طلاق نہ کہے تو حکم طلاق نہ دیں گے، اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے، یہ قسم حاکم کے سامنے ہونا ضروری نہیں عورت گھر میں قسم لے سکتی ہے۔
درمختار میں ہے:
یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ۲؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
عورت کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)