مسئلہ۳۰۲: از شاہجہان پور محلہ دلدداک متصل مسجد کوٹھی بابوسمیع اﷲ خاں مرسلہ سید امجد علی صاحب ہیڈکانسٹیبل پنشنر۲۵ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
عمرو ایک نوکری پیشہ ہے اور اس کی ایک لڑکی محمودہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی عرصہ تین چار سال ہُواکہ اس کی ماں سوتیلی نے اپنے حقیقی بھائی کی صلاح سے جو محمود کا سوتیلا ماموں ہے بلارضا مندیِ عمرو محمودہ جس کی عمر۱۴سال تھی کی شادی خالد جوبدچلن لامذہب آدمی ہے سے کردی، دس بارہ یوم میں محمودہ کو جب علم ہو ا کہ یہاں پرکوئی کام مطابق شرع نہیں، تب خالد کو فہمائش پابندی نماز کی کی جس پر محمودہ کو سخت وسُست کہا گیا اور ہرطرح کی تکلیف خوردونوش اور صوم وصلاۃ کی دی گئی اور آخرکارخالد نے محمودہ کو باپ کے گھر پہنچادیا، کچھ عرصہ بعد والدہ و نانی خالد کی آئیں اور خدا اور رسول کو درمیان میں ڈال کر اور اقرار اس بات کا کرکے کہ اب لڑکی کو تکلیف نہ ہوگی اور اس کو ناخوش نہ رکھاجائے گا محمودہ کو رخصت کرالے گئیں، دس پندرہ یوم تک محمودہ وہاں رہی، مگر قسم اور اقرار کی پابندی نہ دیکھ کروہ میکہ چلی آئی غرضیکہ اس عرصہ چار سال میں چار پانچ مرتبہ ایسا ہی اتفاق ہوا، اخیر مرتبہ خالد کے باپ نے حلف لیا اور ذمہ دار ہُوا اور لڑکی کو رخصت کرالے گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد خالد نے محمودہ سے بات چیت کرنا گھر میں آناچھوڑدیااور بالآخر زیور وکپڑا اتارکریہ کہہ کر کہ اب عمر بھر کوجاؤ ہم سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اس کو میکے میں پہنچادیا اور ایک جماعت کثیر کے جلسہ میں جس میں چند اصحاب نمازی اور پابندِ صوم وصلوٰۃ موجود تھے کہا کہ ہم نے اب دربہ ہی پھونک دیا اور مجھ سے ومحمودہ سے کوئی تعلق نہیں رہا اور جب سے اب تک کوئی خبر گیری نہ لی۔
الجواب
لوگ بہت گول سوال کرتے ہیں کچھ نہ بتایا کہ نکاح کے وقت محمودہ بالغہ تھی یانابالغہ، چودہ سال کی عمر میں دونوں باتیں محتمل ہیں، اگر عارضہ ماہواری آتا ہو بالغہ ہے ورنہ نابالغہ، یہ نہیں بتایا گیا کہ ا گر بالغہ تھی تو اس کا اذن لیاگیا یانہیں، اور نابالغہ تھی تو باپ نے اس نکاح کو سُن کرکیا کہااور یہ رخصت کس کی اجازت سے ہوئی۔ جب تک ان باتوں کی تفصیل نہ بتائی جائے حکم متعین نہیں ہوسکتا، اور ہرشق کا حکم بتانا خلاف مصلحت شرعیہ ہے، تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ نکاح کو صحیح مان کر طلاق کی نسبت استفسار ہے کہ ان لفظوں سے ہوئی یانہیں، اگر وُہ واقعی لامذہب ہے بایں معنی کہ زندیق ودہریہ ہے کوئی دین نہیں رکھتا یابایں معنی کہ وہابی غیرمقلد ہے جب تو نکاح ہی نہ ہُوا طلاق کیسی، اور اگر بایں معنی کہا کہ دین کے احکام پر قائم نہیں، ہر قسم کے لوگوں سے میل جول ہے، تو اگر نکاح صحیح فرض کرلیاجائے جس کی حقیقت بغیر امور مذکورہ کے واضح نہ ہوگی تو طلاق کی نسبت اتنا جواب ہے کہ یہ الفاظ کنایہ ہیں، طلاق اس کی نیت پر موقوف ہے، اگر بہ نیت طلاق کہے ایک طلاق بائن ہوگئی، عورت نکاح سے نکل گئی ورنہ نہیں،اور نیت ہونے نہ ہونے میں مرد کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے،کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۳:از رانچی اوپربازار مرسلہ جناب عبدالرب۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
شوہر نے اپنی بی بی سے کہا کہ مجھ سے اور تجھ سے کوئی سروکار واسطہ نہیں میں نے تجھ کو چھوڑ دیا
بعد کہنے ان الفاظ کے تفرقہ وقطع تعلق بعد زمانہ ڈیڑھ سال کے دوسرے مرد نے اس عورت سے نکاح کرنا چاہا بعض نے کہا کہ اسے شوہر نے طلاق نہیں دیا ہے، شوہر سے پوچھا کہ تم نے طلاق دی ہے یانہیں، اس نے بیان کیا کہ ڈیڑھ دوسال سے میں نے اس کو چھوڑدیاہے اور کوئی واسطہ وسروکار نہیں ہے اور وُہ داخل طلاق ہے اور طلاق ہی جانئے، سوال یہ ہے کہ واسطہ وسروکار نہیں اورمیں نے اسی کو چھوڑدیاہے، طلاق بالکنایہ محتاج نیت ودلالت حا ل کی ہے، عرصہ ڈیڑھ دوبرس سے باہمی تفرقہ وقطع تعلق رکھنا موافق قولِ ثانی امام محمد کے جو مختار سغدی ہے دلیل اوپر نیت طلاق کے ہے تیسرا جملہ داخل طلاق یاطلاق ہی جانیے صریح ہے، پس وقوعِ طلاق مسند زمان ماض اندر مدّت ڈیڑھ دوسال کے ثابت ہے یانہیں اور انقضائے عدت زمانہ وقوع طلاق سے عرصہ ڈیڑھ دوسال کے اندر موافق روایات فقہیہ متعلق ہے یانہیں، اور یہ دوسرا نکاح بعد ڈیڑھ دوسال کے صحیح ہوا یانہیں، زید بسند کتب معتبرہ فقہیہ ہدایہ وبحر وفتح وغیرہ ثابت کرتا ہے کہ جب وقوعِ طلاق باسناد سند زمان ماض متعلق ہے اور طلاق سبب عدت تو عدت اندر ڈیڑھ دوسال کے گزرگئی نکاح دوسرا صحیح ہے بکر کہتا ہے کہ نہیں بلکہ وقتِ اقرار سے عدت محسوب ہوگی یہ دوسرا نکاح باطل ہے بلکہ تمتع فیما بین داخلِ زنا، پس قول بکر کا صحیح ہے یازید کا؟
الجواب
''مجھ کو تجھ سے کوئی سروکار نہیں'' یہ تو الفاظ طلاق سے ہی نہیں،
کقولہ لاحاجۃ لی فیک لااشتھیک۱؎کمانص علیہ فی العلمگیریۃ وغیرہا۔
جیسا کہ خاوند کہے''مجھے تجھ میں حاجت نہیں، تجھ میں میری خواہش نہیں ہے، جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں اس پر نص موجود ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
''مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں'' یہ ضرور کنایاتِ طلاق سے ہے کقولہ لم یبق بینی وبینک شیئ۲؎(جیسا کہ یُوں کہے میرے اور تیرے درمیان کچھ نہیں ہے۔ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۷۶)
اور''میں نے تجھ کو چھوڑدیا''یہ لفظ صریح ہے کما بیناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کو بیان کردیا ہے۔ت) اب اگر اُس نے ان لفظوں سے کہ''مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں'' طلاق کی نیّت کی تھی تو دوطلاقیں بائن ہوگئیں،
کیونکہ صریح بائن کولاحق ہوتی ہے اور صریح اور بائن جمع ہوجائیں تو بائنہ صریح کو بائنہ بنادیتی ہے کیونکہ رجوع نہیں ہوسکتا۔(ت)
اور اگر اس سے طلاق کی نیت نہ کی ہوتو ایک طلاق رجعی ہوئی اگر چہ دوسرے لفظ سے بھی نیت نہ کی ہو،
لان الصریح لایحتاج الی النیۃ ولتاخرہ عن الکنایۃ لم یکن قرینۃ علٰی نیۃ الطلاق بھا۔
کیونکہ صریح طلاق نیت کی محتاج نہیں ہوتی، چونکہ صریح طلاق یہاں کنایہ کے بعد ہے لہذا کنایہ کے وقت نیتِ طلاق کا قرینہ موجود نہ تھا۔(ت)
خاوند نے بیوی کو غصہ میں کہا''میری روح طلاق والی ہے'' تو ایک طلاق رجعی ہوگی اگرچہ وُہ زیادہ طلاقوں کی یابائنہ کی نیت کرے یا کوئی نیت نہ کرے ہرطرح ایک رجعی ہوگی، کیونکہ یہ صریح ہے اورکنایہ وُہ ہوتی ہے جس میں طلاق کا احتمال ہواور طلاق کا ذکر بھی نہ ہو جیسا کہ اس کو قاضی خاں نے کنایات کے باب میں ذکر کیا ہے جبکہ یہاں صریح طلاق مذکور ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۴ و ۵۵)
یہ بعد میں مذکور ہے جبکہ قرینہ کے لئے ضروری ہے کہ وُہ پہلے ہو، جیسا کہ پہلے اعتدی(تو عدّت پوری کر)تین مرتبہ کہنے کے متعلق معلوم ہوچکا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۴)
اسی میں ہے:
لایقع بالاول شیئ لانہ لم ینوبہ ودلالۃ الحال وجدت بعدہ۲؎اقول وفیماذکر فی الخیریۃ نوع مخالفۃ لمامر عن المحیط والظاھر مافی المحیط وعبارۃ الخانیۃ الکنایۃ ماتحتمل الطلاق ولایکون الطلاق مذکورانصا۳؎ فانما معناہ لایکون نصافی الطلاق کیف وقد قال فیہا لوقال انت طالق فاعتدی وقال عنیت بہ العدۃ صحت نیتہ وان عنی بہ تطلیقۃ اخری اولم ینو شیئا فھی تطلیقۃ اخری وکذٰلک واعتدی اوقال اعتدی بغیر حرف العطف۴؎فقد اوقع بالکنایۃ اخری عند النیۃ مع وجود الصریح وانمالم یحتج الی النیۃ لتقدم الصریح فکان من المذاکرۃ بخلاف مانحن فیہ فانہ کقولہ بینی فانت طالق واﷲ تعالٰی اعلم۔
کنایہ پہلے ہوتو اس سے کوئی طلاق نہ ہوگی جبکہ نیتِ طلاق نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت میں نیت اور دلالت دونوں نہ پائے گئے، اور دلالت اگرچہ ہے مگر بعد میں ہے جو کہ قرینہ نہیں بن سکتی اقول(میں کہتاہوں)خیریہ میں جومذکور ہے وُہ محیط سے منقول کے کچھ خلاف ہے جبکہ ظاہر وہی ہے جو محیط میں ہے، خانیہ کی عبارت یوں ہے کہ کنایہ وُہ جو طلاق کا احتمال رکھے اور صراحۃً طلاق مذکور نہ ہواھ،جبکہ اس کامعنٰی یہ ہے کہ طلاق میں نص نہ ہو، یہ کیونکر نہ ہو جبکہ انہوں نے خانیہ میں فرمایا کہ اگر خاوند بیوی کو کہے''تو طلاق والی ہے پس تُو عدت پوری کر'' اور پھر کہے کہ میں نے فاعتدی(پس تُوعدت پوری کر) سے عدت مرادلی ہے، تواس کی نیت صحیح ہوگی اور اگر کہے کہ میں نے اس سے دوسری طلاق مراد لی ہے یا کہے کہ میں نے کوئی نیت نہیں کی، تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی، اور یُونہی اگر''و''عطف کے ساتھ یا بغیر عطف واعتدی اور اعتدی کہے تو بھی یہی حکم ہے، تو یہاں اس بیان میں انہوں نے ''اعتدی'' کے کنایہ سے نیت کے ساتھ دوسری طلاق' باوجود یکہ اس سے پہلے صریح طلاق مذکور ہے، واقع ہونا تسلیم کیاہے، تو بلاشک کنایہ میں نیت کی ضرورت نہ ہوگی جہاں صریح طلاق پہلے مذکور ہو تاکہ وُہ مذاکرہ طلاق بن سکے، اس کے برخلاف جو ہم بیان کررہے ہیں اس میں کنایہ پہلے اور صریح بعد میں ہے لہذا وہ ''تو جدا ہوتجھے طلاق ہے'' کی طرح ہے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۴)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۱۶)
(۴؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۱۶)
وقتِ اقرار سے عدت معتبر ہونا کہ برخلاف ائمہ اربعہ وجمہور صحابہ وتابعین رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین فتوائے متاخرین ہے صرف محل تہمت میں ہے اور وُہ بھی وہاں کہ طلاق صرف اقرار سے ثابت ہواگر پہلے سے معلوم ہے تو بلاشبہہ بالاجماع وقت طلاق ہی سے عدت ہے،یوں ہی اگر پہلے سے طلاق کا ثبوت نہیں مگر جس وقت سے طلاق دینا بیان کرتا ہے جب سے زوجہ کو جُدا کردیا ہے تو اس صورت سے بھی فتوائے متاخرین متعلق نہیں،اور یہاں یہ دونوں باتیں موجود ہیں طلاق قبل اقرار ثابت ہے اور اس وقت سے وُہ اسے جُدا بھی کرچُکا تو یہاں وقت اقرار سے عدت لیناصراحۃً باطل وخلاف اجماع ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر ظاھر کلام محمد فی المبسوط وعبارۃ الکنز اعتبارھا من وقت الطلاق الاان المتاخرین اختار وا وجوبھا من وقت الاقرار حتی لایحل لہ التزوج باختھا واربع سواھا زجرالہ حیث کتم طلاقھا، وھو المختار کما فی الصغری اھ و وفق السغدی بحمل کلام محمد علی مااذاکان متفرقین من الوقت الذی اسند الطلاق الیہ، اما اذاکان مجتمعین فالکذب فی کلامھما ظاھر لایصدقان فی الاسناد، قال فی البحروھذا ھو التوفیق ان شاء اﷲتعالٰی وفی الفتح ان فتوی المتاخرین مخالفۃ للائمۃ الاربعۃ وجمہور الصحابہ والتابعین وحیث کانت مخالفتھم للتھمۃ فینبغی ان یتحری بہ محالھا والناس الذین ھم مظانھا، ولہذا فصل السغدی بما مراھ ملخصاو اقرہ فی البحروالنھر۔۱؎
بحر میں فرمایا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کا مبسوط میں ظاہر کلام اور کنز کی عبارت میں ہے کہ عدت کا اعتبار طلاق کے وقت سے ہے مگر متاخرین نے اس میں اقرار کے وقت سے عدت کا وجوب مانا ہے، اس لئے اس کو بیوی کی بہن اور اس کے ماسوازائد چارعورتوں سے نکاح حلال نہ ہوگا جب تک اقرار کے بعد مکمل عدت پوری نہ ہوجائے، متاخرین کایہ حکم طلاق کو چھپانے کی سزا کے طور پر ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ صغرٰی میں ہے اھ، اور سغدی نے امام محمد اور متاخرین کے کلاموں میں موافقت پیدا کرتے ہوئے یُوں کہا کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے کلام کا محمل یہ ہے کہ جب خاوند اور بیوی بیان کردہ وقتِ طلاق سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں اور اگر وہ دونوں اس وقت سے اب اقرار تک اکٹھے رہ رہے ہوں توپھر طلاق کے لئے بیان کردہ وقت میں دونوں کا جھوٹ ظاہر ہے اس لئے وقت کے بیان میں تصدیق نہ کی جائے گی(اور اقرار کے وقت سے ہی عدت شمار ہوگی) اور بحرمیں فرمایا یہ موافقت درست ہے ان شاء اﷲتعالٰی۔ اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوٰی ائمہ اربعہ، جمہور صحابہ کرام اور تابعین کے قول کے مخالف ہے، تو یہ مخالفت تہمت کے مقام میں ہے، تو بہتر ہے کہ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے سوچ بچار سے کام لیاجائے، اور لوگوں میں ایسے واقعات موجود ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل بیان کی ہے جو گزرچکی اھ ملخصاً، اور اس کو بحر اور نھر میں ثابت رکھا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب العدّۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۱۰)
ڈیڑھ دوسال میں اگرچہ ذوات الحیض کی مدت کا انقضاء لازم نہیں فقد تکون ممتدۃ الطہر(کیونکہ کبھی لمبے طہر والی ہوتی ہے۔ت) مگر شک نہیں کہ اتنی مدت انقضائے عدت کے لئے کافی ضرورہے کہ امام کے نزدیک کم ازکم دو۲ مہینے اور صاحبین کے ہاں انتالیس۳۹دن میں تین حیض گزرسکتے ہیں اور عورت کانکاح پر اقدام انقضائے عدت کا اقرار تو صحت نکاح میں کوئی شبہہ نہیں جب تک کہ عورت کا اس اقرار میں کذب شرعاً نہ ثابت ہویُوں کہ طلاق سے مثلاً ڈیڑھ برس بعد نکاح کیا اور اس نکاح کو چھ۶ مہینے اور طلاق کو دوبرس گزرنے سے پہلے بچّہ پیدا ہوا کہ اس صورت میں صاف ظاہر ہوا کہ عدت نہ گزری تھی،
بدائع، وبحر ودرمختار وغیرہا میں ہے:
اقدامھاعلی التزوج دلیل انقضاء عدتھا۲؎۔
بیوی کانکاح کے لئے اقدام اس کی عدت ختم ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے(ت)
(۲؎ بحرالرائق باب العدّۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۴۷)
بالجملہ قول بکر غلط محض ہے اور حاصل قول زید کا اس وجہ پر کہ ہم نے تقریر کی ہے واﷲتعالٰی اعلم۔