مسئلہ ۲۹۶: ۵ربیع الاوّل شریف ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کچہری میں اپنی بی بی کی نسبت بیان کیا کہ میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اور اس کی اولاد میرے نطفہ سے نہیں ہے اورحاکم نے بموجب بیان کے مقدمہ کو فیصل کرکے اس کی بی بی اور اس کی اولاد قرار نہ دی حالانکہ نکاح اس کا درحقیقت اسی عورت سے ہوچکا تھا اب شرعاً نکاح اس کا جائز رہایانہ رہا اور اولاد اس کی فوت ہونے کے بعد اس کا ترکہ پائے گی یانہ پائے گی اور بعد حنث اس شخص پرکفارہ یمین عائد ہوگا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
سائل مظہر کہ شخص مذکور نے انگریزی کچہری میں کسی مصلحت سے ایسا اظہار حلفی دیا پس صورت مستفسرہ میں وُہ شخص جھوٹے حلف کا گنہگار ہوا، توبہ استغفار کرے، باقی نہ نکاح گیانہ کفارہ آیا، نہ اولاد اس کے لئے ترکہ سے محروم ہوئی،
نکاح کا باقی رہنا اس لئے کہ اس کا انکار نکاح کوموثر نہیں کرتا جبکہ یہ مقام بھی خبر دینے کے لئے متعین ہے کیونکہ یہ اظہار ہے اور وُہ بھی حلف کے ساتھ ہے بلکہ خود لفظ بھی انشاء کا احتمال نہیں رکھتا، جیسا کہ مخفی نہیں، اس کے برخلاف اگر کوئی کہے کہ''تُومیری بیوی نہیں ہے تو یہ بالاجماع طلاق نہیں(باوجود یکہ یہ انشاء ہے)۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
ان قال لم اتزوجک ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع۔۱؎
اگرخاوند کہے''میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا'' تو بالاجماع طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ بدائع میں ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
اُسی میں ہے:
اتفقواجمیعا انہ لوقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ ولست واﷲ بامرأۃفانہ لایقع شیئ وان نوی کذافی السراج الوھاج۲؎، ملخصاً۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند کہے''خدا کی قسم تُومیری بیوی نہیں'' یایوں کہے ''خُدا کی قسم میری بیوی نہیں'' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ملخصاً۔(ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
اسی طرح اور کتب میں ہے: واما عدم الکفارۃ فلان المعھود فی محاکمھم غیرالقسم وان کان فلاکفارۃ فی غموس واماعدم انتفاء نسب الولد حتی یحرموامن ترکۃ فلعدم تحقق اللعان ومجرد النفی لاینفی وان تصادق علیہ الزوجان۔
اور لیکن کفارہ اس لئے نہیں کہ کچہری میں حلف کو قسم نہیں قرار دیاجاتا ہے، اور اگر قسم ہوبھی تویہ یمین غموس ہے جس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا، (ماضی کے معاملہ میں جھوٹی قسم کو یمین غموس کہتے ہیں) باقی بچے کے نسب کا انتفاء اس لئے نہیں ہوگا کہ لعان کے بغیر نکاح کی نسبت منتفی نہیں ہوسکتی، اورلعان کے بغیرنفی پر خاوند بیوی دونوں متفق ہوجائیں تب بھی اولاد کی نسب منتفی نہیں ہوسکتی۔(ت)
درمختار میں ہے:
من قذف زوجتہ ونفی نسب الولد منہ اومن غیرہ وطالبتہ بموجب القذف وھوالحد، لاعن فان لاعنت بعدہ والاجست تلاعن او تصدقہ فان صدقہ لاینتفی النسب لانہ حق الولد فلایصدقان فی ابطالہ۱؎اھ ملتقطا، واﷲتعالٰی اعلم۔
جس نے بیوی پر زنا کی تہمت لگائی یا بچے کے نسب سے انکار کردیا، یا بیوی کے پہلے خاوند سے بچے کے نسب کو اس کے والد سے منتفی کیا اور بیوی نے قاضی کے ہاں اس پر حدِقذف کا دعوٰی کیا تو خاوند نے لعان کیا تو اس کے بعد اگر عورت نے لعان کیا تو بہتر ورنہ بیوی کو قید کیا جائےگا حتی کہ وُہ لعان کے لئے تیار ہوجائے یا خاوند کی تصدیق کرے، اور خاوند کی تصدیق کردی تو نسب منتفی نہ ہوگا کیونکہ یہ بچے کا حق ہے، لہذا بچے کے حق کو باطل کرنے میں ان دونوں کی بات تسلیم نہ کی جائیگی اھ ملتقطا وا ﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب اللعان مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۲۔۲۵۱)
مسئلہ۲۹۷: ۱۹ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی منکوحہ سے دو۲بار کہا کہ ''تو میرے نکاح سے باہر ہے، بجائے میری ماں بہن کے ہے'' آیا اس کی منکوحہ پر طلاق پڑی یانہیں؟اور یہ ظہار ہے یانہیں؟اور اگر طلاق ہوگئی تو رجعت ہوسکتی ہے یانہیں؟اور بعد رجعت کفارہ ظہار زوج کو ادا کرنا چاہئے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب
سائل نے عندالتفتیش بیان کیا کہ اس نے ایک جگہ جانے کے لئے اپنی زوجہ کو کہا تھا اس نے
انکار کیا اس نے اصرار کیا آخرکہا''اگر نہ جائے گی تو میرے نکاح سے باہر ہوجائے گی'' اس نے پھر بھی نہ مانا تو کہا''تومیرے نکاح سے باہر ہوگئی، تُوبجائے میری ماں بہن کے ہے'' اس صورت میں عورت پر ایک طلاق بائن پڑجانے کا حکم ہے،
لان اللفظ من الکنایات کقولہ لم یبق بینی وبینک نکاح۱؎کما فی الھندیۃ وظاھر انہ لایصلح ردّاولاسبّا والحالۃ حالۃ الغضب۔
کیونکہ یہ لفظ کنایات میں سے ہے، جیسا کہ ''تیرے اور میرے درمیان نکاح نہیں'' جیسا کہ ہندیہ میں ہے،اور ظاہر ہے کہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتا اور حالت بھی غصّہ والی ہے۔(ت)
(۱؎ فتاویٰ ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
اور اب ظہار کاکوئی محل نہیں،
فان الظہار یعتمد الزوجیۃ کما فی الدرالمختار وانہ بعد البینونۃ صادق فی بیان الحرمۃ کما فی ردالمحتار۔
کیونکہ ظہار نکاح میں ہوسکتا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے، اور خاوند طلاق بائن کے بعد اپنے بیانِ حُرمت میں سچا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے۔(ت)
تو کفارے کی حاجت نہیں اور صرف رجعت کی صورت نہیں بلکہ نکاح پھر کرے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۹۸: ازرچھا تھانہ بہیٹری ضلع بریلی ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے بیٹوں سے ناخوش ہوا اور ان کو علیحدہ کردیا، لوگ برادری کے جمع ہُوئے کہ ان کو ایک جگہ جمع کردیں، باپ یعنی زید کو سمجھانا شروع کیا، اسی اثناء میں زید نے اپنی بی بی کی نسبت کہا کہ مجھ کو اس سے کوئی تعلق نہیں خواہ یہ اپنے لڑکوں میں رہے یا کسی جگہ چلی جائے میں لادعوٰی ہوں مجھ کو اس سےکچھ مطلب نہیں، وُہ برادری کے لوگ جو جمع تھے ان میں سے ایک شخص عمرو نے کہا کہ اے زید !خاموش ہو اپنی زبان کو روک ،یہ کیا کہتا ہے ،ایسے لفظ نہیں بولتے ہیں زید نے پھر دوبارہ سہ بارہ اسیطرح سےکہا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ مجھ کوکوئی دعوٰی نہیں جہاں چاہے چلی جائے مجھ کو کچھ تعلق نہیں، غرض جُوں جُوں عمرو اس کو سمجھاتا تھااُتنا ہی زید ان الفاظ کو بار بار کہتا تھا چار چھ مرتبہ اُن سب کے رُوبرویہ الفاظ زید نے اپنی زبان سے نکالے، اب زید چاہتا ہے کہ میں بی بی کو اپنے پاس رکھوں، برادری کے بعض لوگ بھی کہتے ہیں کہ زید نے اس وقت غصے میں کہہ دیا تھا کچھ حرج نہیں اور چاہتے ہیں کہ میاں بی بی کا میل جول کرادے، تو فرمائیے کہ اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟اور میاں بی بی کو خلط ملط جائز ہے یانہیں؟یا جوبات عنداﷲ ہو بیان فرمائیے، بینوا بالصدق والصواب وتوجروا عنداﷲیوم الحساب۔
الجواب
''مجھے اس سے کچھ مطلب نہیں'' کے سواباقی الفاظ کنایات طلاق سے ہیں ان کے کہنے میں اگر زید نے عورت کو طلاق دینے اور اپنے نکاح سے باہر کردینے کی نیت کی تھی تو ایک طلاق بائن ہوگئی،
ولایتعدد بالتکرار لان الکنایۃ البائنۃ لاتلحق طلاقا بائنا کما فی البحر والدروغیرہا۔
اور یہ تکرار کی وجہ سے متعدد طلاقیں نہیں ہوسکتیں، کیونکہ کنایہ والی بائنہ طلاق پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی، جیسا کہ بحر اور دُر وغیرہما میں ہے(ت)
اس صورت میں تو عورت کو رضا مندی کے ساتھ اس سے نکاح کرلے اور اگر یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے نہ کہے تھے تو طلاق ہی نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے یہ بات کہ ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی تھی یا نہ کی تھی خود زید کے بیان سے معلوم ہوگی عورت اس سے قسم لے کرپوچھے اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو طلاق کا حکم نہ ہوگا،
فی الدرالمختار ویکفی تحلیفہالہ فی منزلہ۔۱؎
درمختار میں ہے کہ عورت کا گھرمیں خاوند سے قسم لے لینا کافی ہے(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
اگر زید جُھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال زید ہی پر ہے، عورت الزام سے بری ہے اور اگر زید قسم کھانے سے انکارکردے یا صاف اقرار کردے کہ میں نے وہ الفاظ بنیت طلاق کہے تھے تو بغیر نکاح جدید کے اُ ن میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۹: ازسرولی پر گنہ آنولہ ضلع بریلی محلہ رنگریزاں مرسلہ مسیتن زوجہ وزیر بیگ ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ مسماۃ مسیتن کو مرزا وزیر بیگ شوہر میرے نے عرصہ دراز سے ہر طرح کی تکلیف دے کر اپنے مکان سے نکال دیا ہے اور میں اپنے باپ کے گھر رہتی ہوں، یہاں تک کہ میں نان شبینہ کو محتاج ہُوں، چنانچہ چند بار میں نے شوہر مذکور سے بابت نان ونفقہ بذریعہ تحریر طلب کیا سو اس کے جواب میں یہ نوٹس بھیجا جوہمرشتہ سوال ہذا ہے یقین ہے کہ ملاحظہ سے گزرا ہوگا لہذا امید ہوں کہ برائے عنداﷲ بموجب حکم شرع شریف کے اجازت ہوکہ میں اپنا نکاح کسی مرد صالح کے ساتھ کرلوں جس سے قوت بسری میری متصور ہو فقط
نقلِ نوٹس: نوٹس بنام مسمّاۃ مسیتن دخیرخیراتی واضح ہو تم نے چند بار واسطے خرچ کے مجھ کو لکھا کہ مجھ کو خرچ کی سخت ضرورت ہے خوب بات ہے اگر تم بلااجازت میرے اپنی ماں کے گھر نہ چلی جاتیں تو میں تم کو خرچ کچھ نہ کچھ دیا کرتا اگرچہ میں پہلے ہی تم سے ازحد ناخوش ہوں مگر اب تو میرا بالکل ہی تم سے کُچھ تعلق نہیں رہا، مجھ سے تم کسی قسم کی اُمید مت رکھنا بلکہ تم کو اپنی ذات کا اختیار ہوچکا، میں تم سے دست بردار ہُوں، زیادہ اور لکھوں فقط، راقم وزیر بیگ از پیاس ۹جولائی ۱۹۰۴ء
الجواب
صورت مستفسرہ میں ایک طلاق بائن پڑنے کا حکم دیا جائے گا عورت اپنے آپ کو نکاح سے باہر سمجھے اور روز طلاق کے بعد تین حیض کامل شروع ہوکر ختم ہوجانے کے بعد اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے،
لان نفی التعلق من بین کنایات التطلیق وکذا دست برداری ولا یحتملان ردا و لاسبّا والحالۃ حالۃ الغضب فیحکم بالوقوع بل اللفظ الباقی ایضا کنایۃ عن التطلیق دون التفویض کما یعلم من یعرف اسالیب التحاور واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ کنایات میں تعلق کی نفی کو طلاق دینا قرار دیاگیا ہے اور یُونہی ''دستبردارہونا'' کا حکم ہے، یہ دونوں لفظ جواب اور ڈانٹ کا احتمال نہیں رکھتے اور حالت بھی غصہ والی ہے، اس لئے طلاق واقع ہونے کا حکم ہوگا اور اسی طرح باقی الفاظ بھی کنایہ والے ہیں جن سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے اور ان سے بیوی کو اختیار دینا نہیں ہوتا جیسا کہ محاورات کے مفہومات کو سمجھنے والا ہر شخص جانتا ہے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت اور اس کا مرد یعنی خاوند اس کا میاں بی بی میں جھگڑا اور فساد ہوا اور غصہ تھا اس غصہ کی حالت میں عورت نے کہا مجھ کو طلاق دے دو، اس کے میاں نے غصّہ کی حالت میں تین بار کہا تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی تو ہماری بہن ہوچکی۔ اس صورت میں طلاق ہُوئی یا نہیں جب غصہ اُترا تو خیال کیا یہ ہم نے کیا کہافقط۔ یہ واقعہ ہُوا ہے ایک نومبر ۱۹۰۶ء کو، آج پانچواں دن ہے۔
الجواب
تین طلاق کی اس صورت میں اصلاً گنجائش نہیں،
کیونکہ اگر بائنہ ہوتو وہ پہلی بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی،اور ظاہر یہ ہے کہ ظہار نہیں کیونکہ ظہار میں تشبیہ ہوتی ہے جو یہاں نہیں ہے لہذا فقہاءِ کرام کا ظاہر قول یہی ہے کہ اس صورت میں طلاق نہ ہوگی، غور کی ضرورت ہے۔(ت)
احتیاط یہ کہ آپس میں نکاح نئے سرے سے کرلیں، دو۲ مردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کے سامنے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱: از شاہجہانپور محلہ باروزی اول ۸شوال ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ اپنی ساس کی بدمزاجی اور سخت کلامی سے اپنے والدین کے مکان پر چلی آئی زید اس کے شوہر نے جو پردیس میں ملازم ہے ایک خط بقلم خود بذیعہ ڈاک ہندہ کے باپ کے نام لکھا، علاوہ کلماتِ سخت کے یہ بھی لکھا کہ اب آپ عمر بھر لڑکی کو بٹھائے رکھئے اور اب وہ کبھی نہیں بلائی جاوے گی اور اب آپ دیکھئے گا کہ مجھ کو لوگ کیسے لڑکی دیتے ہیں اور اب آپ لڑکی کو اپنے پاس رکھئے اور آپ کی لڑکی میں کیا صفت ہے، اب آپ لڑکی کو بٹھائے رکھئے جب تک جی چاہے، اور میرا اس کا کچھ تعلق نہیں اور اب آپ کی لڑکی کوکوئی نہیں بُلائے گا اور میں والد صاحب کو لکھ دُوں گا کہ آپ سے کچھ تعلق نہ رکھا جاوے اور لڑکی کو بلایا جاوے اور میری آپ کی خط وکتابت بھی یہیں سے قطع ہوتی ہے اب آپ جواب اس کا نہ دیجئے گا میں نہیں چاہتا، پس یہ کلمات جو زید نے لکھے وُہ طلاق تک پہنچے یانہیں؟
الجواب
ایسے خط سے طلاق نہیں ہوسکتی جب تک زید اس کے لکھنے کا اقرار نہ کرے، پھر بعد اقرار بھی حکمِ طلاق نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس لفظ کے بہ نیتِ طلاق کہنے کا اقرار نہ کرے کہ میرا اس کا کوئی تعلق نہیں، ہاں اگر وہ کہے کہ یہ خط میں نے اور یہ الفاظ بہ نیت طلاق لکھے تھے تو ضرور ایک طلاق بائن کا حکم دیاجائیگا اور اگر واقع میں اس نے یہ لفظ بہ نیت طلاق لکھے تھے اور اب اس کا انکار کرجائیگا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔