| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۹۵: ماقولکم رحمکم اﷲ فی ھذہ المسئلۃ نکاحِ زید باہندہ حسب آئین شرع محمدی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم منعقد گشت بعد چند روز ہندہ راخلل جن واقع گردید از دُعا ودواہیچ فاقہ نہ شد سالے بہمیں حال مبتلا ماند والدینِ ہندہ ہندہ رابرمکان خود آوردند ووالدینِ زید زیدرا نصیحت کردند کہ انقطاع واحترازاز صحبت ہندہ باید کرد مباداایں بلابرتوہم مستولی نشود زید نوعے خیال ایں سخن نکرد وخفیہ از والدین خود آمد وشد جاری داشت وقتیکہ والدین زید ازیں آمد وشد مطلع شدند زید راتنگ گرفتند وممانعت قطعی نمودند زید نصیحت وامتناع والدین کا رگرشد واز ہندہ انقطاعِ کلی کرد وہمدریں اثنا بفضلِ الہٰی ہندہ را صحت کلی حاصل گشت مگر زید از وانقطاع دارد وتا حال بہ ہندہ رجوع نگردید وارادہ رجوع ہم ندارد وتاسہ سال کامل نزدوالدین خود قیام نمودوتاحال موجود ست جملہ مصارف ہندہ متعلق والدین ہندہ ماند ووالدین ہندہ مفلوک الحال ومزدور پیشہ ہستند وزید از قرض نانے ہم باہندہ گاہے مسلوک نگشت ونمی شود بارہا گفتگوئے ایں بجانبین درمیان آمد الّازید ووالدینش صاف جواب دادوگفت کہ(مارااز ہندہ مطلق سروکار نیست از جانب ماایں جواب صاف را طلاق فہمید) پس اندریں صورت نکاح ہندہ بادیگر کس کردن جائز خواہد شد یانہ، علمائے ذوی الکرام ومفتیان ذوی الاحترام استفتاء رااز مواہیرودستخط بجواب صاف شرعیہ مزیّن فرمایند بینواتوجروا مکر را ینکہ گفتگو ے اووالدینش کہ آں برجواب صاف دادن مبنی ست جواز طلاق دادن رایانہ فقط، علمائے کرام، آپ رحمکم اﷲتعالٰی کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ زید کاہندہ کے ساتھ شرع محمدی کے مطابق نکاح ہوا، اس کے چند روز بعد ہندہ کو آسیب ہوگیا، علاج ودعا کے باوجود ہندہ کوکوئی افاقہ نہ ہوا، ایک سال اسی حال میں مبتلا رہی، تو ہندہ کے والدین ہندہ کو اپنے گھر لے گئے، اور زید کے والدین زید کو ہندہ سے انقطاع اور احتراز کی تاکید کرتے رہے تاکہ زید اس بیماری سے متاثر نہ ہو، تو زید نے اپنے والدین کی اس نصیحت کی پروا نہ کرتے ہوئے خفیہ طور پر ہندہ کے پاس آناجانا جاری رکھا، جب زید کے والدین کو اس پر اطلاع ہوئی تو انہوں نے زید کو سختی سے ا س میل جول سے منع کردیا او رزید نے والدین کی ممانعت پر عمل کرتے ہوئے ہندہ سے کلی طور انقطاع کرلیا اسی دوران اﷲکا فضل ہوا اور ہندہ بالکل تندرست ہوگئی، مگر زید نے اپنا کُلی انقطاع قائم رکھا اور اب تک اس نے ہندہ کی طرف رجوع نہ کیااورنہ ہی رجوع کا ارادہ رکھتا ہے اور دوتین سال سے والدین کے پاس ہی ہندہ تمام مصارف پورے کررہی ہے اور تمام بوجھ ہندہ کے والدین پر ہے جب کہ ہندہ کے والدین خود مفلوک الحال اور مزدور پیشہ ہیں اور زید نے کبھی ہندہ کے لئے روٹی کی ٹکیہ تک خرچہ نہ بھیجا، متعدد بار فریقین میں معاملہ بنانے کی کوشش ہوئی مگر زید اور اس کے والدین نے صاف جواب دے دیا اور کہا ہمار ا ہندہ سے کوئی سروکار نہیں اور ہماری طرف سے یہ صاف جواب ہے اور اس کو طلاق سمجھا جائے، تو کیا اندریں حالات، ہندہ کا کسی دوسرے شخص سے نکاح جائز ہوگایانہیں؟ علمائے کرام اور مفتیان ذوی الاحترام سے درخواست ہے کہ استفتاء کا جواب اپنے دستخطوں اور مہروں سے مزیّن فرماکر ماجور ہوں، نیز مکررہے کہ زید اور اس کے والدین کا یہ کہناکہ''ہمارے صاف جواب کو طلاق سمجھا جائے'' کو طلاق دینامتصوّر کیا جائے یانہیں، فقط،(ت) الجواب اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب۔ اے اﷲ! حق کی رہنما ئی فرما۔(ت) در صورت مستفسرہ طلاق براں زن واقع نشد زیرا کہ سروکار نبودن جز اظہار بے غرضی وبے پروائی افادۃ معنی دیگر نمی کند واگر شوہر مرزنش راگوید مراباتوغرضے نیست یا پروائے تو نداریم یا تو مرابکار نیستی یا تومراچیزے نباشی یا میان من وتوچیزے نماندہ است ہرگز طلاق واقع نشود اگرچہ باینہاارادہ ونیّت طلاق کردہ شد وپُر ظاہر کہ سروکار نبودن بیش ازیں الفاظ نیست بلکہ علماء روشن گفتہ اند کہ اگر زن را گفت تو مرابیگانہ ایں ہم لغوو مہمل باشد پس لفظ مذکور فی السؤال اولی باہمالٖ
مسئولہ صورت میں عورت کوطلاق نہ ہوئی، کیونکہ سروکار نہ ہونا، بے غرضی، بے پروائی کے علاوہ کوئی معنٰی نہیں رکھتا، بلکہ اگر شوہر خاص بیوی کو کہے ''مجھے تجھ سے غرض نہیں، میں تیری پروا نہیں رکھتا ،تو میرے کام کی نہیں ،تو میرے لئے کوئی چیز نہیں، یا تیرے اورمیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں رہی'' تب بھی ہرگز طلاق نہ ہوگی، اگرچہ یہ الفاظ طلاق کی نیت سے بھی کہہ دے اور طلاق کی نیت کرے، تو ''سروکار نہیں'' ان مذکورہ الفاظ سے زیادہ سخت نہیں، بلکہ مشہور علماء کاارشاد ہے کہ اگر خاوند، بیوی کویہ کہے ''تُومیرے لئے بیگانی ہے'' تو یہ مہمل اور لغوکلام ہوگی، تو سوال میں مذکور الفاظ بطریق اولٰی مہمل ہیں،
فی العٰلمگیریۃ لوقال لاحاجۃ لی الیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق(وفیھا) اذا قال لااریدک اولااحبک اولااشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی۱؎(وفیھا) لوقال لم یبق بینی وبینک شیئ ونوی بہ الطلاق لایقع۲؎ وفی الخلاصۃ قال تومرابیگانہ او قال لا حاجۃ لی فیک لایقع وان نوٰی۳؎، وفی الھندیۃ ایضا سئل ابوبکر عن سکران قال لامرأتہ بیزارم بیزارم بیزارم تو مراچیزے نباشی الٰی قولہ ارجو انھا لاتطلق وھی امرأتہ۴؎، وچوں ظاہر شد کہ ایں لفظ ازالفاظ طلاق نیست نہ صریح نہ کنایہ، پس قولِ اُوکہ از جانب ماایں جواب صاف را طلاق فہمند نیز لغو باشد زیر آکہ اُوپیش از اظہار طلاق نیست پس گویا حاصل کلامش آن ست کہ چنیں گفتہ کہ بایں گفتن نیت طلاق کردم وخود اگر نیت مے کردکار گرنمی باشد کما اوضحناپس اظہار مہمل جز مہمل نباشد
عالمگیری میں ہے کہ خاوند بیوی کوکہے''مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں'' اور طلاق کی نیت کرے تو بھی طلاق نہ ہوگی۔ اور اسی میں ہے اگر یُوں کہے کہ '' میں تجھے نہیں چاہتا، میں تجھے پسند نہیں کرتا، میں تجھ سے خواہش نہیں رکھتا'' یا کہے ''مجھے تجھ میں کوئی رغبت نہیں'' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کے مطابق ہے۔ اور اسی میں ہے کہ اگر یوں کہا''میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز باقی نہیں'' تو نیت طلاق کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ اور خلاصہ میں ہے اگر خاوند نے کہا تو میرے لئے بیگانی ہے یاکہے مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں، تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ عالمگیری میں ہے کہ علاّمہ ابوبکر سے نشہ والے کے بارے میں سوال کیا گیا اس نے اپنی بیوی کو کہا''میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں میں بیزار ہوں'تو میرے لئے کچھ نہیں'' تو انہوں نے جواب میں بیان فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ طلاق نہ ہوگی اور بیوی بحال رہے گی۔ تو واضح ہوگیا کہ سوال میں مذکور لفظ، صریح یا کنایہ طلاق کالفظ نہیں ہے تو ان کا کہنا کہ''ہمارا صاف جواب طلاق سمجھاجائے'' بھی لغو اور مہمل ہے، کیونکہ اس سے قبل زید کی طرف سے طلاق کاکوئی اظہار نہیں، تو اس کی کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ گویا اس نے کہا ''میں نے اس بات سے طلاق کی نیت کی ہے'' اور نیت بھی کرے تب بھی طلاق کےلئے کارگرنہیں ہے جیسا کہ واضح ہوچکا ہے، پس یہ مہمل برائے مہمل ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵) (۲ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۶) (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۲ /۹۸) (۴؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۳)
قلت ولایمکن جعلہ طلاقا مبتدألانہ ارشاد الی غیر معتبرشرعا وما لم یعتبر شرعا فلیس فی وسع احدان یجعلہ معتبرا قال فی الدرالمحتار لایقع طلاق النائم ولوقال اجزتہ اواوقعتہ لایقع لانہ اعاد الضمیرالٰی غیر معتبرجوہرۃ۱؎اھ وقد صرح بالجزئیۃ فی الخانیۃ حیث قال، قال لھا احسبی انک طالق لایقع وان نوی۲؎اھ ملخصا پس درصورت مذکورہ زنہار روانیست کہ ہندہ بامردے دگرنکاح کند ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
قلت(میں کہتا ہوں۔ت) اس گفتگو کو ابتداء طلاق قرار دینا درست نہیں، کیونکہ شرعی طور پر غیر معتبر لفظ سے اشارہ ہے، اور جو شرعاً غیر معتبر ہواس کوکوئی بھی معتبر نہیں بناسکتا، دُرمختار میں فرمایا کہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ وُہ بیدار ہوکر کہے کہ میں نے اسے جائز قرار دیا ہے یا اس کو واقع کرتا ہُوں، تو پھر بھی نہ ہوگی کیونکہ وُہ جس کلام کو واقع کرنا چاہتا ہے وہ نیند کی کلام ہے جو غیر معتبر ہے، جوہرہ، اھ۔ اورخانیہ میں اس خاص جزئیہ کی تصریح کی ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے، تو یہ خیال کرلے کہ تُوطلاق والی ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے بھی کہے اھ ملخصاً، لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ کو ہرگز جائز نہیں کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ یہ میری تحقیق ہے حقیقی علم اﷲتعالٰی رب العزت کو ہے۔ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۸) (۲؎ قاضی خان کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۰)