| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
(جواب ناقص ملا) مسئلہ۲۹۳: ازشہر کہنہ ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنی زوجہ سے جس کا نام ہندہ اور جو کئی سال سے اس کے نکاح میں تھی بغرض اپنی شادی دوسری جگہ کرنے کے اس کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کیں اوربجبر اس پر تہمت زنا کی لگاکر ایک پرچہ تحریر کیا اور پر چہ اپنے قلمدان میں رکھا اس روز ہندہ کو سختی ایسی دی کہ زید کے وارثان نے ہندہ کے وارثوں کو خبر دی کہ تم اپنی لڑکی کو اپنے گھر لے جاؤ وہ سخت تکلیف میں ہے۔ اس پر ہندہ کی ماں ہندہ کو اپنے گھر لے آئی اور پرچہ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے وہ بھی ہندہ اپنے ساتھ لائی اس پر ہندہ کے وارثوں نے ایک مجمع عام میں زید کو ایسے کلمات کی تحریر سے نصیحۃً فہمائش کی، بجواب اس کے زید نے کہا کہ میں نے چھوڑا، مجھے کچھ تعلق نہیں، جو اسباب ہندہ کا ہے ابھی مجھ سے لے لو۔ ہندہ کے وارثوں نے دوشخصوں کو زید کے پاس ہندہ کا اسباب لینے کو بھیجا، زید نے کُل اسباب دے دیا، اُن لوگوں نے ہندہ کے حوالہ کردیا،ہندہ نے کہا کہ میرا زیور باقی ہے وہ بھی لاؤ،۔ وہ ہی شخص زیور لینے زید کے پاس گئے، زید نے زیورکا وعدہ کیا کہ بیس۲۰روزمیں دوں گا۔ چنانچہ زید نے بیسویں روز رُوبرو چار آدمیوں کے کل زیور دے دیا اور پھر کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں۔ اس صورت میں زیدنے دومرتبہ یہ کلمہ کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں۔ منشا زید کا ان کلمات سے ظاہر ہے۔عرصہ چار سال ہوا جب سے اس وقت تک کچھ تعلق نہیں رکھا۔ اس صورت میں شرعاً ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔ الجواب صورتِ مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاحِ زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا، ہاں اگرلفظ جو زید نےکہے اسی قدر ہیں اور اس حالت میں وُہ حلف شرعی کے ساتھ بیان کرے کہ میں نے یہ الفاظ ہندہ کی نسبت نہ کہے تھے اسے چھوڑنا مراد نہ تھا تو وقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے پھر اگر وُہ اپنے اس حلف میں جُھوٹا ہوتو اس کا وبال اور عذابِ الہی کا استحقاق زید ہی پر رہے گا ہندہ پر الزام نہ آئے گا،
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا۱؎اھ وفی البزازیۃ والخانیۃ فی قولہ لاتخرجی من الدارالاباذنی فانی حلفت بالطلاق انہ یحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول قولہ۲؎اھ واﷲتعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں خلاصہ سے اور وہاں فتاوٰی سے منقول ہے اگر کسی نے بیوی کو کہا''اگر تُوعورت ہے تو مجھ سے تین طلاق''عورت کے ساتھ یاءِ نسبت کو ذکر نہ کیا، تو پھر کہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی، تو طلاق نہ ہوگی اس نے جب یاء کو حذف کردیا تو اب طلاق بیوی کی طرف منسوب نہ ہوئی اھ۔ بزازیہ اور خانیہ میں ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیرمت نکل، کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے، تو اس میں خاوند کی وضاحت معتبر ہوگی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے کسی اور کی طلاق مراد لے کر قسم کھائی ہواھ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲) (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۵)
مسئلہ۲۹۴: ازقصبہ ولی تحصیل آنولہ ضلع بریلی مرسلہ مسمّاۃ محمودی بنت شیخ علیم اﷲ ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسمّی ولایت خاں شوہر(مجھ مسمّاۃ محمودی) نے عرصہ دراز سے مجھ کو چھوڑدیا ہے، نہ مجھ کو نان نفقہ دیتا ہے،میں بوجہ نہ ملنے نان ونفقہ کے بہت تکلیف میں ہوں، لہذا میں بھی اس شخص سے بوجہ تارک الصّلٰوۃ ونیزنہ دینے نان ونفقہ کے ناخوش ہوں، چنانچہ ایک پرچہ نوٹس ناخوشی شوہر مذکور کا میرے پاس آیا وہ ہمرشتہ سوال ہذاہے، امید کہ برائے خدائے علمائے دین بموجب شرع شریف حکم آزادگی کا ارقام فرمائیں تاکہ میں نکاح اپنا کسی شخص صالح سےکرلوں اور عمر میری بسر ہو، عبارت نوٹس یہ ہے کہ پرچہ نوٹس آپ کا دربارہ نالشی متذکرہ نان ونفقہ دختر آپ کی کا یعنی محمودی کا آیا، اس کاجواب یہ ہے کہ جب تک آپ کی لڑکی میرے گھر رہی تب تک آپ میرے خسررہے جس روز سے کہ اس کو میں نے آزاد کرکے معہ جملہ اسباب جہیز وغیرہ اس کے ہمراہ کردیا گیا اور آپ کے گھربھیج دیا گیا مجھ سے اور اس سے کچھ تعلق شرعاً نہیں رہا، نہ اس کا کوئی سامان میرے ذمہ باقی رہا بلکہ اس روز بہت پنچان قصبہ سرولی کے موجود تھے وہ بھی اس امر کے گواہ ہیں، اگر مجھ سے اور مسماۃ مذکور سے کچھ تعلق ہوتا تو میں ضرور اس کے نان ونفقہ کی فکر کرتا، آپ کیوں برابر تحریر کرتے ہیں، اب آپ کے نوٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ پھر پنچان جمع کرکے میرے مکان پر لانے والے ہیں اگر آپ نے ایسا کیاتو مجھ سے اور آپ سے رنج حد کو پہنچے گا، لہذا اب آپ پنچان کے جمع کرنے کا ارادہ نہ کریں، اس واسطے نوٹس دیا گیا مطلع رہو۔ ازمقام دھنورہ مرسلہ ولایت خاں۲۱/اکتوبر ۱۹۲۰ء۔ الجواب عبارت نوٹس سے(کہ جب تک میرے گھر رہی آپ میرے خُسر رہے جس روز سے اس کو میں نے آزاد کرکے آپ کے گھر بھیج دیا)صاف اقرار طلاق ظاہر ہے،
اعتاق المرأۃ وان کانت من الکنایات فلایتحمل ردّاولاسباکمالایخفی، وفی الدر المختار انت حرۃ لایحتمل السب والرد۱؎، قال الشامی واعتقتک مثل انت حرۃ کما فی الفتح۲؎ والحالۃ کماتری حالۃ الغضب فلایفھم فی الحکم الاالطلاق والمرأۃ کالقاضی کمافی الفتح وغیرہ۔
بیوی کو ''آزاد ہے'' کہنا، اگرچہ الفاظ کنایہ میں سے ہے تاہم یہ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور صرف طلاق مراد ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں ہے، درمختار میں ہے: بیوی کو کہنا''توآزاد ہے'' ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا، اور اس پرعلّامہ شامی نے فرمایا''میں نے تجھے آزاد کیا'' ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے''تُوآزاد ہے'' جیسا کہ فتح میں ہے، اور حالت بھی غصہ کی ہوتو پھر طلاق ہی حکم سمجھاجاسکتا ہے، اس میں عورت قاضی کی مانند ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴) (۲؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۵)
پس اگر گواہانِ شرعی سے ثابت ہوکہ یہ نوٹس اسی کا لکھا ہوا ہے یا وُہ مقر ہوتو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور وقت تحریر نوٹس سے عدّت لی جائے گی اگرچہ ہندہ بھی تسلیم کرتی ہوکہ جس وقت اس نے گھر سے نکالا تھا طلاق دے دی تھی جس کا اقرار اس نوٹس میں ہے، ہا ں اگر ہندہ گھر سے نکالتے وقت طلاق دینے کی مقر ہے اور اس وقت سے تحریر نوٹس کے وقت تک اتنازمانہ گزرگیا جس میں عدّت منقضی ہوتو عدّت تو محمودی کو روز تحریرنوٹس ہی سے کرنی پڑے گی مگر اس عدّت کا نفقہ شوہر سے نہ پائے گی
مواخذۃ علیھا باقرارھا وان امرہ الشرع بالعدّۃ قطعاللتزویر۔
یہ بیوی کے اپنے اقرار پر مواخذہ ہے اگرچہ شرع نے اس کو عدّت کا حکم دیا ہے کیونکہ جُھوٹ ہوسکتا ہے۔(ت) اگر محمودی اس وقت طلاق دئے جانے کی مقر نہیں تو اس عدّت کے ایام کا نفقہ بھی شوہر سے پائے گی،
لان نفقۃ عدۃ الطلاق علی الزوج بالنص وبہ ظھر ضعف مافی الخیریۃ۔
کیونکہ طلاق کی عدت میں نفقہ خاوند پر نص کی وجہ سے ثابت ہواہے، اس سے خیریہ کے بیان کا ضعف واضح ہوگیا ہے(ت)
فی الخیریۃ سئل فی رجل فرض علیہ القاضی نفقۃ وکسوۃ لزوجتہ و مضت مدّۃ فادعی طلاقھا منذ زمان اجاب ان کذبتہ فی الاسناد ولم تقم بینۃ کان علیھا العدّۃ من وقت الدعوی ولھا فیھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فلانفقۃ لھاو لا سکنی۱؎ (ملخصا) واﷲتعالٰی اعلم۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے سوال کیا گیا کہ ایک شخص پر اس کی بیوی کا نفقہ اور لباس قاضی نے لازم کیا، اور کُچھ مدت گزرنے پرخاوند نے یہ دعوٰی کیا کہ میں نے بیوی کو مدت سے طلاق دے رکھی ہے، تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر عورت خاوند کے اس دعوٰی کو دلیل سے جُھوٹ ثابت کردے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو بیوی پر دعوٰی کے وقت سے عدّت لازم ہوجائے گی، اور عدّت میں اس کو نفقہ اور رہائش ملے گی، اور اگر بیوی خاوند کے دعوے کو سچ قرار دے تو پھر عدّت میں نفقہ اور رہائش نہ ملے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۷۵)