Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
14 - 155
سوم چار سومثقال چاندی،
اخرج الحافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمٰعیل القزوینی الحاکمی وابوعلی الحسن بن شاذان عن انس ایضا رضی اﷲتعالٰی عنہ فی حدیث طویل قال فیہ فی خطبۃ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ثم ان اﷲتعالٰی امرنی ان ازوج فاطمۃ من علی ابن ابی طالب فاشہدوا  انی قدزوجتہ علی اربع مائۃ مثقال فضۃ ان رضی بذٰلک علی ثم دعا النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بطبق من بسرثم قال انتھبو افانتھبنا ودخل علی فتبسم النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فی وجہہ ثم قال ان اﷲ عزوجل امر نی ان ازوجک فاطمۃعلی اربعمائۃ مثقال فضۃ ارضیت بذالک، فقال قد رضیت بذالک یا رسول اﷲ، فقال صلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جمع اﷲ  شملکما واعزجدکما وبارک علیکما واخرج منکما کثیراطیبا، قال انس فواﷲلقد اخرج منھما الکثیر الطیب۱؎، ورواہ ابن عساکر نحوہ من طریق محمد بن شھاب بن ابی الحیاء عن عبدالملک بن عمر عن یحی بن معین عن محمد بن دینار عن ھشیم عن یونس بن عبد عن الحسین عنھما و عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ ذکرہ محمد بن طاھر فی تکملۃ الکامل بن عدی کما نقلہ الحافظ فی لسان المیزان۔
حافظ رضی الدین ابوالخیر احمد بن اسمٰعیل قزوینی حاکمی اور ابوعلی حسن بن شاذان نے بھی انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا طویل حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے خطبہ میں فرمایا کہ اﷲتعالٰی نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سےکردوں ،تو گواہ ہوجاؤ کہ میں نے یہ نکاح چارسومثقال چاندی پر کردیا ہے بشرطیکہ علی رضی اﷲتعالٰی عنہ اس پرراضی ہوں۔ پھرحضور علیہ الصّلٰوۃوالسلام  نے بُسر کھجور وں کا بڑا ٹوکرا طلب فرمایا اور فرمایا: اس میں سے چن چن کر کھاؤ۔ تو ہم نے کھائیں۔ اتنے میں حضرت علی آئے تو آپ نے ان کی آمد پر تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اﷲتعالٰی نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح تجھ سے کروں چارسومثقال چاندی پر،کیا تو راضی ہے؟ تو حضرت علی نے عرض کیا:میں اس پر راضی ہوں۔توحضورعلیہ الصّلٰوۃوالسلام نے دُعا کرتے ہوئےفرمایا: اﷲتعالٰی تم دونوں کے حال متفق فرمائے اور تمہاری بزرگی کو باعزّت بنائے اور تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور تم میں سے اﷲتعالٰی کثیر طیّب پیدا فرمائے۔تو حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم اﷲتعالٰی نے ان دونوں سے کثیر طّیب پیدا فرمائے۔ اور ابن عساکر نے اسی طرح کی روایت محمد بن شہاب بن ابوالحیا سے انہوں نے عبد الملک بن عمر سے انہوں نے یحیٰی بن معین سے انہوں نے محمد بن دینار سے انہوں نے ہشیم سے انہوں نے  یونس بن عبد سے انہوں نے حسین سے انہوں نے انس (رضی اﷲتعالٰی عنہما) سے، اس کو محمد بن طاہر (بن القیسرانی) نے تکملہ کامل بن عدی میں ذکر کیا ہے، جیسا کہ اس کوحافظ نے لسان المیزان میں ذکر فرمایا ہے۔(ت)
 (۱؎ المواہب اللدنیہ     بحوالہ حدیث انس رضی اﷲعنہ زواج علی من فاطمہ رضی اﷲعنہما     المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۸۵)
ان کے سوا جو اقاویل مجہولہ ہیں کہ پانسودرہم مہر تھا یا چالیس مثقال سونا،
  نقلھا فی الرحمانیۃ عن بعض حواشی شرح الوقایۃ ۔
ان دونوں روایتوں کو شرح وقایہ کے بعض حاشیوں سے رحمانیہ میں نقل کیا ہے (ت)
یا انیس۱۹ مثقال ذہب،
ذکرہ فی المرقاۃ انہ اشتھربین اھل مکّۃ قال ولااصل لہ۲؎۔
اس کو مرقاۃ میں ذکر کیا ہے کہ یہ اہل مکّہ میں مشہور ہے جس کی کوئی اصل نہیں(ت)  سب بے اصل ہیں۔
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح     باب الصداق         فصل ثانی             المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ     ۶ /۳۶۰)
اما ما حاول القاری من توجیہ ھذا المشہور بقولہ اللھم الا ان یقال ان ھذاالمبلغ قیمۃ درع علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎
 لیکن ملّاعلی قاری نے جو  اس روایت کی مشہور توجیہ اپنے اس قول سے فرمائی، مگر یہ ہوسکتا ہے کہ یُوں کہا جائے کہ علی مرتضٰی رضی اﷲتعالٰی عنہ کی زرہ کی یہ قیمت تھی
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح     باب الصداق         فصل ثانی     المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ     ۶ /۳۶۰)
فاقول لایلتئم لما علمت انھا بیعت باربعما ئۃ وثمانین درھما تسعۃ عشر مثقالا من الذھب لاتبلغ بسعرذاک الزمن المبارک الامائۃ وتسعین درھما اذکل دینار مثقال وکل دینار بعشرۃ دراھم نعم یجوز ان یکون ھذا التقدیر ببعض الاسعار الواقعۃ فی البلدۃ الکریمۃ فی بعض الازمنۃ المتأخرۃ  واﷲتعالٰی اعلم،وکذاماحاول ھو رحمہ اﷲتعالٰی من الجمع بین تقدیری الدراھم والمثاقیل بان عشرۃ دراہم سبعۃ مثاقیل مع عدم اعتبار الکسور ۲؎۔

فاقول لایتجۃ ایضا فان اربعمائۃ مثقال فضۃ علی ھذا خمس مائۃ واحد وسبعون درھما کسر، واربع مائۃ وثمانون درھما ثلث مائۃ ستۃ وثلاثون مثقالا فلکسر فی الاول ازید من النصف فلایحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی یحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی لاسقاط الزیادۃ فی الدراہم والقصر علی ثمانین بلالوکان لقیل خمسمائۃ کام لایخفی فلیتأ مل لعل لکلا مہ  وجھا اٰخر۔
فاقول( تومیں کہتا ہوں۔ت) یہ بنتا نہیں جیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا کہ وہ زرہ چار سواسّی ۴۸۰ درہم مین فروخت ہوئی تھی جب کہ ۱۹مثقال سونا اس زمانہ مبارک کے بھاؤ سے صرف ایک سونوے ۱۹۰ درہم کا بنتا ہے، کیونکہ ایک دینار مثقال کا اور ہر دینار دس۱۰درہم کا تھا، ہاں ہوسکتا ہے کہ یہ اندازہ بعد کے زمانے میں مدینہ منورہ کے کسی بھاؤ کا ہو، واﷲتعالٰی اعلم۔ اور یونہی ان کی وُہ تاویل جس میں وُہ درہم اور مثقال کے وزنوں کو جمع کرتے ہُوئے فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دس۱۰ درہم سات۷ مثقال میں کچھ کسریں ہوں جن کا اعتبار نہ کیا گیا ہو

فاقول (تو میں کہتا ہوں۔ت) یہ بھی قابلِ توجہ نہیں کیونکہ اس طرح چار۴۰۰ مثقال چاندی پانچسو اکہتر۵۷۱ درہم اور کچھ کسر ہوتے ہیں اور چار سو اسّی ۴۸۰ درہم تین سوچھتیس ۳۳۶ مثقال ہیں تو پہلے میں کسر نصف سے زائد ہوئی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور دوسرے میں نہایت ہی کم ہے تو اس کو قابل لحاظ نہیں کہا جاسکتا، اس کے علاوہ دراہم میں زیادتی کو ساقط کرنے اور صرف اس۸۰ پر اکتفا کرنے کاکوئی معنی نہیں ہے بلکہ اگر ایسا ہوتا تو  پُورا پانچسو۵۰۰ کہنا چاہئے تھا، جیسا کہ مخفی نہیں ہے، غور کرو، ہوسکتا ہے انکے کلام کی کوئی دوسری وجہ بن سکے (ت)
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح     باب الصداق         فصل ثانی     المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ     ۶ /۳۶۰)
ۤاب بتوفیقہ تعالٰی توفیق سُنئے، پہلی دو۲ روایتوں میں وجہِ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سوا سّی ۴۸ کو بکی، اب چاہے کہئے خواہ اتنے درم، حافظ محب الدین احمد بن عبد اﷲطبرین نے دونوں روایت میں اسی طرح توفیق کی، ذخائر العقبٰی فی مناقب ذوی القربٰی میں فرماتے ہیں :
اختلف فی صداقھا رضی اﷲتعالٰی عنھا کیف کان' فقیل کان الدر ولم یکن اذ ذاک بیضاء ولاصفراء وقیل کان اربع مائۃ وثمانین  و وردمایدل کلا اقولین  ویشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اعطا ھا علیا لیبیعھا فباعھا واتاہ بثمنھا فلاتضاد بین الحدیثین ۱؎اھ ملخصا
حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کے مہر کے متعلق اختلاف ہے کہ کی تھا، بعض نے کہا کہ زرہ تھی اوردرہم یا دینار نہ تھے اور بعض نےکہا کہ چار سواسّی ۴۸۰درہم تھے۔ دونوں باتوں پر دلالت کرنیوالی مناسب اور مشابہ بات یہ ہے کہ نکاح کا انعقا زرہ پر ہُوا اور بعد میں حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے وہی زرہ حضرت علی رضی اﷲعنہ کو دے دی کہ فروخت کردو، تو اُنہوں نے فروخت کرکے قیمت آپ کو  پیش کردی،تو دونوں حدیثوں میں تضاد نہ رہا اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب          بحوالہ ذخائر العقبٰی       ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا   دارالمعرفۃ بیروت  ۲ /۶)
اور پُر ظاہر کہ روایت مسندہ ثانیہ کے الفاظ ہی خود اس تطبیق کے شاہد ہیںولہذاعلامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں کلامِ طبری نقل کرکے فرمایا :
ھذا الجمع مدلول الحدیث السابق۲؎۔
یہ پہلی حدیث کا مدلول ہے جو دونوں کوجمع کرتا ہے۔(ت)
 (۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب     بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا  دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۶)
اور روایت ثالثہ سے ان کی یُوں کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہرِ معجل پر محمول فرمایا جو وقت زفاف اقدس ادا کیا گیا۔
قلت ویشھد لہ ایضا الحدیث المذکور حیث ذکر انہ جاء بالدراھم فامرصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بشراء الطیب وان تجھز وقال لعلی ماقال فان ذٰلک انما کان حین زفت لاحین العقد کما لایخفی۔
میں کہتا ہوں کہ اس پر مذکورہ حدیث بھی شاہد ہے، جس میں ذکر ہُوا کہ حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے دراہم پیش کئے تو حضورعلیہ الصّلٰوۃ والسلام نے خوشبو اور جہیز خرید نے کا حکم فرمایا اور حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے جو گفتگو فرمائی وُہ زفاف کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے وقت کی، جیسا کہ مخفی   نہیں  ہے۔(ت) مولانا علی قاری مرقاۃ میں زرہ کی نسبت فرماتے ہیں دفعھا الیھا مھرا معجلا ۳؂  یہ مہر معجل کے طور پر دی گئی تھی۔ت)
(۳؎مرقاۃالمفاتیح     کتاب النکاح باب الصداق     فصل ثانی  المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ     ۶ /۳۶۰)
Flag Counter