| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۹۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی نسبت کہا''مجھے اس سے کُچھ کام نہیں میں اسکو نہیں رکھوں گا اگر اسے گھر میں رکھوں تو اسی کا دُودھ پیوں''پھر اس اندیشہ سے کہ شاید اس سے طلاق نہ ہوگئی ہو اس سے پھر نکاح کرلیا، اس صورت میں عورت پر طلاق ہوئی یانہیں اور یہ نکاح کافی ہوا یا نہیں؟بینواتوجروا۔ الجواب صورت مستفسرہ میں اس عورت پر طلاق واقع نہ ہوئی اور پہلا ہی نکاح اس کا بحالِ خود قائم ہے دوسرے نکاح کی کچھ حاجت نہ تھی یہ عبث واقع ہوا۔
فی العالمگیریۃ رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع۲؎انتہی۔
عالمگیری میں ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کوکہا''تومیرے کام کی نہیں'' تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت بھی کی ہواھ(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۰)
اماقولہ''میں اس کو نہیں رکھوں گا''
فھذا وان احتمل الجماع لان رکھنا بلغتنا یکنی بہ عن الجماع الا انہ عدۃ فلایفید شیئا، واما قولہ (اس کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں) فھذہ لیس من باب الایلاء فی شئی لان گھر میں رکھنا انما ھو الایلاء ای ھوالتمکین من ان تسکن فی بیتہ ولایکنی بہ عن الوطی ولایکون یمینا ایضاحتی لواٰواھا ومکنہا بعد من التمکن لاتلزمہ کفارۃ یمین لان شرب لبن العرس غایتہ ان یکون حراما وقولہ ان فعلت کذافانا زان او سارق اوشارب خمر اواٰکل ربٰو فلیس بحالف۱؎ھکذافی الھندیۃ عن الکافی فلایلزمہ بذٰلک شیئ، واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
تو یہ اگرچہ جماع کا احتمال بھی رکھتا ہے کیونکہ''رکھنا'' ہماری لغت میں جماع سے کنایہ ہوتا ہے مگریہ وعدہ ہے لہذا اس سے کچھ بھی مراد نہ ہوگا، اور اس کا قول''اس کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں''تو یہ ایلاء یعنی قسم کے معنٰی میں نہیں ہے کیونکہ گھر میں رکھنا، گھر میں رہنے کی اجازت دینا ہے، اس سے وطی مراد نہیں ہوسکتی، اور قسم بھی نہیں ہوسکتی حتی کہ اس کو گھر میں رکھا بھی تو قسم کا کفارہ نہ پڑے گا کیونکہ بیوی کا دودھ پینا زیادہ سے زیادہ حرام ہے، اور یُوں ہی اگر کہا اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی یا چوریا شرابی یاسُود خور قرار پاؤں، قسم نہ ہوگی۔ ہندیہ میں کافی سے یہی منقول ہے، لہذا اس سے کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الایمان الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۵۵)
مسئلہ۲۹۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین بیچ اس باب کے کہ زید نے حالت ناراضگی یاراضگی میں ہندہ سے جو اس کی زوجہ ہے یہ کلمے کہے کہ''میرے مکان سے نکل جا اور میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا، تواب اور کوئی شوہر کرلے، یاکسی سے آشنائی کر، مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں، اور اگر تُومیرے کہنے سے نہ نکلے گی تو پھر میں تیری ناک کاٹ لُوں گا کہ پھر تو خاوند کرنے سے بھی بیکار ہوجائے گی'' وہ ہندہ بخوف ناک اور بسبب یہ کلمے کہنے زید کے، وہاں سے نکل کر ایک مکان میں کہ جو اس کے اقرباؤں کا تھا چلی آئی، چرچا اس کا محلہ میں پھیلا، جب زید سے آکر اہلِ محلہ نے کہا ہندہ کے باپ نے جواب پایا زید سے کہ ''میری اب طبیعت اس سے بہت ناراض ہے میں اس کو اب اپنے پاس نہ رکھوں گا'' اور جس نے کہا یہی جواب پایا کہ''مجھ کو اُس سے کچھ سروکار نہیں اس کواختیار ہے کہ جہاں چاہے وہاں جائے'' اور ایک صاحب نے کہا کہ تمہاری بے حُرمتی ہوگی تو زید نے کہا''کیا بے حُرمتی ہوگی کیا مرد عورت کو چھوڑنہیں دیتے ہیں کچھ بے حُرمتی اور بے عزّتی نہیں ہے'' بس یہ کلمے زید کے مثل طلاق ہوئے بیچ حق ہندہ کے یا نہیں؟جو حکم شرعی ہوارقام فرمائیں فقط بینواتوجروا۔ الجواب: یہ کلمات جو زید نے کہے کنایاتِ طلاق میں سے ہیں ان الفاظ سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے یعنی زید مذکور کو اختیار ہے کہ اس سے رجعت کرلے یا بعد انقضائے عدت نکاح کرلے۔ درمختار میں خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ: اذھبی وتزوّجی یقع واحدۃ بلا نیّۃ۱؎۔ یعنی اگر شوہر نے زوجہ کوکہا کہ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے تو اس سے ایک طلاق پڑجائے گی خود شوہر کی نیت طلاق کی ہویانہ ہو۔
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۶)
کتبہ محمد احسن الصدیقی الحنفی ۱۲۷۶)
12_5.jpg
الجواب اقول وباﷲ استعین(میں کہتا ہوں اور اﷲ سے مدد مانگتا ہوں۔ت) جواب میں الفاظ مندرجہ سوال سے تعرض نہیں اور جس بات کا حکم درمختار سے نقل کیا یعنی اگر شوہر نے زوجہ کو کہا''چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے'' سوال میں بہیئت کذائی نہیں، اگر "اخرجی اوراذھبی" میں فرق نہ کیا جائے تاہم بسبب لفظ ثالث یعنی اس کلام کے کہ ''میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا'' صورت مسئلہ کی بدل جائے گی، پس دلیل جناب مجیب کی قطع نظر اس سے کہ رجعی ہونا صورت محکوم علیہا کا اس سے ظاہر نہیں سوال سے علاقہ نہیں رکھتی کہ حکم ہیئت اجتماعیہ کا حالت انفراد کے حکم سے مغایر ہوسکتا ہے فلایتم التقریب اصلا(تو دعوٰی اور دلیل مطابق نہ ہوئے۔ت) علاوہ بریں بعد تسلیم اس امر کے کہ یہ کلمات کنایات طلاق سے ہیں طلاق مذکورہ کو رجعی قراردینا بس عجیب ہے اس لئے کہ سواچند الفاظ کے کہ کُتبِ فقہ میں مذکورہ ہیں باقی کنایات سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور لفظ ابتغی الازواج(خاوند تلاش کر۔ت) کو وقایۃ الروایۃ میں کنایات میں ذکر کرکے کہا واحدۃ بائنۃ۲؎(ایک بائنہ طلاق ہوگی۔ت)
(۲؎ شرح الوقایہ باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۷ )
پس جواب صحیح یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں تین لفظِ کنایات طلاق سے مذکور ہیں: (۱)اول، تو میرے مکان سے نکل جا کہ حاصلِ معنی "اخرجی" کا ہے بشرطِ نیت اس سے طلاق بائن ہوجاتی ہےکما مر(جیسا کہ گزرچکا ہے۔ ت) (۲)دوم، تو اب کوئی شوہر کرلے یا کسی سے آشنائی کر، اس تردید کے جُزء اوّل کا بھی یہی حکم ہے، وقد مرایضاً(اور یہ بھی گزرچکا۔ت) (۳) سوم، مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں، یہ لفظ بھی کنایاتِ طلاق سے ہےکہ بشرطِ نیت اس سے طلاق بائن ہوتی ہے۔فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
ولوقال لم یبق بینی وبینک عمل یقع الطلاق اذانوی۱؎۔
اگریوں کہا کہ''تیرے اور میرے درمیان کوئی عمل نہ رہا'' جب طلاق کی نیت سے ہو طلاق واقع ہوگی۔(ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں فصل فی الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۶)
پس اگرجملہ یا بعض الفاظِ مذکورہ بہ نیت طلاق کے کہے طلاق بائن واقع ہوئی، بے تجدید نکاح کے مباشرت عورت سے حرام ہے۔
تنویر الابصار میں ہے:
البائن یلحق الصریح لاالبائن الااذا۲؎۔
بائن طلاق، صریح کو لاحق ہوسکتی ہے بائن کو نہیں مگر جب۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۵)