مسئلہ۲۹۰:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ سے بحالتِ غضب یہ لفظ کہے:
''(۱) مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں۔
(۲) جس سے چاہ مباشرت کر۔
(۳) جسے چاہے اپنا خاوند بنا۔
(۴) مجھ سے تجھ سے کچھ تعلق نہ رہا''
اس صورت میں طلاق واقع اور ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوئی یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مسئول بہا میں لفظِ اوّل یعنی''مجھے تجھ سے کچھ کام نہیں'' الفاظ طلاق ہی سے نہیں حتی کہ اگر اس سے نیت کرے گا تاہم واقع نہ ہوگی،
فی فتاوی الامام قاضی (عہ) خاں لوقال لاحاجۃ لی فیک ونوی الطلاق لایقع وکذا لوقال مرابکارنیستی وکذالوقال مااریدک۱؎اھ
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:-اگر خاوند نے کہا''مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں'' اور طلاق کی نیت کی ہوتب بھی طلاق نہ ہوگی، یُونہی اگر کہا''تو میرے کام کی نہیں'' اور یونہی اگر کہا''میں تجھے نہیں چاہتا'' تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت طلاق ہواھ(ت)
عہ : قال فی الہندیۃ لو قال لہا مراباتو کارے نیست وترابامن نے اعطینی ماکان لی عندک واذھبی حیث شئت لایقع بدون النیۃ کذا فی الخلاصۃ۲؎۱۲مفتی اعظم الامہ مصطفی رضامدظلہ۔
ہندیہ میں کہا، اگر یوں کہے، میرا تجھ سے کا م نہیں اور تیرا مجھ سے نہیں میرا جو کچھ تیرے پاس ہے مجھے دے دے ، جہاں چاہے چلی جا، تو بغیر نیت طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں یونہی ہے۱۲مفتی اعظم الامۃ مصطفی رضامدظلہ(ت)
ہندیہ میں کہا، اگر یوں کہے، میرا تجھ سے کا م نہیں اور تیرا مجھ سے نہیں میرا جو کچھ تیرے پاس ہے مجھے دے دے ، جہاں چاہے چلی جا، تو بغیر نیت طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں یونہی ہے۱۲مفتی اعظم الامۃ مصطفی رضامدظلہ(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۵)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الکنایات والمدلولات الکنایات نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۶)
باقی الفاظ ثلٰثہ میں چند صورتیں ہیں:
(۱) اگر اس نے کسی لفظ سے نیتِ طلاق نہ کی تو ایک طلاق بائن واقع ہونے کا حکم دیاجائےگا کہ لفظ ثالث محتمل رَد وسبّ نہیں، اور ایسے الفاظ حالتِ غضب میں حاجتِ نیّت نہیں رکھتے۔
ہدایہ میں ہے کہ غصّہ کی حالت میں ان تمام الفاظ میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں، مگر وُہ الفاظ جو صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں اور ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہاں تصدیق نہ کی جائیگی اھ۔(ت)
(۲؎ الہدایہ فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۳۵۴)
(۲) اور جو صرف پہلے سے نیتِ طلاق کی تو بشرطیکہ لفظ ثانی سے معنی حقیقی یعنی میں توطلاق دے چکا اب تزویج کا تجھے اختیار ہے مراد نہ لئے ہوں تو دو۲ بائنہ واقع ہوں گی، لفظِ اوّل سے بحکمِ نیت اور ثانی سے بدیں سبب کہ بوجہ تقدم ومقارنت نیت حالت حالتِ مذاکرہ ہوگئی اور اس حالت میں الفاظ غیر صالحہ رد پابند نیت نہیں رہتے،
فی الھدایۃ لما نوی بالاولٰی الطلاق صار الحال حال مذاکرۃ الطلاق فتعین الباقیان للطلاق بھذہ الدلالۃ، بخلاف مااذاقال نویت بالثلاثۃ الطلاق دون الاولیین حیث لایقع الاواحدۃ لان الحال عند الاولیین لم تکن حال مذاکرۃ الطلاق(وفیہا) قال نویت بالاولٰی طلاقا وبالثانی حیضادین فی القضاء لانہ نوی حقیقۃ کلامہ۱؎ملخصا انتہی،
ہدایہ میں ہے:جب پہلے لفظ سے طلاق کی نیت کی ہوتو مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے باقی دو۲ الفاظ بھی طلاق کےلئے متعین ہوجائیں گے اس کے برخلاف جب یہ کہے کہ میں نے تیسرے لفظ سے طلاق مرادلی ہے تو پھر پہلے دونوں لفظ طلاق نہ ہونگے صرف آخری ایک طلاق ہوگی کیونکہ پہلے دونوں کے وقت مذاکرہ طلاق نہ تھا، اور اسی میں اگرمذکورہ صورت میں یہ کہے کہ میں نے پہلے لفظ سے طلاق اور دوسرے سے حیض مراد لیا ہے تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس نے لفظ کے حقیقی معنی کی نیت کی ہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ الہدایہ فصل فی الطلاق قبل الدخول المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۳۵۵)
اور کافی شرح وافی میں ہے کہ مذاکرہ طلاق میں ان تمام الفاظ سے قضاءً طلاق واقع ہوگی جو طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور جو صرف ڈانٹ یا جواب بننے کا احتمال رکھتے ہیں ان میں طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان کو طلاق قرارنہ دیاجائے گا، اس عبارت کو عالمگیری میں کافی کی طرف منسوب کیا ہے۔(ت)(۲؎ الکافی شرح الوافی )
رہا تیسرا لفظ، ہرچند وہ بھی محتاج نیت نہ تھا مگر اس سبب سے کہ دوسری طلاق سابق سے اخبار قرار دینا ممکن، اور ایسی صورت میں بائن سے بائن لاحق نہیں ہوتی اس سے طلاق واقع نہ ہوئی،
درمختار میں ہے: بائن کے بعد دوسری بائن نہ ہوگی جبکہ دوسری بائن پہلی سے حکایت بن سکے، مثلاً''تو بائن بائن ہے'' یا ''میں نے تجھے طلاق کے ساتھ بائنہ کردیا'' یہ اخبار ہے اول سے کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔(ت)
(۳؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۵)
(۳) اسی طرح اگرپہلی یا دوسری دونوں(۴)یا تینوں سے نیّتِ طلاق کی تو دوہی بائنہ واقع ہوں گی،
لمامرمن ان البائن لایلحق البائن ماامکن حملہ علی الاخبار۔
جیسا کہ گزرا کہ بائن بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جب وُہ پہلی سے حکایت بن سکے(ت)
باقی سب صورت میں خواہ(۵) صرف دوسرا(۶) یا صرف تیسرا(۷) یا پہلا اور تیسرا دونوں (۸) یا دوسرااور تیسرا مقرون بہ نیت ہوں تو ایک ہی بائنہ واقع ہوگی،
کما یظھر مماالقینا علیک من الادلۃ وان لاطلاق بالثالثۃ کلما تقدمھا طلاق۔
جیسے ہم نے آپ کو دلائل بیان کردئے اس سے ظاہر ہے، اور یہ کہ تیسرے لفظ سے طلاق نہ ہوگی جب اس سے قبل طلاق بائنہ ہوچکی ہو۔(ت)
پس اس میں شبہہ نہیں کہ ہندہ نکاحِ زید سے خارج ہوگئی اور تاوقتیکہ زید اس سے نکاح جدید نہ کرے وُہ اس کی زوجہ نہیں ہوسکتی،