Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
137 - 155
مسئلہ۲۸۷: ازنجیب آباد ضلع بجنور     مرسلہ شیخ عبدالرزاق ۱۵شعبان ۱۳۲۰ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بحالتِ غصّہ اپنی زوجہ سے بہ نیتِ طلاق ایک وقت میں تین بار کہاکہ''میں نے تجھے آزاد کیا'' اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی مغلظ یا بائنہ یا رجعی؟فقط۔



الجواب

صورتِ مسئولہ میں عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوئی یعنی عورت نکاح سے نکل گئی، زوج کو اس پر کوئی اختیار جبر نہ رہا وہ عدّت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے مگر حلالہ کی اصلاً حاجت نہیں جب کہ اس بارسے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں اس عورت کو نہ دے چکاہو، زن ومرد اگر راضی ہوں تو شوہر عدت میں اور بعد عدت اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے، یہاں تین طلاق کا حکم دینا یُوں غلط ہے کہ تمام متون وشروح وفتاوٰی میں تصریح ہے کہ کنایہ بائنہ طلاق بائن کے بعد طلاق جدید نہیں ٹھہرتا بلکہ اسی طلاق اول سے اخبار ہوتا ہے الاان ینص بما لایحتملہ(مگر ایسے الفاظ سے واضح کہے جو دوسرے معنی کا احتمال نہ رکھتا ہو۔ت)                       درمختار میں ہے:
لایلحق البائن البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن اوابنتک بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتک باخری۱؎۔
بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوسکتی جب دوسری بائنہ پہلی سے حکایت وخبر ہو مثلاً ''تو بائن بائن ہے''یا''میں نے تجھے طلاق سے بائنہ کیا'' تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی، کیونکہ پہلی سے حکایت وخبر ہے، لہذا اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف جب یُوں کہے''میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۵)
اور ایک ہی پڑنے کی یہ وجہ ٹھہرانا کہ الفاظِ طلاق متفرقاً کہے جب اول پڑی اب عورت محلِ طلاق نہ رہی لہذا دوسری نہ پڑی، یہ یُوں جہل محض ہے یہ حکم خاص زنِ غیر مدخولہ کے ساتھ ہے، زنِ مدخولہ جب تک عدت نہ گزرے تین طلاق مجموع ومفرق سب کی محل ہے کما نصواعلیہ قاطبۃ فی جمیع کتب المذہب(جیسا کہ اس پر مذہب کی تمام کتب میں نص ہے۔ت)اور یہاں مدخولہ ہےکما افصح عنہ السائل فی سوال آخر(جیسا کہ سائل نے خود اس کو دوسرے سوال میں واضح کیا ہے۔ت) بلکہ ایک پڑنے کی صحیح وجہ یہ ہے جو فقیر نے بیان کی وباﷲ التوفیق، واﷲتعالٰی اعلم۔



مسئلہ۲۸۸: ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲآپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ت)اس صورت میں کہ زید کی زوجہ کو کسی نے دوسرے ایک شخص کے ساتھ ایک مکان میں بند کیا جب زید کوخبر ہوئی تو اس نے چار پانچ آدمیوں کے رُوبرو اپنے خسر سے مخاطب ہوکر کہا کہ چونکہ تم لوگوں نے میری زوجہ کو غیر شخص کے ساتھ ایک مکان میں بند کیا لہذا اب وُہ مجھ پر حرام ،پس کیا حکم ہے، آیا وہ زوجہ طلاق ہوگئی یا ہنوز حسبِ سابق اس کی زوجہ ہے، برتقدیر تعلق زوجیت کے قائل کے ذمّہ کچھ کفارہ ہے یانہیں؟بینواتوجروا



الجواب

ہر چند یہ لفظ بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو،
فی ردالمحتار قولہ حرام سیأتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذٰلک بین محرمۃ وحرمتک سواء قال علیّ اولا۱؎اھ ملخصا وتمامہ فیہ۔
ردالمحتار میں ہے کہ خاوندکا کہنا''تُوحرام ہے'' عنقریب بیان ہوگا کہ اس لفظ سے ہمارے زمانے میں بغیر نیت بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس کے طلاق ہونے پر عرف بن چکا ہے۔ تو مجھ پر حرام ہے، اور میں نے تجھے حرام کیا، دونوں برابر ہیں، یہاں''مجھ پر'' کا لفظ کہے نہ کہے کوئی فرق نہیں ہے اھ ملخصاً، مکمل عبارت کتاب میں ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     باب الکنایات    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۴)
مگر کلامِ زید ''چونکہ تم نے ایسا کیا لہذا حرام ہے'' اس کے یہ معنی بھی محتمل کہ صرف اس بند کرنے کو موجب حرمت بتاتا ہے جیسے بہت جہّال کے خیال میں ہوتا ہے کہ عورت بے اجازتِ شوہر باہر جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اس تقدیر پر یہ کلام انشائے طلاق نہ ہوگا بلکہ ایک مبنائے باطل پر اقرارِ اطلاق، اور وُہ محض لغو ہے،
فی الخانیۃ رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلماصح قال قد طلقت امرأتی ثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلک الحالۃ کان واقعا قال مشائخنارحمہم اﷲتعالٰي حین ما اقربالطلاق ان ردہ الی حالۃ البرسام وقال قد طلقت امرأتی فی حالۃ البرسام فالطلاق غیرواقع۱؎الخ۔
خانیہ میں ہے کہ ایک شخص نے خیال کیا کہ مرض برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے، اس بناء پر اس نے کہا''میری بیوی مطلقہ ہوگئی'' پھر تندرست ہونے کے بعد طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے میں نے گمان کیا کہ برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے،تو اس صورت میں ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر طلاق کااقرار کرتے ہوئے مرض کو وجہ بتائے اورکہے کہ''میں نے مرض برسام میں طلاق دی ہے'' تو طلاق واقع نہ ہوگی الخ۔(ت)
 (۱؎ قاضی خاں        کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۱۳)
پس اگر یہی معنی مراد تھے تو نہ طلاق ہوئی نہ کوئی کفارہ لازم، اور اگر بہ نیت طلاق الفاظ مذکورہ کہے تو ایک طلاق بائن ہوئی عورت نکاح سے نکل گئی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ۲۸۹: ازبحری آباد ڈاکخانہ سادات ضلع غازی پور ۱۷ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ مسئلہ محمد ابوالخیر

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ مرتکب زنا سمجھ کر ناراض ہوکر اس کے باپ کے گھر پہنچادیا اور یہ کلام کیا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہمارے قابل نہ رہی اور بعد دوایک مہینہ کے نہیں معلوم کہاں چلا گیا اس کو عرصہ سات۷برس کا ہُوا کہ ہنوز مفقود الخبر ہے اس کے بعد اس کے باپ نے زوجہ کے شوہر کے بڑے بھائی کو جو مالک وبزرگ خانداری ہے بلاکر یہ کہاکہ یہ عورت عزّت وآبرو تمہاری ہے لے جاؤ ہمارے یہاں اس کا گزر نہیں ہوگا اس کے شوہر کے بڑے بھائی نے انکار کیا اور یہ کہا اول تو شوہر اس کا مکان پر نہیں ہے دوسرے یہ عورت ہمارے کام کے لائق نہیں ہے ہم نہ لے جائیں گے تم کو اختیار ہے کہ جہاں چاہو کردو، اس جواب پر اس کا باپ دوسرے نکاح کے سامان میں تھا کہ اس اثناء میں وُہ عورت بطور خود ایک شخص کے ساتھ بلانکاح چلی گئی اور اسی مرد کے ساتھ اس زمانہ سے بلانکاح رہی اب اس عورت نے اس شخص کے ساتھ جس کے ساتھ بطور خود چلی گئی تھی نکاح کرلیا تو آیا یہ نکاحِ ثانی اس کاشرعاً جائز ہوایانہیں اور زوج اوّل کا غصے سے یہ کہنا کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے تو ہماری قابل نہیں رہی اور بعد اس کے اس کو چھوڑ دینا اور دی ہوئی چیز واپس لینا حکم میں طلاق کے ہے یانہیں؟اور بقرائن مذکور اس کہنے سے کہ ہم تجھ کو نہ رکھیں گے طلاق واقع ہوئی یانہیں حالانکہ قرائن حالیہ ودلالت حال اس امر پر موجود ہے کہ زید نے کلام بالاجو کنایہ طلاق ہے بارادہ طلاق کہاتھا
مختصر وقایہ میں ہے:
وکنایۃ مایحتملہ وغیرہ فنحواخرجی واذھبی وقومی یحتمل ردا، ونحو خلیۃ وبریۃ، بتہ، حرام، بائن، یصلح سباونحواعتدی واستبرئ رحمک انت واحدۃ انت حرۃ اختاری امرک بیدک سرحتک فارقتک، لایحتمل الردوالسب۱؎۔
اور کنایہ وُہ ہے کہ طلاق اور غیرطلاق دونوں کا احتمال رکھتا ہومثلاًنکل جا، چلی جا، اُٹھ جا۔ یہ الفاظ کسی بات کا جواب ہوسکتے ہیں اور جُدا، بری ہے، علیحدہ ہے، حرام ہے، بائن ہے،ڈانٹ کا احتمال رکھتے ہیں، اور مثلاً عدّت پوری کر، رحم کوصاف کر، تُواکیلی ہے، تُوآزاد ہے، تجھے اپنا اختیار ہے، تیرامعاملہ تیرے اختیار میں ہے، میں نے تجھے چھوڑدیا، میں نے تجھ سے فرقت کرلی، یہ صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ مختصر الوقایہ     کتاب الطلاق     نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی     ص۶۱)
شرح وقایہ میں ہے:
وفی حالۃ الغضب یتوقف الاولان ای مایصلح رداو مایصلح سبا علی النیۃ ان نوی الطلاق یقع بہ الطلاق وان لم ینو لایقع واما القسم الاخیر وھو ما یصلح ردالاسبایقع بہ الطلاق وان لم ینو۲؎اھ۔
اور غصّہ کی حالت میں پہلے دونوں الفاظ یعنی جوجواب بن سکتے اور وُہ جو ڈانٹ بن سکتے ہیں، نیت پر موقوف ہوں گے، اگر طلاق کی نیت نہ ہوتوطلاق واقع نہ ہوگی،لیکن تیسری قسم جو ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہ غصہ کی حالت میں بغیر نیّت بھی طلاق قرار پائیں گے، اھ(ت)
(۲؎ شرح الوقایہ     باب ایقاع الطلاق    مطبع مجتبائی دہلی         ۲ /۸۸)
اور ظاہر ہے کہ ہم نے تجھ کو چھوڑ دیا ہم تجھے نہ رکھیں گے متحد المفاد وداخل قسم اخیر ہے۔ بینواتوجروا۔

الجواب

ہم تجھ کو نہ رکھیں گے متمحض للاستقبال والابعاد ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہو ا اصلاً موثر نہیں مثلاً اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دُوں گا طلاق نہ ہوگی۔
وھذا ظاھر جدا، وفی جواھرالاخلاطی فقال الزوج طلاق میکنم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحل وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض للاستقبال، وبالعربیۃ قولہ اطلق لایکون طلاقا لانہ دائربین الحال والاستقبال فلم یکن تحقیقا مع الشک۱؎الخ۔
یہ بالکل ظاہر ہے: اور جواہراخلاطی میں ہے خاوند نے کہا''میں طلاق کرتا ہوں، طلاق کرتا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی کیونکہ اس کا قول ''کرتا ہوں'' صرف حال کیلئے مختص ہے اور یہ طلاق کو واقع کرتا ہے اس کے برخلاف اس کا یہ کہنا''طلاق کروں گا'' یہ خالص استقبال کے لئے ہے اور عربی میں اطلق(طلاق دوں گا) سے طلاق نہ ہوگی، کیونکہ یہ 

حال اور استقبال دونوں میں مشترک ہے، لہذا شک کی بناء پر طلاق واقع نہ ہوگی الخ(ت)
 (۱ ؎ جواہرالاخلاطی     فصل فی طلاق الصریح         قلمی نسخہ     ص۷۰۔۶۹)
اور''تو ہمار ے قابل نہ رہی'' اگرچہ کنایہ ہوسکتا ہے مگر وُہ سب کو بھی محتمل ہے کہ اس کی نالائقی وناکارگی کا اظہار ہے جس طرح برادرِ شوہر نے بھی اس مضمون کے لفظ کہے، اور جب کہ حالتِ غضب تھی جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر ،تو الفاظ صالحہ سب محتاج نیت رہیں گے بے ظہور نیت بوجہ شک حکم طلاق نہیں دے سکتے کما یظہر من عبارۃ النقایۃ التی نقل السائل والجواھر التی نقلنا(جیسا کہ نقایہ کی عبارت جس کو سائل نے نقل کیاہے۔ سے ظاہر ہورہا ہے  اور جواہر اخلاطی کی عبارت جس کو ہم نے نقل کیا ہے، سے بھی ظاہر ہورہا ہے۔ ت) اور اسے نکال دینا، کپڑے وغیرہ چھین لینا دلیل غضب ہے، نہ دلیل طلاق تو بے ظہور طلاق یا وضوحِ موت حقیقیہ یا بالحکم بمرور مدّت معینہ للمفقود بمذہب مفتی بہ مؤید بالحدیث روزِ ولادت سے ستر۷۰سال ہے، عورت کو نکاح ثانی ہرگز نہ تھا نہ ہے وُہ اب بھی معصیت ومخالفتِ شرع مطہر میں مبتلا ہے والعیاذباﷲتعالٰی، واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter