مسئلہ۲۸۳: از متھرا محلہ کیشور پورہ مرسلہ حکیم تو حیدالحق صاحب ۲۲ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ زید عاقل وبالغ بفہمائش دیگر مرداں وزبردستی والدین بایجاب ہندہ رضادادہ او ر ابنکاح خوددر آرد وخلوتِ صحیحہ بوقوع نیاید کہ ہندہ پیش مادر خود باشد وہنوز رخصت نشدہ باشد وباز ید پیش دوسہ مردماں صادق وعادل بناراضی بگوید کہ من بایجاب ہندہ برضا ورغبت خود اقرارندادہ ام محض بفہمائش وزبردستی مردماں اقرار بلسان نمودم ایں نکاح من مسلم نشدہ باز از سرِ نوخواہد شد واندراں حالت ناراضی از خویش واقارب رنجیدہ بجائے سفر نماید واز ہندہ خبرے نگیرد نہ از قرائن واطوار او توقع باز آمدن ماند ودر انجا قاضی وشاہدان عندالایجاب اقرار بالجزم دہد کہ من ناکتخداام ہنوز نکاحم ازکسے نگردیدہ ونہ از خویش واقارب ماکسے زندہ نہ مارا ازکسے دروطن سروکارے است ونہ خواہد شد حالاہندہ درنکاح زید ماندہ یا نہ ودریں صورت چگونہ از زید آزاد گردد، فقط۔
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں، کہ زید عاقل بالغ نے دوسرے لوگوں کی تلقین اور والدین کے جبر پر ہندہ سے ایجاب وقبول کیا اور اس سے نکاح کرلیا، اور ابھی رخصتی نہ ہوئی اور خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی کیونکہ ہندہ ابھی والدہ کے پاس ہے، اس کے بعد زید نے دوتین سچے اور عادل حضرات کے سامنے نکاح پر عدمِ رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ میں نے ہندہ سے اپنی رضا مندی اور رغبت کے ساتھ ایجاب نہیں کیا بلکہ محض دوسروں کی زبردستی کی بنا پر اور ان کی تلقین کی وجہ سے صرف زبانی رضامندی ظاہر کی تھی اس لئے یہ نکاح مجھے منظور نہیں، یہ نکاح دوبارہ ہونا چاہئے، اندریں حالات خویش واقارب کی ناراضگی ہوئی جس پر وُہ کہیں سفر پر نکل گیا اور ہندہ کی خبر تک نہ لی، اور اس کے قرائن واطوار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وُہ واپس نہیں آئے گا، وہاں اس نے تمام گواہوں اور قاضی وغیرہ کو بالجزم یہ تاثر دیا کہ وہ ابھی کنوارہ غیرشادی شدہ ہے اور کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوا، اوریہ بھی تاثر دیا کہ میرے خویش واقارب میں کوئی بھی زندہ نہیں رہا اور میرا اب وطن سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔ تو مذکورہ حالات میں ہندہ ابھی زید کے نکاح میں ہے یانہیں؟ اور اس صورت میں زید سے ہندہ کا چھٹکارا کیسے ہو؟فقط۔
الجواب
درصورتِ مستفسرہ بقطع نظر از انکہ تحقق اکراہ شرعی معلوم نیست جبر واکراہ دربارہ نکاح مخلِ صحت ونفاذ ولزوم نباشدفی الھندیۃ تصرفات المکرہ کلھا قولامنعقدۃ عندنا ومالایحتمل الفسخ منہ کالطلاق والعتاق والنکاح فہولازم کذافی الکافی ۱؎اھ ملخصا قول اومن ناکتخداام وہنوز باکسے نکاح نہ کردہ چیزے نیست زیراکہ جحود نکاح خبر دروغ ست واثرے ندارد فی الھندیۃ ان قال لم اتزوجک ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع ولوقال مالی امرأۃ لایقع وان نوی۲؎ ہمچناں قول اومرادر وطن باکسے سروکارے نیست ونخواہد بود کہ سروکار نبودن بمعنی نفی غرض وتعلق قلب ست کہ عبارت از رغبت وحاجت باشد گویا گفت باکسے غرضے ندارم یا حاجتم نیست یا پروائے کسے ندارم واینہا خود از الفاظ طلاق نیست فی الھندیۃ لوقال لاحاجۃ لی فیک، ینوی الطلاق فلیس بطلاق اذاقال لااریدک ولااحبک اولااشتھیک اولارغبۃ لی فیک، فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی۳؎
صورتِ مسئولہ میں قطع نظر اس بات کے کہ یہ جبر واکراہ شرعی تھا یا نہیں، نکاح میں جبر واکراہ اس کے نفاذ اور لزوم کے لئے مانع نہیں ہوتا۔ ہندیہ میں ہے کہ مجبور کئے ہوئے شخص کے قولی تصرفات ہمارے نزدیک منعقد ہوجاتے ہیں اور وُہ امور جوفسخ کا احتمال نہیں رکھتے ہیں مثلاً طلاق ،عتاق اور نکاح یہ لازم ہو جاتے ہیں جیسا کہ کافی میں ہے، ملخصاً۔ لہذا اس کا یہ کہنا کہ میں ابھی کنواراہوں اور ابھی تک کسی سے نکاح نہیں کیا کوئی چیز نہیں کیونکہ نکاح کا انکار جُھوٹی خبر ہے جس کا کچھ اعتبار نہیں۔ ہندیہ میں ہے کہ اگرکہے''میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا'' تو طلاق کی نیت ہوتو بھی طلاق بالاجماع نہ ہوگی، جیسا کہ بدائع میں ہے، اور یُونہیں اگر کہے''میری کوئی بیوی نہیں'' طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔ زید کا یہ کہنا کہ ''وطن میں میرا کسی سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہوگا'' تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا قلبی تعلق یا غرض کسی سے نہیں ہے، جس کا معنٰی رغبت اور حاجت ہے، گویا اس نے یُوں کہا مجھے کسی سے غرض یا حاجت نہیں ہے یامجھے کسی کی پروانہیں ہے جبکہ یہ مذکور الفاظ طلاق میں سے نہیں ہیں، ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا مجھے تجھ میں حاجت نہیں یا میں تجھے پسند نہیں کرتا، میں تیری خواہش نہیں رکھتا، مجھے تجھ سے رغبت نہیں، توطلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے کہے، امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیک۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الاول فی تفسیر شرعاًالخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
باز علماء فرمودہ انداگر گفت زنانے بغداد ہمہ طلاقہ اند وزنِ او نیزاز بغداد ست مطلّقہ نشود مگر آں کہ بالتعبیر نیت اوکردہ باشدفی ردالمحتار ذکر فی الذخیرۃ اولا الخلاف فی نساء اھل بغداد طالق، فعندابی یوسف وروایۃ عن محمد لاتطلق الاان ینویھا لان ھذاامرعام۱؎، وفیہ ایضا عن الاشباہ عن الخانیۃ الفتوی علی قول ابی یُوسف۲؎(ایں جا لفظ وطن گفتہ است کہ از بلدہ وقریہ عام ترست باز تخصیص زناں ہم نہ کرد مطلق لفظ کسے گفت کہ زناں ومرداں وپسراں ودختراں ہمہ راشامل است بالجملہ درصورت مسئولہ نکاح صحیح ولازم ست وطلاق ثابت نیست چارہ کار جزیں چیست کہ رجوع بحکومت کردہ آید تاطلاق رسد یا حقوق زنا شوئی مودی شود۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
نیز علماء کرام نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص کہے بغداد کی تمام عورتوں کو طلاق ہے اور اس کی بیوی بھی بغداد میں ہوتو اس کی بیوی کو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب تک اس لفظ سے بیوی کی طلاق کی نیت نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے تمام بغداد والوں کی عورتوں کو طلاق تو ذخیرہ میں اوّلاً اسکے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک طلاق نہ ہوگی ، اور امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک ایک روایت بھی یہی ہے تاوقتیکہ بیوی کی نیت سے نہ کہے، کیونکہ یہ عام بات ہے اور اس میں اشباہ اور وہاں خانیہ سے منقول ہے کہ فتوٰی اما م ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے قول پر ہے، زید نے وطن کہا ہے جو کئی شہروں اور قریوں پر مشتمل ہے، اور پھر اس نے خاص عورتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف ''وطن سے سروکار نہیں''کہا، تو وطن سب مردوں، عورتوں، بچّوں اور بچیوں کو شامل ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح ثابت ہے اور طلاق ثابت نہیں ہے، چھٹکارے کا چارہ کار یہی ہے کہ کسی شرعی حاکم کے ہاں رجوع کرے تاکہ وہ طلاق حاصل کرائے یا حقوق زوجیت بحال کرائے۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ و ۲؎ ردالمحتار باب الطلاق غیر المدخول بہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۱)
مسئلہ۲۷۴: از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مینہ شاہ مرسلہ نظام الدین شانہ گر ۲۹رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی عورت مدخولہ سے تین بار کہا''میں نے تجھے آزاد کیا'' اس صورت میں نکاح قائم رہا یا نہیں؟اور اب اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
یہ لفظ کہ''مردنے عورت سے کہا'' اگر ان سے طلاق کے معنی مراد نہ تھے جب تو طلاق اصلاً نہ ہوئی اوراگر بہ نیتِ طلاق کہے توایک طلاق پڑگئی عورت نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں، نہ اسے کچھ انتظار کی حاجت، دونوں آپس میں راضی ہوں تو اسی وقت پھر نئے سرے سے نکاح کرلیں، ہاں اگر شوہر نے خود ہی ان میں کوئی لفظ تین طلاقوں کی نیت سے کہا تو بیشک طلاق مغلظہ ہوگئی کہ اب بے حلالہ کے اس سے نکاح نہیں کرسکتا،
فی الھندیۃ لوقال اعتقتک، طلقت بالنیۃ کذافی معراج الدرایۃ اھ۱؎ وفی الدر، کنایتہ مالم یوضع لہ ای الطلاق واحتملہ وغیرہ ویقع البائن ان نواھا اوالثنتین وثلث ان نواہ، ولایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتک بتطلیقۃ فلایقع لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء بخلاف ابنتک باخری اوقال نویت البینونہ الکبری لتعذرحملہ علی الاخبار فیجعل انشاء۲؎اھ ملتقطا۔
ہندیہ میں ہے اگر خاوند نے کہا ''میں نے تجھے آزاد کیا''تو نیتِ طلاق سے طلاق ہوجائے گی، جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اھ اور دُر میں ہے وُہ لفظ کنایہ ہوتا ہے جو طلاق کے لئے وضع نہ ہو اور وُہ طلاق اور غیر طلاق دونوں قسم کا احتمال رکھتاہو تو ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہوگی اور ایسے لفظ سے بائنہ طلاق ہو گی ایک یا دو کی نیت سے ایک ،اور تین کی نیت سے تین ہو ں گی اور ایسا لفظ پہلے بائنہ طلاق کو لاحق نہ ہوگا مگر جب وُہ پہلی طلاق کی حکایت کا احتمال رکھتا ہو تو اس کو خبر وحکایت ہی قرار دیا جائے گا، مثلاً یُوں کہے''تُو بائن بائن ہے'' یا کہے''میں نے ایک طلاق بائنہ دی ہے'' تو دوسری بائنہ واقع نہ ہوگی ، کیونکہ اس کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں، اس کے برخلاف جب یُوں کہے''میں نے تجھے دوسری بائنہ طلاق دی'' یاکہے''میں نے بڑی بائنہ کی نیت کی ہے''تو اس صورت میں اس کو خبر قرار دینا درست نہیں ہوسکتا، لہذا اس کو انشاء ہی ماننا پڑے گا اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۶)
(۲؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
مسئلہ ۲۸۵: از بدایوں مرسلہ اعلٰیحضرت سیّد ابوالحسن احمد نوری رضی اﷲتعالٰی عنہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
ایک عورت سے ایک مرد اجنبی نے جبریہ زنا کیا شوہر نے سُنا تو اعتبارِ جبر نہ کرکے یہ کلمات کہے کہ ''میرے کام کی نہ رہی، میں نے چھوڑدی، اگر آئے گی تو ناک کاٹ لُوں گا، جہاں چاہے چلی جائے، جو چاہے سوکرے''۔ اور اس کو عرصہ سال بھر سے زیادہ گزرگیا، آیا طلاق پڑی یا نہیں؟وہ عورت دُوسرا نکاح کرے یانہ کرے؟خاوند نے باوجود فہمائش بھی رجوع نہ کیا، بدستور مقر اسی بات کا ہے جو کہی تھی الفاظِ طلاق صریح نہ تھے یہی تھے جو کہے، فقط۔
الجواب
عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے:
لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ۱؎۔
اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا ہے، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۹)
''اور جہاں چاہے چلی جائے'' کنایاتِ طلاق سے ہے کہ کلام میں تقدم طلاق صریح کے باعث وہ بھی تنقیحِ نیت کا محتاج نہ رہا،
تنویر الابصار میں ہے کہ جو لفظ طلاق کےلئے وضع نہ ہو اور طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہوتو ایسے لفظ سے بغیردلالت ونیت طلاق نہ ہوگی، اس پر ردالمحتار میں ہے: دلالت سے مرادیہ ہے کہ کوئی ظاہر ایسی حالت ہو جو مقصود کےلئے مفید ہوسکے اسی قبیل سے ہے کہ ان الفاظ سے قبل طلاق کا ذکر ہوچکا ہو، بحر میں محیط سے منقول ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
(۳؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۳)
اور جبکہ یہ بائنہ اس طلاق صریح رجعی سے ملی وُہ بھی بائنہ ہوگئی،
بائنہ طلاق جب رجعی کو لاحق ہوجائے تو اب خاوند کو رجوع کا اختیار ختم ہوجاتا ہے کیونکہ دونوں بائنہ بن جاتی ہیں، جیساکہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے(ت)
پس صورت مذکورہ میں عورت نکاح سے نکل گئی اس پر دو۲ طلاقیں بائن پڑگئیں، اگر اس مدت میں عدت گزرگئی ہوتو اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۶: ۲۶ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
اپنی عورت کو دومرتبہ اس نے چھٹی دی اس کے بعد جو آدمی اس کے محلّے کے ہیں وُہ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی اور اس کا آدمی کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی اور عورت کہتی ہے کہ مجھ کو طلاق نہیں دی صرف آدمیوں کے سامنے اس آدمی نے یہ کہا کہ چھٹی دی اور دوسرے یہ کہ جب عورت اپنے مکان کو چلی گئی تو اس کے مکان کو آگ لگ گئی تو لوگوں نے کہا کہ آگ اس شخص نے دی جس کی تو عورت ہے اب اس کانام لے کر آدمی کو اور عورت کو دونوں کو چوکی پر لئے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے یہ کہو کہ اس شخص کی ماں بہن ہیں اور اس شخص نے بوجہ خوف کے یہ بات کہہ دی کہ یہ عورت میری بہن ہے تو ان دونوں کو اُن آ دمیوں نے چھوڑا اب وہ عورت مرد دونوں باہم راضی ہیں تو اس کا نکاح ہوسکتا ہے یانہیں؟اور جو شخص آپ کے پاس سے فتوٰی لے جاوے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اس کاکیا نتیجہ ہے؟ بینواتوجرواعنداﷲ۔
الجواب
عورت کی نسبت یہ لفظ کہا کہ''یہ میری بہن ہے'' نکاح میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ سائل نے اظہار کیا کہ اس شخص نے حالتِ غضب میں اپنی زوجہ کی نسبت دوبار یہ لفظ کہے کہ''میں نے اسے چھٹی دی'' اس کہنے سے عورت پرایک طلاق بائن پڑگئی وُہ نکاح سے نکل گئی جب مرد وعورت دونوں راضی ہیں نئے سرے سے پھر نکاح کرلیں،
تنویر الابصار میں ہے' خاوند کا بیوی کو کہنا''تو نکل جا، تُو چلی جا'' یہ جواب کا احتمال بھی رکھتے ہیں، اور اس کا یُوں کہنا"حرام ہے ،بائن ہے" یہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں۔ اور یہ کہنا''میں نے تجھے آزاد کردیا'' یہ ڈانٹ اورجواب دونوں کا احتمال نہیں رکھتے ، تو رضا کی حالت میں یہ تمام الفاظ نیت پر موقوف ہوں گے، اور غصّہ کی حالت میں پہلے دونوں موقوف اور مذاکرہ طلاق میں صرف پہلا لفظ نیت پر موقوف ہوگااھ مختصراً(ت)
(۱؎ در مختار شرح تنویرالابصار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
جو شخص شریعت مطہرہ کے فتوٰی پر عمل نہ کرے گنہگار مستحق سزا وعذاب ہے والعیاذ باﷲتعالٰی واﷲتعالٰی اعلم