Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
135 - 155
مسئلہ۲۸۲:مرسلہ حکیم احمد حسین صاحب محلہ طویلہ ۷شوال ۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میاں بی بی میں باہم جھگڑا رہتا تھا اکثر اسے تکلیف دیتا اور مارتا ایکدن اس سے زیور مانگا اس نے انکار کیا کہا تجھے چاقو سے مارڈالوں گا ہندہ بخوفِ جان والدین کے یہاں چلی آئی شوہر نے چوری کا الزام بھی لگایا اور تھانہ میں رپٹ کاارادہ کیا لوگوں نے سمجھایا اس وقت یہ گفتگو ہُوئی جو لکھی جاتی ہے، ناصح کیا فضیحت کراؤگے۔ زید: وُہ میری بیوی ہی نہیں رہی فضیحت کیسی۔ ناصح: دیکھو لغو باتیں نہ کرو۔ زید: جب وہ میری بلا اجازت چلی گئی میرے نکاح سے باہر ہے اور وُہ میرے کام کی نہ رہی مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں۔ ناصح: دیکھو کنایہ اشارہ سے بھی طلاق ہوجاتی ہے ذرا سوچ سمجھ کر کہو تم پڑھے لکھے آدمی ہو۔ زید: مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں نہ وُہ میری بیوی ہے۔ آیا اس گفتگو سے وُہ عورت مطلّقہ ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

زید کا پچھلا قول کہ''نہ وُہ میری بیوی ہے'' مذہبِ مختار پر اصلاً الفاظ طلاق سے نہیں یہاں تک کہ بہ نیتِ طلاق بھی کہے تاہم واقع نہ ہوگی۔

عالمگیری میں ہے: لوقال تُوزنِ من نئی لایقع وان نوی ھو المختار کذافی جواھرالاخلاطی۱؎۔

اگر کہا تُومیری بیوی نہ ہے، تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، یہی قول مختار ہے ، جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۶)
اسی طرح''مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں'' یہ بھی لفظِ طلاق نہیں کہ غرض بمعنی شوق مستعمل ہے کما فی القاموس(جیسا کہ قاموس میں ہے۔ت) یا قصد وخواہش کما فی المنتخب(جیسا کہ منتخب میں ہے۔ت)یا حاجت کما فی شروح النصاب(جیساکہ شروح النصاب میں ہے۔ت) اور ان اشیاء کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق اطلاق کرے۔
عالمگیری میں ہے:
لو قال لاحاجۃ لی فیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج اذا قال لااریدک اولااحبک اولااشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی کذافی البحرالرائق۲؎۔
اگر کہا''مجھے تیرے بارے کوئی حاجت نہیں'' اور طلاق کی نیت کی ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی، سراج وہاج میں ایسے ہی ہے۔ اور کہا''میں تجھے نہیں چاہتا'' ''میں تجھے پسند نہیں کرتا'' ''تیرے بارے مجھے رغبت نہیں''اگر نیت ہوتب بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک طلاق نہ ہوگی، بحرالرائق میں یُوں ہی ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ   الخامس فی الکنایات      نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۷۵)
اسی میں ہے:
  رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع کذافی الظہیریۃ۔۱؎
کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا''تُومیرے لئے کام کی نہیں''تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیۃ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۰)
ہاں''وہ میری بیوی ہی نہ رہی'' کنایات  طلاق سے ہے۔
عالمگیری میں ہے:
لوقال صرت غیرامرأتی فی رضاأو سخط تطلق اذانوی کذافی الخلاصۃ۲؎۔
اگر خاوند نے رضایا ناراضگی میں کہا''تومیری بیوی نہ رہی'' اگر طلاق کی نیت ہوتو طلاق ہوجائے گی، جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
 (۲؎ فتاوی ہندیۃ  الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۳۷۶)
اسی طرح یہ لفظ بھی کہ ''وہ میرے نکاح سے باہر ہے'' صریح نہیں کنایہ ہے،
لان الخروج من النکاح یکون بالطلاق وبکل فرقۃ جاءت من قبلہ کتقبیلہ بنتھا اومن قبلھا کتقبیلھا ابنہ وغیر ذٰلک، فلم یتعین لافادۃ الطلاق وصارکقولہ لم یبق اولیس بینی وبینک نکاح بل ھما عبارتان عن معنی واحد، وھذایتوقف علی النیۃ فکذاذاک۔
کیونکہ نکاح سے خروج، طلاق کے ساتھ اور دیگر وجوہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً خاوند بیوی کی بیٹی کا(شہوت کے ساتھ) بوسہ لے یا بیوی خاوند کے بیٹے کا اسی طرح بوسہ لے یا اس کے علاوہ بھی کئی طرح سے فرقت کے اسباب ہوسکتے ہیں، لہذا یہ لفظ طلاق کےلئے خاص نہ رہا، جب وُہ کہے''نکاح باقی نہ رہا'' یا''تیرے میرے درمیان نکاح نہیں ہے''بلکہ یہ دونوں ہم معنی ہیں تو نیت پر موقوف ہوں گے، یہ بھی ایسا ہے(ت)
عالمگیری میں ہے: لوقال لھا لانکاح بینی وبینک اوقال لم یبق بینی وبینک نکاح یقع الطلاق اذانوی۳؎۔

اگر کہا''تیرے میرے درمیان نکاح باقی نہیں رہا'' اگر نیت ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔(ت)
 (۳؎ ؎ فتاوی ہندیۃ  الفصل الخامس فی الکنایات     نورانی کتب خانہ پشاور       ۱ /۳۷۵)
یوں ہی''وہ میرے کام کی نہ رہی''بھی کنایات سے ہے کما حققناہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار (جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کردی ہے۔ت) مگر سوقِ کلام سے ظاہر یہ ہے کہ زید نے یہ الفاظ بطور اخبار کہے، نہ نیتِ انشائے طلاق۔ تیسرا لفظ دوسرے پرمعطوف ہے اور دوسرا پہلے کی شرح وبیان علّت، اور اس اخبار کا مبنٰی وُہ غلط گمان جو عوامِ زمانہ میں شائع ہے کہ عورت بے اجازتِ شوہر گھر سے چلی جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اور جو اخبار واقرار طلاق بربنائے غلط فہمی مسئلہ ہو دیانۃً اصلاً مؤثر نہیں،
فی الخیریۃ عن الاشباہ عن جامع الفصولین والقنیۃ، اذااقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع۱؎۔
خیریہ میں اشباہ سے اور وہاں سے جامع الفصولین اور قنیہ سے منقول ہے کہ اگر مفتی کے فتوی کی بنا پر طلاق ہونے کا اقرار کیا تو پھر معلوم ہوا کہ طلاق نہ ہوئی، تو اس اقرار کو طلاق نہ قرار دیاجائے گا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق     دارالمعرفۃ بیروت     ۱ /۴۷)
خیربہر حال مدارِ کارنیت پر ہے، اگر زید نے ان تینوں لفظوں میں کُل یا بعض کسی سے طلاق دینے کا قصد کیا تھاتو ایک طلاق بائن واقع ہوئی کہ عورت راضی ہوتو اب یا عدت کے بعد جب چاہے بے حلالہ اس سے نکاح کرسکتی ہے۔ عالمگیری میں ہے: لایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھا انت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ۲؎۔

اگر کہا، تجھے ایک بائنہ طلاق، اس کے بعد دوبارہ کہا تجھے بائنہ طلاق، تو ایک ہی بائنہ طلاق ہوگی کیونکہ پہلے بائنہ کے بعد دوسری بائنہ اس کو  لاحق نہیں ہوسکتی۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۷۷)
اور اگر ان تین میں کسی لفظ سے طلاق دینے کی نیت نہ کی اگرچہ اخیر کے دونوں لفظ بہ نیت طلاق کہے ہوں تو اصلاً طلاق نہ ہوئی وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور نیتِ طلاق نہ ہونے میں شوہر کاقول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر وُہ بقسم کہہ دے کہ میں نے ان تینوں لفظوں میں کسی سے نیت انشائے طلاق نہ کی تھی قطعاً مان لیں گے اور انہیں زوج وزوجہ جانیں گے، اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں۔ درمختار میں ہے: القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ۳؎(نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۳؎ درمختار         با ب الکنایات    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
Flag Counter