مسئلہ۲۷۹: از آرہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ زینب سے کہا بصورت نااتفاقی کہ ہم تمہارے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے، تب اس پر بی بی مذکور نے کہا کہ جب کھانا نہیں کھاؤگے تو ہم کو صفائی دے دو تب زید نے کہا کہ صفائی دے دیا بی بی نے کہا صفائی دے دیا تو پھر کہا کہ صفائی دے دیا پھر بی بی نے کہ صفائی دے دیا تو پھر کہا صفائی دے دیا تو بی بی نے کہا کہ تب ہم کہیں چلے جائیں تو زید نے کہا کہ کہیں چلی جاؤ اس صورت مذکورہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوا کہ نہیں اگر طلاق واقع نہیں ہو اتوکیا دلیل بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں،بینواتوجروا
الجواب
صورتِ مذکورہ میں طلاقِ مغلّظ تو کسی طرح نہ ہوئی فان البائن لایلحق البائن۱؎کما فی المتون (کیونکہ بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی، جیسا کہ متون میں ہے۔ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۵)
ہاں اگر ان چار لفظوں میں جو زید نے کہے اگر کسی ایک لفظ یا دوتین یا چاروں سے عورت کو طلاق دینے کی نیت زید نے کی تو ایک طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کی رضاسے اس سے نکاح دوبارہ کرسکتا ہے اور اگر اصلاً کسی لفظ سے نیتِ طلاق نہ کی تو وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے طلاق نہ ہوئی،
درمختار میں ہے:
اذھبی یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃ یصلح سبا (الی قولہ) فی الغضب توقف الاولان ان نوی وقع والالا۔۱؎
اس لئے کہ یہ جواب بھی بن سکتا ہے اور تُوجدا ہے، تو بری ہے، یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال رکھتے ہیں اس کے قول کہ''غصہ میں پہلے دونوں الفاظ موقوف رہیں گے، اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں''تک۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۔۲۲۴)
مبسوط امام سرخسی میں ہے:
وعن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالٰی انہ الحق بھذہ الالفاظ خلیت سبیلک، فارقتک، لاسبیل الیک، لاملک لی علیک لانھا تحتمل السب، ___ای لاملک لی علیک لانک ادون من ان تملکی وفارقتک اتقاء لشرک وخلیت سبیلک لھوانک علیّ۲؎(ملخصاً)
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک یہ''میں نے تیرا رستہ کھول دیا'' ''میں تجھ سے جدا ہو'' اور''میری تجھ پر کوئی ملکیت نہیں'' کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں یعنی''میری تجھ پر ملکیت نہیں'' کا یہ معنٰی بھی ہوسکتا ہے کہ تو اس قابل نہیں کہ میں تیرا مالک بنوں، اور میں تجھ سے جداہوا یعنی تیرے شرسے جد ا ہوں، میں نے تیرا راستہ کھولا کیونکہ میرے ہاں تو حقیر ہے(ملخصاً) (ت)
(۲؎ مبسوط امام سرخسی باب ماتقع بہ الفرقۃ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۸۱)
فتح القدیر میں ہے:
یدین فی الغضب لان ھذہ الالفاظ تذکر للابعاد وحالۃ الغضب یبعد الانسان عن الزوجۃ۔۳؎
غصہ میں ان الفاظ کے متعلق خاوند کی تصدیق کی جائیگی کیونکہ یہ الفاظ دور کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ غصّہ کی حالت میں انسان بیوی سے دور رہتا ہے۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر فصل فی الطلاق قبل الدخول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۴۰۲)
یہ بات کہ ان میں اصلاً کسی لفظ سے طلاق کی نیّت نہ کی تھی اگر زید قسم کھاکر کہہ دے قبول کرلیں گے اورحکمِ طلاق نہ دیں گے اگر زید جُھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہوگا یہ قسم گھر میں عورت بھی کرسکتی ہے۔
درمختار میں ہے: ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
عورت کا مردسے گھر قسم لیناکافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
مسئلہ۲۸۰: ازمارہرہ مطہرہ مسئولہ حافظ عبدالکریم صاحب ۲۵محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس امر کے ایک شخص نے اپنی خواشدامن وخسر ونیز رُوبرو چند عورات دیگر کے یہ کہا کہ میں تمہاری دختر سے لادعوٰی ہوتا ہوں تم اس کو بُلالو ورنہ میں اس کو بے عزّت کرکے نکال دوں گا۔ اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
صورتِ مستفسرہ میں اگر اس نے ان لفظوں سے کہ''میں تمہاری دختر سے لادعوٰی ہوتا ہوں'' طلاق دینے کا قصد کیا تھا اور بہ نیت طلاق یہ کلام کہا تھا تو طلاق واقع ہوگئی ورنہ نہیں۔
فتاوٰی امام خیرالدین رملی میں ہے:
سئل فی رجل ضرب زوجتہ فلامہ اھلھا فقالت انت مجارۃ انی مااقربک غیرنا وطلاقا ھل تطلق بھذا القول ام لا'(اجاب)لاتطلق، ففی الخانیۃ فی قولہ لاملک لی علیک، لاسبیل لی علیک خلیت سبیلک، الحقی باھلک، لوقال ذٰلک فی حال مذاکرۃ الطلاق اوفی الغضب وقال لم انوبہ الطلاق یصدق قضاء فی قول ابی حنیفۃ وقال ابویوسف لایصدق ومعنی انت مجارۃ انت منتقذۃ معاذۃ مما تکرھینہ وھو قریب من معنی ھذہ الالفاظ۲؎واﷲاعلم انتہی اقول وانت تعلم ان مسئلتنا ھذہ اقرب الی المنصوص من مسئلۃ الخیریۃ کما لایخفی۔
ان میں سے ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو پیٹا تو خاوند کو بیوی کے گھر والوں نے ملامت کی، اس پر خاوند نے بیوی کوکہا کہ''تو محفوظ ہوگئی میں تیرے قریب نہ ہُوں گا'' طلاق کی نیت نہ کی ہوتو کیا اس بات سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں، جواب میں انہوں نے فرمایا طلاق نہ ہوگی۔ تو خانیہ میں ہے: خاوند کا بیوی کوکہنا،تجھ پر میری ملکیت نہیں ،تجھ پر مجھے کوئی چارہ نہیں ، تیرا راستہ میں نے کھول دیا'' یا کہا''تو اپنے گھر والوں کے ہاں جا''۔ اگر یہ الفاظ مذاکرہ طلاق یاغصہ میں کہے اور بیان کیا کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہے، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک قضاءً خاوند کی بات مان لی جائے گی، اور امام ابویوسف کے نزدیک قضاءً تصدیق نہ کی جائے گی''تومجارہ'' کامعنٰی تو بچی ہوئی پناہ میں ہے اس چیز سے جس کو توناپسند کرتی ہے، اور یہ لفظ اوپر مذکورہ الفاظ کے قریب ہے واﷲتعالٰی اعلم انتہی اقول (میں کہتا ہوں کہ) ہمارا زیر بحث مسئلہ خیریہ میں بیان کردہ مسئلہ کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۱)
پس اگر وُہ قسم کھاکر کہہ دے کہ ان لفظوں سے میں نے طلاق دینے کی نیت نہ کی تھی قبول کرلیں گے اوروقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے،
فی الدرالمختار القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبٰی۱؎۔
درمختار میں ہے:
نیت ہونے نہ ہونے میں خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور اس سے گھر میں ہی حلف لے لینا کافی ہے اور اگر وہ حلف دینے سے انکار کرے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرسکتی ہے تو اگر وہاں بھی حلف سے انکار پر مصررہے تو پھر حاکم خاوند بیوی میں تفریق کردے،مجتبٰی۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
ہاں اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور اب جُھوٹی قسم کھالی تو عنداﷲطلاق ہوگئی مگر اس کا وبال شوہر پر ہے، عورت پر الزام نہیں، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۱: از بریلی صدر مسئولہ شیخ عبدالخالق ۱۷محرم شریف۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عبدالخالق نے اپنی عورت کو طلاق نامہ لکھا اور اس دستاویز میں ان الفاظ سے طلاق لکھی''میں لادعوٰی ہُوں یہ عورت جہاں چاہے شادی کرلے'' ایسی صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟اور اگر عبدالخالق پھر اسے نکاح میں لانا چاہے تو ضرورتِ حلالہ ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں جب کہ طلاق لکھنے کی نیت سے یہ الفاظ لکھے ہوں عورت پر ایک طلاق ہوگئی وہ نکاح سے نکل گئی، اب اس سے نکاح کرے تو صرف نکاح جدید برضائے زوجہ کافی ہے حلالہ کی کُچھ حاجت نہیں اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو، واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔