Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
133 - 155
مسئلہ۲۷۴:از دفتر مدرسہ رحمانیہ پیلی بھیت مرسلہ مولوی فضل حق صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کے سسرالیوں میں رنجش کے ساتھ گفتگو ہورہی تھی اس درمیان میں ہندہ جو زوجہ زید تھی اس کے چھوڑدینے کی بات چھڑگئی اور زید سے کہا گیا کہ اس روز روز کے جھگڑے سے چھوڑدو، زید نے کہا تم کل چُھڑاتی ہو میں ابھی چھوڑتا ہُوں۔ اس اخیر جملہ کی تین بار یا اس سے زیادہ تکرار کی ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں اور کس 0قسم کی طلاق پڑی؟ بحوالہ کتب سے عبارت جواب کا جلد اُمیدوار ہوں۔

الجواب

تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں، محیط وذخیرہ وخلاصہ وہندیہ کی تصریحات کے علاوہ ذی علم پر یہ مسئلہ بدیہیات سے ہے تو وہ اس پر حوالہ وعبارت طلب نہ کرے گا، اور جاہل کا حوالہ وہ بھی مع عبارت طلب کرنا سوءِ ادب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۲۷۵: ازپیلی بھیت محلہ عبداللطیف خاں     مسئولہ پیارے۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خُسر اور داماد میں لڑائی ہونے پر داماد کہے کہ اگر تم کل چھوڑواتے ہوتو میں آج ہی چھوڑتا ہوں، اس لفظ کے کہنا پرطلاق ہوئی یانہیں؟

الجواب

طلاق رجعی ہوگئی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۶: از شہر کانپور اے بی روڈ، دکان جناب حافظ پیر بخش صاحب سوداگر مسئولہ ولی محمد صاحب ۱۷ جمادی الاخری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ کو رخصت کرانے کے لئے جب اپنے سسرال گیاتو اس کی خوشدامن نے کہا کہ ہم لڑکی کو رخصت نہیں کریں گے بلکہ ہم قصہ ختم کرنا چاہتے ہیں، اس پر زید نے اپنی خوشدامن سے کہا کہ میں جانتاہوں کہ میراآنا آپ لوگوں کو بہت ناگوارا ہوا،پھر خوشدامن نے کچھ ایسے الفاظ کہے جس سے اس کا منشاء یہ تھا کہ زید اپنی زوجہ کو طلاق دے دے، اس پر زید نہایت برہم ہوا، اور کہا کہ اگر میں پسند نہیں ہُوں تو دوسرے سے نکاح کردو، اس کے جواب میں خوشدامن نے کہاہاں تو پسند نہیں ہے، آیا ایسی صورت میں زید کی زوجہ کو طلاق ہوجائے گی یانہیں؟ بینواتوجروا۔

الجواب

اگر بہ نیّتِ طلاق تھا ایک طلاق بائن گئی، اور اگر بقسم کہے کہ میری نیّت طلاق کی نہ تھی قبول کرینگے اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے۔
عالمگیریہ میں عنایہ سے ہے:
لوقال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلاث صح وان لم ینوشیئا لم یقع۔۱؎
اگر خاوند بیوی کو کہے کہ تو نکاح کرلے، طلاق کی نیت یا تین طلاقوں کی نیت کی ہونیت کے مطابق ایک یا تین طلاقیں صحیح ہوں گی اور اگر کچھ  نیت نہ کی تو واقع نہ ہو گی (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
ردالمحتار میں شرح جامع صغیر امام قاضی خاں سے ہے:
لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک۱ ؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کچھ نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کے کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ تجھے ممکن ہوتو نکاح کر(جبکہ طلاق کے بغیر ممکن نہیں، تو طلاق نہ ہوگی) واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الکنایات    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۷۴)
مسئلہ۲۷۷: ازموضع نان ٹو ڈاکخانہ اکبر آباد ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد تحسین علی صاحب یکم رجب المرجب ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو بدچلنی اور بدکاری کے الزام لگائے اور اس سے کہا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا تُو میرے کام کی نہیں مگر زید کہتا ہے کہ میں نے ہرگز طلاق نہیں دی، تو کیا اس صورت میں ادائے لفظِ طلاق زید کی بیوی زید کے نکاح سے خارج ہوگی یانہیں؟

الجواب

اگر یہ بیان واقعی ہے تو دو۲ طلاقیں بائن ہوگئیں، عورت نکاح سے خارج ہوگئی، اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور پھر کبھی ایک طلاق دے گا تو تین ہوجائیں گی اور بے حلالہ نکاح نہ کرسکے گا، اور اگر اس وقت عورت اس سے دوبارہ نکاح پر راضی نہیں تو یہ اس پر جبر نہیں کرسکتا، اور اگر پہلے کبھی ایک طلاق اسے دے چکا تھا تو ابھی تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا،

وذٰلک لان اللفظ الاول صریح والثانی کنایۃ یحتمل السب وقدصار الحال باللفظ الاوّل حال المذاکرۃ فوقع بہ بائن فجعل الاوّل ایضاً بائنا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

یہ اسلئے کہ پہلا لفظ طلاق میں صریح ہے،اور دوسراکنایہ ہے جو کہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتا ہے جبکہ پہلے لفظ کی وجہ سے مذاکرہ طلاق کی حالت ہوگئی تو اس قرینہ کی وجہ سے کنایہ کا لفظ بھی طلاق بائنہ قرار پائے گا جس کی وجہ سے صریح طلاق بھی بائنہ کے حکم میں ہوجائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۷۸: ازپیلی بھیت محلہ پکریامسئولہ بشیر احمد صاحب ۱۵ رجب ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمّی زید جس کی علمی لیاقت علم عربی میں قریب دستاربندی ہے اب بیوی کو چند باریہ الفاظ بحالت صحت نفس کہے کہ میں تم کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ جہاں  تمہارادل چاہے چلی جاؤ خواہ تم دوسرا خاوند کرلو خواہ بلا خاوند رہو، مگر بی بی چند باریہ الفاظ سُن کر بھی خاموش تہی تو کچھ دن کے بعد یہ کہا کہ مجھ کو افسوس ہے کہ کیسی بے حیا عورت ہے کہ میں خوشی سے اجازت چلے جانے کی دیتاہوں اور میرا پیچھا نہیں چھوڑتی جب بی بی پر یہ ملامت ڈالی تو بی بی نے جانے کی تیاری کی تو زید نے کاغذات دیہہ زمینداری بی بی جس کا زید کا رکن تھا حوالہ کردئے تو اب اس مسئلہ میں شرع شریف کا کیا حکم ہے اور بیوی اب زید سے راضی نہیں ہے اور زید سے قطع تعلق کرتی ہے۔

الجواب

یہ الفاظ کنایہ ہیں نیّت پر حکم ہے،اگر زید نے بہ نیّت طلاق کہے ایک طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی، اس سے بلاحلالہ اس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے اس عورت کو دو۲ طاقیں نہ دے چکاہو، اور اگر وُہ قسم کھاکر انکار کردے کہ میں نے یہ الفاظ بہ نیتِ طلاق نہ کہے تھے تو طلاق نہ مانی جائے گی، اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter