| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
اور فضولی شخص جسے شوہر کی طرف سے امر یا اذن تحریر نہیں یا نہ رہا وُہ اگر عورت کی طلاق لکھ لائے تو اس کا نفاذ اجازتِ شوہر پر موقوف رہتا ہے اگر وہ اس کے مضمون پر مطلع ہوکر اس تحریر کو نافذ کردے مثلاً صراحۃً کہہ دے کہ میں نے جائز کیا یا اجازت دی یانفاذ دیا کوئی فعل ایسا کرے جونافذ کرنے پر دلیل ہو مثلاً اس پر اپنے دستخط کردے یا اپنی طرف سے عورت کے پاس روانہ کرے یا بھیجنے کوکہے تو وہ تحریر نافذ ہوجاتی اور گویا خود شوہر کی تحریر قرار پاتی ہے ورنہ نہیں،
فی البزازیۃ قبیل مسائل المجازاۃ کتب غیرالزوج کتاب الطلاق وقرأہ علی الزوج فاخذہ وختم علیہ اوقال لرجل ابعث ھذاالکتاب الیھا فھذا بمنزلۃ کتابتہ بنفسہ ۱؎اھ، ومثلہ فی الخلاصۃ قلت ولعل ھذاھو محمل مافی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی وفی ردّالمحتار عن التاترخانیۃ ان کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لایقع الطلاق بہ اذالم یقرانہ کتابہ۲؎اھ فان الاقرار کما یکون صریحا فکذالک دلالۃ۔
بزازیہ میں اجازت کے مسائل سے تھوڑا پہلے ہے کہ زوج کے غیر نے طلاق نامہ لکھا اور پھر اس کو خاوند پر پڑھا تو خاوند نے لے کراس پر مہر لگائی یا دوسرے کسی شخص کو کہا یہ طلاق نامہ میری بیوی کو جاکردے دو، تو یہ کارروائی ایسے ہی ہوگی جیسے خاوند نے خودطلاق نامہ لکھا ہو اھ، اور خلاصہ میں بھی ایسا ہے قلت(میں کہتا ہوں) ہندیہ میں محیط سے اور انہوں نے منتقٰی سے اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے جو ذکرکیا کہ جو طلاق نامہ خاوند نے خود نہ لکھا نہ لکھوایا تو اس سے طلاق نہ ہوگی تاوقتیکہ خاوند اس تحریر کی تصدیق نہ کردے کہ یہ میری کارروائی ہے، تو بزازیہ کی مذکورہ عبارت کا محمل بھی یہی ہے کیونکہ جس طرح اقرارصراحتاً ہوتا ہے یونہی دلالۃً بھی ہوسکتا ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش ہندیہ نوع آخر التوکیل والکنایۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۸۵) (۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۸۵)
اور پُرظاہر کہ تنفیذ کے لئے صرف مضمون پر مطلع ہونا درکار ہے اور وُہ اس میں منحصر نہیں کہ حرف بحرف اسے پڑھواکر سنے بلکہ آپ پڑھ لے یا دیکھ لے یا دوسرا پڑھ دے یا اس کا خلاصہ مضمون بتادے ہر طرح حاصل ہے۔
فقول البزازیۃ قرأہ علی الزوج غیر قید بل تصویر لاطلاع الزوج علی مافیہ فانہ لامعنی لتنفیذ مالایدری۔ تو بزازیہ کا قول کہ''خاوند پر پڑھے اور سنائے'' قید نہیں ہے بلکہ خاوند کوطلاق نامہ کی تحریر پر اطلاع کی ایک صورت ہے کیونکہ خاوند کے علم کے بغیر اس کی طرف سے کارروائی بے معنٰی ہے(ت)
اشباہ میں ہے:
قال فی فتح القدیر وصورتہ ان یکتب الیھا بخطبھا فاذا بلغھا الکتاب احضرت الشھودوقرأتہ علیھم وقالت زوجت نفسی منہ، او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشھدوا انی قدزوجت نفسی منہ، امالولم تقل بحضرتھم سوٰی زوجت نفسی من فلان لاینعقد لان سماع الشطرین شرط باسماعہم الکتاب اوالتعبیرعنہ منھا قد سمعوا الشطرین بخلاف مااذاانتفیا۱؎۔
فتح القدیرمیں فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کو خط لکھے اور اس نکاح کے پیغام کوکوئی لے جاکر عورت کو پیش کرے، عورت گواہوں کو حاضر کرکے انہیں خط سنائے اور پھر یُوں کہے کہ میں نے فلاں سے اپنا نکاح کیا، یا یُوں کہے کہ فلاں نے مجھے منگنی کا پیغام لکھا ہے تو تم گواہ بن جاؤ کہ میں نے اپنا نکاح اس سے کردیا ہے۔ لیکن اگر عورت نکاح کا پیغام سنائے بغیرمجلس میں موجود گواہوں کو صرف یہ کہے کہ میں نے اپنا نکاح فلاں سے کردیا ہے تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کا ایجاب اور قبول دونوں باتوں کو ایک مجلس میں سننا ضروری ہے، تو عورت کا گواہوں کو منگنی کا خط سنانا یا منگنی کو فلاں کی طرف سے ذکر کرنا اورپھر اپنی طرف سے قبولیت کو ذکر کرنے سے نکاح کے دونوں رکن گواہوں نے ایک مجلس میں سُن لئے، اس کے برخلاف اگر یہ چیز منتفی ہوتو نکاح نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۹۷۔۱۹۶)
اور بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جوشخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وُہ حرف بحرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیالکھا ہے پس اگر ایسا ہی ہوا اور عبدالغفور خاں نے اس کے مضمون پر مطلع ہو کر مہر کی تو اب وقت مہر سے شاہد النساء پر طلاق پڑگئی اور شاید اس کے خلاف ہی واقع ہوا اور بے اطلاع مضمون مہر کردی تو البتّہ طلاق نہ ہوئی، بالجملہ اگر یہ پچھلی صورت واقع ہے جب تو شاہدالنساء بدستورنکاح نکاح عبدالغفور خاں میں ہے اور اگر وہ پہلی دو۲ صورتیں واقع ہوئیں تو ایک صورت پر تحریر پسر اور دوسری صورت پر مہر کرنے کے وقت طلاق پڑی بہر حال ایک طلاق سے زائد نہ ہوئی اگر اس سے پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا تھاتو بے تکلّف اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں،ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والعلم بالحق عندالخبیر اللطیف (یہ تمام وہ ہے جو اس عبد ضعیف(مصنف) پر ظاہر ہوا، جبکہ حقیقت کا علم علیم خبیر کے پاس ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ۲۷۳: از مانگرول بندر کاٹھیا واڑ تائی باڑی مرسلہ فتح محمد بن نور محمد جمعدار ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ حضرت قبلہ گاہ مولٰنا صاحب سلمہم اﷲتعالٰی از جانب مانگرول بندر فدوی خاکسار فتح محمد ابن نور محمد جمعدار کے ازحد آداب وتسلیمات کے واضح ہوکہ میں نے میری عورت کو پڑوسی کے ساتھ تکرار کرنے میں منع کرنے سے نہ ماننے کے سبب غصّہ میں طلاق فارقتی لکھ کے اس کی والدہ کے اس کو فارقتی بھیج دی، پھر بہت پچھتایا، ایک اور بچّہ بھی صغیر برس روز کا ساتھ ہے اس کے بعد دونوں کو تڑپ بے حد ہے وُہ رات روز رو رہے ہیں اور فارقتی لکھ کر دی ہے اور منہ سے کچھ بھی نہیں کہا ہے، آخر اس کے رونے پر اور میرا بچّہ چھوٹا ساتھ ہونے پر پھر گھر میں لانے کا خیال کیا ہے ہمارے یہاں کے عالموں میں مولوی احمد سے دریافت کیا تو فرماتے ہیں کہ سواحلالہ کے درست نہیں ہوسکتی اور مولوی محمود انتقال کرگئے اب آپ اس میں جو حکم فرمائیے سوکیا جائے گا۔ سُوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مرد نے اپنی زوجہ کو بباعث کسی منازعت کے حالتِ غصّہ میں اس کے والدین کے گھر جانے کے بعد ایک ورقہ میں مبہم بلاعدد لفظ طلاق کے یوں لکھا کہ طلاق دے کر فارقتی دیتا ہوں، جواب بحوالہ کتب مرحمت فرمائیں۔ الجواب صورت مستفسرہ میں دو۲ طلاقیں ہوگئیں، حلالہ کی کوئی حاجت نہیں، اگر اس طلاق کے بعد عدّت گزرگئی ہے یعنی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے جب تو عورت کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کرلے اور اگر عدت باقی تو دوصورتیں ہیں اگر فارقتی دینا وہاں کے محاورہ میں طلاق کے الفاظ صریحہ سے سمجھاجاتا ہے جیسا کہ یہاں کی بعض اقوام میں ہے کہ عورت کی نسبت اس کے کہنے سے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے جب تو دو۲ طلاقیں رجعی ہوئیں کہ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے مثلا زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی بشرطیکہ اس سے پہلے کبھی ایک طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ بیشک اب تین ہو گئیں اور اب بے حلالہ جائز نہیں ،اور اگر یہ لفظ وہاں صریح نہیں سمجھا جاتا تودو طلاقیں بائن ہوئیں ،عورت نکاح سے نکل گئی مگر اس کی رضا کے ساتھ دوبارہ اس سے نکاح کرسکتا ہے خواہ عدّت گزری ہو یانہیں اسی شرط پر کہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو یہ سب اس صورت میں کہ فارغ خطی سے اس نے وہ کاغذ مراد نہ رکھا ہو اور اگر یہ مقصود ہے کہ طلاق دے کر یہ اس کی سند بھیجتا ہوں تو اس صورت میں ایک ہی طلاق رجعی ہوگی کہ عدّت کے اندر رجعت کرسکتا ہے جب کہ پہلے کبھی دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم۔