| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۷۲: ازمرزا پور کلکتہ مرسلہ عبدالغفور خاں ۴شعبان ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھ میں اور میری بی بی میں تکرار ہوئی اس کو مار پیٹ کیا جس گھر میں وُہ تھی اس گھر میں سے ہم باہر نکل آئے اپنے کارخانے میں بیٹھے ہوئے لڑکے نے جو دوسری بیوی سے ہے ہم سے کہا کہ اس کو چھوڑدو ہم جو پیدا کریں گے تم کو دیں گے، تو ہم نے کہا کہ تم کہتے ہو تو ہم اس کو مانگتا نہیں دو۲ مرتبہ کہا ہم اس کو مانگتا نہیں مانگتا نہیں ، بیٹے نے کہا تم اس کو فارغ خطی دے دو، ہم نے کہا تم کو اختیار ہے، لڑکا ہمارا فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوا لایا ہم نے اس کو پڑھوایا نہیں، دستخط اس پر کردئے، فارغ خطی زبان بنگلہ میں ہے بجنسہٖ بلف ہذامرسل ہے، اس صورت میں طلاق ہوا یا نہیں؟ اب عورت چاہتی ہے کہ بے حلالہ کے نکاح ہوجائے، یہ جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب بلاشبہہ جائز ہے، حلالہ کی اصلاً ضرورت نہیں، اس سوال کے ساتھ زبان وخط بنگلہ میں دو۲ کاغذ آئے، ایک ازجانبِ زوجہ جس میں شوہر سے مہر وطلاق پانے کا ذکر ہے، دوسرا از جانبِ شوہر جس کا ترجمہ چند معتبر مسلمان بنگالی طلبہ علم نے یہ کیا(میں عبدالغفور خاں ساکن کلکتہ مرزا پور، طلاق یہ ہے کہ شاہد النساء کو ساڑھے تین روپے دین مہر مطابق شریعت دین محمدی کے نکاح کیا، اس وقت راضی سے مہر ادا کرکے طلاق بائنہ دی۔ راقم عبدالغفور خاں) عبدالغفور کا دو۲ خواہ دس۱۰بارکہنا ہم اس کو مانگتا نہیں مانگتا نہیں ، یہ تو محض بے اثر تھا کہ اس کے معنی نفی خواہش وطلب وارادہ ہے اور ان کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیتِ طلاق کہے،
فی الھندیۃ اذاقال لااریدک، اولااحبک، اولااشتھیک، اولارغبۃ لی فیک، فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی کذافی البحرالرائق۔۱؎
ہندیہ میں ہے: جب خاوند نے کہا، میں تجھے نہیں چاہتا،یا،میں تجھے پسند نہیں کرتا، میں تیری خواہش نہیں کرتا،یا، مجھے رغبت نہیں، ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے قول میں ہے، بحرالرائق میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۵)
اور فارغ خطی کی اصل وضع اس کاغذ کے لئے ہے جو مدیون کو بابت بے باقی وبرأت ذمہ لکھ کردیا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اب اس پر کچھ مطالبہ نہ رہا، یہ لفظ جب عورت کی طرف نسبت کیا جائے تو اس سے مراد عورت کو لکھ دینا ہوتا ہے کہ وہ اس کے مطالبہ وحقوق نکاح سے بری ہوئی جس کا حاصل طلاق نامہ بائن تحریری تھی علاانہ ھو الحقیقۃ العرفیۃ کما علمت فھو ظاھر بنفسہ وان لم یکن ھناک مظہرلہ ۔
اس کے علاوہ یہ حقیقت عرفیہ ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ خود ظاہر ہے اگرچہ کوئی دوسری چیز اس کو ظاہرنہ کرے۔(ت) پسر عبدالغفور خاں نے جبکہ اس سے فارغ خطی دینے کی درخواست کی اور اس نے کہا تم کو اختیار ہے تو یہ طلاق بائن تحریری کا اسے اختیار دینا ہُوا، مرد جسے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے اس میں حکم یہ ہے کہ وہ اختیار اسی جلسہ تک باقی رہتا ہے اگر وہ شخص بلاضرورت خواہ کسی ایسی ضرورت کیلئے جو اس کار طلاق سے متعلق نہ تھی اُٹھ جائے یا وہیں بیٹھا کسی اور کام بلکہ بے علاقہ کلام میں مشغول ہوجائے تو وُہ اختیار زائل ہوجاتا ہے،
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الصغرٰی لوقال لاجنبی امرامرأتی بیدک، یقتصر علی المجلس ولایملک الرجوع۲؎اھ وفیھا عن الخانیۃ لوقال لغیرہ طلق امرأتی فقد جعلت ذٰلک الیک فھو تفویض یقتصر الی المجلس۱؎ الخ وفی الدرالمختار فی قولہ لاجنبی طلق امرأتی یصح رجوعہ عنہ ولم یقید بالمجلس لانہ توکیل الّا اذا علقہ بالمشیئۃ فیصیر تملیکا والفرق بینھما فی خمسۃ احکام ففی التملیک لایرجع ولایعزل ویتقید بمجلس ۲؎الخ ملخصاً،
اگر کسی اجنبی کو کہا، کہ، میری بیوی کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے، تو اختیار اسی مجلس کے لئے ہوگا، اور رجوع کا اختیار نہ ہوگا اھ اور اسی میں خانیہ سے منقول ہے: اگر خاوند نے دوسرے کو طلاق کااختیار دیتے ہوئے کہا''تو میری بیوی کو طلاق دے''، تو یہ اختیار اسی مجلس کےلئے ہوگا الخ درمختار میں ہے اگر خاوند نے دوسرے کو کہا''تو میری بیوی کو طلاق دے'' اگر اجنبی نے اس اختیارسے طلاق دے دی تو رجعی ہوگی، انہوں نے اس اختیار کوصرف مجلس کےلئے نہیں کہا اور کہا یہ توکیل ہے اور اگر تیری مرضی ہوتو میری بیوی کو طلاق کہا تو پھر تملیک ہوگی، اور وکیل بنانا اور مالک بنانا ان دونوں باتوں میں پانچ فرق ہیں ، مالک بنانے پر اختیار کو واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے معزول کرسکتا ہے اور یہ اختیار مجلس کے لئے ہی ہوگا الخ ملخصاً۔
(۲؎ فتاوٰیہ ہندیہ الفصل الثانی فی الامر بالید فتاوٰیہ ہندیہ ۱ /۳۹۳) (۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی الامربالید نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۹۳) (۲؎ درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۷)
وفی ردالمحتار عن الفتح المبدل للمجلس مایکون قطعا للکلام الاوّل وافاضۃ فی غیرہ۳؎الخ وفیہ الاصح انہ لابدان یکون مع القیام دلیل الاعراض اھ۴؎ وفیہ الکلام الاجنبی دلیل الاعراض اھ۵؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ مجلس کی تبدیلی ایسی چیز سے ہوگی جو پہلی بات کو منقطع کردے اور دوسرے کام میں مصروف کردے الخ۔ اور اسی میں ہے مجلس سے کھڑا ہوجانا اس میں اعراض کےلئے دلیل بھی ہونی ضروری ہے اھ، اسی میں ہے پہلے بات سے ہٹ کرکوئی اجنبی بات کرنا اعراض کی دلیل ہے اھ(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۸) (۴؎ ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ /۴۷۷) (۵ ردالمحتار باب تفویض الطلاق داراحیاء التراث العربی ۲ /۴۷۷)
الفاظِ سوال یہ ہیں کہ فارغ خطی لکھ کر لایا لکھوایا جس سے ظاہر ہے کہ پسر نے اسی جگہ فارغ خطی نہ لکھی بلکہ وہاں سے اٹھ کرجانے کے بعد تحریر ہوئی، اب اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ کاغذ مذکورپسر نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور اس سے پہلے کسی غیر کام میں مصروف نہ ہوا یہ اٹھ کر جانا بضرورت قلم یا دوات یا کاغذ لینے کے تھا یہ اشیا وہاں موجود نہ تھیں جب تو یہ تحریر اسی اختیار کی بناء پر واقع ہوئی اور پسر کے لکھتے ہی شاہدالنساء پر ایک طلاق بائن پڑگئی، عبدالغفور خاں کا اس تحریر کو پڑھنا سُننا کچھ ضرور نہ تھا،
فانہ انما عمل بموجب التفویض والمفوض مملک والمملک یعمل بمشیۃ نفسہ من دون توقف علی رضا المملک بالکسر حتی لو رجع بعد ماملک لم یملک الرجوع کما تقدّم۔
کیونکہ اس نے تفویض کے مطابق عمل کیا ہے،اور جس کو تفویض کیا گیا ہو وہ مالک بنادیا جاتا ہے اور جس کو مالک بنایا گیا ہو وہ اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے اور مالک بنانے والے کی مرضی پر موقوف نہیں رہتا، حتی کہ جب کسی کومالک بنادیا تو اب مالک بنانیوالا واپس لینے کا مالک نہیں رہتا، جیسا کہ پہلے گزرا۔(ت) اور اگر یہ اٹھ کرجانا بے ضرورت یا ضرورت تحریر سے جدا کسی اور غرض کے لئے تھایا وُہ تحریر اس نے کسی اور سے لکھوائی تو ان صورتوں میں اُس اختیار کی بناء پر نہ ہُوابلکہ ایک فضول واجنبی کا لکھنا تھا،
فان المفوض الیہ بفصل اجنبی یصیراجنبیا، وھو انما فوض الیہ التطلیق دون التوکیل کما ان الوکیل بالطلاق لایملک ان یوکل غیرہ اویجیز مافعل غیرہ کما نص علیہ فی الانقروی من الخانیۃ۔
جس کوکوئی اختیار سونپا جائے تو اجنبی شخص سے دخل کی وجہ سے وہ بھی اجنبی ہوجاتا ہے کیونکہ مالک نے اس کو طلاق دینے کااختیار سونپا ہے نہ کہ دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار سونپا، جس طرح وکیل بالطلاق دوسرے کو وکیل بنانے کا مجاز نہیں اور نہ ہی وہ دوسرے کے عمل کے اس میں جائز کرسکتا ہے جیسا کہ انقروی نے خانیہ سے نقل میں اس کی تصریح کی ہے۔(ت)