Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
130 - 155
مسئلہ۲۷۱: ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ 

اگر خط مذکور میں ''لے'' کا لفظ مکرر نہ ہوتا، یُوں ہوتا کہ کہ فارغ خطی لے تو بقیہ کی وجہ سے تین طلاقیں ہوتیں یا کیا حکم تھا؟بینواتوجروا

الجواب

خط لکھنے اور پہنچنے کے احکام وہی ہیں جو گزرے اور اگر اس میں خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وُہ نہ پہنچا تو دو۲ طلاقیں بائن ہوئیں، تو اگر اس نے اس لفظ کہ''تو میرے کام کی نہیں'' طلاق کی نیت کی تو ایک اس سے
وانما احتاج الی النیۃ مع ان الحال حال المذاکرۃ کما ذکرہ مسندا الٰی کتاب ابیھا لانہ یحتمل السب کما حققناہ فی جدالممتار والحالۃ حالۃ الغضب فلاتجعلہ المذاکرۃ غنیا من النیۃ کما حققناہ فیہ مستفتدین اور دوسری فارغ خطی لے، سے لانہ رجعی صریح فیلحق البائن اماقولہ حرام ہوچکی فھو وان صار صریحا بالعرف لایلحق البائن علی مافی الحلبی ثم الشامی، حیث قالا ولایردانت علی حرام، علی المفتی بہ من عدم توقفہ علی النیۃ مع انہ لایلحق البائن ولایلحقہ البائن لکونہ بائنا لما ان عدم توقفہ علی النیۃ امر عارض لہ لا بحسب اصل وضعہ۱؎اھ۔
حالت مذاکرہ طلاق(جیسا کہ بیوی کے باپ کے خط کا حوالہ ہے) ہونے کے باوجود نیت کا محتاج ہوگاکیونکہ یہ لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم جدالممتار میں تحقیق کرچکے ہیں جبکہ یہاں حالت بھی غصّہ کی ہے، اس لئے مذاکرہ طلاق یہاں نیت سے مستغنی نہیں کرسکتا، جیسا کہ ہم نے فتح القدیر سے ان کو استفادہ کرکے تحقیق کی ہے، اور دوسری(طلاق یہ کہنے سے کہ ''فارغ خطی لے'' کیونکہ یہ صریح رجعی طلاق ہے تو بائن کو لاحق ہوگی، لیکن خاوند کا کہنا ''حرام ہوچکی ہے'' یہ لفظ اگرچہ عرف کی بناء پر صریح طلاق بن چکاہے لیکن بائن کو لاحق نہ ہوگی حلبی اور پھر شامی کے بیان پرکہ''ضابطہ پر تو مجھ پر حرام ہے'' سے اعتراض نہ ہوگا جیسا کہ مفتٰی بہ قول پر یہ نیت پر موقوف نہیں ہے (یعنی صریح طلاق ہے) حالانکہ نہ بائنہ اس کو لاحق ہوسکتی اور نہ ہی یہ بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے، کیونکہ ایسی بائنہ ہے جو نیّت پر موقوف نہیں ہے، اور اس کا نیت پر موقوف نہ ہونا(یعنی صریح ہونا) عارضہ کی بناء پر ہے اپنے اصل کے اعتبار سے نہیں اھ(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب الکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۴۶۹)
اقول والوجہ فیہ انہ یمکن جعلہ اخبار افلاضرورۃ جعلہ انشاء(میں کہتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو قبل
ازیں طلاق سے حکایت اور خبر قرار دیا جاسکتا ہے اس لئے اس کو انشاء قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ت) اور اگر اس لفظ سے کہ''تو میرے کام کی نہیں'' اس نے نیت طلاق کی تو ایک حرام سے ہوچکی اور دوسری فارغ خطی سے، بہر حال باقی الفاظ سے کچھ نہ پڑے گی،
لان کل مابعدہ کنایات بوائن فلاتلحق البائن واللفظ الثانی وان کان الواقع بہ رجعیا قدصار بلحوقہ البائن بائنا فلاتلحقہ کنایۃ بائن لامکان جعلہ اخبار ابل لحوقہ بالثانی لحوقہ بالاول وقد کان بائنا فیمتنع کلہ کما بیناہ فی جدالممتار،
کیونکہ اس کے بعد تمام الفاظ بائنہ طلاق والے ہیں لہذا وہ بائنہ کو لاحق نہ ہوں گے، اور دوسرا لفظ، اگرچہ اس سے رجعی طلاق ہوئی مگر اس کو بائنہ لاحق ہونے پر وُہ بائنہ ہوگئی اس لئے اس کو کنایہ والی بائنہ لاحق نہ ہوسکے گی، بلکہ اس کو خبر بنایا جانا ممکن ہے اس لئے اس کو طلاق نہ قرار دینے کی وجہ سے بھی لحوق نہ ہوگا بلکہ اس کو ثانی کو لحوق ہی اول کو لحوق قرار دیا جائے گا جبکہ یہ بائنہ ہے لہذااس کے بعد والی تمام بائنہ ممنوع ہوں گی جیسا کہ ہم نے جدالممتار میں بیان کیا ہے۔(ت)
اور اگر وہ خط اس نے لکھا ہی نہ تھا تو تین طلاقیں ہونا چاہئے۔
لان اقرارہ بتقدیم فار غخطی اقرار بالطلاق، فیکون طلاقا قضاء والباقیان باللفظین المذکورین ھذاماظھرلی والعلم بالحق عند ربّی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس کا'' فارغ خطی'' کے بارے میں پہلے ہونے کااقرار، طلاق کا اقرار ہے تو یہ قضاءً طلاق ہوگی اور باقی دو۲ طلاقیں مذکورہ دو۲ لفظوں سے ہوجائیں گی، مجھے یہ معلوم ہوا جبکہ حقیقت کا علم میرے رب کے پاس ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter